ابن عباس () سے روایت ہے کہ جب عمر بن خطاب زخمی ہوئے تو میں آپ کے پاس گیا اور کہا: اے امیر المومنین جنت کی خوشخبری ہو۔ آپ اس وقت مسلمان ہوئے جب لوگ کافر تھے ۔ جب ( عام ) لوگوں نے رسول اللہ علی ایم کو چھوڑ دیا تو آپ نے ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور جب رسول اللہ علی ایم فوت ہوئے تو وہ آپ سے راضی تھے۔ دو آدمیوں نے بھی آپ کی خلافت کے بارے میں اختلاف نہیں کیا اور آپ شہید ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ باتیں (دوبارہ کرو تو میں نے دوبارہ یہی باتیں کہہ دیں) انھوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی الہ نہیں ! اگر میرے پاس ساری زمین کی دولت سونا چاندی ہوتے تو میں موت کی سختیوں سے بچنے کے لئے فدیہ دے دیتا۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 221
ثمان بن عفان ( ) جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی بھیگ جاتی ، انھیں کہا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کے ذکر کے وقت اتنا نہیں روتے (کہ جتنا ) اس قبر سے روتے ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ جو اس سے بیچ گیا تو اس کے بعد آسانی ہی ہے اور جو اس سے نہ بیچ سکا تو بعد میں سختی ہی سختی ہے۔" اور عثمان نے فرمایا: میں نے جو منظر بھی دیکھا ہے تو قبر اس سے زیادہ خوفناک ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 222
یہی روایت ایک دوسری سند سے مروی ہے جس میں فرمان رسول اللہ صلی اینیم کے بعد ہے کہ میں نے جو منظر بھی دیکھا ہے تو قبر اس سے زیادہ خوفناک ہے، اور قول عثمان () کی صراحت نہیں ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 223
علی سے روایت ہے کہ ہمیں عذاب قبر کے بارے میں مسلسل شک تھا حتی کہ و الهاکم التکاثر ) ( تمھیں کثرت کی خواہش نے ہلاک کر دیا) نازل ہوئی۔ علی سے صحیح سند کے ساتھ ( ح ۱۶۲ ۱۶۶) مروی ہے کہ نبی ﷺ نے احزاب والے دن مشرکین پر عذاب قبر کی دعا فرمائی تھی۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 224
ابن مسعود سے روایت ہے کہ بے شک تم میں سے ہر آدمی اپنی قبر میں خوفزدہ حالت میں بٹھایا جاتا ہے، پھر اسے کہا جاتا ہے کہ تو کیا ہے؟ پس اگر وہ مومن تھا تو کہتا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، زندہ حالت میں بھی اور موت میں بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور بے شک محمد (سلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں تو اس کی قبر جتنی چاہے کھل جاتی ہے، پھر وہ اپنا جنت میں مکان دیکھتا ہے ۔ جنت سے اس کے لئے لباس اترتا ہے جسے وہ پہنتا ہے۔ اور کافر تو اسے کہا جاتا ہے تو کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: مجھے پتہ نہیں۔ اسے تین دفعہ کہا جاتا ہے کہ تو نے (عقل سے ) نہیں سمجھا۔ پھر اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے حتی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں دھنسنے لگتی ہیں۔ اس پر قبر کی ( چاروں اطراف سے سانپ چھوڑ دیے جاتے ہیں جو اسے نوچتے اور کھاتے ہیں ۔ پھر جب اسے (بہت) تکلیف ہوتی ہے تو وہ چیختا ہے۔ اسے آگ یا لوہے کے ہتھوڑے کے ساتھ مارا جاتا ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 225
یہی روایت ایک دوسری سند سے مروی ہے جس میں پہلے (مومن) کے بارے میں ہے کہ اللہ جتنی چاہتا ہے اس کی قبر کھول دیتا ہے اور جنت کی طرف (سے) اس کے لئے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ۔ پھر جنت کی خوشبو اس کے پاس آتی ہے حتی کہ اس کو زندہ کر دیا جائے گا۔ اور دوسرے (کافر) کے بارے میں ہے کہ اور جہنم کی طرف (سے) اس کے لئے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 226
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 227
