Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 157

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَحْدَثَ رَأْيًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ تَمْضِ بِهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْرِ عَلَى مَا هُوَ مِنْهُ إِذَا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت عبیداللہ بن ابوجعفر روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں فتوی دینے کے مقابلے میں سب سے زیادہ جرات وہ شخص کرے گا جوجہنم کے بارے میں سب سے زیادہ جرات مند ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 157

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 158

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أُفْتِيَ بِفُتْيَا مِنْ غَيْرِ ثَبْتٍ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جو شخص اپنی ایسی رائے ایجاد کرتے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی موجود ہو اور اسے یہ پتہ نہیں ہے کہ جب وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو اس کا کیا حال ہوگا۔

مَنْ أُفْتِيَ بِفُتْيَا مِنْ غَيْرِ ثَبْتٍ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 158

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 159

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا يُعَمَّى عَلَيْهَا فَإِثْمُهَا عَلَيْهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص کسی دلیل کے بغیر فتوی دے اس کا گناہ فتوی دینے والے کے سر ہوگا۔

مَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا يُعَمَّى عَلَيْهَا فَإِثْمُهَا عَلَيْهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي سِنَانٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 159

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 160

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ قَالَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا وَرَدَ عَلَيْهِ الْخَصْمُ نَظَرَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ وَجَدَ فِيهِ مَا يَقْضِي بَيْنَهُمْ قَضَى بِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْكِتَابِ وَعَلِمَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْأَمْرِ سُنَّةً قَضَى بِهِ فَإِنْ أَعْيَاهُ خَرَجَ فَسَأَلَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَتَانِي كَذَا وَكَذَا فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي ذَلِكَ بِقَضَاءٍ فَرُبَّمَا اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّفَرُ كُلُّهُمْ يَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ قَضَاءً فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِينَا مَنْ يَحْفَظُ عَلَى نَبِيِّنَا فَإِنْ أَعْيَاهُ أَنْ يَجِدَ فِيهِ سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ رُءُوسَ النَّاسِ وَخِيَارَهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَإِنْ أَجْمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَمْرٍ قَضَى بِهِ

ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جو شخص کوئی ایسا فتوی دے جس سے وہ آگاہ نہیں ہے تو اس کا گناہ اس کے سر ہوگا۔

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← زُهَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 160

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 161

. أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ قَالَ كَانَ عَلَى امْرَأَتِي اعْتِكَافُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَسَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعِنْدَهُ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ قُلْتُ عَلَيْهَا صِيَامٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا يَكُونُ اعْتِكَافٌ إِلَّا بِصِيَامٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَعَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قَالَ فَعَنْ أَبِي بَكْرٍ قَالَ لَا قَالَ فَعَنْ عُمَرَ قَالَ لَا قَالَ فَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ لَا قَالَ عُمَرُ مَا أَرَى عَلَيْهَا صِيَامًا فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُ طَاوُسًا وَعَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ فَسَأَلْتُهُمَا فَقَالَ طَاوُسٌ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى عَلَيْهَا صِيَامًا إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ عَلَى نَفْسِهَا قَالَ وَقَالَ عَطَاءٌ ذَلِكَ رَأْيِي

میمون بن مہران بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں جب کوئی شخص مسئلہ لے کر آتا تو وہ اللہ کی کتاب سے رہنمائی لیتے اگر وہ اللہ کی کتاب میں سے کوئی ایسا حکم پالیتے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرسکتے تو اس کے مطابق فیصلہ کردیتے اگر اللہ کی کتاب میں وہ بات موجود نہ ہوتی اور اس معاملے میں اللہ کے رسول کی سنت کا علم ہوتا تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کر دیتے اگر یہ بھی نہ ہوتا تو پھر وہ مسلمانوں سے اس بارے میں دریافت کرتے اور ارشاد فرماتے میرے پاس فلاں فلاں شخص کو لے آؤ اور ارشاد فرماتے کیا تمہیں علم ہے کہ اللہ کے رسول نے اس بارے میں کوئی فیصلہ دیا ہو بعض اوقات ایسابھی ہوتا کہ آپ کے پاس جو لوگ جمع ہوتے تو وہ اس بات کا ذکر کرتے کہ اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فیصلہ ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہرطرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمارے درمیان ایسے حضرات رکھے ہیں جو ہمارے نبی کے فرامین کا علم رکھتے ہیں لیکن اگر اس بات کا بھی پتہ نہ چلتا کہ اللہ کے رسول کی سنت کا علم نہ ہوتا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سمجھدار اور بزرگ لوگوں کو اکٹھا کرکے ان سے مشورے کرتے اور جس معاملے میں ان کی رائے متفق ہوتی اس کا فیصلہ کردیتے۔

أَبِي سُهَيْلٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 161

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 162

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ أَبُو سَلَمَةَ الْبَصْرَةَ أَتَيْتُهُ أَنَا وَالْحَسَنُ فَقَالَ لِلْحَسَنِ أَنْتَ الْحَسَنُ مَا كَانَ أَحَدٌ بِالْبَصْرَةِ أَحَبَّ إِلَيَّ لِقَاءً مِنْكَ وَذَلِكَ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُفْتِي بِرَأْيِكَ فَلَا تُفْتِ بِرَأْيِكَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سُنَّةٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ كِتَابٌ مُنْزَلٌ

حضرت ابوسہیل بیان کرتے ہیں میری بیوی پر مسجد حرام میں تین دن تک اعتکاف کرنا لازم تھا میں نے اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز سے سوال کیا اس وقت ان کے پاس ابن شہاب موجود تھے۔ ابوسہیل کہتے ہیں میں نے یہ کہا میرے خیال میں اس عورت پر روزہ بھی لازم ہے ابن شہاب نے فرمایا روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہوتا حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان سے دریافت کیا کیا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے انہوں نے جواب دیا نہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے انہوں نے جواب دیا نہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے سوال کیا کیا حضرت عمر سے منقول ہے انہوں نے جواب دیا نہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا حضرت عثمان سے منقول ہے انہوں نے جواب دیا نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا میرے خیال میں اس پر روزے رکھنا لازم نہیں ہیں ابوسہیل بیان کرتے ہیں میں وہاں سے نکلا میری ملاقات طاؤس بن ابی رباح سے ہوئی میں نے ان دونوں حضرات سے سوال کیا طاؤس نے جواب دیا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک ایسی عورت پر روزہ رکھنا لازم نہیں ہے البتہ اس نے روزے کی بھی نذر مانی ہو تو لازم ہوگا عطاء نے جواب دیا میری بھی یہی رائے ہے۔

وَالْحَسَنُ ← لَمَّا قَدِمَ أَبُو سَلَمَةَ الْبَصْرَةَ أَتَيْتُهُ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← أَبُو عَقِيلٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 162

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 163

أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَقِيَهُ فِي الطَّوَافِ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ إِنَّكَ مِنْ فُقَهَاءِ الْبَصْرَةِ فَلَا تُفْتِ إِلَّا بِقُرْآنٍ نَاطِقٍ أَوْ سُنَّةٍ مَاضِيَةٍ فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ

ابونضرہ بیان کرتے ہیں جب حضرت ابوسلمہ بصرہ تشریف لائے تو میں اور حضرت حسن بصری ان کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے حضرت حسن بصری سے کہا تم حسن ہو بصرہ میں مجھے سب سے زیادہ تم سے ملاقات کی خواہش تھی اس کی وجہ یہ کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اپنی رائے کے مطابق فتوی دیتے ہو تم اپنی رائے کے مطابق فتوی نہ دیا کرو بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے حوالے سے یا اللہ کی کتاب کے حکم کے حوالے سے فتوی دیا کرو ۔

جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَقِيَهُ فِي الطَّوَافِ ← الضَّحَّاكُ، ← يَزِيدَ بْنِ عُقْبَةَ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 163

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 164

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ لَسْنَا نَقْضِي وَلَسْنَا هُنَالِكَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ قَدَّرَ مِنْ الْأَمْرِ أَنْ قَدْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ فَمَنْ عَرَضَ لَهُ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ جَاءَهُ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ جَاءَهُ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ وَلَا يَقُلْ إِنِّي أَخَافُ وَإِنِّي أُرَى فَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَالْحَلَالَ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ

حضرت جابر بن زید بیان کرتے ہیں وہ طواف کے دوران حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوشعثاء تم بصرہ کے فقہاء میں سے ایک ہو تم صرف قرآن کے حکم کے ذریعے فتوی دیا کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ذریعے فتوی دیا کرو اگر تم اس کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے فتوی دو گے تو تم بھی ہلاک ہوجاؤ گے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرو گے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 164

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 165

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ فَكَانَ فِي الْقُرْآنِ أَخْبَرَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ بِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَعَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ قَالَ فِيهِ بِرَأْيِهِ

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں ہمارے اوپر ایسا زمانہ آگیا ہے جس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم یہاں رہ سکتے ہیں لیکن بے شک اللہ نے معاملہ طے کر دیا ہے ہم نے تبلیغ کردی ہے۔ جیسا کہ تم جانتے ہو آج کے بعد جس شخص کو کوئی مسئلہ درپیش ہو وہ اس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں جو موجود ہے اس کے مطابق فیصلے دے اگر ایسی صورت حال ہو جس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں بھی حکم موجود نہ ہو اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کوئی فیصلہ نہ دیا ہو تو وہ اس بارے میں وہ فیصلہ دے جو نیک لوگ فیصلہ کرتے ہیں اور یہ نہ کہے مجھے یہ اندیشہ ہے یا میری رائے ہے کیونکہ حرام واضح ہے اور حلال واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان متشابہہ امور ہیں اس لئے جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑ کر اسے اختیار کر جو شک میں مبتلا نہ کرے۔

فِيهِ بِرَأْيِهِ ← أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ ← رَسُولِ اللَّهِ أَخْبَرَ بِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ ← الْأَمْرِ فَكَانَ فِي الْقُرْآنِ أَخْبَرَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ ← كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إذَا سُئِلَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 165

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 166

. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَتَبَ إِلَيْهِ إِنْ جَاءَكَ شَيْءٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَاقْضِ بِهِ وَلَا تَلْفِتْكَ عَنْهُ الرِّجَالُ فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَانْظُرْ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْضِ بِهَا فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَخُذْ بِهِ فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ قَبْلَكَ فَاخْتَرْ أَيَّ الْأَمْرَيْنِ شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْتَهِدَ رَأْيَكَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَتَقَدَّمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأَخَّرَ فَتَأَخَّرْ وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ

حضرت عبیداللہ بن ابویزید بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جب کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کیا جاتا وہ قرآن میں موجود ہوتا تو وہ اس حوالے سے بتادیتے تھے اگر وہ قرآن میں موجود نہ ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ہوتا تو وہ اس بارے میں بھی بتادیتے تھے اگر ایسا بھی نہ ہوتا تو حضرت عمر یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے منقول ہوتا تو وہ اس بارے میں بتا دیتے اور اگر یہ بھی نہ ہوتا تو وہ اپنی رائے کے مطابق جواب دیتے تھے۔

شُرَيْحٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 166

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 167

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ نَاسٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ كَيْفَ تَقْضِي قَالَ أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ

شریح بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب نے انہیں خط میں لکھا اگر تمہارے پاس کوئی ایسا مسئلہ آئے جو اللہ کی کتاب میں موجود ہو تو تم اس کے مطابق فیصلہ کرو اس کے بارے میں لوگوں کی طرف توجہ نہ کرو۔ اگر تمہارے پاس کوئی ایسا مسئلہ آئے جو اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو تو اس بارے میں اللہ کے رسول کی سنت کا جائزہ لو اور اس کے مطابق فیصلہ دو اگر تمہارے پاس ایسا مسئلہ آئے جو اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت موجود نہ ہو تو تم اس بات کا جائزہ لو کہ لوگ جس معاملے پر متفق ہوں اس کے بارے میں فیصلہ دو اگر تمہارے پاس کوئی ایسا مسئلہ آئے اللہ کی کتاب کا حکم موجود نہ ہو اور اس بارے میں سنت موجود نہ ہو اور تم سے پہلے لوگوں نے اس بارے میں کوئی رائے نہ دی ہو تو تم دو میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کرسکتے ہو اگر تم چاہو اجتہاد کر کے اپنی رائے کے ذریعے فیصلہ دے کر آگے آسکتے ہو اور اگر چاہو تو اس مسئلے میں سے پیچھے ہٹ جاؤ میرے خیال میں تمہارا اس مسئلے سے پیچھے ہٹ جانا زیادہ بہتر ہے۔

مُعَاذٌ، ← نَاسٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ ← عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 167

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 168

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ قَالَ أَحْسَبُهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ قَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ وَمَا نُسْأَلُ وَمَا نَحْنُ هُنَاكَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ أَنْ بَلَغْتُ مَا تَرَوْنَ فَإِذَا سُئِلْتُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْظُرُوا فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهُ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ فَمَا أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيمَا أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَاجْتَهِدْ رَأْيَكَ وَلَا تَقُلْ إِنِّي أَخَافُ وَأَخْشَى فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ

عمروبن حارث جو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے بھتیجے ہیں۔ وہ حمص سے تعلق رکھنے والے حضرت معاذ کے شاگردوں کے حوالے سے یہ بات روایت کرتے ہیں حضرت معاذ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو دریافت کیا اگر تمہارے سامنے کوئی مقدمہ پیش کیا جائے تو تم کیا سمجھتے ہو تم کس طرح اس کا فیصلہ کرو گے ۔ حضرت معاذ نے جواب دیا: میں اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اگر وہ حکم اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو ؟ حضرت معاذ نے عرض کی اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اگر وہ مسئلہ اللہ کی کتاب میں بھی موجود نہ ہو ؟ تو حضرت معاذ نے عرض کی۔ پھر میں اپنی رائے کے ذریعے اجتہاد کرنے کی کوشش کروں گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا حضرت معاذ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے اللہ کے رسول کے نمائندے کو اس بات کی توفیق عطا کی جس کے ذریعے وہ اللہ کے رسول کو راضی کر دے۔

أَحْسَبُهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ← حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 168

chevron_left Previous
1…131415…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door