Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 1

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُؤَاخَذُ الرَّجُلُ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا كَانَ عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے دریافت کیا یا رسول اللہ! آدمی نے زمانہ جہالت میں جو عمل کیا ہو کیا اس پر مواخذہ ہوگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام لانے کے بعد اچھے کام کرے اس سے ان اعمال پر مواخذہ نہیں ہوگا جو اس نے زمانہ جاہلیت میں کئے تھے۔ اور جو شخص اسلام لانے کے بعد بھی برے عمل کرے اس سے پہلے اور بعد والے تمام اعمال کا مواخذہ ہوگا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 2

أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ النَّضْرِ الرَّمْلِيُّ عَنْ مَسَرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ أَبِي الْحَرَامِ مِنْ لَخْمٍ عَنْ الْوَضِينِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعِبَادَةِ أَوْثَانٍ فَكُنَّا نَقْتُلُ الْأَوْلَادَ وَكَانَتْ عِنْدِي ابْنَةٌ لِي فَلَمَّا أَجَابَتْ وَكَانَتْ مَسْرُورَةً بِدُعَائِي إِذَا دَعَوْتُهَا فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَاتَّبَعَتْنِي فَمَرَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُ بِئْرًا مِنْ أَهْلِي غَيْرَ بَعِيدٍ فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَرَدَّيْتُ بِهَا فِي الْبِئْرِ وَكَانَ آخِرَ عَهْدِي بِهَا أَنْ تَقُولَ يَا أَبَتَاهُ يَا أَبَتَاهُ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَكَفَ دَمْعُ عَيْنَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْزَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ كُفَّ فَإِنَّهُ يَسْأَلُ عَمَّا أَهَمَّهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَعِدْ عَلَيَّ حَدِيثَكَ فَأَعَادَهُ فَبَكَى حَتَّى وَكَفَ الدَّمْعُ مِنْ عَيْنَيْهِ عَلَى لِحْيَتِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَضَعَ عَنْ الْجَاهِلِيَّةِ مَا عَمِلُوا فَاسْتَأْنِفْ عَمَلَكَ

حضرت وضین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ہم جاہلیت میں مبتلا لوگوں اور بتوں کے پجاری تھے۔ ہم اپنی اولاد کو قتل کر دیا کرتے تھے۔ میری ایک بیٹی تھی جب وہ کچھ بڑی ہوئی توجب بھی میں اسے بلاتا تو وہ میرے بلانے پر خوش ہوتی تھی۔ ایک دن میں نے اسے بلایا وہ میرے پیچھے آئی میں چلتا ہوا اپنے گھر کے کنویں کے پاس آگیا جو زیادہ دور نہیں تھا۔ میں نے اس بچی کا ہاتھ پکڑا اور اسے کنویں میں پھینک دیا اس نے مجھ سے آخری بات یہ کہی اے اباجان اے اباجان (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے یہاں تک کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری ہوگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے حضرات میں سے ایک صاحب نے اس شخص سے کہا تم نے اللہ کے رسول کو غمگین کردیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب سے کہا رہنے دیں۔ اس نے وہ بات دریافت کی ہے جسے اہم سمجھا ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے کہا اپنی بات میرے سامنے دوبارہ بیان کرو۔ اس شخص نے دوبارہ بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے ۔ یہاں تک کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسوجاری ہو کر آپ کی داڑھی مبارک پر گرنے لگے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا لوگوں نے زمانہ جاہلیت میں جو کام کئے تھے اللہ نے انہیں درگزر کردیا ہے ۔ اب تم نئے سرے سے عمل کا آغاز کرو۔

الْوَضِينِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ ← مَسَرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ أَبِي الْحَرَامِ مِنْ لَخْمٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ النَّضْرِ الرَّمْلِيُّ

Hadith 2

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 3

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُؤَدِّبِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَوْلَايَ أَنَّ أَهْلَهُ بَعَثُوا مَعَهُ بِقَدَحٍ فِيهِ زُبْدٌ وَلَبَنٌ إِلَى آلِهَتِهِمْ قَالَ فَمَنَعَنِي أَنْ آكُلَ الزُّبْدَ لِمَخَافَتِهَا قَالَ فَجَاءَ كَلْبٌ فَأَكَلَ الزُّبْدَ وَشَرِبَ اللَّبَنَ ثُمَّ بَالَ عَلَى الصَّنَمِ وَهُوَ إِسَافٌ وَنَائِلَةُ قَالَ هَارُونُ كَانَ الرَّجُلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا سَافَرَ حَمَلَ مَعَهُ أَرْبَعَةَ أَحْجَارٍ ثَلَاثَةً لِقِدْرِهِ وَالرَّابِعَ يَعْبُدُهُ وَيُرَبِّي كَلْبَهُ وَيَقْتُلُ وَلَدَهُ

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے غلام نے بتایا کہ اس کے گھر والوں نے اسے ایک پیالہ دے کر اپنے باطل معبودوں کے پاس بھیجا اس پیالے میں مکھن اور دودھ تھا۔ وہ غلام کہتا ہے ان معبودوں کے خوف کی وجہ سے میں نے وہ مکھن نہیں کھایا وہ مزید بیان کرتا ہے اسی دوران ایک کتا وہاں آیا اور اس نے وہ مکھن کھالیا اور دودھ پی لیا اور پھر اس بت کے اوپر پیشاب بھی کردیا۔ (راوی کہتے ہیں) وہ بت" اساف" اور" نائلہ " تھے۔ہارون (نامی راوی) بیان کرتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص سفر پر روانہ ہوتا تو وہ اپنے ساتھ چار پتھر لے کر جاتا تھا جن میں سے تین پتھر چولہے کے طور پر استعمال کرنے کے لئے ہوتے تھے۔ اور چوتھے کی وہ عبادت کرتا تھا ۔ (زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والاشخص) اپنے کتے کی پرورش کرتا تھا اور اپنی اولاد یعنی بیٹیوں کودفن کردیتا تھا ۔

مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُؤَدِّبِ, ← هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ

Hadith 3

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 4

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا رَيْحَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ السَّامِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا أَصَبْنَا حَجَرًا حَسَنًا عَبَدْنَاهُ وَإِنْ لَمْ نُصِبْ حَجَرًا جَمَعْنَا كُثْبَةً مِنْ رَمْلٍ ثُمَّ جِئْنَا بِالنَّاقَةِ الصَّفِيِّ فَتَفَاجُّ عَلَيْهَا فَنَحْلُبُهَا عَلَى الْكُثْبَةِ حَتَّى نَرْوِيَهَا ثُمَّ نَعْبُدُ تِلْكَ الْكُثْبَةَ مَا أَقَمْنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الصَّفِيُّ الْكَثِيرَةُ الْأَلْبَانِ

ابورجاء رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ہمارا یہ حال تھا کہ جب ہم کسی خوبصورت پتھر کے پاس پہنچتے تو ہم اس کی عبادت کرنے لگتے تھے اور اگر ہمیں کوئی پتھر نہ ملتا تو ہم ریت کا ایک ٹیلہ بنالیتے اور پھر زیادہ دودھ دینے والی ایک اونٹنی کو لا کر اس ٹیلے پر کھڑا کرتے۔ ہم اس اونٹنی کا دودھ اس ٹیلے پر دوھ لیتے اور پھر اسے سیراب کرتے پھر جب تک ہم اس مقام پر رہتے اس کی عبادت کرتے۔ امام ابو محمد دارمی فرماتے ہیں (اس روایت میں استعمال ہونے والا لفظ(صفی کا مطلب ہے بہت زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی (جبکہ اس روایت میں استعمال ہونے والالفظ) فتفاج کا مطلب ہے جب کوئی اونٹنی اپنی دونوں ٹانگیں دودھ دوہنے کے لئے پھیلادے اور فج کھلے راستے کو کہتے ہیں اور اس کی جمع فجاج استعمال ہوتی ہے۔

أَبِي رَجَاءٍ، ← عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ مَنْصُورٍ ← رَيْحَانُ, هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ السَّامِيُّ, ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى

Hadith 4

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 5

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ قَالَ كَعْبٌ نَجِدُهُ مَكْتُوبًا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَظٌّ وَلَا غَلِيظٌ وَلَا صَخَّابٌ بِالْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يُكَبِّرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ نَجْدٍ وَيَحْمَدُونَهُ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ وَيَتَأَزَّرُونَ عَلَى أَنْصَافِهِمْ وَيَتَوَضَّئُونَ عَلَى أَطْرَافِهِمْ مُنَادِيهِمْ يُنَادِي فِي جَوِّ السَّمَاءِ صَفُّهُمْ فِي الْقِتَالِ وَصَفُّهُمْ فِي الصَّلَاةِ سَوَاءٌ لَهُمْ بِاللَّيْلِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ وَمَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَمُهَاجِرُهُ بِطَابَةَ وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ

حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے (اپنی آسمانی کتاب تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ) ان الفاظ میں پایا۔ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ وہ سخت مزاج اور سخت دل نہیں ہیں۔ بازاروں میں چیخ کے بولنے والے نہیں ہیں۔ برائی کا بدلہ برائی کے ذریعے نہیں دیتے بلکہ معاف کردیتے ہیں بخش دیتے ہیں۔ ان کی امت اللہ تعالیٰ کی بکثرت حمد کرنے والی ہوگی اور اللہ کی کبریائی کا تذکرہ ہر مقام پر کرنے والی ہوگی ۔ وہ لوگ اللہ کی حمد ہر جگہ بیان کریں گے ان کے تہبند نصف پنڈلی تک ہوں گے وہ اپنے مخصوص اعضاء کو وضو کے دوران دھوئیں گے۔ ان کا مؤذن کھلی فضا میں اذان دیا کرے گا۔ جنگ کے دوران ان کی صفیں اور نماز کے دوران ان کی صفیں ایک جیسی ہوں گی۔ وہ لوگ رات کے وقت شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح اللہ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کریں گے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش مکہ میں ہوگی وہ ہجرت کرکے طیبہ جائیں گے اور ان کی بادشاہی شام میں ہوگی۔

اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ

Hadith 5

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 6

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّا لَنَجِدُ صِفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُهُ الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا صَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَتَجَاوَزُ وَلَنْ أَقْبِضَهُ حَتَّى نُقِيمَ الْمِلَّةَ الْمُتَعَوِّجَةَ بِأَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْتَحُ بِهِ أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ كَعْبًا يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ سَلَامٍ

حضرت ابن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے اپنی آسمانی کتاب تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ان الفاظ میں پایا ہے۔ بے شک ہم نے تمہیں گواہ خوشخبری دینے والا،ڈرانے والا پناہ گاہ بنا کر بھیجا ہے اس قوم کے لئے جوان پڑھ ہے (اے محمد) تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے اس یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام متوکل رکھا ہے وہ سخت دل اور سخت مزاج نہیں ہوگا اور نہ ہی بازار میں اونچی آواز سے چیخے گا اور برائی کا بدلہ برائی کی صورت میں نہیں دے گا بلکہ معاف کرے گا اور درگزر کرے گا اور میں اس وقت تک اس کی روح قبض نہیں کروں گا جب تک وہ بگڑی ہوئی قوم یعنی کفر میں مبتلا قوم کو یہ اعتراف نہ کروا دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ہم اس کے ذریعے اندھی آنکھوں بہرے کانوں اور پردے میں چھپے ہوئے دلوں کو کشادگی عطا کریں گے۔ عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابو واقد لیثی نے یہ بات بتائی کہ انہوں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو بھی یہی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے جو حضرت ابن سلام رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے۔

ابْنُ سَلَّامٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ ← سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدٍ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 6

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 7

أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ كَعْبٍ فِي السَّطْرِ الْأَوَّلِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ عَبْدِي الْمُخْتَارُ لَا فَظٌّ وَلَا غَلِيظٌ وَلَا صَخَّابٌ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَهِجْرَتُهُ بِطَيْبَةَ وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ وَفِي السَّطْرِ الثَّانِي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ وَيُكَبِّرُونَ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ رُعَاةُ الشَّمْسِ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ إِذَا جَاءَ وَقْتُهَا وَلَوْ كَانُوا عَلَى رَأْسِ كُنَاسَةٍ وَيَأْتَزِرُونَ عَلَى أَوْسَاطِهِمْ وَيُوَضِّئُونَ أَطْرَافَهُمْ وَأَصْوَاتُهُمْ بِاللَّيْلِ فِي جَوِّ السَّمَاءِ كَأَصْوَاتِ النَّحْلِ

حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں(تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں ) پہلی لائن میں یہ تحریر ہے " محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میرے اختیار کردہ بندے ہیں وہ سخت مزاج نہیں اور سخت دل نہیں ہیں اور بازار میں بلند آواز سے چیخنے والے نہیں ہیں وہ برائی کا بدلہ برائی کے ذریعے نہیں دے گا بلکہ معاف کردے گا بخش دے گا اس کی جائے پیدائش مکہ ہوگی اور وہ ہجرت کرکے طیبہ آئے گا اور اس کی بادشاہی شام میں ہوگی۔ دوسری سطر میں یہ تحریر " محمد اللہ کے رسول ہیں ان کی امت بکثرت اللہ کی حمد کرنے والی ہے وہ تنگی اور خوشحالی ہر حال میں اللہ کی حمد بیان کریں گے۔ جب نماز کا وقت آجائے گا تو نماز ضرور ادا کریں گے اگرچہ وہ کسی کناسہ پر ہوں ان کے تہبند نصف پندلی تک ہوںگے وہ اپنے مخصوص اعضاء پر وضو کریں گے رات کے وقت کھلی فضا میں ان کی آواز یوں ہوگی جیسے کسی شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے۔

ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ

Hadith 7

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 8

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَأَلَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ كَيْفَ تَجِدُ نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ كَعْبٌ نَجِدُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُولَدُ بِمَكَّةَ وَيُهَاجِرُ إِلَى طَابَةَ وَيَكُونُ مُلْكُهُ بِالشَّامِ وَلَيْسَ بِفَحَّاشٍ وَلَا صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يُكَافِئُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ أُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ سَرَّاءَ وَضَرَّاءَ وَيُكَبِّرُونَ اللَّهَ عَلَى كُلِّ نَجْدٍ يُوَضِّئُونَ أَطْرَافَهُمْ وَيَأْتَزِرُونَ فِي أَوْسَاطِهِمْ يُصَفُّونَ فِي صَلَوَاتِهِمْ كَمَا يُصَفُّونَ فِي قِتَالِهِمْ دَوِيُّهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ كَدَوِيِّ النَّحْلِ يُسْمَعُ مُنَادِيهِمْ فِي جَوِّ السَّمَاءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت کعب سے دریافت کیا آپ حضرات نے تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کن الفاظ میں پایا ہے؟ تو حضرت کعب نے جواب دیا ہم نے ان الفاظ میں پایا ہے محمد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مکہ میں پیدا ہوں گے وہ ہجرت کر کے طابہ میں جائیں گے ان کی حکومت شام میں بھی ہوگی وہ فحش گفتگو کرنے والے نہیں ہوںگے اور بازار میں چیخ کر نہیں بولیں گے برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیں گے بلکہ معاف کر دیں گے بخش دیں گے۔ ان کی امت بکثرت حمد بیان کرنے والی ہوگی۔ وہ ہر پریشانی کے عالم میں بھی اللہ کی حمد بیان کریں گے اور ہر مقام پر اللہ کی کبریائی کا تذکرہ کریں گے وہ اپنے مخصوص اعضاء پر وضو کریں گے وہ اپنی نصف پنڈلی تک تہبند باندھیں گے۔ نماز میں ان کی صف اسی طرح ہوگی جیسے جنگ کے دوران ان کی صف ہوگی۔ ان کی مساجد میں ان کی آواز شہد کی مکھی کی آواز جیسی ان کے اذان دینے والے کی آواز کھلی فضا میں سنی جاسکے گی۔

أَبِي فَرْوَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← مَعْن بن عيسی ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى

Hadith 8

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 9

أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمِيثَمِيُّ حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ إِلَيْكُمْ لَيْسَ بِوَهِنٍ وَلَا كَسِلٍ لِيَخْتِنَ قُلُوبًا غُلْفًا وَيَفْتَحَ أَعْيُنًا عُمْيًا وَيُسْمِعَ آذَانًا صُمًّا وَيُقِيمَ أَلْسِنَةً عُوجًا حَتَّى يُقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ

حضرت جبیر بن نفیر حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو سست اور کاہل نہیں ہے اس کی آمد کا مقصد یہ ہے کہ وہ غفلت میں مبتلا دلوں کو زندہ کردے۔ نابینا آنکھوں کی بینائی کو کشادہ کردے اور بہرے کانوں کو پیغام حق سنادے۔ وہ کفر پر قائم ملت کو درست کردے۔ یہاں تک کہ یہ اعتراف کرلیا جائے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے۔

جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمِيثَمِيُّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ

Hadith 9

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 10

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْحِزَامِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةٌ فَمَشَى مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ قَالَ فَإِحْدَى رِجْلَيْهِ فِي الْبَيْتِ وَالْأُخْرَى خَارِجَهُ كَأَنَّهُ يُنَاجِي فَالْتَفَتَ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنْ كُنْتُ أُكَلِّمُ إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ أَرَهُ قَطُّ قَبْلَ يَوْمِي هَذَا اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ قَالَ إِنَّا آتَيْنَاكَ أَوْ أَنْزَلْنَا الْقُرْآنَ فَصْلًا وَالسَّكِينَةَ صَبْرًا وَالْفُرْقَانَ وَصْلًا

حضرت عامر بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک صحابی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کام تھا صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے ان کے گھر تک تشریف لے گئے وہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پاؤں گھر کے اندر تھا اور ایک پاؤں گھر کے باہر تھا اور یوں محسوس ہواجیسے آپ کسی سے خفیہ طور پر بات کر رہے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تمہیں پتہ ہے میں کس سے بات کر رہا تھا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جسے میں نے آج سے پہلے نہیں دیکھا اس نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مجھے سلام کرے (سلام کرنے کے بعد اس نے اللہ کا یہ پیغام مجھے پہنچایا ہے) ہم نے تمہیں قرآن دیا (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) ہم نے تم پر قرآن نازل کیا جو (حق وباطل) کے درمیان علیحدگی کرنے والا ہے اور سکینت نازل کی جوصبر دیتی ہے اور فرقان نازل کیا جو ملا دیتا ہے ۔

كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةٌ فَمَشَى مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْحِزَامِيُّ

Hadith 10

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 11

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا رَيْحَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَطِيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيَّ يَقُولُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ لِتَنَمْ عَيْنُكَ وَلْتَسْمَعْ أُذُنُكَ وَلْيَعْقِلْ قَلْبُكَ قَالَ فَنَامَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ وَعَقَلَ قَلْبِي قَالَ فَقِيلَ لِي سَيِّدٌ بَنَى دَارًا فَصَنَعَ مَأْدُبَةً وَأَرْسَلَ دَاعِيًا فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنْ الْمَأْدُبَةِ وَرَضِيَ عَنْهُ السَّيِّدُ وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلْ الدَّارَ وَلَمْ يَطْعَمْ مِنْ الْمَأْدُبَةِ وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ قَالَ فَاللَّهُ السَّيِّدُ وَمُحَمَّدٌ الدَّاعِي وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ وَالْمَأْدُبَةُ الْجَنَّةُ

حضرت عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت ربیعہ جرشی کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی فرشتہ آیا اور آپ سے یہ کہا گیا کہ آپ کی آنکھ تو سوتی ہے لیکن آپ کے کان سنتے رہیں گے اور آپ کا دل سمجھتا رہے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری آنکھیں سوجاتی ہیں لیکن میرے کان سنتے رہتے ہیں اور دل سمجھ لیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک سردار نے گھر بنایا اس میں دسترخوان سجایا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا تو جو شخص اس دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرلے گا وہ اس گھر میں آئے گا اور اس دستر خوان سے کھائے گا۔ وہ سردار اس سے راضی ہوگا اور جو شخص اس دعوت دینے والے کی بات نہیں مانے گا وہ اس گھر میں داخل نہیں ہوگا اور اس دسترخوان سے نہیں کھائے گا اور وہ سردار اس سے ناراض ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں وہ سردار اللہ تعالیٰ ہیں وہ دعوت دینے والا شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے وہ گھر اسلام ہے اور وہ دسترخوان جنت ہے۔

عَطِيَّةَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ مَنْصُورٍ ← رَيْحَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى

Hadith 11

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 12

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ التَّمِيمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَطْحَاءِ وَمَعَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ فَأَقْعَدَهُ وَخَطَّ عَلَيْهِ خَطًّا ثُمَّ قَالَ لَا تَبْرَحَنَّ فَإِنَّهُ سَيَنْتَهِي إِلَيْكَ رِجَالٌ فَلَا تُكَلِّمْهُمْ فَإِنَّهُمْ لَنْ يُكَلِّمُوكَ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَرَادَ ثُمَّ جَعَلُوا يَنْتَهُونَ إِلَى الْخَطِّ لَا يُجَاوِزُونَهُ ثُمَّ يَصْدُرُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ جَاءَ إِلَيَّ فَتَوَسَّدَ فَخِذِي وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فِي النَّوْمِ نَفْخًا فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَسِّدٌ فَخِذِي رَاقِدٌ إِذْ أَتَانِي رِجَالٌ كَأَنَّهُمْ الْجِمَالُ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ اللَّهُ أَعْلَمُ مَا بِهِمْ مِنْ الْجَمَالِ حَتَّى قَعَدَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رَأْسِهِ وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رِجْلَيْهِ فَقَالُوا بَيْنَهُمْ مَا رَأَيْنَا عَبْدًا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَنَامَانِ وَإِنَّ قَلْبَهُ لَيَقْظَانُ اضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا سَيِّدٌ بَنَى قَصْرًا ثُمَّ جَعَلَ مَأْدُبَةً فَدَعَا النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ ثُمَّ ارْتَفَعُوا وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لِي أَتَدْرِي مَنْ هَؤُلَاءِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هُمْ الْمَلَائِكَةُ قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَا الْمَثَلُ الَّذِي ضَرَبُوهُ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ الرَّحْمَنُ بَنَى الْجَنَّةَ فَدَعَا إِلَيْهَا عِبَادَهُ فَمَنْ أَجَابَهُ دَخَلَ جَنَّتَهُ وَمَنْ لَمْ يُجِبْهُ عَاقَبَهُ وَعَذَّبَهُ

حضرت ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھلے میدان کی طرف تشریف لے گئے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بٹھایا اور ان کے اردگرد ایک لائن کھینچ کر ارشاد فرمایا تم نے یہاں سے باہر نہیں آنا تمہارے پاس کچھ لوگ آئیں گے تم نے ان سے بات نہیں کرنی وہ بھی تمہارے ساتھ بات نہیں کریں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جانا چاہتے تھے وہاں تشریف لے گئے پھر کچھ لوگ اس لکیر کے پاس آنے لگے لیکن اندر نہیں آتے تھے پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے جب رات کا آخری حصہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے آپ نے میرے زانو کا تکیہ بنایاجب آپ سوتے تھے تو خراٹے لیا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے زانو پر سو رہے تھے اسی دوران میرے پاس کچھ لوگ آئے جن کے قد اونٹ جتنے اونچے تھے انہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے اللہ بہتر جانتا ہے کہ ایسی خوبصورتی اور کسی میں نہیں ہوگی ان میں سے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کی طرف بیٹھ گئے اور کچھ لوگ پاؤں کی طرف بیٹھ گئے وہ یہ بات کرنے لگے کہ اس نبی کو جو فضیلت عطا کی گئی ہے ہمارے خیال میں وہ اور کسی کو عطا نہیں کی گئی ان کی دونوں آنکھیں سوجاتی ہیں لیکن ان کا دل بیدار رہتا ہے ان کے لئے یہ مثال دی جاسکتی ہے کہ ایک سردار نے ایک محل بنایا پھر دستر خوان بچھا کر (دعوت عام) اس کھانے اور مشروبات کی طرف بلایا (حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ) پھر وہ لوگ چلے گئے اسی وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون لوگ تھے میں نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ فرشتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا تم جانتے ہو کہ انہوں نے جو مثال دی اس کا مطلب کیا ہے میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رحمن نے جنت بنائی اس کی طرف اپنے بندوں کو دعوت دی جو اس دعوت کو قبول کرلے گا وہ اس کی جنت میں داخل ہوجائے گا جو قبول نہیں کرے گا اللہ اس سے ناراض ہوگا اور اسے عذاب کا شکار کرے گا۔

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ التَّمِيمِيِّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ

Hadith 12

chevron_left Previous
1234…56
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door