ابوموسی اشعری نے فرمایا: مومن کی روح اس حالت میں نکلتی ہے کہ وہ مشک (کستوری) سے زیادہ خوشبودار ہوتی ہے، پھر جو فرشتے اسے قبض کرتے ہیں وہ لے کر (آسمان کی طرف) چڑھتے ہیں ۔ آسمان سے نیچے دوسرے فرشتے انھیں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ تو وہ کہتے ہیں : فلاں ( آدمی ) ہے۔ اسے اس کے اچھے عمل ( اور نام) کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ تو وہ کہتے ہیں جتمھیں خوش آمدید ہو اور جو شخص تمہارے ساتھ آیا ہے اسے بھی خوش آمدید ہو۔ پھر اس کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں تو اس کا چہرہ روشن ہو جاتا ہے، پھر وہ اپنے رب تعالی کے پاس آتا ہے اور اس کا چہرہ سورج کی طرح چمک رہا ہوتا ہے۔ کافر کی روح جب لکھتی ہے تو وہ ( گندے) مردار سے بھی زیادہ بدبودار ہوتی ہے۔ پھر اسے قبض کرنے والے فرشتے لے کر جب چڑھتے ہیں تو آسمان سے نیچے انھیں (دوسرے) فرشتے ملتے ہیں جو کہتے ہیں: اسے واپس لے جاؤ، واپس لے جاؤ۔ پس اللہ نے اس پر پکچھ بھی ظلم نہیں کیا اور ابوموسی بھی لینا نے یہ آیت پڑھی: ( وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَةِ الْخِيَاطِ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے ۔“ (٧) الاعراف (٤٠)
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 228
تمیم بن سلمہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابو الدرداء دین کے پاس آیا۔ آپ بیمار تھے تو اس نے کہا: اے ابو درداء ! آپ آج ، دنیا سے جدائی کے کنارے پر ہیں، لہذا مجھے کسی ایسی بات کا حکم دیجئے جسے میں یاد رکھوں اور اللہ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے تو انھوں نے فرمایا: تو عافیت میں ہے ۔ پس نماز قائم کر ، اگر تیرے پاس مال ہے تو اس کی زکوۃ ادا کر اور رمضان کے روزے رکھ اور فاحش (بے حیائی کے ) کاموں سے بیچ جا، پھر تجھے (جنت کی ) خوشخبری ہے۔ اس آدمی نے اپنی بات دہرائی تو ابو درداء (ع) نے فرمایا: بیٹھ اور جو میں کہتا ہوں اسے یاد رکھ۔ ایک دن تیرے اوپر ایسا آئے گاکہ زمین میں سے تجھے صرف دو ہاتھ چوڑی چار ہاتھ لمبی جگہ ہی میسر آئے گی۔ تیرے گھر والے دوست اور بھائی جو تیری جدائی نہیں چاہتے ، وہ تیرے لئے ایک عمارت ( یعنی قبر ) بنا کر اس پر مٹی زیادہ ڈالیں گے ۔ پھر تجھے چھوڑ کر چلے جائیں گے ۔ پھر تیرے پاس کالے، نیلے، گھنگھریالے بالوں والے دو فرشتے آئیں گے جن کے نام منکر اور نکیر ہیں وہ تجھے بٹھا کر سوالات کریں گے۔ تو کیا ہے؟ یا تو کس ( دین اور عقیدے) پر تھا؟ یا تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ پس اگر تو نے یہ کہہ دیا کہ اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں ، میں نے لوگوں کو ایک بات کرتے سنا تو لوگوں کی بات میں نے کہہ دی تو اللہ کی قسم! تو گر گیا اور ہلاک ہو گیا۔ اور اگر تو نے کہہ دیا: محمد (س ) اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے ان پر اپنی کتاب نازل کی تو میں آپ پر اور جو دین آپ لے کر آئے ایمان لے آیا تو اللہ کی قسم ! تو بچ گیا اور ہدایت یافتہ بن گیا اور تو اس کی طاقت نہیں رکھے گا۔ مگر صرف اس حالت میں کہ اللہ تجھے ثابت قدم رکھے۔ تو بڑی سختی اور خوفناک حالت دیکھے گا۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 229
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 230
عائشہ () نے فرمایا: بے شک کا فر پر اس کی قبر میں ایک گنجا سانپ مسلط کیا جاتا ہے جو اس کے سر سے لے کر اس کے پاؤں تک کا گوشت کھاتا ہے ، پھر اسے دوسرا ( نیا) گوشت دے دیا جاتا ہے تو وہ پاؤں سے لے کر سر تک کھاتا ہے اور یہی حالت جاری رہتی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 231
اسماء بنت ابی بکر () سے روایت ہے کہ وہ ایک عورت کے پاس حاضر تھیں جو کہ مر رہی تھی تو وہ اسے کہنے لگیں : بے شک تجھ سے تیرے رب اور نبی ﷺکے بارے میں سوال ہوگا تو تو اس کا اقرار کرنا ( اور مثبت جواب دینا۔)
أُمِّ خَارِجَةَ مَوْلَاةِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ← عمر بن عبد الله بن عروة بن الزبير ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْأَسْلَمِيُّ ← مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُوسَعِيدٍ
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 232