Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين

Isbat Azab Al Qabar

by Imam Baihaqee

240 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا حَضَرَنِي مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَا كَانُوا يَخَافُونَهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ · حديث 233

233 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ، نَا أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ} [إبراهيم: 27] قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ شَهِدَتْهُ الْمَلَائِكَةُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَيُبَشِّرُونَهُ بِالْجَنَّةِ فَإِذَا مَاتَ مَشَوْا مَعَ جِنَازَتِهِ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيْهِ مَعَ النَّاسِ، فَإِذَا دُفِنَ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَسُولُكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا شَهَادَتُكَ؟ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا أَلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيُوسَعُ لَهُ قَبْرُهُ مَدَّ بَصَرِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَتَنْزِلُ الْمَلَائِكَةُ فَيَبْسُطُونَ أَيْدِيهِمْ وَالْبَسْطُ هُوَ الضَّرْبُ، يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَإِذَا دَخَلَ قَبْرَهُ أُقْعِدَ، فَقِيلَ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَلَمْ يُرْجِعْ [ص:135] إِلَيْهِمْ شَيْئًا وَأَنْسَاهُ اللَّهُ ذِكْرَ ذَلِكَ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ: مَنْ رَسُولُكَ الَّذِي بُعِثَ إِلَيْكَ؟ لَمْ يَهْتَدِ لَهُ وَلَمْ يُرْجِعْ إِلَيْهِمْ شَيْئًا يَقُولُ اللَّهُ {كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَافِرِينَ} [غافر: 74] "

ابن عباس (﷜) سے روایت ہے کہ انھوں نے آیت : يُثْتُ الله الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّلِمِينَ )) اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول کے ساتھ دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ اور ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے ۔ " (١٤/ ابراهیم : ۲۷) کی تشریح میں فرمایا: جب مومن پر موت (قریب) آتی ہے تو اس کے پاس فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اسے سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبریاں دیتے ہیں۔ پھر جب وہ فوت ہو جاتا ہے وہ اس کے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں، پھر لوگوں کے ساتھ اس کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔ جب اسے دفن کیا جاتا ہے تو وہ قبر میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ اسے کہا جاتا ہے: تیرا رسول کون ہے؟ وہ کہتا ہے : محمد سی ایام ہیں۔ کہا جاتا ہے : تیری گواہی کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں تو اس کی قبر تا حد نظر کھول دی جاتی ہے اور کافر پر فرشتے نازل ہوتے ہیں تو اس کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں ، پھیلانے سے مراد مارنا ہے ۔ وہ موت کے وقت ان کے چہروں اور پٹھوں کو مارتے ہیں۔ جب اسے قبر میں داخل کیا جاتا ہے ، اسے کہا جاتا ہے : تیرا رب کون ہے؟ وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ اللہ اسے اس کا ذکر بھلا دیتا ہے اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ تیری طرف جو رسول بھیجا گیا تھا وہ کون ہے؟ تو اسے نام نہیں آتا۔ وہ انھیں کوئی (صحیح جواب نہیں دیتا۔ اس کے لئے اللہ فرماتا ہے کہ: وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ "الله ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ ← أَبِيهِ عَطِيَّةَ ← أَبِي ← عَمِّي، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ، ← ابْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 233

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا حَضَرَنِي مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَا كَانُوا يَخَافُونَهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ · حديث 234

