مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 23
حدثنا محمد بن كثير، قال: اخبرنا سليمان بن كثير، عن الزهري عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، قال: اغمي على عبد الرحمن بن عوف، فصرخوا عليه، فلما افاق قال: اغمي علي؟ قالوا: نعم، قال: إنه اتاني رجلان او ملكان فيهما فظاظة وغلظة، فانطلقا بي فلقيهما رجلان او ملكان هما اراف منهما وارحم، فقالا: اين تريدان؟ قالا: نريد العزيز الامين او الامير - شك القاضي - قالا: خليا عنه، فإنه ممن كتبت له السعادة وهو في بطن امه.
جناب ابراہیم نے اپنے باپ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو گئی تو لوگ ان پر چیخنے لگے، جب انہیں افاقہ ہوا تو پوچھا: کیا مجھ پر غشی طاری ہو گئی تھی؟ تو لوگوں نے کہا:، جی ہاں، انہوں نے فرمایا: میرے پاس دو سخت دل اور بدمزاج آدمی یا دو فرشتے آئے، وہ مجھے لے کر جا رہے تھے، تو انہیں دو آدمی یا فرشتے ملے جو نرم اور رحم دل تھے، انہوں نے کہا کہ اسے کہاں لے کر جا رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا: عزیز الامین یا امیر کے پاس قاضی کو شک پڑا ہے (کہ عزیز الامین کے الفاظ ہیں امیر کا لفظ بولا ہے) انہوں نے کہا: کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے لیے شکم مادر سے ہی سعادت لکھ دی گئی ہے۔
نَعَمْ ← اغمي علي؟ ← اغمي على عبد الرحمن بن عوف، فصرخوا عليه، فلما افاق ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،
Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 23
