Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 145

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ شَيْءٍ فَقَالَ إِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أُحِلَّ لَكَ شَيْئًا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ أَوْ أُحَرِّمَ مَا أَحَلَّهُ اللَّهُ لَكَ

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت تلاوت کی وہی وہ ذات ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس میں سے بعض آیات محکم ہیں یہی کتاب کی بنیاد ہے اور بعض دیگر متشابہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کے متاشابہات کی پیروی کرتے ہوں تو ان سے بچو۔

شَيْءٍ ← سُئِلَ عَبْدُ اللهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 145

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 146

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ لَأَنْ أَرُدَّهُ بِعِيِّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّفَ لَهُ مَا لَا أَعْلَمُ

شقیق بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں تمہارے لئے کسی ایسی چیز کو حلال قرار دوں جسے اللہ نے تمہارے لئے حرام قرار دیا ہو یا میں کسی ایسی چیز کو حرام قرار دوں جو اللہ نے حلال قرار دی ہے۔

لَأَنْ أَرُدَّهُ بِعِيِّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّفَ لَهُ مَا لَا أَعْلَمُ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 146

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 147

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ صَبِيغًا الْعِرَاقِيَّ جَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْقُرْآنِ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى قَدِمَ مِصْرَ فَبَعَثَ بِهِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمَّا أَتَاهُ الرَّسُولُ بِالْكِتَابِ فَقَرَأَهُ فَقَالَ أَيْنَ الرَّجُلُ قَالَ فِي الرَّحْلِ قَالَ عُمَرُ أَبْصِرْ أَيَكُونُ ذَهَبَ فَتُصِيبَكَ مِنْهُ الْعُقُوبَةُ الْمُوجِعَةُ فَأَتَاهُ بِهِ فَقَالَ عُمَرُ تَسْأَلُ مُحْدَثَةً وَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى رَطَائِبَ مِنْ جَرِيدٍ فَضَرَبَهُ بِهَا حَتَّى تَرَكَ ظَهْرَهُ دَبِرَةً ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى بَرَأَ ثُمَّ عَادَ لَهُ ثُمَّ تَرَكَهُ حَتَّى بَرَأَ فَدَعَا بِهِ لِيَعُودَ لَهُ قَالَ فَقَالَ صَبِيغٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ قَتْلِي فَاقْتُلْنِي قَتْلًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُدَاوِيَنِي فَقَدْ وَاللَّهِ بَرَأْتُ فَأَذِنَ لَهُ إِلَى أَرْضِهِ وَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنْ لَا يُجَالِسَهُ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الرَّجُلِ فَكَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ أَنْ قَدْ حَسُنَتْ تَوْبَتُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ أَنْ ائْذَنْ لِلنَّاسِ بِمُجَالَسَتِهِ

حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کسی سوال کا جواب دینے سے عاجز ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے سوال کو واپس کرنا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں جس چیز کا علم نہیں رکھتا اس کے بارے میں اپنی طرف سے ایجاد کرکے کوئی جواب دوں۔

نافع مولى عبد الله ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 147

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 148

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ اسْتَفْتَى رَجُلٌ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ مَا تَقُولُ فِي كَذَا وَكَذَا قَالَ يَا بُنَيَّ أَكَانَ الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ قَالَ لَا قَالَ أَمَّا لَا فَأَجِّلْنِي حَتَّى يَكُونَ فَنُعَالِجَ أَنْفُسَنَا حَتَّى نُخْبِرَكَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع بیان کرتے ہیں صبیغ عراقی نامی ایک شخص مسلمانوں کے ایک لشکر میں قرآن سے متعلق بعض سوال کیا کرتا تھا وہ مصر آیا تو حضرت عمرو بن عاص نے اسے حضرت عمر کے پاس بھیج دیا جب قاصد حضرت عمرو بن عاص کا خط لے کر آیا اور حضرت عمر نے اسے پڑھ لیا تو دریافت کیا یہ شخص کہاں ہے قاصد نے جواب دیا پڑاؤ میں ہے حضرت عمر نے ارشاد فرمایا اس کا خیال رکھنا وہ چلا نہ جائے ورنہ میں تمہیں سخت سزادوں گا پھر اس شخص کو حضرت عمر کے پاس لایا گیا حضرت عمر نے دریافت کیا تم نئے قسم کے سوالات کرتے ہو پھر حضرت عمر نے لکڑی کی سوٹیاں منگوائی اور ان کے ذریعے اس کی پٹائی کرکے اس کی پشت کو زخمی کردیا پھر اسے چھوڑ دیا جب وہ ٹھیک ہوگیا تو دوبارہ اسے اسی طرح مارا پھر اسے چھوڑ دیا اور وہ دوبارہ ٹھیک ہوا پھر اسے بلایا تاکہ دوبارہ اسے ماریں تو صبیغ نامی اس شخص نے کہا اگر آپ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تواچھے طریقے سے قتل کریں اور اگر آپ میرا علاج کرنا چاہتے ہیں تو اللہ کی قسم میں اب ٹھیک ہوگیا ہوں حضرت عمر نے اسے اجازت دی کہ وہ اپنے علاقے میں واپس چلاجائے حضرت عمر نے حضرت موسی اشعری کو خط میں لکھا کہ کوئی بھی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے۔ یہ بات اس شخص کے لئے بڑی پریشانی کا باعث بنی پھر حضرت ابوموسی نے حضرت عمر کو خط میں لکھا کہ اس شخص نے اچھی طرح توبہ کرلی ہے تو حضرت عمر نے جواب دیا اب تم لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے سکتے ہو۔

لَا۔ ← يَا بُنَيَّ أَكَانَ الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ ← يَا أَبَا الْمُنْذِرِ مَا تَقُولُ فِي كَذَا وَكَذَا ← اسْتَفْتَى رَجُلٌ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ← عَامِرًا ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 148

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 149

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ فَأَخْبَرَنَا عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَقَالَ فَتًى مَا تَقُولُ يَا عَمَّاهُ فِي كَذَا وَكَذَا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَكَانَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَأَعْفِنَا حَتَّى يَكُونَ

عامر بیان کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت ابی بن کعب سے کوئی فتوی دریافت کیا اور کہا اے ابومنذر آپ فلاں مسئلے کے بارے میں کیا کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا اے میرے بیٹے تم نے جس چیز کے بارے میں مجھ سے سوال کیا ہے وہ واقع ہوچکی ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں تو حضرت ابی بن کعب نے فرمایا اگر نہیں ہوئی تو پھر رہنے دومجھے مہلت دو جب تک وہ رونما نہ ہوجائے ہم اپنے نفس کا علاج کرتے ہیں یہاں تک کہ ہم تمہیں اس کے بارے میں بتادیں گے۔

فاعفنا حتى يكون ← لَا۔ ← يَا ابْنَ أَخِي أَكَانَ هَذَا ← فَتًى مَا تَقُولُ يَا عَمَّاهُ فِي كَذَا وَكَذَا ← كُنْتُ أَمْشِي مَعَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← فِرَاسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 149

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 150

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُجِبْ فِيهِ إِلَّا جَوَابَ الَّذِي سُئِلَ عَنْهُ

مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابی بن کعب کے ساتھ کہیں جارہا تھا ایک نوجوان نے کہا اے چچا جان آپ فلاں مسئلے کے بارے میں کیا کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا اے میرے بھتیجے کیا وہ رونما ہوچکا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا نہیں تو حضرت ابی نے فرمایا جب تک وہ رونما ہو نہیں جاتا تم مجھے معاف رکھو۔

شَيْءٍ لَمْ يُجِبْ فِيهِ إِلَّا جَوَابَ الَّذِي سُئِلَ عَنْهُ ← كَانَ إِبْرَاهِيمُ إِذَا سُئِلَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 150

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 151

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ وُهَيْبٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُفْتِي فِي الْفَرْجِ بِشَيْءٍ فِيهِ اخْتِلَافٌ

