Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 25
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 26
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 26
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 27
براء بن عازب ( ﷺ) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری مرد کے جنازے کے لئے نکلے، پھر ہم قبر تک پانی سے جبکہ قبر کھودی جا رہی تھی ۔ راوی نے ( بی ) حدیث بیان کی ۔ (امام بیہقی نے فرمایا ) عدی بن ثابت نے ایسی روایت براء بن عازب ﷺ سے بیان کر رکھی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 27
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 28
ابو حازم ( تابعی) نے ابو ہریرہ (ﷺ) سے براء بن عازب ( ) جیسی روایت بیان کی ۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ (اسے کہا جا تا ہے ) متقی مومنوں کی طرح سو جا، اور بدکار سے کہا جاتا ہے: اس حالت میں لیٹ جا کہ تجھے ( سانپ بچھو ) نوچتے ر ہیں اور فرمایا: ( قبر کے ) جتنے بھی جانور ( کیڑے ہیں ان کا اس کے جسم میں حصہ ہوتا ہے (یعنی وہ سب اسے نوچتے ہیں ' عائشہ اور ابو ہریرہ بیا سے (ایسی روایت ) دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 28
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 29
عائشہ بنا نے فرمایا: میرے پاس ایک یہودی عورت نے آ کر کہا: مجھے کھانا کھلاؤ اللہ تجھے دجال اور قبر کے فتنے سے بچاۓ ۔ میں نے اسے روکے رکھا حتی کہ نبی سلام آ گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ یہودی عورت کیا کہتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” کیا کہتی ہے؟“ میں نے کہا: کہتی ہے کہ اللہ تجھے دجال اور قبر کے فتنے سے بچاۓ ، تو رسول اللہ کھڑے ہوگئے ، پھر آپ نے ( دعا کے لئے ) اپنے ہاتھ خوب پھیلائے ۔ آپ دجال کے فتنے اور قبر کے فتنے سے (اللہ کی پناہ مانگ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: دجال کی جو بات ہے تو ( سن لو! ) کوئی نبی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی امت کو اس ( دجال سے نہ ڈرایا ہو۔ میں تمہیں ( اس کی علامتیں بنا کر ) اس طرح ڈراؤں گا جس طرح کسی نبی نے نہیں ڈرایا۔ بے شک وہ ( دجال ) کا نا ہے اور اللہ کا نانہیں ہے ۔اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کا فرلکھا ہوا ہے ۔ جسے ہر مومن پڑھ لے گا۔ اور رہی قبر کے فتنے کی بات تو (سُن لو!) میرے ساتھ لوگوں کو قبر میں آزمایا جاۓ گا اور میرے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا۔ پس اگر نیک آدی ہو تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے اسے قبر میں بٹھایا جا تا ہے، پھر اسے کہا جا تا ہے : تو کس ( دین ) پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے: اسلام پر، پھر کہا جاتا ہے: یہ آدمی کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے : محمد رسول اللہ ﷺ جو اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے پاس واضح دلیلیں لے کر آۓ تو ہم ( آپ پر ایمان لے آۓ اور ( آپ کی تصدیق کی ۔ پھر اسے کہا جا تا ہے : کیا تو نے اللہ کو دیکھا ہے؟ تو وہ کہتا ہے کوئی آدمی ( دنیا میں ) اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ پھر ( قبر میں ) اس کے سامنے آگ کی طرف ایک گھڑ کی کھول دی جاتی ہے تو وہ اسے دیکھتا ہے ۔ آگ اس طرح بھڑک رہی ہے کہ گویا ایک دوسرے کو جلا رہی ہے۔ اسے کہا جاتا ہے : دیکھو ، اس سے اللہ نے تجھے بچالیا ہے، پھر جنت کی طرف ایک کھٹڑ کی کھول دی جاتی ہے تو وہ جنت کی نعمتیں دیکھتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانہ ہے اور کہا جاتا ہے : تو یقین پر تھا اور اس پر فوت ہوا،جب اللہ چاہے گا تو اس پر زندہ ہو گا۔ فرمایا : اور جو برا آدمی ہے اسے اس کی قبر میں بٹھایاجاتا ہے، وہ ڈرا ہوا اور سخت خوف زدہ ہوتا ہے ۔ اسے کہا جا تا ہے : تو کس ( دین ) پرتھا؟ تو وہ کہتا ہے: مجھے پی ہیں ، پھر کہا جا تا ہے ۔ یہ آدمی کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تھا، پھر جنت کی طرف ، اس کے سامنے ایک کھڑ کی کھول دی جاتی ہے تو وہ جنت کی نعمتیں دیکھتا ہے، اسے کہا جاتا ہے : دیکھو! اللہ نے اسے تجھ سے ہٹا دیا ہے ( اور تجھے اس جنت سے محروم کر دیا ہے ) پھر اس کے سامنے (جہنم کی) آگ کی طرف کھڑ کی کھول دی جاتی ہے وہ دیکھتا ہے کہ آگ اس طرح بھڑک رہی ہے کہ گویا ایک دوسرے کو جلا رہی ہے۔ پھر کہا جا تا ہے : یہ تیرا ٹھکانہ ہے ، پھر کہا جاتا ہے : تو شک پر تھا، اس پر مرا اور جب اللہ چاہے گا اس پر تو زندہ کیا جائے گا ۔" ( حدیث کے ) یہ الفاظ مکی بن ابی بکر کے ( بیان کردہ) ہیں۔ شبابہ کی روایت کے آخر میں ہے کہ اور جب اللہ چاہے گا اس پر تو زندہ کیا جاۓ گا ، پھر اسے عذاب دیا جا تا ہے ۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 29
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 30
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 30
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 31
محمد بن یحیٰ(الذہلی) کی روایت میں ہے کہ پھر اسے کہا جاتا ہے: کیا تو نے اللہ کو دیکھا ہے؟ تو وہ کہتا ہے : کوئی آدمی اللہ کو دیکھ نہیں سکتا ۔ محمد بن بیٹی نے (اس کی تشریح میں ) فرمایا : یہ حدیث ) دنیا کے بارے میں ہے، کیونکہ جنتی لوگ اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھیں گے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 31
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْوُضُوءِ بِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ · حديث 32
ابوسعید (الخدری ) سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم ایک جنازے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھے تو آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! بے شک میدامت اپنی قبروں میں آزمائی جائے گی ۔ پس جب انسان کو دفن کر دیا جا تا ہے تو اس کے ساتھی (وہاں سے منتشر ہو جاتے ہیں ۔ مرنے والے کے پاس ایک فرشتہ ، ہاتھ میں ہتھوڑا لئے آ کر اسے بٹھاتا ہے ۔ پھر کہتا ہے تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ پس اگر وہ مومن تھا تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد سے اس کے بندے اور رسول ہیں تو اسے کہا جا تا ہے : تو نے سچ کہا۔ پھر اس کے سامنے آگ کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جا تا ہے اور کہا جاتا ہے : اگر تو اپنے رب کے ساتھ کفر کرتا تو یہ تیرا مقام تھا، چونکہ تو اہل ایمان میں سے ہے تو تیرا ( سیہ دوسرا ٹھکانہ ہے، پھر جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جا تا ہے ۔ پس وہ چاہتا ہے کہ وہاں (جنت میں چڑھ جائے تو اسے کہا جاتا ہے : سکون سے ٹھہرے رہو۔ اس کی قبر کھول دی جاتی ہے اور اگر ( دنیا میں ) کافر یا منافق تھا تو ( فرشتہ ) اسے کہتا ہے: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے : مجھے پید نہیں ، میں نے لوگوں کو ایک چیز کہتے سنا تو وہی بات میں نے کہہ دی ، پھر اسے کہا جاتا ہے، نہ تو تو نے عقل سے کام لیا نہ (انبیاء کی پیروی کی اور نہ تو نے سیدھا راستہ اختیار کیا۔ پھر وہ ( فرشتہ ) اسے ایک ہتھوڑے سے مارتا ہے جسے (اس کے اردگرد کی تمام مخلوقات سنتی ہیں ،سوائے انسانوں اور جنوں کے ، بعض لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جس آدمی کے سامنے ( قبر میں فرشتہ ہتھوڑا لئے آۓ گا وہ آدمی تو شدید ڈر جاۓ گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول کے ساتھ ثابت قدم رکھتا ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed. · Hadith 32
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 33
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جب مومن کی روح نکلتی ہے تو دوفرشتے اسے لےکر (اوپر چڑھتے ہیں ۔ حماد بن زید، راوی ) نے اس روح کی خوشبوؤں اور مشک و کستوری کا ذکر کیا۔ آسمان والے کہتے ہیں : یہ پاک روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے، اللہ تجھ پر اور جس جسم میں تو رہتی تھی امتیں نازل فرمائے ، پھر اسے اپنے رب کے پاس لے جایا جا تا ہے تو ( رب فرماتا ہے: اسے آخری وقت ( یعنی قیامت تک کے لیے واپس لے جاؤ۔ فرمایا: اگر کافر تھا تو جب اس کی روح نکلتی ہے ۔حماد بن زید ) نے اس کی بد ہو اور لعنت کا ذکر کیا۔ آسمان والے کہتے ہیں : یہ خبیث روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے، پھر کہا جا تا ہے اسے آخری وقت (یعنی قیامت تک کے لیے واپس لے جاؤ ۔ ابو ہر بیوی نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے (ناپسندیدگی کی وجہ سے اپنا کپڑا اپنی ناک پر رکھا۔اے مسلم نے روایت کیا ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← علي بن الصقر بن نصر ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 33
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 34
ابو ہریرہ سے (ہی ) روایت ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آ تا ہے تو اس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں، وہ اس کی روح کو ریشم کے کپڑے میں قبض کرتے ہیں ، پھر اسے آسان کی طرف لے کر چڑھتے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں: زمین سے پاک روح آئی ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے جاتے ہیں تو کہا جا تا ہے : خوشبوؤں اور خوشیوں کی تجھے خوشخبری ہو ۔ ( تیرا رب غضب میں نہیں ہے ( یعنی تجھ سے بہت خوش ہے ) پھر فرمایا: اسے قیامت تک کے لیے ( زمین میں واپس بھیج دو اور اگر کافر تھا تو اس کی روح گندے کپڑے میں قبض کرتے ہیں ، پھر اسے لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو ( اس کی بد بوکی وجہ سے فرشتے اپنی ناکوں کو پکڑتے ہیں اور کہتے ہیں بری روح ،زمین سے آئی ہے۔ پھراسے لے کر چڑھتے ہیں تو کہا جا تا ہے: مجھے اللہ کے عذاب اور تیری رسوائی کی خوشخبری ہو، پھر کہا جا تا ہے کہ (اسے قیامت تک کے لئے ( واپس بھیج دو )
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 34
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 35
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک جب مرنے والےکی وفات کے وقت فرشتے آتے ہیں تو اگر نیک آدمی ہوتو وہ کہتے ہیں: اے پاک ،اطمینانوالی روح! ( جسم سے باہر نکل آ ، تو پاک جسم میں تھی ۔ نکل آ تو قابل تعریف ہے اور تجھے ( جنت کی خوشبوؤں اور خوشیوں کی خوشخبری ہو۔ تیرارب ناراض نہیں ہے ۔ اسے یہی کہا جاتا ہے حتی کہ وہ ( جسم سے نکل جاتی ہے ، پھر وہ اسے لے کر آسمان تک چڑھ جاتے ہیں تو دروازہ کھلتا ہے اور کہا جاتا ہے: یکون ہے؟ کہا جا تا ہے : فلاں کا بیٹا اور فلاں ہے، تو کہا جا تا ہے : پاک روح کوخوش آمدید ہو، پاک جسم میں تھی ، داخل ہو جا تو قابل تعریف ہے، اور تجھے (جنت کی ) کی خوشبوؤں اور خوشیوں کی خوشخبری ہو ۔ تیرارب ناراض نہیں ہے ۔اسے اسی طرح کہا جا تا ہے تھی کہ میرے خیال کے مطابق ،اسے ساتو میں آسمان تک لے جاتے ہیں۔اور اگر برا آدمی تھا تو اسے کہتے ہیں نکل ، اے بری روح ! تو برے جسم میں تھی ، کل ذلیل ورسوا ہو کر ، تجھے کھولتے پانی ، زخموں کی پیپ اور قسم قسم کے عذابوں کی ”خوشخبری“ ہو۔ اسےاسی طرح کہا جا تا ہے حتی کہ وہ ( جسم سے نکل آتی ہے ، پھر وہ اسے آسمان کی طرف لےکر جاتے ہیں تو کہا جا تا ہے:یہ کون ہے؟کہتے ہیں فلاں کا بیٹا اور فلاں ہے۔ تو کہا جا تا ہے: خبیث روح کو خوش آمدید نہ ہو ، وہ برے جسم میں تھی ، ذلیل و رسوا ہو کر لوٹ جا۔ تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھلیں گے ۔ پھراسے زمین کی طرف بھیج دیا جا تا ہے، پھر اسے قبر کی طرف بھیج دیا جا تا ہے ۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 35
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 36
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب مومن کی موت کا وقت آ تا ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں: نکل جاؤ ( جسم سے ) تو اللہ سے راضی وہ تجھ سے راضی ، اللہ کی ( پیدا کردہ ) خوشبوؤں اور خوشیوں کی طرف، تیرارب ناراض نہیں ہے ۔ تو وہ ( روح ) اس طرح نکلتی ہے گویا مشک ( کافور ) کی ب سے بہترین خوشبو ہے حتی کہ وہ اسے ایک دوسرے سے لے کر سونگھتے ہیں ۔ وہ اسےلے کر آسمان کے دروازے کے پاس آتے ہیں ( تو در بان یا دوسرے فرشتے ) کہتے ہیں: سی زمین سے کتنی پاک خوشبو کی ہے ؟ جس آسمان پر وہ آتے ہیں اس آسمان والے ہی بات کہتے ہیں حتی کہ وہ اسے مومنوں کی روحوں کے پاس لے آتے ہیں تو وہ اتنے زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنا کوئی کسی نائب ( اور گمشدہ شخص کے (گھر) آ جانے پر بھی خوش نہیں ہوتا ،اور وہ اس سے پوچھتے ہیں : فلاں آدمی کا کیا حال ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: اسے چھوڑ و تا کہ آرام کر لے، کیونکہ بے شک وہ دنیا کے غموں میں ( مجبور تھا۔ پھر جب وہ ان سے کہتا ہے: ( جس کا تم پوچھ رہے ہو کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا ؟ وہ تو ( کافی عرصہ پہلے مر گیا تھا؟ تو وہ کہتے ہیں : وہ اپنے ٹھکانے جہنم کی طرف چلا گیا ہے، اور کافر کے پاس عذاب کے فرشتے، چیتھڑوں کا گندا کفن لے کر آتے ہیں ، پھر کہتے ہیں : ( باہر نکلو ، تو اپنے سے ناراض ، رب تجھ سے ناراض، اللہ کے عذاب اور ناراضی کی طرف ۔ پس وہ اس طرح نکلتی ہے گویا سڑی ہوئی لاش کی بو ہے۔ پھر اسے زمین کے دروازے کی طرف لے جاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں یہ کتنی گندی بد بو ہے ۔ وہ زمین کی طرف آتے ہوۓ یہی کہتے ہیں حتی کہ وہ اسے کافروں کی روحوں کے پاس پہنچا دیتے ہیں ۔پہلے جز ء کا آ خرختم ہوا۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 36