مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 10.1
أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: " يَدْرُسُ الْإِسْلَامُ كَمَا يَدْرُسُ وَشْيُ الثَّوْبِ، وَلَا يَبْقَى إِلَّا شَيْخٌ كَبِيرٌ، أَوْ عَجُوزٌ فَانِيَةٌ، يَقُولُونَ: قَدْ كَانَ قَوْمٌ يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَهُمْ مَا يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَقَالَ صِلَةُ بْنُ زُفَرَ: فَمَا يُغْنِي عَنْهُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَهُمْ لَا يَصُومُونَ، وَلَا يُصَلُّونَ، وَلَا يَحُجُّونَ، وَلَا يَتَصَدَّقُونَ، قَالَ: يَنْجُونَ بِهَا مِنَ النَّارِ. ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ: يَا صِلَةُ، يَنْجُونَ بِهَا مِنَ النَّارِ "
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جس میں اسلام ایسے مٹ جائے گا جیسے کپڑے کے داغ دھبے مٹ جاتے ہیں‘ اس زمانے میں کچھ بوڑھے لوگ رہ جائیں جو یہ کہتے ہوں گے کہ کسی زمانے میں ”لا الہ الا اللہ‘‘ کہنے والے بھی ہوتے تھے‘ اور یہ بوڑھے افراد خود ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا اقرار نہیں کرتے ہوں گے‘ اس موقع پر موجود ایک صاحب صلہ بن زید بولے کہ اے عبداللہ ! اگر لوگ روزے نہ رکھتے ہوں‘ نماز نہ پڑھتے ہوں‘ حج نہ کرتے ہوں اور صدقہ و خیرات نہ کرتے ہوں تو انہیں ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کیا فائدہ دے گا ؟ فرمایا کہ اس کی برکت سے کسی نہ کسی وقت وہ نار جہنم سے نجات پا ہی جائیں گے۔
حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ
Hadith 10.1
