Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند عبد الرحمن بن عوف

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf

by أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى بن الأزهر البِرْتي البغدادي القاضي الحنفي

52 Hadith15 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 33

حدثنا ابو نعيم، قال: حدثنا سفيان، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، قال: سال عمر عبد الرحمن بن عوف عن المجوس، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سنوا بهم سنة اهل الكتاب.

جناب جعفر نے اپنے باپ محمد سے بیان کیا، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مجوسیو ں کے بارے میں پوچھا (کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟) تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ان سے اہل کتاب والا معاملہ کرو۔“

سنوا بهم سنة اهل الكتاب. ← رَسُولِ اللَّهِ ← المجوس، فقال: ← سال عمر عبد الرحمن بن عوف ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 33

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 34

حدثنا القعنبي، قال: قرات على مالك عن جعفر بن محمد، عن ابيه، ان عمر بن الخطاب، ذكر المجوس فقال: ما ادري كيف اصنع في امرهم؟ فقال له عبد الرحمن بن عوف: اشهد اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «سنوا بهم سنة اهل الكتاب» .

جناب جعفر اپنے باپ محمد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجوس کا ذکر کیا اور کہا: مجھے معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کروں؟ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اہل کتاب کے ساتھ کرتے ہو۔“

سنوا بهم سنة اهل الكتاب. ← رَسُولِ اللَّهِ ← له عبد الرحمن بن عوف: اشهد اني ← ما ادري كيف اصنع في امرهم؟ ← المجوس ← أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← على مالك، ← الْقَعْنَبِيُّ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 34

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 35

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل، قال: حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، قال: قال عمر وهو في مجلس بين القبر والمنبر: ما ادري كيف اصنع في المجوس؟ فقال عبد الرحمن بن عوف: سمعت رسول الله يقول: «سنوا بهم سنة اهل الكتاب» .

جعفر اپنے باپ محمد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر اور قبر اطہر کے درمیان والی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: مجھے معلوم نہیں کہ میں مجوس کے ساتھ کیا معاملہ کروں؟ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا: ”ان کے بارے میں وہی طریقہ اپناؤ جو اہل کتاب کے بارے میں اپناتے ہو۔“

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 35

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 36

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، انه سمع بجالة، يحدث ابا الشعثاء وعمرو بن اوس الثقفي عام حج مصعب بن الزبير وهو جالس إلى درج زمزم سنة سبعين قال: كنت كاتبا لجزء بن معاوية عم الاحنف بن قيس، فاتانا كتاب عمر قبل موته بسنة اقتلوا كل ساحر وكاهن، وفرقوا بين كل ذي محرم من المجوس، وامنعوهم من الزمزمة، قال: فقتلنا ثلاثة سواحر، وفرقنا بين كل رجل من المجوس وحرمته في كتاب الله وصنع طعاما كثيرا فدعا مجوس وعرض السيف على فخذه فاكلوا بغير زمزمة والقوا وقر بغل او بغلين من ورق ولم يكن عمر ياخذ من المجوس الجزية حتى شهد عنده عبد الرحمن بن عوف ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها من مجوس هجر.

بجالۃ نے ابوشعثاء اور عمرو بن اوس ثقفی کو بیان کرتے ہوئے سنا اور یہ اس سال کا واقعہ ہے جس سال مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے بصرہ والوں کے ساتھ حج کیا یعنی سن 70 حجری میں آپ زمزم کی سیڑھی پر بیٹھے ہوئے تھے، کہتے ہیں ان دنوں میں جزء بن معاویہ احنف بن قیس کے چچا کا کاتب تھا تو عمر رضی اللہ عنہ کی وفات سے ایک سال قبل ان کا خط آیا کہ ہر جادوگر اور کاہن کو قتل کر دو اور جس مجوسی نے اپنی محرم عورت کو بیوی بنایا ہو تو ان کے درمیان جدائی ڈال دو اور زمزم سے انہیں روکو، کہتے ہیں کہ کہا: ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا اور ہر مجوسی آدمی اور کتاب اللہ کے مطابق اس کی ذی محرم بیوی کے درمیان جدائی ڈالی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا تھا، لیکن جب عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے پارسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ (تو وہ بھی لینے لگے تھے)

أَبَا الشَّعْثَاءِ، ← بَجَالَةَ ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 36

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 37

حدثنا ابو سلمة، قال: حدثنا ابان، قال: حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارظ، انه دخل على عبد الرحمن يعوده وهو مريض فقال له: وصلتك رحم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال الله عز وجل: «انا الرحمن والرحم مني اشتققتها من اسمي فمن يصلها اصله ومن يقطعها اقطعه» .

جناب ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ نے بیان کیا کہ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس بیمار پرسی کے لیے آئے۔ وہ اس وقت بیمار تھے تو (عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے) انہیں کہا: تجھے صلہ رحمی کا عمل ملائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: میں ”رحمن“ ہوں اور ”رحم“ مجھ سے ہے، میں نے اسے اپنے نام سے نکالا ہے، جو اسے ملاۓ گا میں اسے ملاؤں گا اور جو اسے کاٹے گا میں اسے کاٹ ڈالوں گا۔

إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← أَبُو سَلَمَةَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 37

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 38

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا يزيد بن هارون، قال: حدثنا هشام الدستوائي، عن يحيى بن ابي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارظ، ان اباه، حدثه انه، دخل على عبد الرحمن بن عوف يعوده فقال له عبد الرحمن: وصلتك رحم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال الله عز وجل: انا الرحمن وهي الرحم شققت لها اسما من اسمي فمن وصلها وصلته، ومن قطعها قطعته او قال: من يبتها ابته".

عبداللہ بن قارظ روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: صلہ رحمی تجھے ملائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: میں ”رحمن“ ہوں اور ”رحم“ کو میں نے اپنے نام سے نکالا ہے، جس نے اسے ملایا، میں اسے ملاؤں گا اور جس نے اسے کاٹا میں اسے کاٹوں گا“، یا (یہ الفاظ استعمال کیے) «مَن بتها أبته» ۔

إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 38

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 39

حدثنا مسلم، قال: حدثنا كثير بن عبد الله اليشكري، قال: حدثني الحسن بن عبد الرحمن القرشي، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ثلاث تحت العرش يوم القيامة، القرآن والرحم تنادي الا من وصلني وصله الله، ومن قطعني قطعه الله» .

سیدنا عبدالرحمن (بن عوف) القرشی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی، (ایک) قرآن اور (دوسرے) صلہ رحمی آواز دے گی، خبردار! جس نے مجھے ملایا اللہ اسے ملائے گا اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اسے کاٹ ڈالے گا۔“

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← الحسن بن عبد الرحمن القرشي ← كثير بن عبد الله اليشكري ← مُّسْلِمٍ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 39

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 40

حدثنا ابو الوليد الطيالسي، قال: حدثنا شعبة، عن ابي بكر بن حفص، قال: سمعت ابا عبد الله مولى ابي مرة، عن ابي عبد الرحمن، انه كان قاعدا مع عبد الرحمن بن عوف، فمر بلال، فدعوه فسالوه عن وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم ياتي الحاجة فيدعوني فآتيه بالماء، فيمسح على موقيه وعمامته» .

جناب ابوعبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں استفسار کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے آتے تو مجھے بلاتے، میں ان کے پاس پانی لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمامہ اور موزوں پر مسح فرماتے۔

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابا عبد الله مولى ابي مرة، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 40

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 41

حدثنا ابو سلمة، قال: حدثنا ابو عوانة، قال: حدثنا عمر، عن ابيه، قال: حدثني قاص فلسطين قال: سمعت عبد الرحمن بن عوف، يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" ثلاث والذي نفس محمد صلى الله عليه وسلم بيده إن كنت حالفا عليهن: لا ينقص مال من صدقة فتصدقوا، ولا يعفو عبد عن مظلمة يبتغي بها وجه الله جل وعز إلا رفعه الله بها عزا يوم القيامة، ولا يفتح عبد باب مسالة إلا فتح الله عليه باب فقر".

فلسطین کے کسی قصہ گو شخص نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں حلف اٹھا کہ کہتا ہوں: مال صدقہ کرنے سے کم نہیں ہوتا، لہٰذا صدقہ کیا کرو، اگر کوئی آدمی ظلم کے بدلے معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت میں بلندی دے گا بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی مطلوب ہو اور اگر کوئی آدمی بھیک مانگنا شروع کر دے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← قاص فلسطين ← أَبِيهِ ← عُمَرَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 41

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 42

حدثنا مسدد، قال حدثنا ابو عوانة، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، قال: حدثني قاص فلسطين قال: سمعت عبد الرحمن بن عوف، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «والذي نفس محمد صلى الله عليه وسلم بيده إن كنت لحالفا عليهن لا ينقص مال من صدقة فتصدقوا، ولا يعفو رجل عن مظلمة يبتغي بها وجه الله تعالى إلا رفعه الله عز وجل بها عزا يوم القيامة، ولا يفتح رجل على نفسه باب مسالة إلا فتح الله عز وجل عليه باب فقر» .

فلسطین کے کسی قصہ گو شخص نے بیان کیا، کہا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر ان چیزوں پر میں حلف اٹھاؤں (تو میری بات درست ہے)، صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، اگر کوئی آدمی محض اللہ رب العزت کی رضامندی کی خاطر کسی ظلم کے بدلے درگزر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی عزت بلند کرے گا اور اگر کوئی آدمی بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← قاص فلسطين ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 42

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 43

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال: حدثنا وكيع، قال: حدثنا ابن ابي رواد، عن رجل، لم يسمه عن عبد الرحمن بن عوف، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم العشاء، وإنما يعتم اصحاب الإبل» .

غیر معروف شخص نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اعراب تم پر تمہاری عشاء کی نماز کے نام پر غلبہ حاصل نہ کر جائیں۔ اونٹوں والے (عشاء کے وقت دیر سے) اونٹنیوں کا دودھ دوھتے ہیں (اور وہ اس نماز کو عتمۃ کہتے ہیں، کہیں وہ لوگ یہی نام مشہور نہ کر دیں)۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← رجل، لم يسمه ← ابن ابي رواد، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 43

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 44

حدثنا عبيد الله بن عمر، قال: حدثنا عبد الله بن سلمة، قال: حدثنا عبد العزيز بن ابي رواد، قال: حدثني شيخ، من اهل الطائف يقال له غيلان عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم فإنها في كتاب الله جل وعز العشاء وإنما سميت العتمة لإعتام الإبل احلابها» .

اہل طائف کے غیلان نامی بوڑھے شخص نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اعراب تم پر تمہا ری نماز کے نام پر غلبہ حاصل نہ کر جائیں، یہ اللہ عزوجل کی کتاب میں نماز عشاء ہے، اس کا نام العتمہ اونٹنیوں کا دودھ عشاء کے وقت دیر سے دوہنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← شيخ، من اهل الطائف يقال له غيلان ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 44

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. sporadic
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter