Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ باب · حديث 313

5 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ الْآخَرَ قَدْ زَنَى، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَاهُ ثَانِيَةً، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ؛ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَدْ زَنَى، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَسَأَلَ عَنْهُ أَصْحَابَهُ: هَلْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: انْطَلِقُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ، فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ، فَلَمَّا أَبْطَأَ عَلَيْهِ الْقَتْلُ، انْصَرَفَ إِلَى مَكَانٍ كَثِيرِ الْحِجَارَةِ، فَقَامَ فِيهِ فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ، فَرَجَمُوهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَّا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ، وَقَالَ قَائِلٌ: إِنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ تَوْبَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ قَوْمَهُ طَمِعُوا فِيهِ، فَسَأَلُوهُ مَا يُصْنَعُ بِجَسَدِهِ؟ قَالَ: اصْنَعُوا بِهِ مَا تَصْنَعُونَ بِمَوْتَاكُمْ مِنَ الْكَفَنِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالْمَدْفَنِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَصَلُّوا عَلَيْهِ "، وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: " أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَرَّ بِالزِّنَا فَرَدَّهُ، ثُمَّ عَادَ فَأَقَرَّ بِالزِّنَا فَرَدَّهُ، ثُمَّ عَادَ فَأَقَرَّ بِالزِّنَا الرَّابِعَةَ؛ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فِي مَوْضِعٍ قَلِيلِ الْحِجَارَةِ، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ الْمَوْتُ، فَانْطَلَقَ يَسْعَى إِلَى مَوْضِعٍ كَثِيرِ الْحِجَارَةِ، وَاتَّبَعَهُ النَّاسُ فَرَجَمُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ، ثُمَّ ذَكَرُوا شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْلَا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَفْنِهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لَهُمْ فِي ذَلِكَ، قَالَ: وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ قُبِلَ مِنْهُمْ ". وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: " لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ أَنْ يُرْجَمَ قَامَ فِي مَوْضِعٍ قَلِيلِ الْحِجَارَةِ، فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ الْقَتْلُ، فَذُهِبَ بِهِ مَكَانًا كَثِيرَ الْحِجَارَةِ، وَاتَّبَعَهُ النَّاسُ حَتَّى رَجَمُوهُ. فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ! ؟ " وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: لَمَّا هَلَكَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ بِالرَّجْمِ، اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيهِ، فَقَالَ قَائِلٌ: مَاعِزٌ أَهْلَكَ نَفْسَهُ. وَقَالَ قَائِلٌ: تَابَ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَقُبِلَ مِنْهُ، أَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمِ الْحَدَّ عَلَيَّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَرُدُّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُعْرِضُ عَنْهُ، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ: أَنْكَرْتُمْ مِنْ عَقْلِ هَذَا شَيْئًا؟ قَالُوا: مَا نَعْلَمُ إِلَّا عَاقِلًا، وَمَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَاذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ، قَالَ: فَذَهَبُوا بِهِ فِي مَكَانٍ قَلِيلِ الْحِجَارَةِ، فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ جَزِعَ، قَالَ: فَخَرَجَ يَشْتَدُّ حَتَّى أَتَى الْحَرَّةَ، فَثَبَتَ لَهُمْ، قَالَ: فَرَجَمُوهُ بِجَلَامِيدِهَا حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاعِزٌ حِينَ أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ جَزِعَ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ؟ ! قَالَ: فَاخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَمْرِهِ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ: هَلَكَ مَاعِزٌ، وَأَهْلَكَ نَفْسَهُ. وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: بَلْ تَابَ إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ لَقُبلَ مِنْهُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا نَصْنَعُ؟ قَالَ: «اصْنَعُوا مَا تَصْنَعُونَ بِمَوْتَاكُمْ مِنَ الْغُسْلِ وَالْكَفَنِ وَالْحَنُوطِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالدَّفْنِ» . وَقَدْ رُوِيَ الْحَدِيثُ بِرِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ بھائی سے پیچھے رہ جانے والے سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا ہے اس لیے اس پر حد جاری کر دیجیے‘ نبی علیہ السلام نے انہیں لوٹا دیا‘ چار مرتبہ اسی طرح ہوا‘ چوتھی مرتبہ نبی علیہ السلام نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا کہ تم اس کی عقل میں کچھ کمی محسوس کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں! فرمایا: پھر اسے لے جا کر رجم کر دو۔ چنانچہ انہیں لے جایا گیا اور لوگوں نے انہیں پتھر مارنا شروع کیے‘ لیکن جب اس طرح ان کی روح نکلنے میں تاخیر ہونے لگی تو وہ ایسی جگہ بھاگ گئے‘ جہاں پتھر بہت زیادہ تھے اور وہاں جا کر کھڑے ہو گئے اور مسلمانوں نے آ کر انہیں اتنے پتھر مارے کہ وہ شہید ہو گئے‘ نبی علیہ السلام تک یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ تم نے اس کا راستہ کیوں نہ چھوڑ دیا؟ اس پر لوگ آپس میں اختلاف کرنے لگے‘ کسی نے کہا کہ ماعز نے اپنے آپ کو خود ہلاک کر لیا‘ اور کسی نے کہا کہ مجھے امید ہے یہ اس کی توبہ ہی ہو گی جب نبی علیہ السلام تک یہ باتیں پہنچیں تو فرمایا کہ اس اکیلے نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر لوگوں کی بہت بڑی جماعتیں ایسی توبہ کر لیں تو وہ ان کی طرف سے بھی قبول ہو جائے‘ لوگوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو نہیں ماعز پر رشک آیا۔ چنانچہ لوگوں نے آ کر پوچھا کہ ان کی نعش کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ فرمایا: جو عام مردوں کے ساتھ کرتے ہو‘ وہی اس کے ساتھ بھی کرو۔ یعنی کفن بھی دو‘ نماز جنازہ بھی پڑھو اور دن بھی کرو‘ چنا نچہ لوگوں نے انہیں لے جا کر ان کی نماز جنازہ پڑھی۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Boundaries Book › Door · Hadith 313

