مقاتل بن سلیمان (کذاب مفسر) نے اپنی تفسیر میں تابعین سے اس آیت : ہائے افسوس! کس نے ہمیں اپنی خواب گاہ سے اٹھا دیا، کی تشریح میں نقل کیا کہ ہر دن کافروں کی روحوں کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ پھر جب نفحہ اولی اور نفخہ ثانیہ کے درمیان اُن سے عذاب اٹھا لیا جائے گا تو جب انھیں فتحہ کا نیہ میں اٹھایا جائے گا اور وہ اپنی آنکھوں سے قیامت کے دن اسے دیکھ لیں گے جسے دو دنیا میں جھوٹ سمجھتے تھے، دوبارہ زندگی اور حساب کتاب کو تو وہ اپنی تباہی کو پکاریں گے : ہائے ہماری تباہی کس نے ہمیں خواب گاہ سے اٹھا دیا۔ اور ابن مسعود (عالی) کی قرآت میں ہماری موت سے " ہے تو انھیں نگہبان فرشتے کہیں گے: یہ وہ ہے جس کا رحمن نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر تم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تمھیں موت کے بعد زندہ کرے گا تو تم نے اسے جھوٹ سمجھا اور رسولوں نے بیچ کہا تھا کہ دوبارہ اٹھنا حق ہے، اور اس (مفسر) نے ونفخ فی الصور کی تشریح میں کہا۔ اور دو سینگ ہے (جس میں پھونک ماری جائے گی ) پس آسمانوں اور زمینوں میں جو حیوان بھی ہے وہ آواز کی شدت کی وجہ سے مدہوش ہو کر مر جائے گا۔ پھر وہ مستی رہیں گے جنہیں اللہ مستثنیٰ رکھےگا، یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور موت کا فرشتہ زند دور ہیں گے : پھر موت کے فرشتے کو حکم دیا جائے گا کہ میکائیل کی روح قبض کرے، پھر جبرئیل اور پھر اسرافیل کی روح قبض کی جائے گی۔ پھر موت کے فرشتے کو حکم دیا جائے گا تو وہ بھی مر جائے گا۔ پھر تمام مخلوق نفقہ اولیٰ کے بعد چالیس سال تک مقام برزخ میں رہے گی۔ پھر دوسرا فتحہ ہوگا تو اللہ اسرائیل کو زندہ کر کے حکم دے گا کہ دوسرا صور پھونکو ، تو یہ ہے اللہ کی بات پھر ( دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہو کر دیکھیں گے ۔ اس دوبارہ زندگی کی طرف جسے وہ دنیا میں جھٹلاتے تھے۔بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ جب کفار جہنم اور اس کے مختلف عذابوں کو دیکھ لیں گے تو قبروں والے عذاب کو نیند کی طرح تصور کریں گے۔ پھر کہیں گے: کس نے ہمیں اپنی خواب گاہ سے اٹھا دیا۔ الشیخ ( امام بیہقی ) رحمہ اللہ نے فرمایا: میں کہتا ہوں کہ قرآن میں جو ہے کہ آگ پر وہ صبح وشام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت واقع ہوگی ( کہا جائے گا ) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کرو۔ پھر صحیح احادیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ مفسرین نے اس آیت کی جو تشریح کی ہے وہ صحیح ہے اور انھی احادیث میں سے یہ بھی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex · Hadith 217
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: " دونوں تختوں ( نفتحہ اولی اور ثانیہ ) کے درمیان چالیس ہیں ۔ ابو ہریرہ سے کہا گیا: چالیس دن؟ انھوں نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا: چالیس مہینے ؟ ابو ہریرہ تالین نے کہا: میں انکار کرتا ہوں۔ پھر فرمایا: اللہ آسمان سے پانی نازل کرے گا تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے پہاڑ اگ آتے ہیں اور فرمایا: انسان کی ہر چیز گل سڑ جاتی ہے، سوائے ایک ہڈی کے وہ ریڑھ کی ہڈی ہے اور اسی سے مخلوق کو دوبارہ، قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex · Hadith 218
یہی روایت دوسری سند سے آتی ہے جس میں ہے کہ لوگوں نے کہا: چالیس سال؟ تو ابو ہریرہ (ﷺ) نے فرمایا: میں نے انکار کر دیا۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ (بیہقی نے کہا:) گویا ابو ہریرہ (ان) نبی ا سے چالیس کی تفسیر نہیں سن سکے، جبکہ دوسرے مفسرین کہتے ہیں: یہ چالیس سال ہیں۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex · Hadith 219
ابو ہریرہ (ہی ) سے روایت ہے کہ ایک یہودی ایک دن اپنا سامان بیچ رہا تھا تو اسے کوئی چیز ( قیمت ) دی گئی جسے اس نے ناپسند کیا یا برا سمجھا۔ عبدالعزیز (راوی) کو شک ہے تو اس نے کہا نہیں، اس ذات کی قسم جس نے موسی کو تمام انسانوں پر فضلیت بخشی ! ( مجھے یہ منظور نہیں ہے) جب ایک انصاری نے یہ بات سنی تو اسے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا (اور) کہا: تو یہ کہتا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی اور رسول اللہ ا ہمارے درمیان موجود ہیں؟ تو یہودی نے رسول اللہ س کے پاس جا کر شکایت لگائی اور کہا: اے ابوالقاسم ! آپ کے اوپر میرا ذمہ اورمعاہدہ ہے تو فلاں شخص نے مجھے تھپٹر کیوں مارا ہے؟ رسول اللہ سلم نے ( اس انصاری سے پوچھا: " تو نے اسے منہ پر تھپڑ کیوں مارا ہے؟"
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex · Hadith 220
ابن عباس () سے روایت ہے کہ جب عمر بن خطاب زخمی ہوئے تو میں آپ کے پاس گیا اور کہا: اے امیر المومنین جنت کی خوشخبری ہو۔ آپ اس وقت مسلمان ہوئے جب لوگ کافر تھے ۔ جب ( عام ) لوگوں نے رسول اللہ علی ایم کو چھوڑ دیا تو آپ نے ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور جب رسول اللہ علی ایم فوت ہوئے تو وہ آپ سے راضی تھے۔ دو آدمیوں نے بھی آپ کی خلافت کے بارے میں اختلاف نہیں کیا اور آپ شہید ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ باتیں (دوبارہ کرو تو میں نے دوبارہ یہی باتیں کہہ دیں) انھوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی الہ نہیں ! اگر میرے پاس ساری زمین کی دولت سونا چاندی ہوتے تو میں موت کی سختیوں سے بچنے کے لئے فدیہ دے دیتا۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 221
ثمان بن عفان ( ) جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی بھیگ جاتی ، انھیں کہا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کے ذکر کے وقت اتنا نہیں روتے (کہ جتنا ) اس قبر سے روتے ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ جو اس سے بیچ گیا تو اس کے بعد آسانی ہی ہے اور جو اس سے نہ بیچ سکا تو بعد میں سختی ہی سختی ہے۔" اور عثمان نے فرمایا: میں نے جو منظر بھی دیکھا ہے تو قبر اس سے زیادہ خوفناک ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 222
یہی روایت ایک دوسری سند سے مروی ہے جس میں فرمان رسول اللہ صلی اینیم کے بعد ہے کہ میں نے جو منظر بھی دیکھا ہے تو قبر اس سے زیادہ خوفناک ہے، اور قول عثمان () کی صراحت نہیں ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 223
علی سے روایت ہے کہ ہمیں عذاب قبر کے بارے میں مسلسل شک تھا حتی کہ و الهاکم التکاثر ) ( تمھیں کثرت کی خواہش نے ہلاک کر دیا) نازل ہوئی۔ علی سے صحیح سند کے ساتھ ( ح ۱۶۲ ۱۶۶) مروی ہے کہ نبی ﷺ نے احزاب والے دن مشرکین پر عذاب قبر کی دعا فرمائی تھی۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 224
ابن مسعود سے روایت ہے کہ بے شک تم میں سے ہر آدمی اپنی قبر میں خوفزدہ حالت میں بٹھایا جاتا ہے، پھر اسے کہا جاتا ہے کہ تو کیا ہے؟ پس اگر وہ مومن تھا تو کہتا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، زندہ حالت میں بھی اور موت میں بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور بے شک محمد (سلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں تو اس کی قبر جتنی چاہے کھل جاتی ہے، پھر وہ اپنا جنت میں مکان دیکھتا ہے ۔ جنت سے اس کے لئے لباس اترتا ہے جسے وہ پہنتا ہے۔ اور کافر تو اسے کہا جاتا ہے تو کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: مجھے پتہ نہیں۔ اسے تین دفعہ کہا جاتا ہے کہ تو نے (عقل سے ) نہیں سمجھا۔ پھر اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے حتی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں دھنسنے لگتی ہیں۔ اس پر قبر کی ( چاروں اطراف سے سانپ چھوڑ دیے جاتے ہیں جو اسے نوچتے اور کھاتے ہیں ۔ پھر جب اسے (بہت) تکلیف ہوتی ہے تو وہ چیختا ہے۔ اسے آگ یا لوہے کے ہتھوڑے کے ساتھ مارا جاتا ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 225
یہی روایت ایک دوسری سند سے مروی ہے جس میں پہلے (مومن) کے بارے میں ہے کہ اللہ جتنی چاہتا ہے اس کی قبر کھول دیتا ہے اور جنت کی طرف (سے) اس کے لئے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ۔ پھر جنت کی خوشبو اس کے پاس آتی ہے حتی کہ اس کو زندہ کر دیا جائے گا۔ اور دوسرے (کافر) کے بارے میں ہے کہ اور جہنم کی طرف (سے) اس کے لئے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 226
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 227
ابوموسی اشعری نے فرمایا: مومن کی روح اس حالت میں نکلتی ہے کہ وہ مشک (کستوری) سے زیادہ خوشبودار ہوتی ہے، پھر جو فرشتے اسے قبض کرتے ہیں وہ لے کر (آسمان کی طرف) چڑھتے ہیں ۔ آسمان سے نیچے دوسرے فرشتے انھیں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ تو وہ کہتے ہیں : فلاں ( آدمی ) ہے۔ اسے اس کے اچھے عمل ( اور نام) کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ تو وہ کہتے ہیں جتمھیں خوش آمدید ہو اور جو شخص تمہارے ساتھ آیا ہے اسے بھی خوش آمدید ہو۔ پھر اس کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں تو اس کا چہرہ روشن ہو جاتا ہے، پھر وہ اپنے رب تعالی کے پاس آتا ہے اور اس کا چہرہ سورج کی طرح چمک رہا ہوتا ہے۔ کافر کی روح جب لکھتی ہے تو وہ ( گندے) مردار سے بھی زیادہ بدبودار ہوتی ہے۔ پھر اسے قبض کرنے والے فرشتے لے کر جب چڑھتے ہیں تو آسمان سے نیچے انھیں (دوسرے) فرشتے ملتے ہیں جو کہتے ہیں: اسے واپس لے جاؤ، واپس لے جاؤ۔ پس اللہ نے اس پر پکچھ بھی ظلم نہیں کیا اور ابوموسی بھی لینا نے یہ آیت پڑھی: ( وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَةِ الْخِيَاطِ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے ۔“ (٧) الاعراف (٤٠)
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 228