Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند عبد الرحمن بن عوف

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf

by أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى بن الأزهر البِرْتي البغدادي القاضي الحنفي

52 Hadith15 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 25

حدثنا يوسف بن بهلول، قال: حدثنا ابن إدريس، عن ابن إسحاق، قال: حدثني بعض اصحابنا عن سعد بن إبراهيم، عن ابيه، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: قال امية بن خلف: يا عبد الإله، من الرجل منكم المعلم بريشة في صدره؟ قال: قلت «ذاك حمزة بن عبد المطلب» ، قال: ذاك الذي فعل بنا الافاعيل.

سعد نے اپنے باپ ابراہیم سے روایت کیا، انہوں نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، کہا: امیہ بن خلف نے کہا: اے عبدالالہ! تم میں سے کون ہے؟ جس کے سینے پر شتر مرغ کے پر کا نشان ہے؟ میں نے کہا: حمزہ بن عبدالمطلب، اس نے کہا: یہ تو وہ شخص ہے جس نے ہمارا یہ حال کیا ہے۔

ذَاك الَّذِي فعل بِنَا الأفاعيل! ← قلت «ذاك حمزة بن عبد المطلب» ← امية بن خلف: يا عبد الإله، من الرجل منكم المعلم بريشة في صدره؟ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بَعْضُ أَصْحَابِنَا ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ،

Hadith 25

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 26

حدثنا محمد بن جعفر الوركاني، قال: حدثنا إبراهيم يعني: ابن سعد عن ابيه، عن جده، قال: اتي عبد الرحمن بن عوف بطعام، فقال: قتل مصعب بن عمير - وكان خيرا مني - فلم نجد له ما يكفن به إلا بردة، وقتل حمزة فلم يوجد له ما يكفن به إلا بردة، او رجل آخر - شك في حمزة او رجل آخر وكان خيرا مني فلم نجد ما يكفن فيه إلا بردة، لقد خشيت ان يكون قد عجلت لنا طيباتنا في حياتنا الدنيا ثم جعل يبكي.

ابراہیم ابن سعد نے بیان کیا، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے دادا سے۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دن کھانا رکھا گیا، انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر شہید ہوئے۔ وہ مجھ سے بہتر تھے اور ہمارے پاس ایک چادر کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی جس سے انہیں کفن دیا جاتا۔ اور حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے تو کفن کے لیے ایک چادر کے علاوہ کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ (راوی کو) شک لاحق ہوا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا یا کسی اور آدمی کے بارے میں کہا کہ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ ہمارے پاس کفن کے لیے ایک چادر کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔ فرمایا: میں (اللہ تعالیٰ سے) ڈرتا ہوں کہیں ہمیں پاکیزہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ہی نہ دے دی جائیں (اور آخرت میں ہمارے لیے کچھ بھی نہ ہو) پھر وہ رونے لگے۔

اتي عبد الرحمن بن عوف بطعام، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ

Hadith 26

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 10. حديث حميد بن عبدالرحمٰن بن عوف ، عن أبيه · حديث 27

حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطالقاني، قال: حدثنا جعفر بن عون، قال: اخبرنا هشام بن سعد، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، قال: خرج عمر وباصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد الشام، حتى إذا كان بسرغ لقيه ابو عبيدة واهل الشام، فقيل له: يا امير المؤمنين إن الارض وبية، وإن معك اهل السابقة واصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ومتى يصابوا لا يكن في الناس مثلهم، فقال له: ابو عبيدة يا امير المؤمنين امن الموت تفر، إنما نحن بقدر ولن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا، فقال: ادعوا إلي المهاجرين الاولين، فدعوا فقال: اشيروا علي، فقالت طائفة منهم: يا امير المؤمنين معك اهل السابقة، واهل العلم واصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ومتى يصابوا لا يكن في الناس مثلهم وقالت: طائفة اخرى يا امير [ص: 70] المؤمنين امن الموت تفر، إنما نحن بقدر، ولن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا، فكان اشد من خالف عليه ابو عبيدة فقال: ادعوا إلي الانصار، فدعوا فقال: اشيروا علي فقالوا: بقول إخوانهم المهاجرين، واختلفوا فقال: ادعوا لي مهاجرة الفتح، ادعوا لي كبراء قريش، ادعوا إلي المشيخة، قال: فدعوا فقال: اشيروا علي قال: فلم يختلف منهم اثنان، قالوا: ادركنا آباءنا، يقولون: هذا الوجع، قال عمر: يصبح الناس على ظهر، ولا يدرون اين نتوجه، قال: فجاء عبد الرحمن بن عوف، فقال: يا امير المؤمنين إن عندي في هذا حديثا إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا سمعتم به بارض فلا تدخلوا عليه، وإذا وقع بارض فلا تخرجوا فرارا منه، قال: فرجع عمر بالناس.

حمید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ملک شام کی طرف روانہ ہوئے، جب مقام سرغ پر پہنچے تو انہیں ابوعبیدہ اور اہل شام ملے اور آپ سے کہا، اے امیر المؤمنین! (شام کی) سرزمین میں بیماری پھیل چکی ہے اور آپ کے ساتھ اہل السابقہ (ہجرت میں سبقت لینے والے) اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں اور اگر یہ بیماری میں (ختم) ہو گئے تو ان جیسا لوگوں میں اور نہ ملے گا۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ موت سے بھاگیں گے، ہمارا اعتماد و تقدیر یہ ہے کہ ہمیں وہی تکلیف پہنچے گی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، تو آپ نے فرمایا: میرے پاس پہلے مہاجرین کو بلاؤ پس لوگوں نے انہیں بلا بھیجا، آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے مشورہ دو، چنانچہ ان میں سے ایک جماعت نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کے ساتھ اہل السابقہ (ہجرت میں سبقت لینے والے) اہل علم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود ہیں۔ اور اگر یہ بیماری میں مبتلا ہو گئے تو لوگوں میں ان جیسے ایماندار اور کوئی نہیں ہیں، دوسری جماعت نے کہا، اے امیر المؤمنین! کیا آپ موت سے بھاگیں گے، ہم تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہمیں وہی تکلیف پہنچے گی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے مقدر میں لکھ دی ہے۔ سب سے زیادہ مخالفت کرنے والے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس انصار کو بلاو، چنانچہ انہیں بلایا گیا، آپ نے فرمایا: آپ لوگ مجھے مشورہ دو، چنانچہ انہوں نے بھی اپنے مہاجر بھائیوں کی طرح ہی بات کہی اور اختلاف کیا، آپ نے فرمایا: میرے پاس فتح مکہ کے مہاجروں کو بلاؤ، قریش کے بڑے لوگ اور بوڑھے آدمی بلاؤ۔ (راوی نے) کہا: انہیں بلایا گیا تو آپ نے کہا: مجھے مشورہ دو۔ (راوی نے)کہا: ان میں سے دو افراد نے اختلاف نہ کیا، انہوں نے کہا: ہمارے آباء کہتے تھے کہ انہیں بھی یہ تکلیف لاحق ہوئی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ خشکی کے راستے جائیں گے اور انہیں معلوم نہیں ہو گا کہ کہاں وہ متوجہ ہو رہے ہیں۔ (راوی نے) کہا: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہا: اے امیر المؤمنین! اس بارے میں میرے پاس ایک حدیث ہے: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیماری کسی زمین میں سن لو تو اس میں مت داخل ہو اور جب یہ بیماری کسی زمین میں پھیل جائے تو اس سے فرار اختیار نہ کرو۔“ (راوی نے) کہا: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ گئے۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ،

Hadith 27

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 11. حديث الحسن بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 28

حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري، قال: حدثنا كثير بن عبد الله اليشكري، قال: سمعت الحسن بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، يرفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ثلاث تحت العرش يوم القيامة، القرآن يحاج العباد يوم القيامة له ظهر وبطن، والرحم تنادي الا من وصلني وصله الله، ومن قطعني قطعه الله، والامانة» .

حسن نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، وہ اس روایت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع بیان کرتے ہیں۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی۔ قرآن قیامت کے دن بندوں کی خاطر جھگڑا کرے گا، اس کا پیٹ بھی ہو گا اور پشت بھی۔ اور صلہ رحمی آواز لگائے گی۔ خبردار! جس نے مجھے ملایا اسے اللہ تعالیٰ ملائے گا اور جس نے مجھے کاٹا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا۔ اور امانت۔“

أَبِيهِ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ ← الحسن بن عبد الرحمن بن عوفٍ، ← كثير بن عبد الله اليشكري ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Hadith 28

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 12. عبدالرحمٰن بن أبى بكر · حديث 29

حدثنا يوسف بن بهلول، قال: حدثنا ابن إدريس، قال: حدثنا ابن إسحاق، قال: حدثنا عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، قال: حدثنيه عبد الرحمن بن ابي بكر، وغيره، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: كان امية بن خلف لي صديقا بمكة، وكان اسمي عبد عمرو، وتسميت حين اسلمت عبد الرحمن، وكان يلقاني بمكة فيقول: ارغبت عن اسم سماكه ابواك، فاقول: نعم، فيقول: فإني لا اعرف عبد الرحمن، فاجعل بيني وبينك شيئا ادعوك به، اما انت فلا تجبني باسمك الاول، واما انا فلا ادعوك بما لا اعرف، قال: قلت فاجعل يا ابا علي ما شئت، قال: فانت عبد الإله حتى إذا كان يوم بدر مررت به وهو واقف معه ابنه علي آخذ بيده قال [ص: 73]: ومعي ادراع قد استلبتها فانا احملها، فلما رآني قال: يا عبد عمرو، فلم اجبه، قال: يا عبد الإله، قال: قلت: نعم، قال: هل لك، فإنكم خير لك من هذه الادراع التي معك قال: قلت نعم هؤلاء خير، إذن فقال: فطرحت الادراع من يدي فاخذت بيده وبيد ابنه وهو يقول: ما رايت كاليوم اما لكم حاجة في اللبن؟ قال: ثم خرجت امشي بهما.

عبدالرحمٰن بن ابی بکر وغیرہ نے سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ امیہ بن خلف مکہ میں میرا دوست تھا اور دور جاہلیت میں میرا نام عبد عمرو تھا، جب میں مسلمان ہوا تو اپنا نام تبدیل کر کے عبدالرحمٰن رکھ لیا، وہ مجھے مکہ میں ملتا تو مجھے کہتا: کیا تو اس نام کو اچھا نہیں جانتا جو تیرے والدین نے تیرا رکھا تھا، میں کہتا: جی ہاں، تو وہ کہتا: پس میں عبدالرحمٰن کو نہیں جانتا۔ بس مجھے کوئی خاص نام بتا دو جس سے میں تجھے پکارا کروں۔ پتا نہیں کہ تجھے کیا ہے کہ تیرا نام عبد عمرو پکارو ں تو تُو مجھے جواب ہی نہیں دیتا، اور مجھے بھی کوئی مصیبت نہیں آن پڑی کہ میں تجھے ایسے نام سے پکاروں جسے میں پہچانتا ہی نہیں؟ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوعلی! جو تو چاہتا ہے وہ رکھ لے، اس نے کہا: میں تجھے ”عبدالالہ“ کہہ کے پکارا کروں گا (یعنی اس نے آپ کا نام ”عبد الالہ“ رکھ دیا) غزوہ بدر کے دن میں اس کے قریب سے گزرا اس وقت وہ اپنے بیٹے علی کا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا۔ اور میرے پاس کچھ زرہیں تھیں جنہیں میں نے کافروں سے چھینا تھا، جب اس نے مجھے دیکھا تو کہا: اے عبد عمرو، میں نے کوئی جواب نہ دیا، اس نے کہا: اے عبد الالہ، میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں تمہارے لیے ان زرہوں سے زیادہ بہتر ہوں، میں نے کہا: ہاں، تو میں نے اپنے ہاتھ سے زرہیں پھینک دیں اور اس کا اور اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑ لیا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← عبد الرحمن بن ابي بكر، وغيره، ← أَبِيهِ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ،

Hadith 29

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 13. حديث عروة بن الزبير ،عن عبدالرحمٰن رضي الله عنه · حديث 30

حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الرحمن، قال: قال رسول الله: كيف صنعت في استلامك الحجر؟ قال: استلمت وتركت قال: اصبت.

جناب عروہ بن زبیر سے روایت ہے، وہ سیدنا عبدالرحمٰن سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے حجر اسود کے چھونے کے بارے میں کیسے کیا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے کبھی چھو لیا اور کبھی چھوڑ دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“

عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 30

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 13. حديث عروة بن الزبير ،عن عبدالرحمٰن رضي الله عنه · حديث 31

حدثنا القعنبي، قال: قرات على مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، انه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الرحمن بن عوف: «كيف صنعت في استلامك الركن الاسود؟» قال عبد الرحمن: استلمت وتركت، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اصبت» .

عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پو چھا: ”تم نے حجر اسود کے چھونے کے بارے میں کیسے کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے اسے کبھی چھو ا اور کبھی چھوڑ د یا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“

أَبِيهِ أَنَّهُ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← على مالك، ← الْقَعْنَبِيُّ

Hadith 31

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 13. حديث عروة بن الزبير ،عن عبدالرحمٰن رضي الله عنه · حديث 32

حدثنا خلف بن هشام، قال: حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لعبد الرحمن بن عوف: كيف صنعت في الركن؟ قال: استلمت وتركت، قال: اصبت.

عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے حجر اسود کے چھو نے کے با ر ے میں کیسے کیا؟“ انہوں نے کہا: میں نے کبھی اسے چھو لیا اور کبھی چھوڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام،

Hadith 32

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 33

حدثنا ابو نعيم، قال: حدثنا سفيان، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، قال: سال عمر عبد الرحمن بن عوف عن المجوس، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سنوا بهم سنة اهل الكتاب.

جناب جعفر نے اپنے باپ محمد سے بیان کیا، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مجوسیو ں کے بارے میں پوچھا (کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟) تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ان سے اہل کتاب والا معاملہ کرو۔“

سنوا بهم سنة اهل الكتاب. ← رَسُولِ اللَّهِ ← المجوس، فقال: ← سال عمر عبد الرحمن بن عوف ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Hadith 33

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 34

حدثنا القعنبي، قال: قرات على مالك عن جعفر بن محمد، عن ابيه، ان عمر بن الخطاب، ذكر المجوس فقال: ما ادري كيف اصنع في امرهم؟ فقال له عبد الرحمن بن عوف: اشهد اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «سنوا بهم سنة اهل الكتاب» .

جناب جعفر اپنے باپ محمد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجوس کا ذکر کیا اور کہا: مجھے معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کروں؟ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اہل کتاب کے ساتھ کرتے ہو۔“

سنوا بهم سنة اهل الكتاب. ← رَسُولِ اللَّهِ ← له عبد الرحمن بن عوف: اشهد اني ← ما ادري كيف اصنع في امرهم؟ ← المجوس ← أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← على مالك، ← الْقَعْنَبِيُّ

Hadith 34

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 35

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل، قال: حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، قال: قال عمر وهو في مجلس بين القبر والمنبر: ما ادري كيف اصنع في المجوس؟ فقال عبد الرحمن بن عوف: سمعت رسول الله يقول: «سنوا بهم سنة اهل الكتاب» .

جعفر اپنے باپ محمد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر اور قبر اطہر کے درمیان والی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: مجھے معلوم نہیں کہ میں مجوس کے ساتھ کیا معاملہ کروں؟ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا: ”ان کے بارے میں وہی طریقہ اپناؤ جو اہل کتاب کے بارے میں اپناتے ہو۔“

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إسحاق بن إسماعيل

Hadith 35

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 36

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، انه سمع بجالة، يحدث ابا الشعثاء وعمرو بن اوس الثقفي عام حج مصعب بن الزبير وهو جالس إلى درج زمزم سنة سبعين قال: كنت كاتبا لجزء بن معاوية عم الاحنف بن قيس، فاتانا كتاب عمر قبل موته بسنة اقتلوا كل ساحر وكاهن، وفرقوا بين كل ذي محرم من المجوس، وامنعوهم من الزمزمة، قال: فقتلنا ثلاثة سواحر، وفرقنا بين كل رجل من المجوس وحرمته في كتاب الله وصنع طعاما كثيرا فدعا مجوس وعرض السيف على فخذه فاكلوا بغير زمزمة والقوا وقر بغل او بغلين من ورق ولم يكن عمر ياخذ من المجوس الجزية حتى شهد عنده عبد الرحمن بن عوف ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها من مجوس هجر.

بجالۃ نے ابوشعثاء اور عمرو بن اوس ثقفی کو بیان کرتے ہوئے سنا اور یہ اس سال کا واقعہ ہے جس سال مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے بصرہ والوں کے ساتھ حج کیا یعنی سن 70 حجری میں آپ زمزم کی سیڑھی پر بیٹھے ہوئے تھے، کہتے ہیں ان دنوں میں جزء بن معاویہ احنف بن قیس کے چچا کا کاتب تھا تو عمر رضی اللہ عنہ کی وفات سے ایک سال قبل ان کا خط آیا کہ ہر جادوگر اور کاہن کو قتل کر دو اور جس مجوسی نے اپنی محرم عورت کو بیوی بنایا ہو تو ان کے درمیان جدائی ڈال دو اور زمزم سے انہیں روکو، کہتے ہیں کہ کہا: ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا اور ہر مجوسی آدمی اور کتاب اللہ کے مطابق اس کی ذی محرم بیوی کے درمیان جدائی ڈالی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا تھا، لیکن جب عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے پارسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ (تو وہ بھی لینے لگے تھے)

أَبَا الشَّعْثَاءِ، ← بَجَالَةَ ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← إسحاق بن إسماعيل

Hadith 36

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. sporadic
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter