Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1653

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ أَطَاعُوا لَكَ فِي ذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ فِي ذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ فِي ذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَإِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ حِجَابٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن بھیجا تو فرمایا تم اس قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ تم انہیں اس بات کی دعوت دیناکہ یہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں بے شک حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں اگر وہ اس بارے میں تمہاری اطاعت کرلیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری اطاعت کرلیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر زکوۃ کو فرض کیا ہے جو ان کے خوشحال لوگوں سے لے کر ان کے غریب لوگوں میں تقسیم کردی جائے گی اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری اطاعت کرلیں تو وہ (زکوۃ وصول کرتے وقت) ان کے بہترین مال (حاصل کرنے سے) بچنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← زَکَرِيَّا بْنُ إِسْحَقَ ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1653

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1654

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالْكِسْرَةُ وَالْكِسْرَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى يُغْنِيهِ يَسْتَحْيِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ إِلْحَافًا أَوْ لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان روایت کرتے ہیں غریب وہ شخص نہیں ہے جسے ایک یا دو لقمے (روٹی کا) ایک یا دو ٹکڑے ایک یا دو کھجوریں دی جائیں بلکہ غریب وہ شخص ہے جسے بنیادی ضروریات حاصل نہ ہوں اور وہ لوگوں سے مانگنے میں شرم کرے (راوی کا شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) وہ لوگوں سے مانگتا نہیں۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1654

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1655

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا قَالَ إِطْرَاقُ فَحْلِهَا وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمِنْحَتُهَا وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی اونٹ گائے بکری کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا اسے قیامت کے دن ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا کھر والے جانور اپنے کھر کے ذریعے اسے روندیں گے اور سینگ والے جانور اپنے سینگوں کے ذریعے کے ذریعے اسے ماریں گے جانوروں میں کوئی ایسا نہیں ہوگا جس کے سینگ نہ ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا ہوگا جس کے سینگ ٹوٹے ہونگے لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ان کا حق کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نر جانوروں کو جفتی کے لئے ادھار دینا اس کاڈول ادھار دینا دودھ دینے کے لئے کوئی بکری ادھار دینا جب پانی پلانا ہو تو اس کا دودھ دوہ کر (کسی کودے دینا) اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لئے) ان پر سامان لاد دینا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1655

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1656

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ قَطُّ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ قَطُّ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةٌ قَرْنُهَا وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ قَالَ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فَمِهِ فَيَقْضِمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنْحُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کسی اونٹ کا جو مالک اس کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ اونٹ قیامت کے دن زیادہ بڑے حجم میں آئے گا اور اس مالک کو اس کے اونٹ کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ اونٹ اپنے پاؤں اور کھروں کے ذریعے اسے روندے گا جس گائے کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا وہ قیامت کے دن زیادہ بڑے حجم میں آئے گی اس شخص کو اس گائے کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ گائے اسے اپنے سینگوں کے ذریعے مارے گی اور اپنے کھروں کے ذریعے روندے گی جس بکری کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا وہ بکری قیامت کے دن زیادہ بڑے حجم میں آئے گی اس شخص کو اس بکری کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ بکری اسے اپنے سینگوں کے ذریعے مارے گی اور اپنے کھروں کے ذریعے روندے گی ان جانوروں میں کوئی بھی بغیر سینگ کے نہیں ہوگا اور کسی کا سینگ ٹوٹا ہوا نہیں ہوگا جس خزانے کا مالک اس کا حق ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن وہ خزانہ ایک اژدھا کی شکل میں اپنا منہ کھول کر اس کے پیچھے آئے گا جب وہ اس شخص کے پاس آئے گا تو وہ شخص اس سے بھاگے گا تو وہ اژدھا بلند آواز سے پکارے گا اپنا وہ خزانہ لے لو جسے تم نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا وہ شخص کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے پھر وہ شخص دیکھے گا اب کوئی چارہ نہیں ہے وہ اپنا ہاتھ اس اژدھا کی طرف بڑھائے گا تو وہ اسے یوں چبا لے گا جیسے کوئی اونٹ کوئی چیز چبا لیتا ہے ابوزبیر کہتے ہیں میں نے عبید بن عمیر کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا پھر ہم نے جابر بن عبداللہ سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی بات بیان کی جو عبید بن عمیر نے بیان کی تھی ابوزبیر بیان کرتے ہیں میں نے عبید بن عمیر کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ اونٹ کا حق کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جب پانی (پلانے کے لئے اسے لایا جائے) تو اس کا دودھ دوہ کر دوسروں کو پلا دیا جائے اس کے ڈول کو ادھار دے دیا جائے، نر اونٹ کو (جفتی کے لئے) ادھار دے دیا جائے (کسی بکری کو) دودھ دوہنے کے لئے دے دیا جائے اور ان جانوروں پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے سامان لادا جائے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1656

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1657

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ هَذَا الْحَدِيثِ

معرورؓ بن سوید کہتے ہیں کہ ابو ذرؓ نبی ﷺ سے پہلی حدیث کا کچھ حصہ نقل کرتے ہیں

النَّبِيِّ بِبَعْضِ هَذَا الْحَدِيثِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1657

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1658

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ الصَّدَقَةَ فَكَانَ فِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ سَائِمَةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ شَاةً لَمْ يَجِبْ فِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَ مِائَةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَ مِائَةِ شَاةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کی حد مقرر کی ہے جنگل میں چرنے والی چالیس سے ایک سوبیس بکریوں تک ایک بکری زکوۃ کے طور پر ادا کی جائے گی۔ اگر ان کی تعداد زیادہ ہو تو دو سو تک میں دو بکریاں دی جائیں گی۔ اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو تین سوتک میں تین بکریاں دی جائیں گی اگر اس سے بھی زیادہ ہوجائیں تو تین بکریاں رہیں گی۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد چارسو ہوجائے جب ان کی تعداد چارسو ہوجائے پھر ہر سو میں ایک بکری دینا ہوگی زکوۃ میں کوئی ایسی بکری وصول نہیں کی جائے گی جو کمزور ہو کانی ہو اور عیب دارہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1658

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1659

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَ مِائَةٍ فَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ

ابوبکر بن محمداپنے دادا کے حوالے سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن حزم کے ہمراہ پہلے اہل یمن کو ایک خط میں یہ حکم بھجوایا تھا۔ اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہوں جو رحمن اور رحیم ہے یہ (اللہ) کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے شرحبیل بن عبد کلال حارث بن عبد کلال اور نعیم بن عبد کلال کے نام ہے (اور حکم یہ ہے) ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری بطور زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا یہاں تک کہ ان کی تعداد ایک سوبیس ہوجائے جب ایک سو بیس سے زیادہ ہوجائے تو دو سو تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی جب ان میں سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ہر ایک سو میں سے ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1659

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1660

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَهُمْ كِتَابًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ

عبداللہ بن ابوبکر اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک خط لکھا تھا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1660

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1661

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ وَالْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَا قَالَ مُعَاذٌ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً

حضرت معاذ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا آپ نے مجھے ہدایت کی کہ میں ہر چالیس گائے میں سے دو برس کی ہو کر تیسرے برس میں لگ جانے والی ایک بچھڑی (وصول کروں) اور ہر تیس گائے میں سے ایک برس کا ہو کر (دوسرے برس میں لگنے والا بچھڑا یا بچھڑی زکوۃ وصول کروں)

إِبْرَاهِيمَ، ← مَسْرُوقٍ وَالْأَعْمَشُ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1661

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1662

أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ الْبَقَرِ مِنْ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا حَوْلِيًّا وَمِنْ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً

حضرت معاذبیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور مجھے یہ ہدایت کی کہ میں ہر تیس گائے میں سے ایک سال کا بچھڑا لوں اور ہر چالیس گائے میں سے دو سال کا ہو کر (تیسرے سال میں لگنے والا) گائے کا بچہ وصول کروں۔

مُعَاذٌ، ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1662

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1663

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ بِنَحْوِهِ

احمد بن یوسف ، ابوبکر بن عیاش سے پہلی حدیث کی طرح نقل کرتے ہیں۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ بِنَحْوِهِ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1663

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1664

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ الصَّدَقَةَ فَلَمْ تُخْرَجْ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قُبِضَ أَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ أَخَذَهَا عُمَرُ فَعَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَلَقَدْ قُتِلَ عُمَرُ وَإِنَّهَا لَمَقْرُونَةٌ بِسَيْفِهِ أَوْ بِوَصِيَّتِهِ وَكَانَ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کے احکام تحریر کروائے آپ نے انہیں اپنے ریاستی اہلکاروں کو نہیں بھجوایا تھا کہ اس سے پہلے ہی آپ کا وصال ہوگیا آپ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس تحریر کو حاصل کرکے اس پر عمل کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد حضرت عمر نے اسے حاصل کیا اور ان دونوں کے بعد وہ بھی اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر شہید ہوگئے وہ تحریر ان کی تلوار میں (راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں) ان کی وصیت کے ہمراہ موجود تھی (وہ تحریر یہ تھی) اونٹوں کی زکوۃ کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ہر پانچ اونٹوں سے پچیس اونٹوں تک میں ایک بکری وصول کی جائے گی جب ان کی تعداد پچیس ہوجائے تو ان میں سے دوسرے سال میں داخل ہونے والی ایک اونٹنی دی جائے گی پچیس سے پینتیس تک یہ ہوگی اگر ایسی اونٹنی نہ ہو تو دو سال کا ہو کر تیسرے سال میں داخل ہونے والا ایک اونٹ لیا جائے گا جب اونٹوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوجائے تو پینتالیس سے ساٹھ تک ایک ایسی اونٹنی لی جائے گی جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہو جب اونٹوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو پچھتر تک میں ایسی اونٹنی لی جائے گی جو پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہو اگر اونٹوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو نوے تک اس میں دو ایسی اونٹنیاں لی جائیں گی جو دو سال کی ہو کر تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہوگی اگر ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو ایک سو بیس تک میں دو ایسی اونٹنیاں لی جائیں گی جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہوں گی اگر ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر پچاس کے اضافے میں ایک ایسی اونٹنی مزید لی جائے گی جو چوتھے سال میں شامل ہوچکی ہو اور ہر چالیس کے اضافہ میں ایک ایسی اونٹنی لی جائے گی جوتیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1664

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door