Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين

Isbat Azab Al Qabar

by Imam Baihaqee

240 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 37

37 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللَّهُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثَنَا هَمَّامٌ ح، أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نَا هُدْبَةُ، ثَنَا هَمَّامٌ، ثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ» قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ: إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ، فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ أَحَبَّ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ لَهُ مِمَّا أَمَامَهُ، فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ فَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ» لَفْظُ حَدِيثِ هُدْبَةَ [ص:47]

عبادہ بن الصامت ﷺ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے ،اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ کی ملاقات کو نا پسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے ۔عائشہ (یا) یا آپ کو بیویوں میں سے کسی نے کہا: ہم موت کو نا پسند کرتے ہیں ۔ آپ نےفرمایا: یہ بات نہیں ہے لیکن مومن کی جب موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کی رضامندی اور اچھے سلوک کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو اسکے سامنے اس سے زیادہ پیاری کوئی چیز ہیں ہوتی ۔ پس وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ کافر کی موت کا جب وقت آ تا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور سزا کی خبر دی جاتی ہے تو اس کے سامنے اس سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ پس وہ اللہ سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے ۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ ← تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← هَمَّامٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 37

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 38

38 - رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَمُّويَهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا شُعْبَةُ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: «لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا» رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسَ

عائشہ دنیا سے روایت ہے کہ رسول اللہ سلم نے فرمایا: ”مرے ہوۓ لوگوں کو برا نہ کہو، کیونکہ بے شک انھوں نے آگے جو بھیجا ہے اس تک پہنچ گئے ہیں ۔ اسے بخاری نےروایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ حَمُّويَهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، كِلَاهُمَا ← حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ ← رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ،

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 38

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 39

39 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تُذْكَرُ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ» قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَمَنْظَرُ الْقَبْرِ أَفْظَعُ مِنْهُ

عثمان کے غلام ہانی سے روایت ہے کہ : عثمان ؛ جب کسی قبر کے پاس گھڑے ہوتے تو اتنا روتے حتی کہ آپ کی داڑھی بھیگ جاتی ۔ آپ سے کہا گیا: آپ جنت اور جہنم کو یا دکر کے اتنانہیں روئے جتنا اس ( قبر ) سے روتے ہیں؟انھوں نے فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے ۔ اگر آدمی اس سے بچ گیا تو اس کے بعد بہت آسانی ہے ۔اور اگر اس میں بیچ نہ سکا تو اس کے بعد بہت ہی برا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”میں نے جتنے منظر دیکھے ہیں ان میں قبر ( کا منظر سب سے زیادہ ہولناک ہے ۔

هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 39

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 40

40 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَصَاحِبُهُ يُدْفَنُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ لَهُ التَّثْبِيتَ فَإِنَّهَ الْآنَ يُسْأَلُ»

عثمان﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ میم ایک جنازے کے ساتھ ایک قبر کے پاس سے گزرے۔میت کو دفن کیا جار ہاتھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اللہ سے اس کی ثابت قدمی کا سوال کرو، کیونکہ اب اس سے سوال و جواب ہونے والے ہیں ۔

مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَصَاحِبُهُ يُدْفَنُ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← هَانِئٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، ← هشام بن يوسف الصنعاني، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 40

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ التَّرْغِيبِ فِي السِّوَاكِ · حديث 41

41 - نَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، أَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: «أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُنْ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُنْ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ» رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: '' جنازے کو جلدی لے جاؤ ، کیونکہ اگر وہ نیک تھا تو تم اسے خیر ( اور بہتری کی طرف لے جار ہے ہوا اور اگر وہ اس کے علاوہ ( یعنی برا تھا تو تم ( جلدی ) اپنی گردنوں سے برا بو جھا تار رہے ہو۔‘ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔باب ۲ : مصطفی ﷺ کا خبر دینا کہ (مرنے والا معاینے کے بعد کلام کرتا ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to hastening the funeral, as long as it is good for you to do it · Hadith 41

