إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا حَضَرَنِي مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَا كَانُوا يَخَافُونَهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ · حديث 233
233 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ، نَا أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ} [إبراهيم: 27] قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ شَهِدَتْهُ الْمَلَائِكَةُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَيُبَشِّرُونَهُ بِالْجَنَّةِ فَإِذَا مَاتَ مَشَوْا مَعَ جِنَازَتِهِ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيْهِ مَعَ النَّاسِ، فَإِذَا دُفِنَ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَسُولُكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا شَهَادَتُكَ؟ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا أَلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيُوسَعُ لَهُ قَبْرُهُ مَدَّ بَصَرِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَتَنْزِلُ الْمَلَائِكَةُ فَيَبْسُطُونَ أَيْدِيهِمْ وَالْبَسْطُ هُوَ الضَّرْبُ، يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَإِذَا دَخَلَ قَبْرَهُ أُقْعِدَ، فَقِيلَ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَلَمْ يُرْجِعْ [ص:135] إِلَيْهِمْ شَيْئًا وَأَنْسَاهُ اللَّهُ ذِكْرَ ذَلِكَ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ: مَنْ رَسُولُكَ الَّذِي بُعِثَ إِلَيْكَ؟ لَمْ يَهْتَدِ لَهُ وَلَمْ يُرْجِعْ إِلَيْهِمْ شَيْئًا يَقُولُ اللَّهُ {كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَافِرِينَ} [غافر: 74] "
ابن عباس () سے روایت ہے کہ انھوں نے آیت : يُثْتُ الله الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّلِمِينَ )) اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول کے ساتھ دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ اور ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے ۔ " (١٤/ ابراهیم : ۲۷) کی تشریح میں فرمایا: جب مومن پر موت (قریب) آتی ہے تو اس کے پاس فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اسے سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبریاں دیتے ہیں۔ پھر جب وہ فوت ہو جاتا ہے وہ اس کے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں، پھر لوگوں کے ساتھ اس کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔ جب اسے دفن کیا جاتا ہے تو وہ قبر میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ اسے کہا جاتا ہے: تیرا رسول کون ہے؟ وہ کہتا ہے : محمد سی ایام ہیں۔ کہا جاتا ہے : تیری گواہی کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں تو اس کی قبر تا حد نظر کھول دی جاتی ہے اور کافر پر فرشتے نازل ہوتے ہیں تو اس کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں ، پھیلانے سے مراد مارنا ہے ۔ وہ موت کے وقت ان کے چہروں اور پٹھوں کو مارتے ہیں۔ جب اسے قبر میں داخل کیا جاتا ہے ، اسے کہا جاتا ہے : تیرا رب کون ہے؟ وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ اللہ اسے اس کا ذکر بھلا دیتا ہے اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ تیری طرف جو رسول بھیجا گیا تھا وہ کون ہے؟ تو اسے نام نہیں آتا۔ وہ انھیں کوئی (صحیح جواب نہیں دیتا۔ اس کے لئے اللہ فرماتا ہے کہ: وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ "الله ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔"
ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ ← أَبِيهِ عَطِيَّةَ ← أَبِي ← عَمِّي، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ، ← ابْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 233
