مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ باب · حديث 313
5 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ الْآخَرَ قَدْ زَنَى، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَاهُ ثَانِيَةً، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ؛ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَدْ زَنَى، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَسَأَلَ عَنْهُ أَصْحَابَهُ: هَلْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: انْطَلِقُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ، فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ، فَلَمَّا أَبْطَأَ عَلَيْهِ الْقَتْلُ، انْصَرَفَ إِلَى مَكَانٍ كَثِيرِ الْحِجَارَةِ، فَقَامَ فِيهِ فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ، فَرَجَمُوهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَّا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ، وَقَالَ قَائِلٌ: إِنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ تَوْبَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ قَوْمَهُ طَمِعُوا فِيهِ، فَسَأَلُوهُ مَا يُصْنَعُ بِجَسَدِهِ؟ قَالَ: اصْنَعُوا بِهِ مَا تَصْنَعُونَ بِمَوْتَاكُمْ مِنَ الْكَفَنِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالْمَدْفَنِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَصَلُّوا عَلَيْهِ "، وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: " أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَرَّ بِالزِّنَا فَرَدَّهُ، ثُمَّ عَادَ فَأَقَرَّ بِالزِّنَا فَرَدَّهُ، ثُمَّ عَادَ فَأَقَرَّ بِالزِّنَا الرَّابِعَةَ؛ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فِي مَوْضِعٍ قَلِيلِ الْحِجَارَةِ، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ الْمَوْتُ، فَانْطَلَقَ يَسْعَى إِلَى مَوْضِعٍ كَثِيرِ الْحِجَارَةِ، وَاتَّبَعَهُ النَّاسُ فَرَجَمُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ، ثُمَّ ذَكَرُوا شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْلَا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَفْنِهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لَهُمْ فِي ذَلِكَ، قَالَ: وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ قُبِلَ مِنْهُمْ ". وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: " لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ أَنْ يُرْجَمَ قَامَ فِي مَوْضِعٍ قَلِيلِ الْحِجَارَةِ، فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ الْقَتْلُ، فَذُهِبَ بِهِ مَكَانًا كَثِيرَ الْحِجَارَةِ، وَاتَّبَعَهُ النَّاسُ حَتَّى رَجَمُوهُ. فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ! ؟ " وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: لَمَّا هَلَكَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ بِالرَّجْمِ، اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيهِ، فَقَالَ قَائِلٌ: مَاعِزٌ أَهْلَكَ نَفْسَهُ. وَقَالَ قَائِلٌ: تَابَ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَقُبِلَ مِنْهُ، أَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمِ الْحَدَّ عَلَيَّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَرُدُّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُعْرِضُ عَنْهُ، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ: أَنْكَرْتُمْ مِنْ عَقْلِ هَذَا شَيْئًا؟ قَالُوا: مَا نَعْلَمُ إِلَّا عَاقِلًا، وَمَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَاذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ، قَالَ: فَذَهَبُوا بِهِ فِي مَكَانٍ قَلِيلِ الْحِجَارَةِ، فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ جَزِعَ، قَالَ: فَخَرَجَ يَشْتَدُّ حَتَّى أَتَى الْحَرَّةَ، فَثَبَتَ لَهُمْ، قَالَ: فَرَجَمُوهُ بِجَلَامِيدِهَا حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاعِزٌ حِينَ أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ جَزِعَ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ؟ ! قَالَ: فَاخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَمْرِهِ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ: هَلَكَ مَاعِزٌ، وَأَهْلَكَ نَفْسَهُ. وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: بَلْ تَابَ إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ لَقُبلَ مِنْهُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا نَصْنَعُ؟ قَالَ: «اصْنَعُوا مَا تَصْنَعُونَ بِمَوْتَاكُمْ مِنَ الْغُسْلِ وَالْكَفَنِ وَالْحَنُوطِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالدَّفْنِ» . وَقَدْ رُوِيَ الْحَدِيثُ بِرِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ بھائی سے پیچھے رہ جانے والے سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا ہے اس لیے اس پر حد جاری کر دیجیے‘ نبی علیہ السلام نے انہیں لوٹا دیا‘ چار مرتبہ اسی طرح ہوا‘ چوتھی مرتبہ نبی علیہ السلام نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا کہ تم اس کی عقل میں کچھ کمی محسوس کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں! فرمایا: پھر اسے لے جا کر رجم کر دو۔ چنانچہ انہیں لے جایا گیا اور لوگوں نے انہیں پتھر مارنا شروع کیے‘ لیکن جب اس طرح ان کی روح نکلنے میں تاخیر ہونے لگی تو وہ ایسی جگہ بھاگ گئے‘ جہاں پتھر بہت زیادہ تھے اور وہاں جا کر کھڑے ہو گئے اور مسلمانوں نے آ کر انہیں اتنے پتھر مارے کہ وہ شہید ہو گئے‘ نبی علیہ السلام تک یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ تم نے اس کا راستہ کیوں نہ چھوڑ دیا؟ اس پر لوگ آپس میں اختلاف کرنے لگے‘ کسی نے کہا کہ ماعز نے اپنے آپ کو خود ہلاک کر لیا‘ اور کسی نے کہا کہ مجھے امید ہے یہ اس کی توبہ ہی ہو گی جب نبی علیہ السلام تک یہ باتیں پہنچیں تو فرمایا کہ اس اکیلے نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر لوگوں کی بہت بڑی جماعتیں ایسی توبہ کر لیں تو وہ ان کی طرف سے بھی قبول ہو جائے‘ لوگوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو نہیں ماعز پر رشک آیا۔ چنانچہ لوگوں نے آ کر پوچھا کہ ان کی نعش کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ فرمایا: جو عام مردوں کے ساتھ کرتے ہو‘ وہی اس کے ساتھ بھی کرو۔ یعنی کفن بھی دو‘ نماز جنازہ بھی پڑھو اور دن بھی کرو‘ چنا نچہ لوگوں نے انہیں لے جا کر ان کی نماز جنازہ پڑھی۔
أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ
Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Boundaries Book › Door · Hadith 313
