انس بن مالک رضی اللا عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “ جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جا تا ہے اور اس کے ساتھی واپس مڑتے ہیں تو بے شک وہ اُن کے جوتوں کی آواز سنتا ہے ۔ پھر اُس کے پاس دوفرشتے آ کر کہتے ہیں کہ تو اس آدمی یعنی محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتا تھا ؟ پس جومومن ہوتو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں ، پھر اسے کہا جا تا ہے : اپنا آگ والا ٹھکانا دیکھ، اللہ نے تجھے اسکے بجاۓ جنت میں ٹھکانا دے دیا ہے تو وہ دونوں ٹھکانے دیکھتا ہے۔” یہ روایت صحیح مسلم میں ہے اور عبدالوہاب بن عطاء نے اسے تفصیلاً بیان کیا ہے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 13
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 14
انس بن مالک رضی اللا عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بنو نجار ( کی ایک چاردیواری ) میں داخل ہوئے تو آپ نے کوئی آوازسنی جس سے آپ گھبرا گئے، پھر آپ نے فرمایا: “ یہ قبروں والے کون لوگ ہیں؟صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ! یہ (قبروں والے) لوگ جاہلیت میں مرے تھے ۔ آپ نے فرمایا: “اللہ سے پناہ مانگو، قبر کے عذاب ، آگ کے عذاب اور دجال کے فتنے سے ۔” صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! اور یہ (عذاب قبر ) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: “ بے شک اس امت کے لوگ ( پہلے لوگوں کی طرح) اپنی قبروں میں آ زماۓ جاتے ہیں ۔ جب مومن کو قبر میں رکھ دیا جا تا ہے (تو) اس کے پاس فرشتہ آ تا ہے جواسے کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا ؟ پس اگر اللہ اسے ہدایت عطا کر دے تو وہ کہتا ہے. میں اللہ کی عبادت کرتا تھا، پھر اسے کہا جا تا ہے: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔” آپ نے فرمایا: ” ان ( چند سوالوں ) کے علاوہ اور کسی چیز کے بارے میں اس سے پوچھا نہیں جاتا ، پھر اسے آگ کے ایک گھر کی طرف لے جایا جا تا ہے اور کہا جا تا ہے: یہ تیرا آگ میں ٹھکانا تھا ، مگر اللہ نے تجھے بچالیا اور تجھ پر رحمت کر کے تجھے اس کے بدلے جنت میں گھر دے دیا ہے ، تو وہ کہتا ہے : مجھے چھوڑو، میں جا کر اپنے گھر والوں کو خوشخبری دیتا ہوں ۔اسے کہا جا تا ہے: اطمینان سے یہیں ٹھہرے رہو۔ اور جب کافر کوقبر میں رکھا جا تا ہے ( تو) اس کے پاس فرشتہ آتا ہے جواسے سختی سے ڈانٹ کر پوچھتا ہے : تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے : مجھے پتا نہیں ۔اسے کہا جاتا ہے: نہ تو تو نے اپنی عقل سے کام لیا اور نہ ( نبیوں کی) پیروی کی ۔ پھر اسے کہا جا تا ہے: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : میں وہی کہتا تھا جو( عام ) لوگ کہتے تھے۔پھروہ (فرشتہ) لوہے کے ایک ہتھوڑے کے ساتھ اس کے کانوں کے درمیان مارتا ہے تو وہ بڑے زور سے چیختا ہے۔ انسانوں اور جنوں کے سوا( اس کے اردگردکی ) تمام مخلوقات یہ چیخ و پکار سنتی ہیں-
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 14
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 15
انس (رضی اللا عنہ) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب بندے کو اُس کی قبر میں رکھ دیا جا تا ہے اور اُس کے ساتھی اُس ( کو دفنانے ) سے واپس مڑتے ہیں حتی کہ وہ اُن کے جوتوں کی آواز ( چاپ) سنتا ہے ۔اس کے پاس دوفرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں، پھراسے کہتے ہیں: تو اس آدمی محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اگر وہ مومن تھا تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اسے کہا جا تا ہے کہ آگ میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ، اس کے بدلے میں اللہ نے تجھے جنت میں ٹھکا نہ دے دیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایہ:“ وہ ( شخص ) دونوں ٹھکانے اکٹھے دیکھتا ہے۔” ( انس رضی اللا عنہ کے شاگرد ) قتادہ ( تابعی ) نے کہا: ہمیں بتایا گیا ہے کہ اُس کی قبرستر ہاتھوں کے برابر کھول دی جاتی ہے اور قیامت تک کے لئے اسے سرسبنر ( وشادابی ) سے بھر دیا جا تا ہے۔ پھر وہ ( قتادہ ) انس کی حدیث کی طرف لوٹ گئے ( اور ) کہا :“اور کافر یا منافق ہوتو اسے کہا جا تا ہے: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: مجھے پتا نہیں ۔ میں تو وہی کہتا تھا جولوگ کہتے تھے ۔ ( یعنی اندھا دھند تقلید کرتا تھا) تو اسے کہا جا تا ہے : نہ تو نے (اپنی) عقل سے کام لیا اور نہ (انبیاء) کی پیروی کی ۔ پھر اسے کانوں کے درمیان لوہے کے ہتھوڑے سے ( پوری سختی سے) مارا جا تا ہے تو وہ ( زور سے) چیختا ہے ۔ انسانوں اور جنوں کے علاوہ اس کے اردگرد کی مخلوقات اس ( چیخ و پکار) کوسنتی ہیں ۔ یہ روایت صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ( بھی ) ہے ۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 15
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 16
انس بن مالک (رضی اللا عنہ) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:“ بے شک جب بندے کو قبر میں رکھا جا تا ہے اور اس کے ساتھی واپس مڑتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے ۔اس کے پاس دوفرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں ، پھر کہتے ہیں : تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ اگر وہ مومن تھا تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں،اسے کہا جا تا ہے: دیکھو اپنا آگ والا ٹھکانا، اللہ نے اسے بدلا کر تجھے جنت میں ٹھکا نا دے دیا ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا:“پس وہ ان دونوں (ٹھکانوں) کو اکٹھے دیکھتا ہے۔” یہ روایت صحیح مسلم میں (بھی) ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ قتادہ ( تابعی ) نے کہا: ہمیں بتایا گیا ہے کہ اُس کی قبرستر ہاتھ کھول دی جاتی ہے اور دوبارہ زندہ ہونے والے دن (قیامت) تک سرسبنر ( وشادابی ) سے بھر دی جا تی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 16
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 17
اسماء بنت ابی بکر رضی الللا عنہا سے روایت ہے کہ جب سورج کو گرہن لگا تو میں نبی ﷺ کی زوجہ عائشہ رضی الللا عنہا کے پاس آ ئی ۔لوگ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور وہ ( میری بہن عائشہ ) بھی کھڑی تھیں ۔ میں نے اُن سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ تو انھوں نے (عائشہ ) نے اپنے ہاتھ کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی سورج گرہن لگا ہے ) اور زبان سے کہا: سبحان اللہ میں نے کہا: کوئی خاص نشانی ہے؟ تو انھوں نے اشارے سے جواب دیا: جی ہاں ، لہذا میں ( بھی ) کھڑی ہوگئی ( اور نماز پڑھنے گئی حتی کہ مجھ غشی آنے لگی ، پھر میں اپنے سر پر پانی انڈیلتی رہی ۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوۓ تو اللہ کی حمد وثنا بیان کی ، پھرفرمایا: “ کوئی چیز بھی ایسی نہیں جسے میں نے نہیں دیکھا تھا ،مگر ( آج اسے) اپنے اس مقام پر دیکھ لیا ہے حتی کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھا ہے، اور مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ تمہیں دجال کے فتنے کے برابر یا قریب، آزمایا جاۓ گا ۔( راوی نے ) کہا: مجھے یاد نہیں کہ اسماء(رضی الللا عنہا) نے ( برابر یا قریب ) کون سے الفاظ کہے تھے۔ تم میں سے جب کسی آدمی کو لایا جا تا ہے تو کہا جا تا ہے: تمہارے یا تیرے پاس اس آدمی کے بارے میں کیا علم ہے؟ جو مومن یا صاحب یقین ہوتا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ اسماء (رضی الللا عنہا) نے کون سے الفاظ کہے تھے،“ تو وہ کہتا ہے : وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ۔ ہمارے پاس واضح دلیلیں اور ہدایت لے کر آۓ تو ہم نے قبول کیا اور ایمان لے آۓ اور آپ کی پیروی کی ، تو اسے کہا جاتا ہے: آرام سے سو جا، ہم جانتے تھے کہ تو یقینا مومن ہے ۔ اور منافق یا شکی آ دمی ، مجھے یہ یاد نہیں کہ اسماء رضی الللا عنہا نے کون سے الفاظ کہے تھے؟ “ وہ کہتا ہے: مجھے پتا نہیں ۔ میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو وہ بات کہہ دی ۔“ اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔
لنا ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ وَزَادَ فِي آخِرِهِ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِيسَى، ← أبو عبد الله بن يزيد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← كَمَا
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 17
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 18
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 18
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 19
ایک دوسری سند سے اس روایت کے آخر میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک مجھ پر دہی کی گئی ہے کہ تمہیں مسیح دجال کے فتنے کے برابر یا اس کے قریب، قبر میں آزمایا جاۓ گا ۔ تم میں سے ہر آدمی کے پاس ( قبر میں آیا جا تا ہے، پھر اسے کہا جاتا ہے : تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ پس جو مومن یا صاحب یقین ہوتا ہے ، وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے رسول ﷺ میں وہ محمد ﷺ ہیں ۔ آپ ہمارے پاس واضح دلیلیں اور ہدایت لے کر آۓ تو ہم نے قبول کیا اور ( آپ کی اتباع کی ۔ پس اسے کہا جاتا ہے ، سو جا ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ تم ان پر ایمان لائے تھے۔ اور اگر منافق یا تھکی ہو تو کہتا ہے : مجھے معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو میں نے بھی ( تقلید کرتے ہوۓ ) وہی بات کہہ دی ۔ پھر اسے قبر میں عذاب دیا جا تا ہے۔ یہ بات بی سیم سے براء بن عازب کی سند سے تفصیلاً مروی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 19
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 20
ابوعوانہ ( وضاح بن عبداللہ البشکری) کی سند کے ساتھ زادان عن البراء بن عازب بلا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ علیم کے ساتھ ایک انصاری آدمی کےجنازے کے لئے نکلے، پھر ( جنازے سے فارغ ہو کر ہم قبر تک پہنچ گئے جبکہ قبرکھودی جارہی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے ارد گرد ، بیٹھ گئے ( ہم ایسے چپ تھے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ۔ آپ اپنی نظر اٹھا کر آسان کی طرف دیکھتے تھے، پھر نظر جھکا کر زمین پر دیکھتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘ یہ بات آپ نے بار ہار ( کئی دفعہ ) کہی ۔ پھر فرمایا: جب مومن بندہ دنیا کے اختتام اور آخرت کے شروع میں ہوتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آ کر سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے، پھر اسے کہتا ہے : اے نفس مطمئنہ ! ( اے ایمان و اطمینان سے زندگی گزارنے والے شخص ) اللہ کی بخشش اور رضامندی کی طرف نکل آ ۔ پھر اس آدمی کی روح اس طرح ( آسانی سے ) نکل جاتی ہے جیسے پانی کے قطرے (آسانی سے ) بہتے ہیں ۔‘ ( ایک دوسرے راوی ) عمرو بن ثابت کی بیان کردہ روایت میں درج ذیل الفاظ ، ابوعوانہ کی روایت سے زیادہ ہیں: اگر چہ تم کچھ اور ہی دیکھتے ہیں، اور سفید ( خوبصورت چہروں والے فرشتے جنت سے اترتے ہیں گویا کہ ان کے چہرے سورج کی طرح ( دمک رہے ہیں ۔ ان کے پاس جنت کے کفن اور خوشبو ہوتی ہے۔ وہ ( اس کی نظر کی لمبائی کے قریب بیٹھ جاتے ہیں، پھر جب وہ (فرشتہ اس کی روح قبض کر لیتا ہے تو وہ آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے ۔ یہ (مفہوم) ہے اللہ تعالی کے اس فرمان کا کہ توقته رسلنا وهم لا يفرطون مارے فرشتے اسے فوت کرتے ہیں اور وہ اس میں کوتا ہی نہیں کرتے ۔“ (الانعام : ۲۱ ) اس کی روح ، انتہائی خوشبودار پائی جانے والی ہوا کی طرح نکلتی ہے، پھر فرشتے اسے لے جاتے ہیں ۔ وہ آسمان اور زمین کے درمیان (فرشتوں کے ) جس گروہ کے پاس سےگزرتے ہیں، وہ یہی کہتے ہیں کہ میکس کی روح ہے ؟ تو انہیں اس آدمی کے بہترین ناموں کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ فلاں آدمی کی روح ہے حتی کہ وہ آسمان دنیا کےدروازوں تک پہنچ جاتے ہیں ۔ پھر اس کے لئے دروازہ کھل جاتا ہے اور ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کے ساتھ چلتے ہیں حتی کہ اسے ساتویں آسمان پر لے جاتے ہیں ۔ پھر کہا جا تا ہے : اس ( بندے) کی کتاب ( نامہ اعمال ) کولمین ( اعلی لوگوں ) میں درج کر دو۔ پھر ( دوبارہ) کہا جاتا ہے : اسے زمین پر لے جاؤ ۔ بے شک میں نے ان (انسانوں ) سے وعدہ کیا تھا کہ میں نے انہیں اسی (زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی میں لوٹا دوں گا اور دوسری دفعہ ( زندہ کر کے ) اسی سے نکالوں گا۔ پھر اسے زمین پر واپس بھیج دیا جا تا ہے اور اس کی روح ( برزخی طور پر ) اس کے جسم میں ( سوال و جواب کے لئے ) لوٹا دی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس دو ڈراؤنے فرشتے آ کر اسے ڈراتے ہیں اور بٹھا کر پوچھتے ہیں : میں آ دی جو تم میں بھیجا گیا تھا تو اس کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے رسول ہیں ۔ پھر وہ پوچھتے ہیں: تجھے کس طرح پہ چلا کہ وہ رسول ہیں ) تو وہ کہتا ہے: وہ ہمارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر ہمارے پاس آۓ تو میں آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کی تصدیق کی ۔فرمایا: یہ ہے ( رب کی ) وہ بات کہ بيت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الخلوة الدنيا وفي الأخرة (ابراہیم : ۲۷) اللہ ایمان والوں کو مضبو ط قول کے ساتھ دنیا کی زندگی میں ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں ( بھی ) ثابت قدم رکھتا ہے ۔ پھر فرمایا: آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا ۔ اسے جنت کا لباس پہنا دو، اور اس کے نیچے جنت کا لباس بچھا دو۔ اسے اس کا ٹھکانہ دکھا دو ۔ پس اسے جنت کا لباس پہنایا جا تا ہے اور اس کے نیچے جنت کے بچھونے پھیلاۓ جاتے ہیں ۔ وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھتا ہے اور تاحد نظر اس کی قبر کھول دی جاتی ہے۔اس کا عمل ایک خوبصورت ، بہترین خوشبو والے اور اچھے لباس والے آدمی کی صورت میں اس کے سامنے آ جاتا ہے اور کہتا ہے: اللہ نے تیرے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ہے اس کی تجھے خوشخبری ہے۔ تجھے اللہ کی رضامندی اور ایسی جنتوں کی خوشخبری ہے جن کی نعمتیں قائم و دائم ہوں گی ۔ تو وہ کہتا ہے : اللہ تجھے بہترین خوشخبریاں دے، تم کون ہو؟ تیرا بہترین ) چہرہ ایسے آدمی کا چہرہ ہے جو خیر ہی خیر لے کر آتا ہے ۔ تو وہ شخص کہتا ہے: یہ (آج) تیرا وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا اور جس سے تو (بہت) ڈرتا تھا۔ میں تیرا نیک عمل ہوں ۔ اللہ کی قسم! میں نے تجھے ایسا ہی پایا ہے کہ تو اللہ کی اطاعت میں تیز تھا اور اس کی نافرمانی میں ( بہت ) ست تھا۔ اللہ تعالی تجھے جزائے خیر دے، پھر وہ (مرنے والا ) کہتا ہے : اے میرے رب! قیامت قائم کر دے تا کہ میں اپنے گھر والوں اور اپنے مال و متاع کے پاس واپس چلا جاؤں ۔ فرمایا: اگر کافر ، گنہگار ہوتا ہے تو وہ جب دنیا کے اختتام اور آخرت کے شروع میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس فرشتہ آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ جا تا ہے اور کہتا ہے: اے خبیث روح (اس جسم سے نکل جا۔ تیرے لئے اللہ کے غضب اور ناراضی کی خوشخبری ہے۔ پھر کالے چہروں والے فرشتے ایک گندا کفن لے کر اترتے ہیں ۔ پس جب (موت کا) فرشتہ اس کی روح قبض کر لیتا ہے تو وہ آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے پاس نہیں چھوڑ تے ۔ اس کی روح اس کے جسم میں ( ڈر کے مارے چھپنے کی کوشش کرتی ہے، پھر وہ اسے اس طرح نکالتا ہے کہ اس کی رگیں اور بیٹھے اس کے ساتھ پھٹ جاتے ہیں جس طرح کہ گرم سلاخ کو بہت بالوں والی گیلی اون میں گھسیڑ کر نکالا جاتا ہے۔ اسے (موت کے فرشتے سے لے لیا جاتا ہے، وہ انتہائی زیادہ بد بودار ہوتی ہے۔ آسان و زمین کے درمیان وہ جس (فرشتوں کے گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ کون سی خبیث روح ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ فلاں آدمی ہے۔ اس کے برے ناموں کے ساتھ اسے یاد کرتے ہیں ۔ پھر جب اسے آسان دنیا کے پاس پہنچایا جا تا ہے تو دروازہ نہیں کھلتا اور آواز آتی ہے اسے زمین پر واپس لے جاؤ۔بے شک میں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ میں نے انہیں مٹی سے پیدا کیا ہے اور اسی میں لوٹا دوں گا اور اسی (مٹی) سے دوبارہ زندہ کر کے نکالوں گا۔فرمایا : اسے آسمان سے پھینک دیا جا تا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ومن يشرك بالله فكانما حر من السماء تتخطفة القير أو تهوى به الربح في مكان سحیق ؟ جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آسمان سے گر جائے ، پھر اسے پرندے اسکتے پھر میں یا ہوا اسے دور دراز مقام پر پھینک دے۔ فرمایا : پھر اسے زمین پر لوٹا کر اس کے جسم میں ( برزخی طور پر ) وائل کر دیا جاتا ہے، اور اس کے پاس دو بڑے ڈراؤنے فرشتے آ کر اسے جھڑکتے ہوۓ بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ آدمی جو تم میں بھیجا گیا تھا، اس کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟ تو اسے آپ کا نام ہی نہیں آتا۔ کہا جا تا ہے : محمد سیم تو وہ کہتا ہے : مجھے پیڈ نہیں میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تھا ( میں بھی وہی کہتا تھا تو کہا جا تا ہے : تو نے عقل سے کام نہیں لیا، پھر اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے حتی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں جنس جاتی ہیں ۔ اور اس کے اعمال ایک بدشکل ، بد بودار اور گندے کپڑوں والے شخص کی صورت میں اس کے سامنے آ کر کہتے ہیں : تجھے اللہ کے عذاب اور ناراضی کی خوشخبری ہو۔ وہ کہتا ہے : تو کون ہے؟ تیرا چہرہ ایسا ہے جیسے کوئی شر اور انتہائی بری خبر لایا ہو؟ وہ کہتا ہے : میں تیرا خبیث عمل ہوں ۔ اللہ کی قسم! مجھے یہی معلوم ہے کہ تو اللہ کی اطاعت میں ( انتہائی ) ست اور اس کی نافرمانی میں انتہائی تیز تھا۔ اس سند کے ساتھ عمرو بن ثابت ) کی روایت میں ہے کہ اس پر ایک بہرا گونگا (فرشتہ ) مقرر کر دیا جاتا ہے جس کے پاس ایک ہتھوڑا ہوتا ہے اگر اس ہتھوڑے کے ساتھ پہاڑ کو مارا جاۓتو وہ ریزہ ریزہ ہو جاۓ ۔“ فرمایا: پھر وہ اسے ایسی مار مارتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کے سوا ( اردگردگی ) تمام مخلوقات اسے سنتی ہیں ، پھر اس کی روح لوٹائی جاتی ہے اور وہ اسے دوبارہ مارتا ہے۔ سی حدیث بڑی ( اور ) سند کے لحاظ سے صحیح ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 20
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 21
براء بن عازب (ﷺ) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری مرد کے جنازے کے لئے نکلے، پھر ہم قبر تک پہنچ گئے جبکہ قبر کھودی جا رہی تھی ۔ پھر ( راوی نے ) اس ( حدیث سابق ) جیسی حدیث بیان کی ۔ ابوعوانہ کی ( بیان کردہ ) حدیث زیادہ کمل ہے۔جریر کی روایت میں ہی اضافہ ہے کہ اللہ عزوجل کا فرمان: ينبت الله الذين أمنوا بالقول الثابت في الخلوة الدنيا وفي الأخرة» (ایرانیم: ۲۷) الله تعالى اہل ایمان کو مضبوط قول کے ساتھ دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ( بھی ) ثابت قدم رکھتا ہے۔“ (الآمیہ)اور کافر کے ذکر میں جریر نے یہ اضافہ کیا: پھر اس پر ایک اندھا گونگا( فرشتہ ) مسلط کر دیا جا تا ہے جس کے پاس لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے ۔ اگر اس ( گرز ) سے پہاڑ کو مارا جاۓ تو وہ مٹی بن جاۓ ۔فرمایا : پھر وہ اسے ایسی مار مارتا ہے کہ (اس سے مشرق و مغرب کی مخلوقات سنتی ہیں سواۓ انسانوں اور جنوں کے، پھر اس (کے جسم میں روح لوٹا دی جاتی ہے ۔“ اسی طرح ایک جماعت نے حدیث بیان کی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 21
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 22
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 22
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 23
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 23
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 24
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 24