Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند عبد الرحمن بن عوف

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf

by أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى بن الأزهر البِرْتي البغدادي القاضي الحنفي

52 Hadith15 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 37

حدثنا ابو سلمة، قال: حدثنا ابان، قال: حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارظ، انه دخل على عبد الرحمن يعوده وهو مريض فقال له: وصلتك رحم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال الله عز وجل: «انا الرحمن والرحم مني اشتققتها من اسمي فمن يصلها اصله ومن يقطعها اقطعه» .

جناب ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ نے بیان کیا کہ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس بیمار پرسی کے لیے آئے۔ وہ اس وقت بیمار تھے تو (عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے) انہیں کہا: تجھے صلہ رحمی کا عمل ملائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: میں ”رحمن“ ہوں اور ”رحم“ مجھ سے ہے، میں نے اسے اپنے نام سے نکالا ہے، جو اسے ملاۓ گا میں اسے ملاؤں گا اور جو اسے کاٹے گا میں اسے کاٹ ڈالوں گا۔

إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← أَبُو سَلَمَةَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 37

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 38

حدثنا إسحاق بن إسماعيل، قال: حدثنا يزيد بن هارون، قال: حدثنا هشام الدستوائي، عن يحيى بن ابي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارظ، ان اباه، حدثه انه، دخل على عبد الرحمن بن عوف يعوده فقال له عبد الرحمن: وصلتك رحم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال الله عز وجل: انا الرحمن وهي الرحم شققت لها اسما من اسمي فمن وصلها وصلته، ومن قطعها قطعته او قال: من يبتها ابته".

عبداللہ بن قارظ روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: صلہ رحمی تجھے ملائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: میں ”رحمن“ ہوں اور ”رحم“ کو میں نے اپنے نام سے نکالا ہے، جس نے اسے ملایا، میں اسے ملاؤں گا اور جس نے اسے کاٹا میں اسے کاٹوں گا“، یا (یہ الفاظ استعمال کیے) «مَن بتها أبته» ۔

إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 38

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 39

حدثنا مسلم، قال: حدثنا كثير بن عبد الله اليشكري، قال: حدثني الحسن بن عبد الرحمن القرشي، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ثلاث تحت العرش يوم القيامة، القرآن والرحم تنادي الا من وصلني وصله الله، ومن قطعني قطعه الله» .

سیدنا عبدالرحمن (بن عوف) القرشی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی، (ایک) قرآن اور (دوسرے) صلہ رحمی آواز دے گی، خبردار! جس نے مجھے ملایا اللہ اسے ملائے گا اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اسے کاٹ ڈالے گا۔“

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← الحسن بن عبد الرحمن القرشي ← كثير بن عبد الله اليشكري ← مُّسْلِمٍ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 39

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 40

حدثنا ابو الوليد الطيالسي، قال: حدثنا شعبة، عن ابي بكر بن حفص، قال: سمعت ابا عبد الله مولى ابي مرة، عن ابي عبد الرحمن، انه كان قاعدا مع عبد الرحمن بن عوف، فمر بلال، فدعوه فسالوه عن وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم ياتي الحاجة فيدعوني فآتيه بالماء، فيمسح على موقيه وعمامته» .

جناب ابوعبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں استفسار کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے آتے تو مجھے بلاتے، میں ان کے پاس پانی لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمامہ اور موزوں پر مسح فرماتے۔

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابا عبد الله مولى ابي مرة، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 40

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 41

حدثنا ابو سلمة، قال: حدثنا ابو عوانة، قال: حدثنا عمر، عن ابيه، قال: حدثني قاص فلسطين قال: سمعت عبد الرحمن بن عوف، يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" ثلاث والذي نفس محمد صلى الله عليه وسلم بيده إن كنت حالفا عليهن: لا ينقص مال من صدقة فتصدقوا، ولا يعفو عبد عن مظلمة يبتغي بها وجه الله جل وعز إلا رفعه الله بها عزا يوم القيامة، ولا يفتح عبد باب مسالة إلا فتح الله عليه باب فقر".

فلسطین کے کسی قصہ گو شخص نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں حلف اٹھا کہ کہتا ہوں: مال صدقہ کرنے سے کم نہیں ہوتا، لہٰذا صدقہ کیا کرو، اگر کوئی آدمی ظلم کے بدلے معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت میں بلندی دے گا بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی مطلوب ہو اور اگر کوئی آدمی بھیک مانگنا شروع کر دے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← قاص فلسطين ← أَبِيهِ ← عُمَرَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 41

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 42

حدثنا مسدد، قال حدثنا ابو عوانة، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، قال: حدثني قاص فلسطين قال: سمعت عبد الرحمن بن عوف، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «والذي نفس محمد صلى الله عليه وسلم بيده إن كنت لحالفا عليهن لا ينقص مال من صدقة فتصدقوا، ولا يعفو رجل عن مظلمة يبتغي بها وجه الله تعالى إلا رفعه الله عز وجل بها عزا يوم القيامة، ولا يفتح رجل على نفسه باب مسالة إلا فتح الله عز وجل عليه باب فقر» .

فلسطین کے کسی قصہ گو شخص نے بیان کیا، کہا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر ان چیزوں پر میں حلف اٹھاؤں (تو میری بات درست ہے)، صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، اگر کوئی آدمی محض اللہ رب العزت کی رضامندی کی خاطر کسی ظلم کے بدلے درگزر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی عزت بلند کرے گا اور اگر کوئی آدمی بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← قاص فلسطين ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 42

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 43

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال: حدثنا وكيع، قال: حدثنا ابن ابي رواد، عن رجل، لم يسمه عن عبد الرحمن بن عوف، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم العشاء، وإنما يعتم اصحاب الإبل» .

غیر معروف شخص نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اعراب تم پر تمہاری عشاء کی نماز کے نام پر غلبہ حاصل نہ کر جائیں۔ اونٹوں والے (عشاء کے وقت دیر سے) اونٹنیوں کا دودھ دوھتے ہیں (اور وہ اس نماز کو عتمۃ کہتے ہیں، کہیں وہ لوگ یہی نام مشہور نہ کر دیں)۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← رجل، لم يسمه ← ابن ابي رواد، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 43

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 44

حدثنا عبيد الله بن عمر، قال: حدثنا عبد الله بن سلمة، قال: حدثنا عبد العزيز بن ابي رواد، قال: حدثني شيخ، من اهل الطائف يقال له غيلان عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم فإنها في كتاب الله جل وعز العشاء وإنما سميت العتمة لإعتام الإبل احلابها» .

اہل طائف کے غیلان نامی بوڑھے شخص نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اعراب تم پر تمہا ری نماز کے نام پر غلبہ حاصل نہ کر جائیں، یہ اللہ عزوجل کی کتاب میں نماز عشاء ہے، اس کا نام العتمہ اونٹنیوں کا دودھ عشاء کے وقت دیر سے دوہنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔“

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← شيخ، من اهل الطائف يقال له غيلان ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 44

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 45

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال: حدثنا محمد بن ابي عبيدة، قال: حدثنا ابي، عن الاعمش، عن شقيق، قال: كان بين عثمان وعبد الرحمن بن عوف شيء، فارسل إليه عبد الرحمن إني والله ما فررت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين، ولا تخلفت عن بدر، ولا خالفت سنة عمر، قال: فارسل إليه عثمان اما قولك فررت يوم حنين فقد صدقت، فقد عفا عنى، واما سنة عمر فوالله ما اطيقها انا ولا انت.

شقیق نے بیان کیا، کہا: کہ سیدنا عثمان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان کوئی رنجش ہو گئی، چنانچہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا: بلاشبہ اللہ کی قسم! میں حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ کر بھاگا نہیں تھا، اور بدر سے پیچھے رہا اور نہ ہی امیر عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کی مخالفت کی۔ (راوی نے) کہا: تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کا یہ کہنا کہ میں حنین کے دن بھاگ گیا تھا تو آپ نے یقیناًً سچ کہا، مگر (اللہ تعالیٰ نے) مجھے معاف کر دیا تھا اور جو امیر عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کا معاملہ ہے تو اللہ کی قسم! نہ آپ اس کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ میں۔

شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 45

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 46

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال: حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن ام سلمة، قالت: دخل عليها عبد الرحمن بن عوف، فقال: يا امه، إني يهلكني كثرة مالي انا اكثر قريش مالا، قالت: يا بني، تصدق، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن من اصحابي من لا يراني بعد ان افارقه» ، قال: فخرج عبد الرحمن فلقي عمر فاخبره بما قالت ام سلمة، فجاء عمر فدخل عليها فقال: بالله منهم انا؟ قالت: لا ولن اقول لاحد بعدك.

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور عرض کیا: اے اماں جان! میری کثرت مال نے مجھے ہلاک کر دیا ہے۔ میرے پاس اہل قریش میں سب سے زیادہ مال ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بیٹے صدقہ کر دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے، میرے صحابہ میں سے ایسا بھی ہو گا جو میرے ساتھ ملاقات کر کے جدا ہو گا تو پھر وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا۔ (راوی نے) کہا: تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نکلے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان کو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا وہ بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! وہ تو میں ہوں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، اور میں تمہارے بعد ہرگز کسی کو یہ حدیث نہیں بتاؤں گی۔

لا ولن اقول لاحد بعدك. ← بالله منهم ← ام سلمة، فجاء عمر فدخل عليها ← بِمَا ← فخرج عبد الرحمن فلقي عمر ← «إن من اصحابي من لا يراني بعد ان افارقه» ← رَسُولِ اللَّهِ ← يا بني، تصدق، فإني ← اكثر قريش مالا، ← يا امه، إني يهلكني كثرة مالي ← دخل عليها عبد الرحمن بن عوف، ← أُمِّ سَلَمَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 46

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 47

اخبرنا مسدد، قال: حدثنا حميد بن الاسود ابو الاسود صاحب الكرابيسي، قال: حدثنا إسماعيل بن امية، قال: حدثني الثقة، ان عبد الرحمن بن عوف، زار مريضا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فقال: اذكر كلاما، قال: لا تقولوا هكذا، ولكن قولوا كما قال النبي صلى الله عليه وسلم إذا عاد مريضا: «اللهم اذهب عنه ما يجد وآجره فيما ابتليته» .

ثقہ راوی نے بیان کیا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی مریض کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ (راوی نے بیان کیا) تو انہوں نے کہا: میں ایک کلام ذکر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اس طرح نہ کہو بلکہ اس طرح کہو جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مریض کی عیادت کرتے وقت دعائیہ کلمات کہتے تھے: «اَللّٰهُمّ اَذهِبْ عَنْهُ ماَ يَجِدُ وَاۤجِرْهُ فِيْماَ ابْتَلَيْتَهُ» ”اے اللہ! اسے جو (بیماری) ہے اسے دور کر دے اور جس آزمائش میں تو نے اسے ڈالا ہے اس سے نجات دے۔“

لا تقولوا هكذا، ولكن قولوا كما ← فقال: اذكر كلاما، ← الثقة، ان عبد الرحمن بن عوف، زار مريضا من اصحاب رسول الله ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← حميد بن الاسود ابو الاسود صاحب الكرابيسي، ← مُسَدَّدٌ

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 47

مسند عبد الرحمن بن عوف · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 14. المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه · حديث 48

حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطالقاني، قال: حدثنا جرير، عن مطرف، عن القاسم بن كثير، عن رجل، قال: كان كعب يقص فقال عبد الرحمن بن عوف: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يقص إلا امير او مامور او مختال، قال: فاتى كعب، فقيل له: ثكلتك امك، هذا عبد الرحمن بن عوف يقول: كذا وكذا فترك القصص، ثم إن معاوية امره بالقصص فاستحل ذاك بذاك.

ایک آدمی نے روایت کیا، کہا کہ کعب رضی اللہ عنہ قصہ گوئی کرتے تھے، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: قصے امیر بیان کر سکتا ہے یا جسے حکم دیا جائے یا پھر فخر و تکبر کرنے والا۔ (راوی نے) کہا: تیری ماں تجھے گم پائے یہ عبدالرحمن بن عوف ایسا ایسا کہہ رہے ہیں۔ تو انہوں نے قصے بیان کرنے کا عمل ترک کر دیا۔ پھر معاویۃ رضی اللہ عنہ نے انہیں قصے بیان کرنے کا حکم دیا تو بایں وجہ انہوں نے قصے بیان کرنے کو حلال سمجھا۔

كذا وكذا فترك القصص، ثم إن معاوية امره بالقصص فاستحل ذاك بذاك. ← فاتى كعب، فقيل له: ثكلتك امك، هذا عبد الرحمن بن عوف ← لا يقص إلا امير او مامور او مختال، ← رَسُولِ اللَّهِ ← كان كعب يقص فقال عبد الرحمن بن عوف: ← رَجُلٌ: ← القاسم بن كثير، ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ،

Musnad Abdul Rehman Bin Aouf · sporadic › Chapter · Hadith 48

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. sporadic
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter