Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 1, 1448 AH · Oct 11, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند عبد الرحمن بن عوف

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf

by أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى بن الأزهر البِرْتي البغدادي القاضي الحنفي

52 Hadith15 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 23

حدثنا محمد بن كثير، قال: اخبرنا سليمان بن كثير، عن الزهري عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، قال: اغمي على عبد الرحمن بن عوف، فصرخوا عليه، فلما افاق قال: اغمي علي؟ قالوا: نعم، قال: إنه اتاني رجلان او ملكان فيهما فظاظة وغلظة، فانطلقا بي فلقيهما رجلان او ملكان هما اراف منهما وارحم، فقالا: اين تريدان؟ قالا: نريد العزيز الامين او الامير - شك القاضي - قالا: خليا عنه، فإنه ممن كتبت له السعادة وهو في بطن امه.

جناب ابراہیم نے اپنے باپ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو گئی تو لوگ ان پر چیخنے لگے، جب انہیں افاقہ ہوا تو پوچھا: کیا مجھ پر غشی طاری ہو گئی تھی؟ تو لوگوں نے کہا:، جی ہاں، انہوں نے فرمایا: میرے پاس دو سخت دل اور بدمزاج آدمی یا دو فرشتے آئے، وہ مجھے لے کر جا رہے تھے، تو انہیں دو آدمی یا فرشتے ملے جو نرم اور رحم دل تھے، انہوں نے کہا کہ اسے کہاں لے کر جا رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا: عزیز الامین یا امیر کے پاس قاضی کو شک پڑا ہے (کہ عزیز الامین کے الفاظ ہیں امیر کا لفظ بولا ہے) انہوں نے کہا: کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے لیے شکم مادر سے ہی سعادت لکھ دی گئی ہے۔

نَعَمْ ← اغمي علي؟ ← اغمي على عبد الرحمن بن عوف، فصرخوا عليه، فلما افاق ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 23

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 24

حدثنا مسدد، قال: حدثنا يوسف بن الماجشون، عن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، عن جده، قال: بينما انا واقف، في الصف يوم بدر، نظرت عن يميني، وشمالي، فإذا انا بين غلامين من الانصار حديثة اسنانهما، فتمنيت ان اكون بين اضلع منهما، فغمزني احدهما فقال: يا عماه هل تعرف ابا جهل؟ قلت: نعم، وما حاجتك إليه يا ابن اخي؟ قال: اخبرت انه يسب رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده لئن رايته لا يفارق سوادي سواده حتى يموت الاعجز منا، فتعجبت لذلك فغمزني الآخر، وقال لي: مثلها، فلم انشب ان نظرت إلى ابي جهل يجول في الناس فقلت لهما: الا إن هذا صاحبكما الذي تسالان عنه فابتدراه بسيفيهما فضرباه حتى قتلاه، ثم انصرفا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبراه، فقال: ايكما قتله؟ فقال كل واحد منهما: انا قتلته فقال: هل مسحتما سيفيكما؟ قالا: لا، قال: فنظر في السيفين فقال: كلاكما قتله فقضى بسلبه لمعاذ بن عمرو بن الجموح، وكانا معاذ بن عفراء ومعاذ بن عمرو بن الجموح.

جناب ابراہیم نے اپنے باپ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میں جنگ بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائی تو دو نو عمر انصاری لڑکے کھڑے تھے، حالانکہ میری خواہش تھی کہ میں کڑیل جوانوں کے درمیان ہوں گا (انہیں دیکھ کر میں مطمئن نہ ہوا) اچانک ان دونوں میں سے ایک نے مجھے کہنی کی ضرب لگائی اور کہا: چچا جان! آپ ابوجہل کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، لیکن بھتیجے! تو اسے دیکھ کر کیا کرے گا؟ اس نے کہا: مجھے پتا چلا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں اس کو دیکھ لوں تو میرا جسم اس کے وجود سے جدا نہیں ہو گا حتٰی کہ ہم میں سے ایک مر جائے۔ اس کی بات کو سن کر متعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے نے بھی مجھے متوجہ کیا اور اسی طرح کہا: اسی لمحے اچانک میں نے ابوجہل کو دیکھا۔ وہ اپنے لشکروں میں بھاگا بھاگا پھر رہا تھا۔ میں نے ان دونوں سے کہا: یہ ہے وہ آپ کا شکار جس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کر رہے تھے۔ وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر ہوا ہو گئے، جاتے ہی اس کا تیا پانچہ کر دیا۔ پھر بھاگتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور (اس کے قتل) کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟“ ہر ایک نے کہا: میں نے قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تلواریں دیکھیں تو فرمایا: ”تم دونوں نے قتل کیا ہے۔“ لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کا ساز و سامان عمرو بن جموع کے بیٹے معاذ کو دیا۔ یہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن الجموح تھے۔

يميني، وشمالي، فإذا ← واقف، في الصف يوم بدر، نظرت ← بَيْنَمَا ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ← يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← مُسَدَّدٌ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 24

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 25

حدثنا يوسف بن بهلول، قال: حدثنا ابن إدريس، عن ابن إسحاق، قال: حدثني بعض اصحابنا عن سعد بن إبراهيم، عن ابيه، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: قال امية بن خلف: يا عبد الإله، من الرجل منكم المعلم بريشة في صدره؟ قال: قلت «ذاك حمزة بن عبد المطلب» ، قال: ذاك الذي فعل بنا الافاعيل.

سعد نے اپنے باپ ابراہیم سے روایت کیا، انہوں نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، کہا: امیہ بن خلف نے کہا: اے عبدالالہ! تم میں سے کون ہے؟ جس کے سینے پر شتر مرغ کے پر کا نشان ہے؟ میں نے کہا: حمزہ بن عبدالمطلب، اس نے کہا: یہ تو وہ شخص ہے جس نے ہمارا یہ حال کیا ہے۔

ذَاك الَّذِي فعل بِنَا الأفاعيل! ← قلت «ذاك حمزة بن عبد المطلب» ← امية بن خلف: يا عبد الإله، من الرجل منكم المعلم بريشة في صدره؟ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بَعْضُ أَصْحَابِنَا ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 25

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 26

حدثنا محمد بن جعفر الوركاني، قال: حدثنا إبراهيم يعني: ابن سعد عن ابيه، عن جده، قال: اتي عبد الرحمن بن عوف بطعام، فقال: قتل مصعب بن عمير - وكان خيرا مني - فلم نجد له ما يكفن به إلا بردة، وقتل حمزة فلم يوجد له ما يكفن به إلا بردة، او رجل آخر - شك في حمزة او رجل آخر وكان خيرا مني فلم نجد ما يكفن فيه إلا بردة، لقد خشيت ان يكون قد عجلت لنا طيباتنا في حياتنا الدنيا ثم جعل يبكي.

ابراہیم ابن سعد نے بیان کیا، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے دادا سے۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دن کھانا رکھا گیا، انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر شہید ہوئے۔ وہ مجھ سے بہتر تھے اور ہمارے پاس ایک چادر کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی جس سے انہیں کفن دیا جاتا۔ اور حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے تو کفن کے لیے ایک چادر کے علاوہ کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ (راوی کو) شک لاحق ہوا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا یا کسی اور آدمی کے بارے میں کہا کہ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ ہمارے پاس کفن کے لیے ایک چادر کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔ فرمایا: میں (اللہ تعالیٰ سے) ڈرتا ہوں کہیں ہمیں پاکیزہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ہی نہ دے دی جائیں (اور آخرت میں ہمارے لیے کچھ بھی نہ ہو) پھر وہ رونے لگے۔

اتي عبد الرحمن بن عوف بطعام، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 26

All Chapters
1. sporadic
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter