Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند عبد الرحمن بن عوف

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf

by أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى بن الأزهر البِرْتي البغدادي القاضي الحنفي

52 Hadith15 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 1. ما رواه عبد الله بن عباس عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنهما · حديث 1

حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن عبد الله بن عبد الله بن الحارث بن نوفل، عن عبد الله بن عباس، ان عمر بن الخطاب، خرج إلى الشام. حتى إذا كان بسرغ لقيه امراء الاجناد ابو عبيدة واصحابه، فاخبروه ان الوباء قد وقع [ص: 28] بالشام، قال ابن عباس: فقال عمر ادعوا إلي المهاجرين الاولين، فدعاهم فاستشارهم فاخبرهم ان الوباء قد وقع بالشام، فاختلفوا عليه فقال بعضهم: قد خرجت لامر ولا نرى ان ترجع عنه. وقال بعضهم: معك بقية الناس واصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا نرى ان تقدمهم على هذا الوباء، فقال: ارتفعوا عني، ثم قال: ادعوا إلي الانصار، فدعوهم فاستشارهم فسلكوا سبيل المهاجرين واختلفوا كاختلافهم، فقال: ارتفعوا عني، ثم [ص: 29] قال: ادعوا لي من كان هاهنا من مشيخة قريش من مهاجري الفتح فدعوهم فلم يختلف عليه منهم رجلان فقالوا: نرى ان ترجع بالناس ولا تقدمهم على هذا الوباء فنادى عمر في الناس: إني مصبح على ظهر فاصبحوا عليه، فقال: ابو عبيدة بن الجراح: افرار من قدر الله؟ فقال عمر: لو غيرك قالها يا ابا عبيدة، نعم نفر من قدر الله إلى قدر الله جل وعز، ارايت لو كان لك إبل فهبطت واديا له عدوتان إحداهما خصبة والاخرى جدبة اليس إن رعيت الخصبة رعيتها بقدر الله؟ فجاء عبد الرحمن بن عوف وكان متغيبا في بعض حاجته، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال بيده: «هذا كتاب من رب العالمين فيه اسماء اهل الجنة واسماء آبائهم وقبائلهم مجمل على آخرهم، لا يزاد فيهم ولا ينقص منهم، وهذا كتاب من رب العالمين فيه اسماء اهل النار واسماء آبائهم وقبائلهم مجمل على آخرهم، لا يزاد منه ولا ينقص منهم، فرغ ربكم جل وعز، فريق في الجنة وفريق في السعير، إن من كان من اهل الجنة ختم له بعمل اهل الجنة، وإن عمل كل عمل، ومن كان من اهل النار ختم له بعمل اهل النار، وإن عمل كل عمل» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے، جب سرخ مقام پر پہنچے تو انہیں امیر لشکر ابوعبیدہ اور ان کے ساتھی ملے۔ انہوں نے آپ کو بتایا کہ شام میں وباء طاعوں پھیل چکی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس پہلے مہاجرین کو بلاؤ، آپ نے انہیں بلا کر ان نے مشورہ طلب کیا اور انہیں بتایا کہ شام میں وباء پھیل چکی ہے تو انہوں نے اس پر اختلاف کیا، بعض نے کہا کہ آپ ایک ایسے کام کے لیے نکلے ہیں جس سے واپسی ہم اچھی نہیں سمجھتے۔ (جبکہ) بعض نے کہا کہ آپ کے ساتھی باقی ماندہ لوگ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں تو ہم اچھا نہیں سمجھتے کہ آپ انہیں بیماری والی جگہ پر لے جائیں۔ پھر کہا کہ میرے پاس انصار کو بلاؤ، انہوں نے انصار کو بلایا تو آپ نے ان سے بھی مشورہ طلب کیا، تو انہوں نے بھی مہاجرین والا راستہ اختیار کیا اور اختلاف رائے کیا، آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے آپ لوگ چلے جاؤ، پھر کہا کہ یہاں فتح مکہ کے مہاجرین قریش کے جو شیوخ (بوڑھے آدمی) موجود ہیں انہیں بلاؤ، ان میں سے دو آدمیوں نے کہا: ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور وباء والی جگہ پر نہ لے جائیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں واپس جانے کا اعلان کر دیا۔ ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے فرار حاصل کرو گے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبیدہ کاش تم یہ بات نہ کہتے، جی ہاں! ہم اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں لیکن اللہ عزوجل کی تقدیر کی طرف ہی جا رہے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کا اونٹ کسی ایسی وادی میں اتر ے جس کے دو کنارے ہوں: ایک سرسبز اور دوسرا خشک بنجر، اور تم سرسبز کنارے میں اسے چراؤ گے تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر نہیں؟ (اتنے میں) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور وہ کسی کام کی غرض سے آئے تھے۔ انہوں نے حدیث بیان کی کہ ایک دن ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اشارہ کر کے فرمایا:”یہ رب العالمین کی طرف سے کتاب ہے جس میں اہل جنت، ان کے آباء کے نام اور قبائل شروع سے لے کر آخر تک موجود ہیں (اب) ان میں نہ زیادتی کی جا سکتی ہے اور نہ کمی۔ اور یہ رب العالمین کی طرف سے کتاب ہے جس میں اہل جہنم کے نام، ان کے آباء اور قبائل کے نام شروع سے لے کر آخر تک موجود ہیں، نہ ان میں زیادتی اور نہ کمی کی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ (ان کاموں سے) فارغ ہو چکا ہے۔ ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں۔ جو اہل جنت میں سے ہے اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہو گا اگرچہ اس نے ہر قسم کا عمل کیا ہو۔ اور جو اہل جہنم میں سے ہے، اس کا خاتمہ اہل جہنم کے ساتھ ہو گا اگرچہ اس نے ہر قسم کا عمل کیا ہو۔“

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 1

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 1. ما رواه عبد الله بن عباس عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنهما · حديث 2

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا جعفر بن عون، عن هشام بن سعد، قال: حدثني عروة بن رويم عن القاسم، عن عبد الله بن عمرو، قال: جئت عمر حين قدم من الشام فوجدته قائلا في خباء له فانتظرته في الخباء قال: فسمعته حين تضور من نومه يقول: اللهم اغفر لي رجوعي من سرغ.

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے تو میں ان کے پاس گیا، وہ اپنے خیمے میں قیلولہ کر رہے تھے۔ میں نے خیمے کے باہر ان کا انتظار کیا، جب آپ اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو میں نے انہیں یہ الفاظ کہتے سنا: اے اللہ! ” سرغ“ سے واپس آنے کی غلطی کی وجہ سے مجھے معاف فرما دینا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الْقَاسِمِ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 2

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 1. ما رواه عبد الله بن عباس عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنهما · حديث 3

حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان عمر بن الخطاب، رضي الله عنه إنما انصرف بالناس عن حديث عبد الرحمن بن عوف.

سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث کو (مدنظر) رکھتے ہوئے لوگوں کو واپس لے گئے۔

حديث عبد الرحمن بن عوف. ← سالم بن عبد الله، ان عمر بن الخطاب، إنما انصرف بالناس ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 3

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 1. ما رواه عبد الله بن عباس عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنهما · حديث 4

حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطالقاني، قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا إسماعيل المكي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال: كنت اذاكر عمر الصلاة، فاتى علينا عبد الرحمن بن عوف فقال: الا احدثكم حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قلنا: بلى، قال: اشهد اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا صلى احدكم فشك في النقصان فليصل حتى يشك في الزيادة» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز کے بارے میں مذاکرہ کر رہا تھا، اچانک ہمارے پاس عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: ” کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ہم نے کہا:، کیوں نہیں، انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہو ئے سنا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے رکعات کم پڑھنے کا شک پڑ جائے تو وہ نماز پڑھتا رہے حتٰی کہ اسے زیادتی کا یقین ہو جائے یعنی اسے یقین ہو جائے کہ زیادہ رکعات ہو گئی ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَشْهَدُ أَنِّي ← من رسول الله قلنا: بلى، ← أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا ← كنت اذاكر عمر الصلاة، فاتى علينا عبد الرحمن بن عوف ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إسماعيل المكي ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 4

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 2. حديث عبدالله بن عامر بن ربيعة، عن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما · حديث 5

حدثنا محمد بن سعيد الاصبهاني، اخبرنا شريك، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، قال: سمع عمر من عبد الرحمن بن عوف الحدي، فاتاه في بعض الليل، فلما اصبح راى عليه خفان، فقال: والخفان مع الحدي، فقال: لقد لبستها مع من هو خير منك، يعني رسول الله صلى الله عليه وسلم.

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے بیان کیا، کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو (سفر مکہ میں) (اونٹوں کو حدی بآواز بلند ہانکتے) سنا، تو رات کے کسی حصے میں ان کے ساتھ مکہ داخل ہوئے، جب صبح ہوئی تو انہیں موزے پہنے دیکھا، تو فرمایا: آپ نے موزے پہن رکھے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے ایسی شخصیت کی موجودگی میں انہیں پہنا جو آپ سے بہتر تھے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 5

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 2. حديث عبدالله بن عامر بن ربيعة، عن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما · حديث 6

حدثنا احمد بن محمد بن ايوب، قال: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن محمد بن إسحاق، قال: وحدثني ابن شهاب الزهري، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، وسالم بن عبد الله بن عمر، انهما حدثاه ان عمر رجع بالناس من سرغ من حديث عبد الرحمن بن عوف، فلما رجع عمر رجع عمال الاجناد إلى اعمالهم.

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو ”سرغ“ سے واپس ہٹا لیا، جب عمر رضی اللہ عنہ لوٹ آئے تو لشکروں کے عاملین اپنے کاموں کی طرف لوٹ گئے۔

ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 6

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 3. حديث انس بن مالك، عن عبدالرحمٰن رضي الله عنهما · حديث 7

حدثنا ابو حذيفة، اخبرنا سفيان، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال: قدم عبد الرحمن بن عوف المدينة وآخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الانصاري، وكانت عند الانصاري امراتين. فعرض عليه ان يناصفه اهله وماله، فقال له عبد الرحمن بن عوف: بارك الله لك في اهلك ومالك دلوني على السوق، فاتى السوق فربح شيئا من اقط وسمن فرآه النبي صلى الله عليه وسلم عليه وضر من صفرة فقال: «مهيم يا عبد الرحمن؟» قال: تزوجت يا رسول الله امراة من الانصار، قال: ما سقت إليها؟ قال: وزن نواة من ذهب، قال: «اولم ولو بشاة» .

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان اور سعد بن الربیع الانصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان رشتہ اخوت قائم کیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس دو بیویاں تھیں، انہوں نے انہیں پیشکش کی کہ وہ ان کے گھر بار اور مال سے آدھا حصہ بانٹ لیں (یعنی ایک بیوی اور آدھا مال) لے لیں۔ چنانچہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت دے، مجھے بازار کی راہ دکھا دیں، اگلے دن وہ بازار گئے اور پنیر اور گھی میں کچھ نفع کمایا، پھر ایک دن انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان پر حجلہ عروسی کے نشانات تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے کہا:، اللہ کے رسول! میں نے انصار کی ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:”اسے کتنا مہر پیش کیا؟“ انہوں نے کہا: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔“

كانت عند الانصاري امراتين. فعرض عليه ← آخى رسول الله بينه وبين سعد بن الربيع الانصاري، ← قدم عبد الرحمن بن عوف المدينة ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 7

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 3. حديث انس بن مالك، عن عبدالرحمٰن رضي الله عنهما · حديث 8

حدثنا محمد بن كثير، قال: اخبرنا سفيان، عن حميد الطويل، قال: سمعت انس بن مالك، قال: قدم عبد الرحمن بن عوف المدينة فآخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الانصاري وعند الانصاري امراتان فعرض عليه ان يناصفه اهله وماله، فقال له عبد الرحمن: بارك الله لك في اهلك ومالك، دلوني على السوق فاتى السوق فربح شيئا من اقط، وشيئا من سمن، فرآه رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ايام وعليه وضر من صفرة فقال رسول الله: مهيم يا عبد الرحمن؟ قال: تزوجت يا رسول الله امراة من الانصار، قال: فما سقت إليها؟ قال: وزن نواة من ذهب، فقال رسول الله: اولم ولو بشاة.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن الربیع الانصاری کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ حضرت سعد کے پاس دو بیویاں تھیں، تو انہوں نے پیشکش کی کہ میرے گھر بار اور مال سے آدھا بانٹ لیں، مگر سیدنا عبدالرحمٰن نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت دے، آپ میری بازار کی طرف راہنمائی کر دیں، آپ نے بازار میں آ کر پنیر اور گھی سے بہت نفع کمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ دنوں بعد دیکھا تو ان پر زرد نشانات تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”عبدالرحمٰن کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے انصار کی ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسے کیا مہر دیا“، انہوں نے کہا کہ کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔“

عند الانصاري امراتان فعرض عليه ← بَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ← قدم عبد الرحمن بن عوف المدينة فآخى رسول الله بينه ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 8

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 3. حديث انس بن مالك، عن عبدالرحمٰن رضي الله عنهما · حديث 9

حدثنا ابو سلمة، قال: حدثنا حماد، عن ثابت البناني، وحميد، عن انس بن مالك، ان عبد الرحمن بن عوف، قدم المدينة فآخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الانصاري، فقال له: سعد اي اخي إني اكثر اهل المدينة مالا فانظر شطر مالي فخذه، وعندي امراتان فانظر ايهما اعجب لك حتى اطلقها لك، فقال له عبد الرحمن: بارك الله لك في اهلك ومالك، دلوني على السوق، فدلوه على السوق، فذهب واشترى وباع فربح فجاء بشيء من اقط وسمن، فلبث ما شاء الله عز وجل ان يلبث، فجاء عليه ردغ زعفران، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: مهيم؟ فقال: يا رسول الله تزوجت امراة، فقال: ما اصدقتها؟ قال: وزن نواة من ذهب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اولم ولو بشاة، فقال عبد الرحمن: فلقد رايتني بعد ذلك لو رفعت حجرا لظننت اني ساجد تحته ذهبا وفضة.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہا کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ میں تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن الربیع الانصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان رشتہ اخوت قائم کر دیا، انہیں سیدنا سعد الانصاری نے کہا: اے میرے بھائی! میں مدینے والوں میں سے زیادہ مال والا ہوں۔ میرے مال سے آدھا مال لے لیں اور میرے پاس دو بیویاں ہیں جو آپ کو زیادہ پسند لگتی ہے میں اسے آپ کے لیے طلاق دے دیتا ہوں (وہ عدت گزار لے تو آپ اس سے شادی کر لیں)۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت دے، آپ میری منڈی کی طرف راہنمائی کر دیں، تو انہوں نے منڈی کا راستہ بتا دیا، آپ منڈی میں گئے، خرید و فروخت کی اور کچھ پنیر اور گھی کما کر لے آئے۔ آپ اس طرح اللہ نے جتنا چاہا کام کرتے رہے۔ (ایک دفعہ) آپ آئے اور آپ پر حجلہ عروسی کے نشانات تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا: ”یہ کیا ہے“، انہوں نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کتنا حق مہر ادا کیا ہے؟“ کہا: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو“، تو سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بعد آپ نے مجھے دیکھا، اگر میں پتھر اٹھاتا تو مجھے گمان ہوتا کہ اس کے نیچے سے میں نے سونا اور چاندی اٹھانا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَحُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← أَبُو سَلَمَةَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 9

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 3. حديث انس بن مالك، عن عبدالرحمٰن رضي الله عنهما · حديث 10

حدثنا ابو الوليد، قال: حدثنا همام، قال: حدثنا قتادة، عن انس بن مالك ان عبد الرحمن بن عوف، والزبير بن العوام، شكيا القمل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، «فرخص لهما في قميص الحرير في غزاة لهما» .

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوات میں ریشم کی قمیض کی اجازت مرحمت فرمائی۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 10

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 4. حديث المسور بن مخرمة ، عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 11

حدثنا داود بن عمرو، قال: حدثنا نافع بن عمر، عن ابن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، قال: قال عمر بن الخطاب لعبد الرحمن بن عوف رضي الله عنهما: الم يكن مما انزل علينا «جاهدوا كما جاهدتم اول مرة» قال: بلى، قال: فانا لا اجدها، قال: اسقطت مما اسقط من القرآن، قال: نخشى ان يرجع الناس كفارا، قال: ما شاء الله، قال: لئن رجع الناس كفارا ليكونن امراؤهم بنو فلان، ووزراؤهم بنو فلان.

سیدنا مسور بن مخرمہ نے روایت کیا، کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا ہم پر نازل کردہ آیات میں سے یہ آیت نہیں ہے: «جاهدوا كما جاهدتم أول مرة» ” تم نے جس طرح پہلے جہاد کیا اب بھی کیا کرو۔“ تو انہوں نے کہا: ہاں یہ آیت ہے، فرمایا تو مجھے یہ آیت مصحف میں نہیں ملی، فرمایا کہ یہ آیت قران کے منسوخات میں سے ہے، انہوں نے کہا: ہمیں ڈر ہے کہ لوگ کافر نہ بن جائیں۔ انہوں نے کہا: جو اللہ چاہے گا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا: اگر لوگ کافر بن جائیں گے تو وہ بنو فلاں کے امراء اور بنو فلاں کے وزراء بن جائیں گے۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 11

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 5. حدیث جبیر بن مطعم ،عن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ · حديث 12

حدثنا وهب بن بقية، قال: حدثنا خالد بن عبد الله، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم عن ابيه، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: شهدت وانا غلام، حلفا مع عمومتي المطيبين فما احب ان لي حمر النعم وإني نكثته.

ہمیں سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے چچوں کے ساتھ حلف المطیبین میں حاضر ہوا اور اس وقت میں بچہ تھا اور آج میں یہ پسند نہیں کرتا کہ مجھے سرخ اونٹ دیے جائیں اور ان کے بدلے میں اس (معاہدے) کو توڑ دوں۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 12

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. sporadic
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter