إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 74
74 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنٍ الْقَاضِي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسَ، ثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فَذَكَرَهُ
سفیان (ثوری) سے روایت ہے کہ ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں ۔ یعنی موت کے وقت، نہ ڈرو۔ اپنے آگے، اور نہ غم کرو جو اپنے پیچھے مال ومتاع چھوڑ آئے ہو، اور اس جنت کی تمھیں بشارت ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا تھا۔ فرمایا: اسے تین بشارتیں (خوشخبریاں دی جاتی ہیں، ایک ، موت کے وقت، (دوسری) جب قبر سے نکلے گا ( تیسری ) جب محشر میں ڈر جائے گا۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے دوست ہیں۔ وہ اُن کے ساتھ تھے اور جنہیں اللہ نے شہادت نصیب کی ، اُن کے بارے میں فرمایا: پس جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو جا ئیں انھیں مردے مت سمجھو، بلکہ واللہ کے ہاں زندہ ہیں ، انھیں رزق دیا جا تا ہے۔ اللہ نے انھیں جو فضیلت بخشی ہے وہ اس پر ناز کر رہے ہیں ۔ اللہ نے اُن کے بارے میں قطعی فیصلہ کر دیا کہ وہ زندہ ہیں اور انھیں دنیا میں خون میں لت پت دیکھا جاتا ہے۔ اور ان کے جسم بے جان لاشے بن چکے ہوتے ہیں۔ پرندے اور درندے انھیں کھاتے ہیں ( اور پھر بھی وہ برزخی طور پر زندہ ہیں) اس میں دلیل ہے کہ اللہ ان پر ایسے احوال طاری کر دیتا ہے جس میں انھیں مسرت ہوتی ہے۔ اگر چہ ہم ان حالات کو محسوس نہیں کر سکتے ۔ سراج ختم ہوا۔
مُجَاهِدٍ، فَذَكَرَهُ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 74
