Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 181

152. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ عَزْرَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالُوا وَمَا ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَنْ يُسْأَلَ الرَّجُلُ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَيَقُولُ اللَّهُ أَعْلَمُ

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب تم سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے جس کا تمہیں علم نہ ہو تو بھاگنے کی کوشش کرو۔ لوگوں نے دریافت کیا امیرالمومنین بھاگا کیسے جاسکتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تم یہ کہہ دو کہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔

أَنْ يُسْأَلَ الرَّجُلُ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَيَقُولُ اللَّهُ أَعْلَمُ ← وَمَا ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ← عَلِيٌّ وَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ← عَزْرَةَ التَّمِيمِيِّ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 181

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 182

أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَقَالَ لَا عِلْمَ لِي بِهَا فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ نِعْمَ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَقَالَ لَا عِلْمَ لِي بِهِ

عذرہ تمیمی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی یہ بات کلیجے کے لئے کتنی ٹھنڈک کا باعث ہے ۔ لوگوں نے دریافت کیا اے امیرالمومنین وہ کیا بات ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب انسان سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے جس کا علم نہ ہو تو وہ جواب میں یہ کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔

ابْنُ عُمَرَ سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَقَالَ لَا عِلْمَ لِي بِهِ ← ابْنُ عُمَرَ نِعْمَ مَا ← مَسْأَلَةٍ فَقَالَ لَا عِلْمَ لِي بِهَا فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَهُ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 182

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 183

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ لَا أَدْرِي نِصْفُ الْعِلْمِ

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے جب وہ شخص چلا گیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کتنا اچھا جواب دیا ہے اس سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا ہے جس کا علم اسے نہیں تھا تو اس نے یہ کہہ دیا مجھے اس کا علم نہیں ہے۔

لَا أَدْرِي نِصْفُ الْعِلْمِ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 183

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 184

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ فَقَالَ لَا عِلْمَ لِي ثُمَّ الْتَفَتَ بَعْدَ أَنْ قَفَّا الرَّجُلُ فَقَالَ نِعْمَ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَقَالَ لَا عِلْمَ لِي يَعْنِي ابْنُ عُمَرَ نَفْسَهُ

امام شعبی فرماتے ہیں یہ کہنا کہ مجھے علم نہیں ہے یہ نصف علم ہے۔

لَا عِلْمَ لِي يَعْنِي ابْنُ عُمَرَ نَفْسَهُ ← ابْنُ عُمَرَ سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ ← نِعْمَ مَا ← لَا عِلْمَ لِي ثُمَّ الْتَفَتَ بَعْدَ أَنْ قَفَّا الرَّجُلُ ← شَيْءٍ ← نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ يَسْأَلُهُ ← عبد الله العمري ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 184

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 185

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ كَانَ عَامِرٌ إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَقُولُ لَا أَدْرِي فَإِنْ رُدُّوا عَلَيْهِ قَالَ إِنْ شِئْتَ كُنْتُ حَلَفْتُ لَكَ بِاللَّهِ إِنْ كَانَ لِي بِهِ عِلْمٌ

نافع بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ ان سے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کرے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا مجھے اس کا علم نہیں ہے اس شخص کے جانے کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کتنااچھا جواب دیا ہے اس سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا علم نہیں تھا تو اس نے جواب دیا مجھے اس کا علم نہیں ہے یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات اپنے بارے میں ارشاد فرمائی۔

إِنْ شِئْتَ كُنْتُ حَلَفْتُ لَكَ بِاللَّهِ إِنْ كَانَ لِي بِهِ عِلْمٌ ← لَا أَدْرِي فَإِنْ رُدُّوا عَلَيْهِ ← شَيْءٍ ← كَانَ عَامِرٌ إِذَا سُئِلَ ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 185

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 186

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ مَا أُبَالِي سُئِلْتُ عَمَّا أَعْلَمُ أَوْ مَا لَا أَعْلَمُ لِأَنِّي إِذَا سُئِلْتُ عَمَّا أَعْلَمُ قُلْتُ مَا أَعْلَمُ وَإِذَا سُئِلْتُ عَمَّا لَا أَعْلَمُ قُلْتُ لَا أَعْلَمُ

مغیرہ بیان کرتے ہیں جب عامر سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ جواب میں یہ کہتے مجھے اس کا علم نہیں ہے اگر لوگ دوبارہ ان سے وہی سوال کرتے تو وہ یہ کہتے کہ میں اللہ کے نام پر قسم اٹھا کر تمہیں یہ بات بتا رہا ہوں کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔

ابْنِ سِيرِينَ، ← أَشْعَثَ، ← حَفْصٌ، ← هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 186

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 187

حَدَّثَنَا هَارُونُ عَنْ حَفْصٍ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ مَا سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ قَطُّ حَلَالٌ وَلَا حَرَامٌ إِنَّمَا كَانَ يَقُولُ كَانُوا يَكْرَهُونَ وَكَانُوا يَسْتَحِبُّونَ

ابن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ مجھ سے جو سوال کیا جاتا ہے مجھے اس کا علم ہے یا مجھے اس کا علم نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مجھ سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے جس کا مجھے علم نہ ہو تو میں جواب میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ مجھے اس کا پتا نہیں ہے۔

كَانُوا يَكْرَهُونَ وَكَانُوا يَسْتَحِبُّونَ ← قَطُّ حَلَالٌ وَلَا حَرَامٌ إِنَّمَا كَانَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَا ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصٌ، ← هَارُونُ:

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 187

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 188

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَبِسَتْكُمْ فِتْنَةٌ يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ وَيَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ وَيَتَّخِذُهَا النَّاسُ سُنَّةً فَإِذَا غُيِّرَتْ قَالُوا غُيِّرَتْ السُّنَّةُ قَالُوا وَمَتَى ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ إِذَا كَثُرَتْ قُرَّاؤُكُمْ وَقَلَّتْ فُقَهَاؤُكُمْ وَكَثُرَتْ أُمَرَاؤُكُمْ وَقَلَّتْ أُمَنَاؤُكُمْ وَالْتُمِسَتْ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ

اعمش بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو کبھی بھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ یہ حلال ہے یاحرام ہے وہ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے علماء اسے مکروہ قرار دیتے ہیں علماء اسے مستحب قرار دیتے ہیں۔

شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 188

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 189

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَبِسَتْكُمْ فِتْنَةٌ يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ وَيَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ إِذَا تُرِكَ مِنْهَا شَيْءٌ قِيلَ تُرِكَتْ السُّنَّةُ قَالُوا وَمَتَى ذَاكَ قَالَ إِذَا ذَهَبَتْ عُلَمَاؤُكُمْ وَكَثُرَتْ جُهَلَاؤُكُمْ وَكَثُرَتْ قُرَّاؤُكُمْ وَقَلَّتْ فُقَهَاؤُكُمْ وَكَثُرَتْ أُمَرَاؤُكُمْ وَقَلَّتْ أُمَنَاؤُكُمْ وَالْتُمِسَتْ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ وَتُفُقِّهَ لِغَيْرِ الدِّينِ

حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا جب تمہارے درمیان ایسا فتنہ پیدا ہوگا جس کی وجہ سے بڑی عمر کے لوگ بوڑھے ہوجائیں گے اور چھوٹی عمر کے لوگ بڑے ہوجائیں گے۔ لوگ اس فتنے کو سنت بنالیں گے اور جب وہ تبدیل ہوجائے گا تو لوگ یہ کہیں گے سنت تبدیل ہوگئی ۔ لوگوں نے دریافت کیا اے ابوعبدالرحمن یہ کب ہوگا۔ حضرت عبداللہ نے جواب دیا جب تمہارے ہاں قرآن کا علم کہلانے والوں کی تعداد زیادہ ہوجائے گی اور دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کی تعداد کم ہوجائے گی تمہارے امراء زیادہ ہوجائیں گے اور امین لوگ کم ہوجائیں گے اور آخرت کے عمل کے عوض میں دنیا کو تلاش کیا جائے گا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 189

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 190

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ أُنْبِئْتُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ وَيْلٌ لِلْمُتَفَقِّهِينَ لِغَيْرِ الْعِبَادَةِ وَالْمُسْتَحِلِّينَ لِلْحُرُمَاتِ بِالشُّبُهَاتِ

حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں اس وقت تمہارا کیا عالم ہوگا جب تمہارے سامنے ایسا فتنہ آئے گا جو بڑی عمر کے لوگوں کو بوڑھا کردے گا اور کم عمر لوگوں کو جوان کردے گا جب اس فتنے میں سے کسی چیز کو ترک کیا جائے گا تو یہ کہا جائے گا سنت ترک ہوگئی ہے لوگوں نے دریافت کیا ایسا کب ہوگا۔ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا تمہارے علماء رخصت ہوجائیں گے۔ تمہارے ہاں جہلاء کی کثرت ہوجائے گی قرآن کے عالم کہلانے والوں کی کثرت ہوجائے گی۔ دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کی کمی ہوجائے گی امراء بکثرت ہوں گے اور امین لوگ کم ہوجائیں گے اور آخرت کے عمل کے نتیجے میں دنیا حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور دین کے بجائے دیگر معاملات میں سمجھ بوجھ اختیار کی جائے گی۔

أُنْبِئْتُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ وَيْلٌ لِلْمُتَفَقِّهِينَ لِغَيْرِ الْعِبَادَةِ وَالْمُسْتَحِلِّينَ لِلْحُرُمَاتِ بِالشُّبُهَاتِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 190

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 191

أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ مَوْلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ إِلَّا وَهُوَ شَرٌّ مِنْ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَعْنِي عَامًا أَخْصَبَ مِنْ عَامٍ وَلَا أَمِيرًا خَيْرًا مِنْ أَمِيرٍ وَلَكِنْ عُلَمَاؤُكُمْ وَخِيَارُكُمْ وَفُقَهَاؤُكُمْ يَذْهَبُونَ ثُمَّ لَا تَجِدُونَ مِنْهُمْ خَلَفًا وَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقِيسُونَ الْأُمُورَ بِرَأْيِهِمْ

اوزاعی بیان کرتے ہیں مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ فقہ کے ان طلباء کے لئے بربادی ہے جو عبادت کی نیت سے علم حاصل نہیں کرتے بلکہ شبہات کے ذریعے حرام چیزوں کو حلال قرار دینے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← يَحْيَى ← صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ مَوْلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي زَائِدَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 191

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 192

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ وَمَا عُبِدَتْ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ إِلَّا بِالْمَقَايِيسِ

حضرت عبداللہ بن مسعود ارشاد فرماتے ہیں تمہارا آنے والا ہربرس گزرے ہوئے برس سے زیادہ برا ہوگا میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک سال دوسرے سال سے زیادہ خراب ہے یا ایک حکمران دوسرے حکمران سے زیادہ بہتر ہے بلکہ تمہارے علماء تمہارے معزز لوگ اور تمہارے فقہاء رخصت ہوجائیں گے پھر تمہیں ان کا حقیقی نائب نہیں ملے گا اور وہ لوگ آجائیں گے جو معاملات میں اپنی رائے کے ذریعے قیاس کرکے حکم بیان کریں گے۔

أَوَّلُ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ وَمَا عُبِدَتْ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ إِلَّا بِالْمَقَايِيسِ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 192

chevron_left Previous
1…151617…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door