Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1215

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ عَذْبٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرض نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک شخص کے گھر کے آگے سے گزرنے والی میٹھے پانی کی نہر کی طرح ہے۔ جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Hadith 1215

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1216

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَاذَا تَقُولُونَ ذَلِكَ مُبْقِيًا مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالَ كَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدِي أَصَحُّ

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارا کیا خیال ہے اگر کسی شخص کے دروازے کے پاس نہر ہو۔ جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔ تم کیا کہتے ہو اس کا کوئی میل باقی رہے گا؟ لوگوں نے عرض کی اس کی میل باقی نہیں رہے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال بھی اسی طرح ہے اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 1216

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1217

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ وَهِيَ حَيَّةٌ أَوْ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ حِينَ تَجِبُ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ رُبَّمَا عَجَّلَ وَرُبَّمَا أَخَّرَ إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا تَأَخَّرُوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ رُبَّمَا كَانُوا أَوْ كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ

محمد بن عمر بیان کرتے ہیں حجاج نے اپنے عہد حکومت میں ایک نماز کو اپنے وقت سے تاخیر سے ادا کیا۔ ہم نے اس بارے میں حضرت جابر بن عبداللہ سے ذکر کیا تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھل جانے کے بعد ادا کر لیتے تھے اور جب آپ عصر ادا کرتے تو سورج ابھی روشن (راوی کو شک ہے یا شاید یہ فرمایا) چمکدار ہوتا تھا اور مغرب اس وقت ادا کرلیتے تھے جب سورج غروب ہوجاتا۔ عشاء کی نماز آپ کبھی جلدی ادا کرلیتے اور کبھی تاخیر کردیتے تھے جب لوگ اکٹھے ہوجاتے تو جلدی ادا کرلیتے جب لوگ تاخیر کردیتے تو آپ بھی تاخیر سے ادا کرتے۔ صبح کی نماز آپ اندھیرے میں ہی ادا کرلیا کرتے تھے۔

وَقْتِ الصَّلاةِ. ← سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ ← مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Hadith 1217

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1218

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِهَذَا أُمِرْتَ قَالَ اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ أَوَ أَنَّ جِبْرِيلَ أَقَامَ وَقْتَ الصَّلَاةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ

ابن شہاب بیان کرتے ہیں ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک نماز تاخیر سے ادا کی تو عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ایک نماز تاخیر سے ادا کی تو حضرت ابومسعود انصاری ان کے پاس آئے اور فرمایا مغیرہ یہ تم نے کیا کیا ہے؟ تم جانتے ہو حضرت جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نماز ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے دوسری نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے اگلی نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے اگلی نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ادا کی پھر انہوں نے اگلی نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ادا کی اور پھر فرمایا مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز بولے اے عروہ آپ ذرا غور کریں آپ کیا کہہ رہے ہیں کیا حضرت جبرائیل نے نبی اکرم کو نمازوں کے اوقات کے بارے میں بتایا تھا۔ عروہ بن زبیر نے جواب دیا ایسا ہی ہے حضرت ابومسعود انصاری کے صاحبزادے یزید اپنے والد کے حوالے سے اسی طرح حدیث بیان کرتے ہیں۔ عروہ نے یہ بھی بتایا ہے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ بات بتائی تھی نبی اکرم عصر کی نماز ادا کرلیتے تھے جبکہ دھوپ ابھی ان کے حجرے میں موجود ہوتی تھی۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي

Hadith 1218

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1219

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي الْمَدِينَةَ إِنَّمَا يُجْتَمَعُ إِلَيْهِ بِالصَّلَاةِ لِحِينِ مَوَاقِيتِهَا بِغَيْرِ دَعْوَةٍ فَهَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ بُوقًا كَبُوقِ الْيَهُودِ الَّذِينَ يَدْعُونَ بِهِ لِصَلَاتِهِمْ ثُمَّ كَرِهَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِالنَّاقُوسِ فَنُحِتَ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلْمُسْلِمِينَ إِلَى الصَّلَاةِ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ أَخُو بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ طَافَ بِيَ اللَّيْلَةَ طَائِفٌ مَرَّ بِي رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ هَذَا النَّاقُوسَ فَقَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ قُلْتُ نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ قُلْتُ وَمَا هُوَ قَالَ تَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ كَثِيرٍ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ وَجَعَلَهَا وِتْرًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَلَمَّا خُبِّرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِهَا عَلَيْهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ فَلَمَّا أَذَّنَ بِلَالٌ سَمِعَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَذَاكَ أَثْبَتُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِيهِ سَلَمَةُ قَالَ حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ

محمد بن اسحق بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ کسی اعلان کے بغیر نماز کے مخصوص وقت میں اکٹھے ہوجایا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ یہود کے بوق کی طرح ایک بوق بنایا جائے جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لئے بلایا جائے لیکن پھر آپ کو یہ اچھا نہیں لگا۔ پھر آپ نے لوگوں کو ناقوس باجا بنانے کا حکم دیا تاکہ اسے بجا کر مسلمانوں کو نماز کے لئے بلایا جائے اسی دوران حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ جن کا تعلق حارث بن خزرج قبیلے سے تھا انہوں نے ایک خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیان کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ رات خواب میں میرے پاس ایک شخص آیا جس نے دو سبز چادریں اوڑھی ہوئی تھی اس نے اپنے ہاتھ میں ایک باجا پکڑا ہوا تھا میں نے کہا اے اللہ کے بندے کیا تم یہ باجا فروخت کرو گے اس نے جواب دیا تم اس کا کیا کرو گے میں نے کہا ہم اس کے ذریعے نماز کے لئے بلائیں گے وہ بولا کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز کے متعلق بتاؤں میں نے پوچھا اس سے بہتر کیا چیز ہے وہ بولا تم یوں کہو۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ۔ ۔ ترجمہ۔ اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے میں یہ گواہی دیتاہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتاہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں یہ گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے رسول ہیں، میں یہ گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اسی طرح پوری اذان اس نے سنائی۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور انہی کلمات کو طاق تعداد میں کہا البتہ ان میں ان الفاظ کا اضافہ کیا۔ قدقامت الصلوۃ۔ راوی کہتے ہیں جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا اللہ نے چاہا تو یہ خواب سچ ثابت ہوگا تم بلال کے پاس جاؤ اسے یہ کلمات سکھاؤ کیونکہ اس کی آواز تم سے بلند ہے۔ راوی کہتے ہیں جب حضرت بلال نے اذان دی تو حضرت عمر بن خطاب نے وہ سنی تو وہ اس وقت اپنے گھر میں موجود تھے وہ اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نبی اکرم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے جس طرح کا خواب انہوں نے دیکھا ہے میں نے بھی ویسا ہی خواب دیکھا ہے تو نبی اکرم نے فرمایا ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے اب بات مزید پختہ ہوگئی ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ حِينَ قَدِمَهَا ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Hadith 1219

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1221

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ قَالَ لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میرے والد عبداللہ بن زید نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بنانے کا حکم دیا ہے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔

لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِالنَّاقُوسِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ← أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 1221

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1222

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ

سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر) کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) بلال رات میں ہی اذان دے دیتا ہے تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے۔

"إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ". ← أَبِيهِ يَرْفَعُهُ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1222

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1223

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ الْقَاسِمُ وَمَا كَانَ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ابن عمر سے منقول ہے۔ قاسم سیدہ عائشہ صدیقہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے ایک حضرت بلال اور دوسرے ابن ام مکتوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلال رات میں ہی اذان دے لیتا ہے تم لوگ اس وقت تک (سحری) کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم کی اذان نہ سنو۔ قاسم بیان کرتے ہیں ان دونوں کے درمیان فرق یہ تھا کہ ایک صاحب اذان (دے کر اترتے تھے) دوسرے اذان دینے کے لئے مینار پر چڑھ رہے ہوتے تھے۔

كَانَ لِلنَّبِيِّ مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ. ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدَةُ ← إِسْحَقُ

Hadith 1223

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1224

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ أَنَّ سَعْدًا كَانَ يُؤَذِّنُ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَفْصٌ حَدَّثَنِي أَهْلِي أَنَّ بِلَالًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَالُوا إِنَّهُ نَائِمٌ فَنَادَى بِلَالٌ بِأَعْلَى صَوْتِهِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ فَأُقِرَّتْ فِي أَذَانِ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يُقَالُ سَعْدٌ الْقَرَظُ

ابن شہاب زہری حفص بن عمر مؤذن کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں حضرت سعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اذان دیا کرتے تھے۔ حفص بیان کرتے ہیں میری اہلیہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے حضرت بلال فجر کی نماز کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لئے آئے تو لوگوں نے بتایا آپ سو رہے ہیں تو حضرت بلال نے بلند آواز سے کہا: الصلوۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے) تو یہ جملہ فجر کی اذان میں شامل کرلیا گیا۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں اس روایت میں جس صاحب کا ذکر ہے انہیں سعد القراظ کہا جاتا ہے۔

حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ

Hadith 1224

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1225

أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَالَ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ فَإِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأَ أَحَدُنَا وَخَرَجَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اقامت کے کلمات ایک مرتبہ پڑھے جاتے تھے قدقامت الصلوۃ اس جملے کواقامت میں دو مرتبہ پڑھاجاتا تھا جب ہم اقامت سنتے تو وضو کر کے نکل کھڑے ہوتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى ← أبو جعفر ← شُعْبَةُ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،

Hadith 1225

Sahih

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1226

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت بلال کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان کے کلمات جفت تعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق تعداد میں پڑھیں۔

أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةِ. ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَعَفَّانُ

Hadith 1226

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1227

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ إِلَّا الْإِقَامَةَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت بلال کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان کے کلمات جفت تعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق تعداد میں پڑھیں۔ البتہ اقامت کا کلمہ (قدقامت الصلوۃ جفت تعداد میں پڑھیں)

أَنَسٍ نَحْوَهُ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ إِلَّا الْإِقَامَةَ ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 1227

chevron_left Previous
1234…36
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door