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ إِخْبَارِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِ الْجِنَازَةِ بَعْدَ الْمُعَايَنَةِ · حديث 42

42 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحمَدَ بْنُ عَبْدَانَ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا مِلْحَانُ، نَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، ثَنَا أَحْمَدُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا: ثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ، وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ

ابوسعید الخدری پانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جب جنازے کو ( میت کو چار پائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گروٹوں ( کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں ، پھر اگر وہ نیک تھا تو کہتا ہے : مجھے جلدی لے جاؤ ۔ اگر برا تھا تو کہتا ہے : ہاۓ خرابی کہاں لے جا رہے ہو؟ اس کی آواز کو انسان ( اور جن کے علاوہ ( اردگرد کی ہر چیز سنتی ہے اور اگر اسے انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے ۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے ۔ باب : اس کی دلیل کہ میت کے جسم میں ( برزخی طور پر ) اس کی روح لوٹائی جاتی ہے، پھر مومن کو ثواب اور کافر کو عذاب ملتا ہےاللہ تعالی نے شہیدوں کے بارے میں فرمایا: ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون و فرحين بما أنهم الله من فضله ويستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الاخوف عليهم ولا هم يحزنون * * ” جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں انھیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں انھیں رزق دیا جا تا ہے ۔ اللہ نے انھیں جونعمتیں بخشی ہیں ان پرو و خوش ہیں اور ان لوگوں کو خو شہر کی دینا چاہتے ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں اور ( شہید ہوکر )ان سے مل نہیں سکے کہ انھیں نہ کوئی خوف ہے نہ کوئی غم ہے (ال عمران:۱۲۹۔۱۷۰) اور (اللہ تعالی نے ) کافروں کے بارے میں فرمایا: و إن الذين كفروا ينادون لمقت الله أكبر من مقتكم أنفسكم إذ تدعون إلى الإيمان فتكفرون قالوا ربنا أمتنا اثنتين و أحييتنا اثنتين فاعترفنا بذنوبنا فهل إلى خروج من سبيل نھیں پکار کر کہا جاۓ گا: اللہ کی ناراضی و بیزاری ( آج) تمھاری اپنے آپ پر ناراضی و بیزاری سے بڑھ کر تھی ۔ جب ( دنیا میں تمھیں ایمان کی طرف بلا یا جا تا تھا تو تم انکار کر دیتے تھے۔ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دوبارہ موت دی اور تو نے ہمیں دوبارہ زندہ کیا تو ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں ، پھر گیا ( اس عذاب سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ (المؤمن : ۱۰۔۱۱) محمد بن کعب القرظی سے نقل کیا جا تا ہے کہ انھوں نے کہا: میکافروں کا قول ہے ۔ پس کافر کی پہلی موت دنیا میں اس کی زندگی کے بعد کفر پر موت ہے ۔اور دوسری ( قیامت والی موت ہے ۔ اور دوزندگیوں سے مراد ایک زندگی موت کے بعد قبر والی ہے اور دوسری زندگی قیامت کے دن والی ہے۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← أَحْمَدُ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← مِلْحَانُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Isbat Azab Al Qabar · Book › Chapter on informing the Mustafa, peace and blessings of God be upon him, by saying the funeral after the examination · Hadith 42

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهُ تُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ ثُمَّ يُسْأَلُ فَيُثَابُ الْمُؤْمِنُ وَيُعَاقَبُ الْكَافِرُ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْ · حديث 43

43 - أَخْبَرَنَاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: " الْكَافِرُ حَيُّ الْجَسَدِ مَيِّتُ الْقَلْبِ وَهُوَ قَوْلُهُ {أَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ} [الأنعام: 122] يَقُولُ: أَفَمَنْ كَانَ كَافِرًا فَهَدَيْنَاهُ فَمَوْتُ الْكَافِرِ وَحَيَاتُهُ مَوْتُهُ وَحَيَاتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ الَّذِي لَا يَأْكُلُ فِيهِ وَلَا يَشْرَبُ، ثُمَّ حَيَاتُهُ لِلْبَعْثِ "، وَيُذْكَرُ عَنْ غَيْرِهِ أَنَّهُ قَالَ: «إِحْدَى الْمَوْتَتَيْنِ مَوْتَةٌ بَعْدَ حَيَاتِهِ فِي دَارِ الدُّنْيَا وَالْأُخْرَى مَوْتَةٌ حِينَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ النَّفْخَةُ الْأُولَى وَإِحْدَى الْحَيَاتَيْنِ حَيَاتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ لِسُؤَالِ الْمَلَكَيْنِ وَالْإِحْسَاسِ بِالْعَذَابِ وَالْأُخْرَى حَيَاتُهُ لِلْبَعْثِ» ، وَقَدْ قِيلَ فِيهَا غَيْرُ ذَلِكَ، وَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تَنْصِيصٌ عَلَى أَنَّهُ تُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ لِذَلِكَ وَهُوَ فِيمَا

محمد بن کعب ( القرظی ) سے مروی ہے کہ کافر کا جسم زندہ اور دل مردہ ہوتا ہے اور یہ ہے اللہ کے فرمان: « آو من كان ميتا فأحيينہ کہ کیا ایک ایسا شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندی کیا ۔“ (انعام:۱۲۲) کا مطلب ہے ۔ ( پھر کہا: کیا پس جو کافر تھا تو ہم نے اسے ہدایت دے دی۔ پس کافر کی موت اور زندگی ، اس کی مرنے کے بعد کی زندگی ہے جس میں نہ کھا تا ہے اور نہ پیتا ہے ، پھر اس کی قیامت کے دن کی زندگی ہے۔ ( امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: ) اور دوسروں سے مروی ہے کہ دوموتوں میں سے ایک اس کی دنیا کی زندگی کے بعد والی موت اور دوسری موت اس وقت ہوگی جب صور میں پہلی دفعہ پھونک ماری جائے گی ۔اور اس کی دو زندگیوں میں سے ایک زندگی موت کے بعد ( قبروالی ) ہے جس میں دوفرشتے سوال جواب کرتے ہیں اور اسے عذاب کا احساس ہوتا ہے اور دوسری زندگی قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے والی زندگی ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← أبو معشر ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them · Hadith 43

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهُ تُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ ثُمَّ يُسْأَلُ فَيُثَابُ الْمُؤْمِنُ وَيُعَاقَبُ الْكَافِرُ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْ · حديث 44

44 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ، نَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ [ص:51] أَبِي عُمَرَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدُ قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ بِيضُ الْوجُوهِ كَأَنَّ عَلَى وُجُوهِهِمُ الشَّمْسَ، مَعَهُمْ حَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، وَكَفَنٌ مِنْ كَفَنِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ قَالَ: فَتَخْرُجُ نَفْسُهُ فَتَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِيِّ السِّقَاءِ، فَأَخَذَهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ رِيحِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ، فَلَا يَمُرُّونَ بِمَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذِهِ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُفْتَحُ لَهُ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى، فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، فَيَقُولَانِ: مَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ قَالَ: فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ: صَدَقَ عَبْدِي فَافْرُشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا مِنَ الْجَنَّةِ فَيَأْتِيهِ مِنْ رُوحِهَا وَطِيبِهَا وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ، فَهَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الوَجْهُ الَّذِي يَجِيءُ بِالْخَيْرِ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكُ الصَّالِحُ، فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ، رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي [ص:52] وَمَالِي قَالَ: وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَِ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوجُوهِ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَأْتِيهِ مَلَكُ الْمَوْتِ فَيَجْلِسُ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضَبٍ. قَالَ: فَتَتَفَرَّقُ فِي جَسَدِهَا فَيَنْتَزِعُونَهَا وَمَعَهَا الْعَصْبُ وَالْعُرُوقُ كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ، فَيَأْخُذُونَهَا فَيَجْعَلُونَهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ قَالَ: وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ، فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذِهِ الرُّوحُ الْخَبِيثَةُ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيُسْتَفْتَحُ، لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم {لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ} [الأعراف: 40] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السَّابِعَةِ السُّفْلَى، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا نُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ: فَتُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ} [الحج: 31] قَالَ: ثُمَّ تُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ قَالَ: فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي قَالَ فَيَقُولَانِ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي قَالَ: فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي قَالَ: فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ عَبْدِي فَافْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا مِنَ النَّارِ وَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ قَالَ: وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُوكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، فَيَقُولُ: وَمَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الوَجْهُ الَّذِي يَجِيءُ بِالشَّرِّ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ قَالَ: فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ، رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ "

براء بن عازب ان سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری آدمی کے جنازے کے لئے نکلے ( جنازے سے فارغ ہو کر ہم قبر تک پہنچ گئے ۔ قبر کھودی جارہی تھی ، پھر رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے ۔ ( ہم ایسے چپ تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ (زمین کو کرید رہے تھے ۔ پھر آپ نے سراٹھایا اورفرمایا: دو عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو ، کیونکہ جب مؤمن آدمی دنیا سے خاتمے اور آخرت کی پہلی منزل پر ہوتا ہے (تو) آسمان سے اس کے پاس سفید چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں ۔(انکے چہرے چمک رہے ہوتے ہیں گویا کہ سورج کی طرح ہیں ۔ ان کے پاس جنت کی خوشبوئیں اور جنتی کفن ہوتے ہیں ۔ (فرشتہ ) اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے: اے نفس مطمئنہ!اللہ کی مغفرت اور رضامندی کی طرف نکل آ ۔ اس کی روح اس طرح ( آسانی سے نکلتی ہے جس طرح ( پانی کی ) مشک سے ( پانی کا قطرہ بہہ جا تا ہے ۔ پھر وہ اسے لیتا ہے ۔ جب وہ اسے لے لیتا ہے تو وہ اس کے ہاتھ میں پلک جھپکنے تک بھی نہیں چھوڑ تے حتی کہ وہ اس کو لے کر اس کفن اور خوشبو میں رکھتے ہیں ، پھر اس سے بہترین مشک ( کافور ) کی خوشبو ، جو کہ زمین پر پائی جاتی ہے نکلتی ہے۔ پھر وہ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں وہ یہی کہتے ہیں ، یہ پاک خوشبو کون سی ہے؟ تو وہ کہتے ہیں : فلاں کا بیٹا فلاں ہے وہ دنیا میں اس کے اچھے نام کے ساتھ پکارتے ہیں حتی کہ وہ اسے آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں ۔ درواز ہ اس کے لئے کھل جاتا ہے ، پھر ہر آسمان سے اس کے مقرب فرشتے دوسرے آسمان تک لے جاتے ہیں حتی کہ وہ اسے ساتو میں آسمان کے دروازے تک لے جاتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے بندے کی کتاب کو ساتو میں آسمان میں علمین میں درج کرو۔ اور اسے زمین پر واپس لے جاؤ، بے شک میں نے انھیں اس ( زمین سے پیدا کیا اور میں اس میں انھیں لوٹاؤں گا اور اسے اس سے دوبارہ نکالوں گا ۔ پھر اس کی روح ( برزخی طور پر ) اسکے جسم میں لوٹائی جاتی ہے تو دوفرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے ، وہ کہتے ہیں : تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں آدمی کون ہے جو تمہارے درمیان بھیجا گیا ؟ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں تجھے اس کا علم کس طرح ہوا ؟ تو وہ کہتا ہے : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی تو اس پر ایمان لے آیا اور تصدیق کی ۔ پھر آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، اس کے نیچے جنت کا بچھونا پھیلا دواور اسے جنت کا لباس پہنا دو ۔ اور جنت کی طرف اس کے لئے دروازہ کھول دو تا کہ جنت کی بہترین ہوائیں اور خوشبوئیں اس کے پاس آ ئیں اور اس کی قبر کو حد نظر تک ( کھول کر پھیلا دیا جا تا ہے۔ اور اس کے پاس خوبصورت چہرے اور پاک خوشبو والا ایک آدمی آ تا ہے اور کہتا ہے: مجھے اس چیز کی خوشخبری ہو جو تجھے خوش کر دے گیا ۔ یہ ہے تیرا دن جس کا تجھ سے وعد و کیا جا تا تھا۔ وہ کہتا ہے : تو کون ہے؟ تیرا چہرہ ایسا ہے جیسے کوئی خیر (اور بہت اچھی خبر لے کر آ تا ہے؟ تو وہ کہتا ہے : میں تیرا نیک عمل ہوں ۔ تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت کھڑی کر دے تا کہ میں اپنے گھر والوں اور ( مال ومتاع ) کے پاس لوٹ جاؤں ۔ فرمایا: اور کافر جب دنیا سے اختتام اور آخرت کے شروع میں ہوتا ہے ( تو آسمان سے اس کے پاس کالے چہروں والے فرشتے ، ایک گندا کفن لے کر اتر تے ہیں حتی کہ وہ اس سے تاحد نظر تک بیٹھ جاتے ہیں ، پھر موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے : اے خبیث روح ! اللہ کے غصے اور غضب کی طرف نکل آ ۔ وہ ( روح ) اس کے جسم میں تڑپتی ہے تو وہ اسے نکالتے ہیں ۔ اس کے ساتھ پیچھے اور رگیں بھی کبھی چلی آتی ہیں جس طرح کہ لوہے کی (گرم) سلاخ کو گیلی اون ( میں ) سے ( رکھ کر ) نکالا جاتا ہے ۔ پھر وہ اسے لے کر اس گندے کپڑوں کے کفن میں رکھتے ہیں۔ فرمایا: و وزمین پر ملنے مردار ہیں ان سے زیادہ بد بودار حالت میں اس کے جسم سے نکلتی ہے ۔ پھر وہ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں ۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ کون سی خبیث روح ہے؟ تو وہ کہتے ہیں : فلاں کا بیٹا فلاں ہے ۔ وہ اس کا وہ نام لیتے ہیں جو دنیا میں (اس کے نزدیک انتہائی برا تھا۔ پھر اس کے لئے ( آسمان کا دروازہ کھلوایا جا تا ہے تو ( دروازہ نہیں کھلتا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت : ولا تفتح لهم أبواب السماء ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں : (الاعراف: ۴۰ ) آخر تک پڑھی۔ فرمایا: تو اللہ کہتا ہے : اس کی کتاب کو ساتو میں زمین کے نچلے حصے میں رکھ دو۔ اسے زمین پر لے جاؤ۔ میں نے یقینا انھیں اس سے پیدا کیا اور اس میں لوٹاؤں گا اور دوبارہ اسی سے زندہ کروں گا۔ پھر اس کی روح کونتی سے پھینک دیا جا تا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ( یہ آیت تلاوت فرمائی: «و من يشرك بالله فكانما خر من الشماء فتخطفة القير أو تهوى به الريح في القير أو تهوى به الريح في مكان سحیقہ اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آسمان سے گرا، پھر اسے پرندوں نے اچک لیا، اور ہوا اسے دور دراز مقام پر گرا دیتی ہے ۔ (الج (۳) پھر اس کی روح اس کے جسم میں ( برزخی طور پر لوٹائی جاتی ہے ۔ فرمایا : پھر دوفرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرارب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے : ہائے ہاۓ ! مجھے پیڈ نہیں ،تو وہ اسے کہتے ہیں۔ یہ آدمی کون ہے جو تمہارے اندر بھیجا گیا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : ہاۓ ہاۓ ! مجھے پیڈ نہیں ۔ پھر آسان سے آواز دینے والا آ واز دیتا ہے اس نے جھوٹ کہا: اس کے نیچے آگ کا بچھونا بچھا دو، اور اسے آگ کا لباس پہنا دو اور ( جہنم کی ) آگ کی طرف اس کے لئے دروازہ کھول دو۔ جہنم کی گرمی اور مسموم ( زہریلی ہوائیں اس کے پاس آتی ہیں ۔ اور اس پر اس کی قبر تنگ ہو جاتی ہے۔ حتی کہ اس کی پہلیاں ایک دوسرے میں دھنے لگتی ہیں اور ایک بدصورت اور بد بودار آدمی اس کے پاس آ کر کہتا ہے : تجھے اس بات کی خوشخبری ہو جو تجھے (انتہائی بری لگے گی ۔ یہ ہے تیرا وہ دن جس کا تجھے سے وعدہ کیا جا تا تھا۔ ( تو وہ کہتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ ایسے آدمی کا چہرہ ہے جو بری خبر لے کر آتا ہے ) وہ کہتا ہے، میں تیرا خبیث عمل ہوں ۔ تو وہ کہتا ہے : اے میرے رب! قیامت نہ کھڑی کرنا ۔ اے میرے رب ! قیامت کھڑی نہ کرنا ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← سعدان بن نصر المخرمي ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد عبد الله بن يوسف بن أحمد الأصبهاني

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them · Hadith 44

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهُ تُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ ثُمَّ يُسْأَلُ فَيُثَابُ الْمُؤْمِنُ وَيُعَاقَبُ الْكَافِرُ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْ · حديث 45

45 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ: «الرُّوحُ بِيَدِ الْمَلِكِ وَالْجَسَدُ يُقَلَّبُ، فَإِذَا حَمَلُوهُ تَبِعَهُمْ، فَإِذَا وُضِعَ فِي الْقَبْرِ بَثَّهُ فِيهِ»

حذیفہ نے فرمایا: روح فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور جسم بھڑک رہا ہوتا ہے ۔ پھر وہ جب اسے اٹھاتے ہیں تو (اس کی نظر ان کے پیچھے جاتی ہے ۔ پھر جب (لاش کو قبر میں رکھ دیا جا تا ہے تو روح کو اس میں لوٹا دیا جا تا ہے۔ باب ۸: اس بات کی دلیل کہ ( میت سے ) سوال و جواب کے بعد صبح و شام اس پر اس کا ٹھکانہ پیش کیا جا تا ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا: النار يعرضون عليها غدوا وعشيا و يوم تقوم الساعة أدخلوا إلى فرعون اشد العذاب ) اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا ۔ آگ پر وہ صبح وشام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت قائم ہوگی ( تو کہ جاۓ گا ) آل فرعون کو (آج ) سب سے سخت عذاب میں داخل کر دو ۔ [المومن:۴۷ ]

حُذَيْفَةَ أَنَّهُ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ الشَّيْبَانِيُّ، ← الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them · Hadith 45

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهُ بَعْدَ السُّؤَالِ يُعْرَضُ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَ · حديث 46

46 - أَخْبَرَنَاه أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ قَتَادَةُ: يَرِدُ عَلَيْهِ، " يُقَالُ لَهُمْ: يَا آلَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ مَنَازِلُكُمْ تَوْبِيخًا وَصَغَارًا وَنِقْمَةً "

آیت :” وہ اس (آگ) پر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں ۔‘ ( کی تشریح ) میں مجاہد ( تابعی ) نے فرمایا: جب تک دنیا قائم رہے گی ( وہ پیش ہوتے رہیں گے۔

مُجَاهِدٍ، فَذَكَرَهُ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46] · Hadith 46

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهُ بَعْدَ السُّؤَالِ يُعْرَضُ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَ · حديث 47

47 - وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، نَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، فَذَكَرَهُ

قادہ بن دعامہ ( تابعی ) نے فرمایا: (اس پر پیدوارد ہے کہ انھیں کہا جا تا ہے :اے آل فرعون ! یہ ہیں تمہارے ٹھکانے ، تاکہ انھیں ڈانٹا جاۓ ، ذلیل کیا جائے اور ان سے ( ان کے کفر کا انتقام لیا جاۓ ۔ ٤٣) حســـــن، سالم بن ابی الجعد کے حد این بلال سے سارع میں نظر ہے لیکن اس روایت کے بہت سے شواہد ہیں مثلا دیکھئے حدیث سابق:19 44) اس کی سند عبد اللہ بن ابی شیخ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن اس کا مفہوم دوسرے دلائل کی رو سے صحیح ہے، اسے ابن جریر طبری ( ۴۴/ ۱۱/۲۷) نے بھی روایت کیا ہے ۔ ٤٥) سیروایت سعید بن ابی عروبہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن اس کا مفہوم دوسری احادیث سے ثابت ہے۔ اس روایت کو ابن جریر ( ۲۴/ ۴۷ ) نے بھی بیان کیا ہے ۔

قَتَادَةَ، فَذَكَرَهُ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وَذَلِكَ فِيمَا

Isbat Azab Al Qabar · Book › Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46] · Hadith 47

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهُ بَعْدَ السُّؤَالِ يُعْرَضُ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَ · حديث 48

48 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ نَافِعٍ عَنْ نَافِعٍ

ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک جب تم میں سے کوئی مر جا تا ہے تو صبح وشام اس پر اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اسے کہا جا تا ہے : تیرامی ل کا نہ قیامت تک ہے بھی کہ اللہ تجھے دو بار وزندہ کر دے ۔ اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Isbat Azab Al Qabar · Book › Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46] · Hadith 48

chevron_left Previous
12345…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Concerning what this verse promises to the disbelievers with the torment of the graves, God Almighty says: “May God be deceived by the unjust, and God will do.”3. The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed.4. The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were5. The door to hastening the funeral, as long as it is good for you to do it6. Chapter on informing the Mustafa, peace and blessings of God be upon him, by saying the funeral after the examination7. The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them8. Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46]9. What is the door of the hypocrites from the torment in the grave before the torment in the fire, said Allah exalted {and those around you of the Bedouins are hypocrites and the people of the city Mrdoa hypocrisy we do not teach them to teach them Snazbhm10. What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124]11. Door passport of life in a single part and that the structure is not a life condition, and not from the neighborhood condition, and in that passport torture parts scattered, said God Almighty {And your Lord creates what He wills and chooses} [Stories: 68]12. The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d
13. The door of intimidating the people of faith in the torment of the grave God said to His Prophet peace be upon him {and not Thbtnak I almost left them a little something, if Ozguenak weakness of life and the weakness of death and then do not find you we h
14. The door to the torment of graves in grace and urine
15. Concerning the fear of the torment of the graves in the slaying of the dead,
16. The door to the fear of the torment of the graves in the shadows
17. The door to the fear of the torment of the graves in religion
18. Concerning the punishment of the grave that God Almighty says: “From the security of the grave” He said: “And God Almighty says:
19. The door to what is hoped for in the safety of the temptation of graves
20. The door to the security of God’s punishment in the grave is what is required in the testimony
21. Chapter on what is requested in the reading of Surat Al-Mulk, to prevent the torment of the graves.
22. The door to the torment of the grave hope for those who are safe
23. The door to what is required in death on Friday night from the innocence of the temptation of the graves
24. The chapter on the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, during the funeral prayer
25. Chapter on what was hoped in the prayers of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, for the funerals from the light in the graves and the darkness of God over him
26. The door to the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, to the participants with the torment of the graves
27. The door to seek refuge and command of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, from the torment of the graves and his command
28. The door to supplication for the believer in confirmation after the completion of the burial
29. The door wishing to forgive him to teach his people what God has honored him by God, said the bulk of Hereafter those who blessed him for forgiveness {was said to Paradise, said Oh national know what forgave me my Lord and made me of the honored} [Yassin:
30. The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex
31. The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror.