Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 169

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ

حریث بن ظہیر بیان کرتے ہیں میرا یہ خیال ہے کہ حضرت عبداللہ نے یہ بات بیان کی تھی۔ ہمارے سامنے ایک ایسا وقت آگیا ہے جہاں ہم میں سے کوئی سوال نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ہماری یہ حیثیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات تقدیر میں طے کی تھی کہ میں بھی وہاں تک پہنچوں جو تم دیکھ رہے ہو جب تم لوگوں سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے تو تم اللہ کی کتاب میں اسے تلاش کرو۔ اگر اسے اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ تو اللہ کے رسول کی سنت میں تلاش کرو۔ اگر اس مسئلے کو اللہ کے رسول کی سنت میں بھی نہ پاؤ تو جس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہو (اس کے مطابق حکم بیان کرو) اور اگر وہ ایسا مسئلہ ہو جس کے بارے میں مسلمانوں کا اتفاق نہ ہو تو تم اپنی رائے کے ذریعے اجتہاد کرو لیکن یہ نہ کہنا کہ مجھے یہ اندیشہ ہے اور میں اس بات سے خوفزدہ ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں اس لئے تم اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں مبتلا کرے اور اسے اختیار کرو جس کے بارے میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← سُلَیْمَانَ ← أَبِي عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 169

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 170

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ

عَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 170

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 171

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ سَتُحْدِثُونَ وَيُحْدَثُ لَكُمْ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مُحْدَثَةً فَعَلَيْكُمْ بِالْأَمْرِ الْأَوَّلِ قَالَ حَفْصٌ كُنْتُ أُسْنِدُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ دَخَلَنِي مِنْهُ شَكٌّ

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ دَخَلَنِي مِنْهُ شَكٌّ ← حَبِيبٍ ← حَفْصٌ كُنْتُ أُسْنِدُ ← لَكُمْ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مُحْدَثَةً فَعَلَيْكُمْ بِالْأَمْرِ الْأَوَّلِ ← عَبْدُ اللَّهِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ سَتُحْدِثُونَ ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 171

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 172

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِأَبِي مَسْعُودٍ أَلَمْ أُنْبَأْ أَوْ أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تُفْتِي وَلَسْتَ بِأَمِيرٍ وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا

اعمش بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں۔ اے لوگو! عنقریب تم نئی باتیں پیدا کرو گے اور تمہارے سامنے نئی باتیں پیدا ہوں گی۔ جب تم کسی نئی بات کو دیکھو تو پہلے حکم کو اپنے اوپر لازم رکھو۔ حفص نامی راوی یہ بات بیان کرتے ہیں پہلے میں اس روایت کی سند حبیب کے حوالے سے ابوعبدالرحمن کے حوالے سے نقل کرتا تھا لیکن پھر مجھے اس بارے میں شک ہوگیا۔

مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 172

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 173

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ الَّذِي يُفْتِي النَّاسَ فِي كُلِّ مَا يُسْتَفْتَى لَمَجْنُونٌ

محمد (نامی راوی) بیان کرتے ہیں۔ حضرت عمر نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ فتوی دیتے ہیں حالانکہ آپ امیر نہیں ہیں اس(بھاری ذمہ داری) کی شدت بھی اسی شخص کے حوالے کرو جو اس کے فائدے کا نگران ہو۔

إِنَّ الَّذِي يُفْتِي النَّاسَ فِي كُلِّ مَا يُسْتَفْتَى لَمَجْنُونٌ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 173

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 174

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ إِنَّمَا يُفْتِي النَّاسَ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ إِمَامٌ أَوْ وَالٍ وَرَجُلٌ يَعْلَمُ نَاسِخَ الْقُرْآنِ مِنْ الْمَنْسُوخِ قَالُوا يَا حُذَيْفَةُ وَمَنْ ذَاكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوْ أَحْمَقُ مُتَكَلِّفٌ

حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں جو شخص لوگوں کو ہر معاملے میں فتوی دے دیتا ہے وہ دیوانہ ہوتا ہے۔

حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 174

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 175

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ إِنَّمَا يُفْتِي النَّاسَ أَحَدُ ثَلَاثَةٍ رَجُلٌ عَلِمَ نَاسِخَ الْقُرْآنِ مِنْ مَنْسُوخِهِ قَالُوا وَمَنْ ذَاكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ وَأَمِيرٌ لَا يَجِدُ بُدًّا أَوْ أَحْمَقُ مُتَكَلِّفٌ ثُمَّ قَالَ مُحَمَّدٌ فَلَسْتُ بِوَاحِدٍ مِنْ هَذَيْنِ وَأَرْجُو أَنْ لَا أَكُونَ الثَّالِثَ

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں تین طرح کے لوگ دوسروں کو فتوی دے سکتے ہیں۔ ایک وہ شخص جو حکمران یا ولی ہو۔ دوسرا وہ شخص جو قرآن کے ناسخ اور منسوخ کا علم رکھتا ہو۔ لوگوں نے دریافت کیا اے حذیفہ یہ کون شخص ہے (جسے قرآن کے ناسخ اور منسوخ کا علم ہو) تو انہوں نے جواب دیا : حضرت عمر بن خطاب (حضرت حذیفہ فرماتے ہیں تیسرا وہ شخص ہے) جو بیوقوف ہو اور اپنی طرف سے ایجاد کرکے گڑھ کر جواب دے۔

مُحَمَّدٌ فَلَسْتُ بِوَاحِدٍ مِنْ هَذَيْنِ وَأَرْجُو أَنْ لَا أَكُونَ الثَّالِثَ ← وَأَمِيرٌ لَا يَجِدُ بُدًّا أَوْ أَحْمَقُ مُتَكَلِّفٌ ثُمَّ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← وَمَنْ ذَاكَ ← حُذَيْفَةُ إِنَّمَا يُفْتِي النَّاسَ أَحَدُ ثَلَاثَةٍ رَجُلٌ عَلِمَ نَاسِخَ الْقُرْآنِ مِنْ مَنْسُوخِهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 175

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 176

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ الْعَالِمَ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں۔ تین میں سے ایک قسم کا شخص لوگوں کو فتوی دے سکتا ہے۔ ایک وہ شخص جسے قرآن کے ناسخ اور منسوخ کا علم ہو۔ لوگوں نے دریافت کیا وہ کون شخص ہے حضرت حذیفہ نے جواب دیا وہ حضرت عمر بن خطاب ہیں۔ حضرت حذیفہ نے مزید بتایا یا دوسرا وہ امیر جس کی ذمہ داری ہی فتوی دینا ہو اور تیسرا وہ بیوقوف شخص جو اپنی طرف سے فتوی دے ۔ یہ روایت نقل کرنے کے بعد محمد نامی راوی نے یہ کہا میں پہلی دو قسموں سے تو تعلق رکھتا اور مجھے یہ امید ہے کہ میں تیسری قسم میں بھی شامل نہیں ہوں گا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 176

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 177

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ فِي خُطْبَتِهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيُعَلِّمْهُ النَّاسَ وَإِيَّاهُ أَنْ يَقُولَ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَيَمْرُقَ مِنْ الدِّينِ وَيَكُونَ مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں تم میں سے جس شخص کو جس چیز کا علم ہو اسے اس کے بارے میں بتا دینا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔ چونکہ جب کسی عالم سے کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے جس کا علم نہ ہو اور وہ یہ کہ دے اللہ بہتر جانتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ تم فرمادو میں اس بات پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگ رہا اور نہ ہی میں اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات بیان کرتا ہوں۔

مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَيَمْرُقَ مِنْ الدِّينِ وَيَكُونَ مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ ← فِي خُطْبَتِهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيُعَلِّمْهُ النَّاسَ وَإِيَّاهُ أَنْ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ أَبَا مُوسَى ← أَبِي رَجَاءٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 177

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 178

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ وَزَاذَانَ قَالَا قَالَ عَلِيٌّ وَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ إِذَا سُئِلْتُ عَمَّا لَا أَعْلَمُ أَنْ أَقُولَ اللَّهُ أَعْلَمُ

ابومہلب بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی نے اپنے خطبے میں یہ بات بیان کی جو شخص کسی بات کا علم رکھتا ہو وہ اس کی تعلیم لوگوں کو دے اور کوئی ایسی بات بیان کرنے سے بچے جس کا علم نہ ہو ورنہ دین سے نکل کر ان لوگوں کو صف میں شامل ہوجائے جو اپنی طرف سے بات بنا کر بیان کرتے ہیں۔

أَبِي الْبَخْتَرِيِّ وَزَاذَانَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 178

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 179

152. أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ يَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ

ابوبختری اور زاذان بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ہے کلیجے کے لئے سب سے زیادہ ٹھنڈی بات یہ ہے کہ جب مجھ سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے جس کا مجھے علم نہ ہو تو میں جواب میں یہ کہہ دوں کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔

يَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ ← عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 179

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 180

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عُمَيْرُ بْنُ عَرْفَجَةَ حَدَّثَنَا رَزِينٌ أَبُو النُّعْمَانِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ إِذَا سُئِلْتُمْ عَمَّا لَا تَعْلَمُونَ فَاهْرُبُوا قَالُوا وَكَيْفَ الْهَرَبُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ تَقُولُونَ اللَّهُ أَعْلَمُ

ابوبختری حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں یہ بات کلیجے کے لئے کتنی ٹھنڈک کا باعث ہے کہ جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے بارے میں یہ کہہ دو اللہ بہتر جانتا ہے ۔

تَقُولُونَ اللَّهُ أَعْلَمُ ← وَكَيْفَ الْهَرَبُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ← إِذَا سُئِلْتُمْ عَمَّا لَا تَعْلَمُونَ فَاهْرُبُوا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رَزِينٌ أَبُو النُّعْمَانِ ← عُمَيْرُ بْنُ عَرْفَجَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 180

chevron_left Previous
1…141516…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door