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ باب · حديث 314

6 - عَنْ رَبِيعَةَ، عَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، قَالَ: قَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا بِمُعَاهَدٍ، فَقَالَ: «أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَّى بِذِمَّتِهِ»

ابن بیلمانی کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک معاہد کے بدلے میں مسلمان کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں۔

أَحَقُّ مَنْ وَفَّى بِذِمَّتِهِ» ← قَتَلَ النَّبِيُّ مُسْلِمًا بِمُعَاهَدٍ، فَقَالَ: ← الْبَيْلَمَانِيِّ، ← رَبِیعَۃَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Boundaries Book › Door · Hadith 314

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسَّيْرِ ‹ باب · حديث 315

1 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى حُرْمَةَ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخُونُ أَحَدًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ إِلَّا قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: اقْتَصَّ مِنْهُ، فَمَا ظَنُّكُمْ؟ . . . "

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کی عورتوں کی حرمت جہاد کے انتظار میں بیٹھنے والے مردوں پر اس طرح رکھی ہے‘ جیسے ان کی ماؤں کی حرمت‘ اور ان بیٹھنے والوں میں سے جو شخص بھی کسی مجاہد کے اہل خانہ میں خیانت کا ارتکاب کرتا ہے‘ قیامت کے دن اس سے کہا جائے گا کہ اس کا قصاص دو‘ پس تمہارا کیا خیال ہے؟

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Jihad and Walking › Door · Hadith 315

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسَّيْرِ ‹ باب · حديث 316

2 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً أَوْصَى أَمِيرَهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ تَعَالَى، وَأَوْصَى فِيمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: «اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، لَا تَغْلُوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا، فَإِذَا لَقِيتُمْ عَدُوَّكُمْ، فَادْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَبَوْا فَادْعُوهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ؛ فَإِنْ أَبَوْا فَقَاتِلُوهُمْ، فَإِذَا حَاصَرْتُمْ أَهْلَ الْحِصْنِ، فَأَرَادُوكُمْ أَنْ تَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ تَعَالَى فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا حُكْمُ اللَّهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ، ثُمَّ احْكُمُوا فِيهِمْ مَا بَدَا لَكُمْ، فَإِنْ أَرَادُوكُمْ أَنْ تُعْطُوهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ فَأَعْطُوهُمْ ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا بِدِينِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا بِذِمَّةِ اللَّهِ فِي رَقَبَتِكُمْ» ، وَفِي رِوَايَةٍ: «فَإِنْ أَرَادُوكُمْ أَنْ تَقْطَعُوهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ فَلَا تَقْطَعُوهُمْ، وَلَكِنْ أَعْطُوهُمْ ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ، فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ أَيْسَرُ»

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ کو روانہ فرماتے تو اس کے امیر کو خاص طور پر اس کی اپنی ذات کے متعلق تقویٰ کی وصیت فرماتے اور اس کی معیت میں جو مسلمان ہوتے‘ ان کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی تاکید کرتے اور فرماتے کہ اللہ کا نام لے کر اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے جہاد میں شرکت کرو‘ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے جہاد کرو‘ مال غنیمت میں خیانت نہ کرو‘ دھوکہ دہی نہ کرو‘ لاشوں کا مثلہ نہ کرو‘ کسی بچے اور عمر رسیدہ بوڑھے کومت قتل کرو‘ جب دشمن سے آمنا سامنا ہو تو پہلے انہیں اسلام کی طرف بلاؤ‘ اگر وہ انکار کر دیں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو‘ اگر وہ اس سے بھی انکار کر دیں تو ان سے لڑو۔ جب تم کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور قلعہ والے تمہیں ’’حکم خداوندی‘‘ پر اتارنا چاہیں تو ایسا مت کرنا کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہو گا کہ اس سلسلے میں ’’حکم خداوندی‘‘ کیا ہے؟ ہاں! انہیں اپنے فیصلے پر اتارنا‘ اس کے بعد جو مناسب سمجھو فیصلہ کر لینا‘ اگر وہ تم سے اللہ کا ذمہ دینے کا مطالبہ کریں تو تم انہیں اپنی اور اپنے آباؤ اجداد کی ذمہ داری دے دینا‘ کیونکہ تم اپنی ذمہ داری کو توڑ دو یہ‘ اس سے زیادہ آسان ہے کہ تم اللہ کی ذمہ داری کو توڑو۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Jihad and Walking › Door · Hadith 316

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسَّيْرِ ‹ باب · حديث 317

3 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ»

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثلہ کی ممانعت فرمائی ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Jihad and Walking › Door · Hadith 317

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسَّيْرِ ‹ باب · حديث 318

4 - عَنْ إسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادٍ، وَأَبِيهِ وَالْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: «عُرِضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَأَمَرَ بِقَتْلِ كِبَارِهِمْ وَسَبْيِ صِغَارِهِمْ، فَمَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتِ اسْتَحَى مِنْهُ» ، وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «انْظُرُوا، فَإِنْ كَانَ أَنْبَتَ ضَرَبُوا» ، فَوَجَدُونِي لَمْ أُنْبِتْ، فَخَلَّى سَبِيلِي ". وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي سَبْيِ قُرَيْظَةَ فَعُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَنَظَرُوا فِي عَانَتِي، فَوَجَدُونِي لَمْ أُنْبِتْ، فَأَلْحَقُونِي بِالسَّبْيِ»

حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ غزوۂ بنو قریظہ کے دن ہمیں نبی علیہ السلام کے سامنے پیش کیا گیا‘ نبی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور حکم دیا کہ ان کے بڑے قتل کر دیے جائیں اور بچے قید کر لیے جائیں‘ چنانچہ جس کے زیر ناف بال آ چکے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے بال نہیں اُگے تھے اسے زندہ چھوڑ دیا گیا‘ اور ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا تو فرمایا: دیکھو! اگر اس کے بال اُگ آئے ہوں تو اسکی گردن اڑا دو‘ انہوں نے جب دیکھا تو میرے جسم پر بال نہیں آئے تھے اس لیے میرا راستہ چھوڑ دیا گیا۔

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← أَبِيهِ وَالْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Jihad and Walking › Door · Hadith 318

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسَّيْرِ ‹ باب · حديث 319

5 - وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ قُتِلَ فِي الْخَنْدَقِ، وَأَعْطَى الْمُشْرِكُونَ بِجِيفَتَةٍ مَالًا فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین میں سے ایک شخص خندق میں گر کر مارا گیا‘ مشرکین نے اس کے مردار لاشے کے بدلے مال و دولت کی پیشکش کی‘ نبی علیہ السلام نے اس پیشکش کوٹھکرا دیا (اور اس کا لاشہ یوں ہی ان کے حوالے کر دیا) ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← وَابْنِ أَبِي لَيْلَى

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Jihad and Walking › Door · Hadith 319

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسَّيْرِ ‹ باب · حديث 320

6 - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ أَنْ يُبَاعَ الْخُمْسُ حَتَّى يُقَسَّمَ»

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن تقسیم سے قبل مال غنیمت کو بیچنے سے منع فرما دیا۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ خَيْبَرَ أَنْ يُبَاعَ الْخُمْسُ حَتَّى يُقَسَّمَ» ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Jihad and Walking › Door · Hadith 320

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسَّيْرِ ‹ باب · حديث 321

7 - عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُقَسِّمْ شَيْئًا مِنْ غَنَائِمِ بَدْرٍ إِلَّا بَعْدَ مَقْدِمِهِ لِلْمَدِينَةِ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر کا مال غنیمت اس وقت تک تقسیم نہیں کیا‘ جب تک مدینہ منورہ میں رونق افروز نہ ہو گئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Jihad and Walking › Door · Hadith 321

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 322

1 - عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشَبَّهَاتٌ، لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ»

امام شعبی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے‘ اور ان دونوں کے درمیان جو چیزیں ہیں وہ شبہ میں ڈالنے والی ہیں‘ جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے‘ سو جو شخص ایسی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنا دین اور اپنی عزت محفوظ کر لی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَلَى الْمِنْبَرِ:، ← النُّعْمَانِ ← الشَّعْبِيِّ، ← الْحَسَنِ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Sales › Door · Hadith 322

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 323

2 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لُعِنَتِ الْخَمْرُ، وَعَاصِرُهَا، وَسَاقِيهَا، وَشَارِبُهَا، وَبَائِعُهَا، وَمُشْتَرِيهَا»

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شراب پر‘ اس کے نچوڑنے والے‘ پلانے والے‘ بیچنے والے اور خریدنے والے پر لعنت کی گئی ہے۔

«لُعِنَتِ الْخَمْرُ، وَعَاصِرُهَا، وَسَاقِيهَا، وَشَارِبُهَا، وَبَائِعُهَا، وَمُشْتَرِيهَا» ← ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Sales › Door · Hadith 323

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 324

3 - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، أَوِ ابْنِ كَثِيرٍ شَكٌّ مِنْهُ، أَوْ مِنْ غَيْرِهِ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ، فَقَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَحَرَّمُوا أَكْلَهَا، وَاسْتَحَلُّوا بَيْعَهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ الَّذِي حَرَّمَ الْخَمْرَ حَرَّمَ بَيْعَهَا»

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شراب کی خریدو فروخت کے بارے سوال کیا گیا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے‘ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا‘ انہوں نے اپنے اوپر اس کا کھانا تو حرام کر لیا لیکن خریدو فروخت جائز سمجھی اور اس کی قیمت کھانے لگے‘ یاد رکھو! جس ذات نے شراب حرام قرار دی ہے‘ اسی نے اس کی خریدو فروخت اور اس کی قیمت کھانے سے بھی منع کیا ہے اور اسے حرام قرار دیا ہے۔

بيع الخمر ← سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، أَوِ ابْنِ كَثِيرٍ شَكٌّ مِنْهُ، أَوْ مِنْ غَيْرِهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Book of Sales › Door · Hadith 324

chevron_left Previous
1…262728…45
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door