234 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ الْعَامِرِيَّ، ثَنَا عَبَاءَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " بَيْنَا أَنَا صَادِرٌ عَنْ غَزْوَةِ الْأَبْوَاءِ، إِذْ مَرَرْتُ بِقُبُورٍ فَخَرَجَ عَلَيَّ رَجُلٌ مِنْ قَبْرٍ يَلْتَهِبُ نَارًا وَفِي عُنُقِهِ سِلْسِلَةٌ يَجُرُّهَا، وَهُوَ يَقُولُ يَا عَبْدُ اللَّهِ اسْقِنِي سَقَاكَ اللَّهُ قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي، بِاسْمِي يَدْعُونِي أَوْ كَمَا يَقُولُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِذْ خَرَجَ عَلَى أَثَرِهِ أَسْوَدُ بِيَدِهِ ضِغْثٌ مِنْ شَوْكٍ وَهُوَ يَقُولُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْقِهِ، فَإِنَّهُ كَافِرٌ فَأَدْرَكَهُ فَأَخَذَ بِطَرَفِ السِّلْسِلَةِ، ثُمَّ ضَرَبَهُ بِذَلِكَ الضِّغْثِ ثُمَّ اقْتَحَمَا فِي الْقَبْرِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، حَتَّى الْتَأَمَ عَلَيْهِمَا وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ قِصَّةٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَهْرَمَانَ آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ وَفِي الْآثَارِ الصَّحِيحَةِ غُنْيَةٌ

ابن عمر (﷜) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں غزوہ ابواء سے واپس لوٹ رہا تھا کہ میں ( کچھ ) قبروں کے پاس سے گزرا ۔ ایک آدمی ( اچانک ) قبر سے نکل کر میری طرف آیا۔ اسے آگ لگی ہوئی تھی ۔ اور اس کی گردن میں ایک زنجیر تھی جسے وہ گھسیٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے عبداللہ ! ( اللہ کے بندے) مجھے پانی پلاؤ، اللہ تجھے پانی پلائے۔ اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ اس نے مجھے (پہچان کر ) عبداللہ کہا یا ویسے ہی کہہ دیا جیسے ایک آدمی دوسرے آدمی کو : اے اللہ کے بندے! کہہ کر پکارتا ہے۔ اس شخص کے پیچھے ایک کالا شخص نکلا جس کے ہاتھ میں کانوں والی ٹہنی تھی اور وہ کہ رہا تھا۔ اے عبداللہ! اسے پانی نہ پلانا کیونکہ یہ کافر ہے ۔ پھر اس ( کالے) شخص نے اسے پکڑ کیا ۔ اس کی زنجیر لے کر اس ٹہنی سے اسے مارتا ہوا دوبارہ قبر میں لے گیا۔ میں ان دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا حتی کہ وہ قبر میں غائب ہو گئے ۔ یہ قصہ ایک دوسری سند سے بھی مردی ہے اور صحیح آثار کافی ہیں۔

غَزْوَةِ الْأَبْوَاءِ، ← صَادِرٌ ← بَيْنَا ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← عَبَاءَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ الْعَامِرِيَّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 234

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا حَضَرَنِي مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَا كَانُوا يَخَافُونَهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ · حديث 235

235 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ قَالَ: شَهِدْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، " إِنَّ قَوْمًا يُكَذِّبُونَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ: فَلَا تُجَالِسُوا أُولَئِكَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ

انس بن مالک (﷜) سے ایک آدمی نے کہا: اے ابو حمزہ ! بے شک کچھ لوگ عذاب قبر کا انکار ( تکذیب ) کرتے ہیں تو انھوں نے فرمایا: پس تم ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔ اور راوی نے (لمبی) حدیث بیان کی۔

الْحَدِيثَ. ← فلا تجالسوا أولئك. ← لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ قَوْمًا يُكَذِّبُونَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ ← شَهِدْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ

Hadith 235

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا حَضَرَنِي مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَا كَانُوا يَخَافُونَهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ · حديث 236

236 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ الْمُفَسِّرِ رَحِمَهُ اللَّهُ، بِبَغْدَادَ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، أَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ شَهْبَاءَ فَحَادَتْ بِهِ فَقَالَ: «حَادَتْ وَلَمْ تَحِدْ عَنْ كَبِيرٍ، حَادَتْ عَنْ رَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ مِنْ أَجْلِ النَّمِيمَةِ، وَآخَرَ يُعَذَّبُ مِنَ الْغِيبَةِ»

الحسن بن ابی الحسن البصری (تابعی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنےسفید خچر پر (جارہے) تھے کہ وہ بدک گیا تو آپ نے فرمایا: " ( یہ ) بدک گیا ہے اورکسی بڑی بات سے نہیں ۔ یہ اس آدمی سے بد کا ہے جسے چغلی کی وجہ سے قبر میں عذاب ہو رہا ہے اور دوسرے کو غیبت کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔

الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُزَيْقٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ الْمُفَسِّرِ بِبَغْدَادَ،

Hadith 236

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا حَضَرَنِي مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَا كَانُوا يَخَافُونَهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ · حديث 237

237 - وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي النَّخَعِيَّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، كَانَا يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا فَشَكَى ذَلِكَ جَيرَانُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «خُذُوا كُرْبَتَيْنِ وَاجْعَلُوهُمَا فِي قُبُورِهِمَا يُرَفَّهُ عَنْهُمَا الْعَذَابُ مَا لَمْ يَيْبَسَا» قَالَ: فَسُئِلَ فِيمَا عُذِّبَا قَالَ: فِي النَّمِيمَةِ وَالْبَوْلِ "

اس سند کے ساتھ ابراہیم مخفی سے روایت ہے کہ بے شک دو آدمیوں پر قبر میں عذاب ہو رہا تھا، ان کے ہمسایوں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی تو آپ نے فرمایا: " دو بنیاں لے کر ہر ایک قبر میں رکھ دو، جب تک یہ تازہ (سبز ) رہیں گی ان کا عذاب اٹھ جائے گا ( یعنی موقوف رہے گا۔ )‘ ان سے پوچھا گیا کہ انھیں کس وجہ سے عذاب ہوا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: " چغلی اور پیشاب کی وجہ سے ۔

Hadith 237

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا حَضَرَنِي مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَا كَانُوا يَخَافُونَهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ · حديث 238

238 - وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: «عَذَابُ الْقَبْرِ ثَلَاثَةُ أَثْلَاثٍ، ثُلُثٌ مِنَ الْغِيبَةِ، وَثُلُثٌ مِنَ النَّمِيمَةِ، وَثُلُثٌ مِنَ الْبَوْلِ»

اسی سند کے ساتھ سعید ( ابن ابی عروبہ ) سے روایت ہے کہ مادہ (تابعی) نے فرمایا: (مسلمانوں کے لئے ) عذاب قبر تین چیزوں سے ہوتا ہے۔ نیبت، چغلی اورپیشاب سے ، ہر ایک کا حصہ ایک تہائی ہے۔

قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← وَبِإِسْنَادِهِ

Hadith 238

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا حَضَرَنِي مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَا كَانُوا يَخَافُونَهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ · حديث 239

239 - حَدَّثَنَاهُ مَرْفُوعًا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبَّادِيُّ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَسْنَوَيْهِ الْفَقِيهُ بِهَرَاةَ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُرَيْشٍ الْهَرَوِيُّ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ وَابِصٍ الطَّالَقَانِيُّ، ثَنَا أَبُو مُطِيعٍ، ثَنَا مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنْ ثَلَاثَةٍ مِنَ الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ وَالْبَوْلِ، وَإِيَّاكُمْ وَذَلِكَ» الصَّحِيحُ رِوَايَةُ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ مِنْ قَوْلِهِ، وَقَدْ رُوِّينَا مَعْنَاهُ فِي الْأَحَادِيثِ الثَّابِتَةِ فِيمَا تَقَدَّمَ

ابو ہریرہ (﷜) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: " بے شک عذاب قبر کے تین اسباب ہیں، غیبت، چغلی اور پیشاب اور تم ان تین چیزوں سے بچو۔“ ( بہتی نے کہا: ) صحیح روایت قتادہ والی ہے ( جو رقم: ۲۳۶ کے تحت گزر چکی ہے ) اور اس معنی کی صحیح احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← أَبُو مُطِيعٍ، ← مَالِكُ بْنُ وَابِصٍ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُرَيْشٍ الْهَرَوِيُّ، ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَسْنَوَيْهِ الْفَقِيهُ ← مَرْفُوعًا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبَّادِيُّ الْحَافِظُ،

Hadith 239

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا حَضَرَنِي مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فِي إِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَا كَانُوا يَخَافُونَهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ · حديث 240

240 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، نَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسِيرُ فِي أَرْضٍ إِذِ انْتَهَى إِلَى قَبْرٍ فَسَمِعَ صَاحِبَهُ يَقُولُ: آهٍ آهٍ، فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ قَالَ: فَضَحَكَ عَمَلُكَ وَافْتُضِحْتَ "

یزید بن عبد الله بن الشخير (تابعی) سے روایت ہے کہ آدمی ایک زمین کے کسی حصے میں چل رہا تھا کہ وہ ایک قبر تک پہنچا تو اس نے قبر والے کو آہ آہ کرتے سنا، پھر وہ اس کی قبر پر کھڑے ہو گئے تو کہا: تجھے تیرے عمل نے ذلیل کر دیا اور تو ذلیل ہو گیا۔ ترجمه ختم (۲۳/ اگست ۲۰۰۲) الرياض جزيرة العرب

فَضَحَكَ عَمَلُكَ وَافْتُضِحْتَ ← آهٍ آهٍ، فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ ← بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسِيرُ فِي أَرْضٍ إِذِ انْتَهَى إِلَى قَبْرٍ فَسَمِعَ صَاحِبَهُ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← أَبُو عَقِيلٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 240

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Concerning what this verse promises to the disbelievers with the torment of the graves, God Almighty says: “May God be deceived by the unjust, and God will do.”3. The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed.4. The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were5. The door to hastening the funeral, as long as it is good for you to do it6. Chapter on informing the Mustafa, peace and blessings of God be upon him, by saying the funeral after the examination7. The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them8. Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46]9. What is the door of the hypocrites from the torment in the grave before the torment in the fire, said Allah exalted {and those around you of the Bedouins are hypocrites and the people of the city Mrdoa hypocrisy we do not teach them to teach them Snazbhm10. What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124]11. Door passport of life in a single part and that the structure is not a life condition, and not from the neighborhood condition, and in that passport torture parts scattered, said God Almighty {And your Lord creates what He wills and chooses} [Stories: 68]12. The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d13. The door of intimidating the people of faith in the torment of the grave God said to His Prophet peace be upon him {and not Thbtnak I almost left them a little something, if Ozguenak weakness of life and the weakness of death and then do not find you we h14. The door to the torment of graves in grace and urine15. Concerning the fear of the torment of the graves in the slaying of the dead,16. The door to the fear of the torment of the graves in the shadows17. The door to the fear of the torment of the graves in religion18. Concerning the punishment of the grave that God Almighty says: “From the security of the grave” He said: “And God Almighty says:19. The door to what is hoped for in the safety of the temptation of graves20. The door to the security of God’s punishment in the grave is what is required in the testimony21. Chapter on what is requested in the reading of Surat Al-Mulk, to prevent the torment of the graves.22. The door to the torment of the grave hope for those who are safe23. The door to what is required in death on Friday night from the innocence of the temptation of the graves24. The chapter on the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, during the funeral prayer25. Chapter on what was hoped in the prayers of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, for the funerals from the light in the graves and the darkness of God over him26. The door to the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, to the participants with the torment of the graves27. The door to seek refuge and command of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, from the torment of the graves and his command28. The door to supplication for the believer in confirmation after the completion of the burial29. The door wishing to forgive him to teach his people what God has honored him by God, said the bulk of Hereafter those who blessed him for forgiveness {was said to Paradise, said Oh national know what forgave me my Lord and made me of the honored} [Yassin:30. The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex31. The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror.