Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند عبد الرحمن بن عوف

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf

by أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى بن الأزهر البِرْتي البغدادي القاضي الحنفي

52 Hadith15 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 6. حديث عبدالله بن ربيعة، عن عبدالرحمٰن بن عوف رضي الله عنه · حديث 13

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا عاصم، قال: اخبرنا ابن ابي ذئب، عن الزهري، عن سالم، عن عبد الله بن ربيعة، ان عبد الرحمن بن عوف اخبر عمر بن الخطاب، وهو بطريق الشام يسير ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن هذا الوجع او هذا السقم عذب به الامم قبلكم، فإذا سمعتم به بارض فلا تدخلوا عليه، وإذا وقع بارض وانتم بها فلا تخرجوا فرارا منه» ، قال: فرجع عمر بن الخطاب.

عبداللہ بن ربیعہ سے مروی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تب بتایا جب وہ شام جا رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس تکلیف یا بیماری کے ساتھ تم سے پہلے امتوں کو عذاب دیا گیا، جب تم کسی زمین میں اس وبا کے پھیل جانے کا سن لو تو اس میں داخل نہ ہو، اور جب تم کسی جگہ پر ہو اور یہ بیماری وہاں پھیل جائے تو اس سے نہ بھاگو“، انہوں نے کہا: کہ یہ حدیث سن کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ واپس لوٹ آئے۔

سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَاصِمٍ، ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 13

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 7. عبدالرحمٰن بن أبى بكر ، عن عبدالرحمٰن بن عوف رضي الله عنه · حديث 14

حدثنا ابو حذيفة، قال: حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، قال: كان لعبد الرحمن بن عوف قميص من حرير يلبسه تحت ثيابه، فقال له عمر: ما هذا؟ فقال: لبسته عند من هو خير منك.

عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا: سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کی ایک قمیض تھی جسے وہ اپنے کپڑے کے نیچے (بنیان کے طور پر) پہنتے تھے۔ امیر عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ کیوں پہنتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: میں نے یہ قمیض ایسی شخصیت کے پاس بھی پہنی جو آپ سے بہتر تھے۔

لبسته عند من هو خير منك. ← له عمر: ما هذا؟ ← كان لعبد الرحمن بن عوف قميص من حرير يلبسه تحت ثيابه، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 14

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 8. ابو سلمة بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 15

حدثنا ابو سلمة، قال: حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، ان اباه، عاد ابا الرداد فقال له ابو الرداد: ما احد من قومك اوصل لي منك، فقال عبد الرحمن: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يحكي عن ربه جل وعز" قال: انا الرحمن وهي الرحم اشتققت لها من اسمي، فمن وصلها وصلته ومن قطعها قطعته".

جناب ابوسلمہ نے بیان کیا ہے کہ ان کے والد گرامی سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کرنے گئے، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: تمہاری قوم میں سے تم سے بڑھ کر میرے ساتھ کوئی صلہ رحمی نہیں کرتا، تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ رب عزوجل سے بیان کرتے ہیں، کہ رب تعالیٰ نے فرمایا: ”میں ”رحمٰن“ ہوں اور مادہ ”رحم“ میں نے اپنے نام سے نکالا ہے، جس نے اسے ملایا میں اسے ملاوں گا اور جس نے اسے توڑا میں اسے توڑوں گا۔“

رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ ← رسول الله يحكي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← له ابو الرداد: ما احد من قومك اوصل لي منك، ← ابي سلمة، ان اباه، عاد ابا الرداد ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو سَلَمَةَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 15

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 8. ابو سلمة بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 16

حدثنا محمد بن كثير، قال: اخبرنا سليمان بن كثير، عن الزهري، عن ابي سلمة، قال: دخل عبد الرحمن على ابي الرداد الليثي فقال: إن خيرهم واوصلهم ابو محمد قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال ربكم جل وعز «انا الله الذي خلقت الرحم فمن وصلها وصلته ومن قطعها بتته» .

جناب ابوسلمہ نے روایت بیان کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ، اللیثی رضی اللہ عنہ کے پاس تیماداری کرنے کے لیے تشریف لے کر گئے، تو انہوں نے کہا: ان میں سے بہتر اور زیادہ صلح رحمی کرنے والے ابومحمد (یعنی سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ) ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہو ئے سنا:”تمارے رب عزوجل نے فرمایا ہے: میں اللہ وہ ذات ہوں جس نے صلہ رحمی کو پیدا کیا، تو جس نے اس کو ملایا میں اسے ملاؤں گا اور جس نے اسے کاٹا میں اسے کاٹ دوں۔“

ربكم جل وعز ← رَسُولِ اللَّهِ ← إن خيرهم واوصلهم ابو محمد ← دخل عبد الرحمن على ابي الرداد الليثي ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 16

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 8. ابو سلمة بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 17

حدثنا مسلم بن إبراهيم، قال: حدثنا سليمان بن كثير، قال: اخبرنا سفيان بن حسين، عن الزهري، عن ابي سلمة، قال: دخل عبد الرحمن بن عوف على ابي الرداد الليثي فقال: خيركم واوصلكم ابو محمد، قال عبد الرحمن: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «قال ربكم جل وعز انا الله الذي خلقت الرحم وشققت لها من اسمي، فانا الرحمن وهي الرحم فمن وصلها وصلته ومن قطعها بتته» .

ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ، ابودردا اللیثی رضی اللہ عنہ کے ہاں تیماداری کے لیے گئے تو انہوں نے کہا: سب سے بہتر اور زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ابومحمد ہیں۔ (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے: میں اللہ وہ ذات ہوں جس نے رحم (یعنی صلہ رحمی) کو پیدا کیا اور اس کو اپنے نام سے لفظ نکالا، میں ”رحمٰن“ ہوں اور یہ ”رحم“ ہے۔ تو جس نے اسے ملایا میں اسے ملاؤں گا اور جس نے اسے کاٹا میں اسے کاٹوں گا۔“

الله الذي خلقت الرحم وشققت لها من اسمي، ← ربكم جل وعز ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← خيركم واوصلكم ابو محمد، ← دخل عبد الرحمن بن عوف على ابي الرداد الليثي ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 17

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 8. ابو سلمة بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 18

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال حدثنا سفيان، عن، الزهري، عن ابي سلمة، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: اشتكى ابو الرداد فعاده عبد الرحمن بن عوف فقال: خيرهم واوصلهم ما علمت ابو محمد، فقال عبد الرحمن بن عوف: إني سمعت رسول الله يقول: قال الله جل وعز: «انا الله وانا الرحمن خلقت الرحم وشققت لها من اسمي فمن وصلها وصلته ومن قطعها بتته» .

جناب ابوسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے، سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے، تو انہوں نے کہا: سب سے بہتر اور زیادہ صلہ رحمی کرنے والے میرے علم کے مطابق ابومحمد ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل نے کہا:، میں اللہ ہوں اور میں رحمٰن ہوں۔ میں نے صلہ رحمی کو پیدا کیا اور اس کے لیے اپنے نام سے لفظ نکالا، تو جس شخص نے اسے ملایا میں اسے ملاؤں گا اور جس نے اسے کاٹا میں اسے کاٹوں گا۔“

اللہُ ← الله جل وعز: ← رَسُولِ اللَّهِ ← عبد الرحمن بن عوف: إني ← خيرهم واوصلهم ما علمت ابو محمد، ← اشتكى ابو الرداد فعاده عبد الرحمن بن عوف ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 18

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 8. ابو سلمة بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 19

حدثنا مسلم، قال: حدثنا ابو عقيل، قال: حدثنا النضر بن شيبان الحداني، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن الله جل وعز فرض صيام رمضان وسننت قيامه فمن صامه وقامه إيمانا واحتسابا ويقينا كان له كفارة لما مضى او لما سلف» او كما قال.

جناب ابوسلمہ نے اپنے باب عبدالرحمٰن سے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے رمضان کے روزے فرض قررار دیے ہیں اور اس کے قیام کو میں نے سنت قرار دیا ہے، جو شخص ایمان و یقین اور نیکی حاصل کرنے کی خاطر اس (مہینے) کے روزے رکھے گا اور قیام کرے گا تو یہ کام اس کے لیے گزشتہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا“، یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← النضر بن شيبان الحداني، ← أَبُو عَقِيلٍ ← مُّسْلِمٍ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 19

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 8. ابو سلمة بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 20

حدثنا مسلم بن إبراهيم، قال: حدثنا نصر بن علي الجهضمي، قال: حدثنا النضر بن شيبان الحداني، قال: قلنا لابي سلمة بن عبد الرحمن حدثنا افضل شيء سمعت من ابيك في رمضان، قال ابو سلمة: حدثنا عبد الرحمن بن عوف، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم ذكر شهر رمضان ففضله على الشهور بما فضله الله، قال:" إن شهر رمضان شهر افترض الله صيامه على المسلمين وسننت قيامه، فمن صامه وقامه إيمانا واحتسابا خرج من الذنوب كيوم ولدته امه.

نضر بن شیبان الحدانی نے بیان کیا، کہا: ہم نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے کہا: جو کچھ آپ نے اپنے باپ سے سنا ہے اس میں سے رمضان کے بارے میں سب سے افضل حدیث ہمیں بتائیں، ابوسلمہ نے کہا: ہمیں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر فرمایا تو اسے دوسرے مہینوں پر فضیلت دی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فضیلت دی ہے۔ ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ رمضان کا مہینہ ایسا مہینہ ہے جس کے روزے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیے ہیں اور اس کا قیام میں نے سنت قرار دیا ہے تو جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور نیکی حاصل کرنے کی غرض سے اس کے روزے رکھے اور اس کا قیام کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جائے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا۔“

شهر رمضان ففضله على الشهور بما فضله الله، ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ ← أَبُو سَلَمَةَ ← من ابيك في رمضان، ← افضل شيء ← قلنا لابي سلمة بن عبد الرحمن ← النضر بن شيبان الحداني، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 20

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 8. ابو سلمة بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 21

حدثنا مسدد، قال: حدثنا ابو عوانة، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تصدقوا فإني اريد ان ابعث بها» ، فقال عبد الرحمن بن عوف: يا رسول الله لي اربعة آلاف، فالفين اقرضها ربي جل وعز والفين لعيالي، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بارك الله لك فيما اعطيت، وبارك لك فيما امسكت، قال: وجاء رجل من الانصار فقال: يا رسول الله إني بت اجر الجرير فاصبت صاعين من تمر، فصاعا اقرضه ربي جل وعز وصاعا لعيالي، قال: فلمزه المنافقون، فقالوا: والله ما اعطى ابن عوف الذي اعطى إلا رياء، وقالوا: اولم يكن الله تعالى ورسوله عليه السلام غنيين عن صاع هذا؟ قال الله عز وجل {الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات} [التوبة: 79]

جناب ابوسلمہ نے اپنے باب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”صدقہ کیا کرو پس بلاشبہ میں اسے آگے بھیجنا چاہتا ہوں“، تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس چار ہزار ہیں۔ دو ہزار میں اللہ عزوجل کو قرض دیتا ہوں اور دو ہزار اپنے اہل و عیال کے لیے (چھوڑتا ہوں)، انہوں نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو تو نے دیا ہے اللہ تعالیٰ اس میں بھی برکت ڈالے اور جو تو نے اپنے بال بچوں کے لیے روک رکھا ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ برکت ڈالے۔“ (سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے کہا: انصار میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک صاع میں اپنے رب عزوجل کو قرض دیتا ہوں اور ایک صاع اپنے اہل و عیال کے لیے رکھتا ہوں۔ پس اس میں منافقوں نے عیب جوئی کی اور مزید کہا: اللہ کی قسم! ابن عوف نے محض ریاکاری کے لیے دیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس کے اس صاع سے بے پرواہ نہیں؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کیں: «الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّـهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [9-التوبة:79] ”جو لوگ ان مومنین کی عیب جوئی کرتے ہیں جو اپنی خوشی سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ان مومنوں کے صدقے کا بھی مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس اپنی محنت کی کمائی کے علاوہ صدقہ کرنے کے لیے اور کچھ نہیں ہوتا، اللہ ان کا مذاق اڑائے، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“

أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 21

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 8. ابو سلمة بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 22

اخبرنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا يعلى بن عبيد، قال: حدثنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، قال: خرج عمر إلى الشام، وخرج معه باصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاستقبله ابو عبيدة بن الجراح وكان عاملا على الشام، فقال: ارجع فإن من ورائي مثل خرير النار، فقال: ما انا براجع، إنها حال قد كتبها الله جل وعز لا نتقدم عنها ولا نتاخر، فقال: لترجعن باصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم او لاشقن قميصي فقال: ما انا بفاعل، فقال عبد الرحمن: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا سمعتم به بارض فلا تقدموا عليه» ، قال عمر: يا ابا محمد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: نعم، فرجع عمر ورجع الناس معه.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نکلے، تو وہاں ابوعبیداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے ان کا استقبال کیا اور وہ اس وقت شام کے گورنر تھے۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہا: کہ آپ واپس چلے جائیں، میرے پاس جہنم کی چنگھاڑ اور جلا دینے والی تپش ہے۔ آپ نے کہا: میں واپس نہیں لوٹنے والا، یہ ایسی حالت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے۔ ہم نہ اس سے آگے جا سکتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو ضرور واپس لے جائیں وگرنہ میں اپنی قمیض پھاڑ دوں گا، تو آپ نے فرمایا: میں ایسا نہیں کرنے والا تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم کسی زمین میں اس بیماری کے پھیل جانے کا سن لو تو اس کی طرف مت جاؤ۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابومحمد! کیا تو نے یہ اللہ کے رسول سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سن کر واپس لوٹ آئے اور ان کے ساتھ لوگ بھی واپس لوٹ آئے۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 22

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 23

حدثنا محمد بن كثير، قال: اخبرنا سليمان بن كثير، عن الزهري عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، قال: اغمي على عبد الرحمن بن عوف، فصرخوا عليه، فلما افاق قال: اغمي علي؟ قالوا: نعم، قال: إنه اتاني رجلان او ملكان فيهما فظاظة وغلظة، فانطلقا بي فلقيهما رجلان او ملكان هما اراف منهما وارحم، فقالا: اين تريدان؟ قالا: نريد العزيز الامين او الامير - شك القاضي - قالا: خليا عنه، فإنه ممن كتبت له السعادة وهو في بطن امه.

جناب ابراہیم نے اپنے باپ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو گئی تو لوگ ان پر چیخنے لگے، جب انہیں افاقہ ہوا تو پوچھا: کیا مجھ پر غشی طاری ہو گئی تھی؟ تو لوگوں نے کہا:، جی ہاں، انہوں نے فرمایا: میرے پاس دو سخت دل اور بدمزاج آدمی یا دو فرشتے آئے، وہ مجھے لے کر جا رہے تھے، تو انہیں دو آدمی یا فرشتے ملے جو نرم اور رحم دل تھے، انہوں نے کہا کہ اسے کہاں لے کر جا رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا: عزیز الامین یا امیر کے پاس قاضی کو شک پڑا ہے (کہ عزیز الامین کے الفاظ ہیں امیر کا لفظ بولا ہے) انہوں نے کہا: کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے لیے شکم مادر سے ہی سعادت لکھ دی گئی ہے۔

نَعَمْ ← اغمي علي؟ ← اغمي على عبد الرحمن بن عوف، فصرخوا عليه، فلما افاق ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 23

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 9. حديث إبراهيم بن عبدالرحمٰن ، عن أبيه · حديث 24

حدثنا مسدد، قال: حدثنا يوسف بن الماجشون، عن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، عن جده، قال: بينما انا واقف، في الصف يوم بدر، نظرت عن يميني، وشمالي، فإذا انا بين غلامين من الانصار حديثة اسنانهما، فتمنيت ان اكون بين اضلع منهما، فغمزني احدهما فقال: يا عماه هل تعرف ابا جهل؟ قلت: نعم، وما حاجتك إليه يا ابن اخي؟ قال: اخبرت انه يسب رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده لئن رايته لا يفارق سوادي سواده حتى يموت الاعجز منا، فتعجبت لذلك فغمزني الآخر، وقال لي: مثلها، فلم انشب ان نظرت إلى ابي جهل يجول في الناس فقلت لهما: الا إن هذا صاحبكما الذي تسالان عنه فابتدراه بسيفيهما فضرباه حتى قتلاه، ثم انصرفا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبراه، فقال: ايكما قتله؟ فقال كل واحد منهما: انا قتلته فقال: هل مسحتما سيفيكما؟ قالا: لا، قال: فنظر في السيفين فقال: كلاكما قتله فقضى بسلبه لمعاذ بن عمرو بن الجموح، وكانا معاذ بن عفراء ومعاذ بن عمرو بن الجموح.

جناب ابراہیم نے اپنے باپ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میں جنگ بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائی تو دو نو عمر انصاری لڑکے کھڑے تھے، حالانکہ میری خواہش تھی کہ میں کڑیل جوانوں کے درمیان ہوں گا (انہیں دیکھ کر میں مطمئن نہ ہوا) اچانک ان دونوں میں سے ایک نے مجھے کہنی کی ضرب لگائی اور کہا: چچا جان! آپ ابوجہل کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، لیکن بھتیجے! تو اسے دیکھ کر کیا کرے گا؟ اس نے کہا: مجھے پتا چلا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں اس کو دیکھ لوں تو میرا جسم اس کے وجود سے جدا نہیں ہو گا حتٰی کہ ہم میں سے ایک مر جائے۔ اس کی بات کو سن کر متعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے نے بھی مجھے متوجہ کیا اور اسی طرح کہا: اسی لمحے اچانک میں نے ابوجہل کو دیکھا۔ وہ اپنے لشکروں میں بھاگا بھاگا پھر رہا تھا۔ میں نے ان دونوں سے کہا: یہ ہے وہ آپ کا شکار جس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کر رہے تھے۔ وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر ہوا ہو گئے، جاتے ہی اس کا تیا پانچہ کر دیا۔ پھر بھاگتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور (اس کے قتل) کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟“ ہر ایک نے کہا: میں نے قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تلواریں دیکھیں تو فرمایا: ”تم دونوں نے قتل کیا ہے۔“ لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کا ساز و سامان عمرو بن جموع کے بیٹے معاذ کو دیا۔ یہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن الجموح تھے۔

يميني، وشمالي، فإذا ← واقف، في الصف يوم بدر، نظرت ← بَيْنَمَا ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ← يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← مُسَدَّدٌ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 24

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. sporadic
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter