Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1985

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو دنبوں کی قربانی کی آپ نے بسم اللہ پڑھی اور پھر تکبیر کہی میں نے آپ کو انہیں اپنے دست اقدس کے ذریعے ذبح کرتے ہوئے دیکھا آپ نے اپنا پاؤں ان کے پہلو میں رکھا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے پوچھا کیا آپ نے خود یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1985

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1986

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ فَقَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ ثُمَّ سَمَّى اللَّهَ وَكَبَّرَ وَذَبَحَ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو دنبوں کی قربانی کی جب آپ نے ان دونوں کا رخ کیا تو آپ نے یہ دعا پڑھی۔ "میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو درست طور پر پیدا کیا ہے اور میں مشرک نہیں ہوں بے شک میری نماز میری قربانی میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ یہ تیری عطا سے ہے اور تیرے ہی لئے ہے یہ محمد اور اس کی امت کی طرف سے ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھی اور پھر تکبیر کہہ کر انہیں ذبح کردیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي عَيَّاشٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1986

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1987

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ

ابن مسیب بیان کرتے ہیں سیدہ ام سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں وہ ذوالحج کے پہلے عشرے میں اپنے ناخن نہ کاٹے اور اپنے بال نہ کٹوائے۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← ابن المسيب أن أم سلمة أخبرته ← عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1987

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1988

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا أَظْفَارِهِ شَيْئًا

ام سلمہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ذوالحج کا پہلا عشرہ داخل ہوجائے جو شخص قربانی کرنا چاہتا ہو اسے اپنے بال یا ناخن نہیں کٹوانے چاہییں۔

النَّبِيِّ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1988

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1989

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُتَّقَى مِنْ الضَّحَايَا قَالَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي

حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کس قسم کے جانور کی قربانی سے پرہیز کیا جائے آپ نے فرمایا وہ کانا جس کا کانا پن واضح ہو وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو وہ بیمار جس کی بیماری واضح ہو اور وہ دبلا پتلا کمزور جس کے اندر مغز ہی نہ ہو۔

سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ مَا يُتَّقَى مِنْ الضَّحَايَا ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1989

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1990

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ عَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَ أَرْبَعٌ لَا يُجْزِئْنَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تُنْقِي قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ وَفِي الْأُذُنِ نَقْصٌ وَفِي الْقَرْنِ نَقْصٌ قَالَ فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ

عبید بن فیزوز بیان کرتے ہیں حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال کیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی طرح کے جانور کی قربانی سے منع کیا ہے انہوں نے جواب دیا چار طرح کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ایک وہ کانا جس کا کانا پن واضح ہو اور ایک لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، وہ بیمار جس کی بیماری واضح ہو اور وہ کمزور جس کے اندر مغز ہی نہ ہو۔ میں نے براء سے سوال کیا میں ایسے جانور کو بھی پسند نہیں کرتا جس کے سینگ میں کوئی نقص ہو جس کے کان میں کوئی نقص ہو اور جس کے دانت میں کوئی نقص ہو۔ حضرت براء نے جواب دیا جسے تم ناپسند کرتے ہو اسے نہ کرو لیکن اسے کسی کے لئے حرام قرار نہ دو۔

سَأَلْتُ الْبَرَاءَ عَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ مِنْ الْأَضَاحِيِّ ← عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1990

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1991

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الْبَقَرَةُ فَقَالَ عَنْ سَبْعَةٍ قُلْتُ الْقَرْنُ قَالَ لَا يَضُرُّكَ قَالَ قُلْتُ الْعَرَجُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ثُمَّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ

حجیہ بن عدی بیان کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اے امیرالمومنین گائے کا کیا حکم ہے انہوں نے جواب دیا سات آدمیوں کی طرف سے ہوسکتی ہے میں نے جواب دیا سینگ میں کوئی نقص ہو تو انہوں نے جواب دیا اس سے تم کو کوئی حرج نہیں ہے۔ حجیہ کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا لنگڑے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا اگر قربان گاہ تک پہنچ جائے پھر انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم جانوروں کی آنکھ اور کان کا جائزہ لے لیا کریں۔

«أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ» ← إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ثُمَّ ← قُلْتُ الْعَرَجُ ← لَا يَضُرُّكَ ← سَبْعَةٍ قُلْتُ الْقَرْنُ ← عَلِيًّا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الْبَقَرَةُ فَقَالَ ← حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1991

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1992

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا خَرْقَاءَ وَلَا شَرْقَاءَ فَالْمُقَابَلَةُ مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا وَالْمُدَابَرَةُ مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ وَالْخَرْقَاءُ الْمَثْقُوبَةُ وَالشَّرْقَاءُ الْمَشْقُوقَةُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان کا ایک جائزہ لے لیا کریں اور ہم مقابلہ اور مدابرہ، حرقاء، شرقاء کی قربانی نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں مقابلہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان کا کنارہ کٹا ہوا ہو، مدابرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان کا ایک حصہ کٹا ہوا ہو، خرقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کا کان چھیدا گیا ہو اور شرقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کا کان پھٹا ہوا ہو۔

عَلِيٍّ، ← شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ ← أَبِي إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1992

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1993

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَأَصَابَنِي جَذَعٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ فَقَالَ ضَحِّ بِهَا

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو مجھے ایک سال کا بکری کا بچہ ملا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے ایک سال کا بکری کا بچہ ملا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ ہی قربان کردو۔

قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَأَصَابَنِي جَذَعٌ فَقُلْتُ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1993

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1994

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا أَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَسَمْتُهَا وَبَقِيَ مِنْهَا عَتُودٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْعَتُودُ الْجَذَعُ مِنْ الْمَعْزِ

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مال غنیمت دیا تاکہ میں اسے اصحاب میں تقسیم کروں میں نے انہیں تقسیم کردیا ایک سال کا بکری کا بچہ ان میں سے باقی رہ گیا میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا تم اسے قربان کردو۔ امام دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ) عتود کا مطلب بکری کا ایک سال کا بچہ ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1994

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1995

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِكُوا فِي الْهَدْيِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حدیبیہ کے مقام پر ہم نے چالیس اونٹ قربان کئے تھے ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا قربانی کے جانور میں ایک دوسرے کے شریک بن جاؤ۔

سَبْعَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ اشْتَرِكُوا فِي الْهَدْيِ ← نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← يعلى

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1995

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 1996

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَقُولُ بِهِ قَالَ نَعَمْ

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی میں سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے قربان کی تھی۔ امام دارمی سے سوال کیا گیا آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔

نَعَمْ ← سَبْعَةٍ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَقُولُ بِهِ ← نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ الْبَقَرَةَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 1996

Sahih

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door