إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَخْوِيفِ أَهْلِ الْإِيْمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم {وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرَكْنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا، إِذًا لَأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَ · حديث 112
112 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَعَدَ عَلَى قَبْرِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ثُمَّ اسْتَرْجَعَ فَقَالَ: «لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، أَوْ لَمِّهِ أَوْ ضَمِّهِ، لَنَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، لَقَدْ ضَمَّهُ ضَمَّةً ثُمَّ رُخِّيَ عَنْهُ» ، وَوَرَدَ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
جابر بن عبد الله () سے روایت ہے کہ جب سعد بن معاذ ( اللہ ) کو ان کی قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ صلی علیم نے سبحان اللہ کہا تو لوگوں نے بھی سبحان اللہ کہا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا تو لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول ! آپ نے کس لیے سبحان اللہ کہا تھا ؟ تو آپ نے فرمایا: اس نیک بندے پر قبر تنگ ہوگئی تھی ، پھر اللہ نے اس حق کو دور کر دیا ۔۱۱۰ ب ) اس سند کے ساتھ امیہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سعود (بن معاد) کے خاندان کے بعض لوگوں سے اس بارے میں پوچھا، تمہیں رسول اللہ علیم کی بات کے بارے میں کیا معلوم ہے؟ تو انھوں نے کہا: ہمیں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: " وہ ( سعد ) بعض اوقات پیشاب میں احتیاط نہیں کرتے تھے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← زِيَادِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، ← أَبِي النَّضْرِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ،
Hadith 112
