مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 157
81 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ، فَلَمَّا فَرَغَ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: «إِنِّي أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، ثُمَّ حَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَتَشَهَّدَ فِيهَا، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ»
حضرت عبداللہ بن سعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی یا تو وہ ظہر کی نماز تھی یا عصر کی‘ اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ کمی بیشی ہو گئی‘ جب نبی علیہ السلام نے فارغ ہو کر سلام پھیرا تو کسی نے پوچھا یارسول اللہ! کیا نماز کے احکام میں کوئی تبدیلی آ گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ فرمایا: جس طرح تم بھول جاتے ہو اسی طرح میں بھی بھول جاتا ہوں‘ اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلا دیا کرو‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ کی طرف اپنا چہرہ پھیرا‘ سجدۂ سہو کیا اور تشہد پڑھ کر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیر دیا۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،
Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 157