اعمش بیان کرتے ہیں ابراہیم سے جب کوئی سوال کیا جاتا تو وہ صرف اتنا ہی جواب دیتے تھے جتنا سوال کیا جاتا تھا ۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُفْتِي فِي الْفَرْجِ بِشَيْءٍ فِيهِ اخْتِلَافٌ ← هِشَامٍ ← وُهَيْبٌ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ الْوَلِيدِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 151

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 152

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ رَاشِدٍ قَالَ سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ مَسْأَلَةٍ فَقَالَ لِي كَانَ هَذَا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ آللَّهِ قُلْتُ آللَّهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَنَا أَخْبَرُونَا عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَعْجَلُوا بِالْبَلَاءِ قَبْلَ نُزُولِهِ فَيُذْهَبُ بِكُمْ هَا هُنَا وَهَا هُنَا فَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَعْجَلُوا بِالْبَلَاءِ قَبْلَ نُزُولِهِ لَمْ يَنْفَكَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَكُونَ فِيهِمْ مَنْ إِذَا سُئِلَ سَدَّدَ وَإِذَا قَالَ وُفِّقَ

محمد بن سیرین کے بارے میں منقول ہے وہ سہولت کے بارے میں کوئی ایسا فتوی نہیں دیتے تھے جس میں اختلاف پایا جاتا ہو۔

آللَّهِ قُلْتُ آللَّهِ ثُمَّ ← لِي كَانَ هَذَا قُلْتُ نَعَمْ ← مَسْأَلَةٍ ← سَأَلْتُ طَاوُسًا ← الصَّلْتِ بْنِ رَاشِدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 152

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 153

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَهُ رَمَضَانَانِ فَقَالَ أَكَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ قَالَ لَمْ يَكُنْ بَعْدُ فَقَالَ اتْرُكْ بَلِيَّتَهُ حَتَّى تَنْزِلَ قَالَ فَدَلَسْنَا لَهُ رَجُلًا فَقَالَ قَدْ كَانَ فَقَالَ يُطْعِمُ عَنْ الْأَوَّلِ مِنْهُمَا ثَلَاثِينَ مِسْكِينًا لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ

صلت بن راشد بیان کرتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے ایک مسئلہ دریافت کیا انہوں نے مجھ سے فرمایا کیا یہ رونما ہوچکا ہے میں نے جواب دیا جی ہاں انہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم میں نے جواب دیا اللہ کی قسم۔ انہوں نے فرمایا ہمارے اصحاب نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل نے فرمایا تھا اے لوگو کسی نئی صورت حال کے نازل ہونے سے پہلے جلدی نہیں کرو گے تو اس بارے میں مسلمان انتشار کا شکار نہیں ہوں گے اور ان میں سے کوئی ایسا شخص ہوگا جس سے سوال کیا جائے گا تو وہ صحیح جواب دے گا اور جب جواب دے گا تو اسے توفیق عنایت کی جائے گی۔

الْأَوَّلِ مِنْهُمَا ثَلَاثِينَ مِسْكِينًا لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ ← فَدَلَسْنَا لَهُ رَجُلًا فَقَالَ قَدْ كَانَ فَقَالَ يُطْعِمُ ← لَمْ يَكُنْ بَعْدُ فَقَالَ اتْرُكْ بَلِيَّتَهُ حَتَّى تَنْزِلَ ← رَجُلٍ أَدْرَكَهُ رَمَضَانَانِ فَقَالَ أَكَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ ← سَأَلْتُهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 153

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 154

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ كُنْتُ أَجْلِسُ بِمَكَّةَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ يَوْمًا وَإِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَوْمًا فَمَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ فِيمَا يُسْأَلُ لَا عِلْمَ لِي أَكْثَرُ مِمَّا يُفْتِي بِهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے میں نے ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے دو رمضان نہ پائے ہوں اور روزے نہ رکھے ہوں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کیا یہ واقعہ رونما ہوچکا ہے یا نہیں سائل نے کہا یہ رونما نہیں ہوا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اس نئی صورت حال کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ رونما ہوجائے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر ہم نے انہیں ایک فرضی شخص سے ملایا اس نے کہا یہ واقعہ رونما ہوچکا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فتوی دیا وہ شخص دونوں سالوں میں سے پہلے سال کی طرف سے تیس مسکینوں کو کھانا کھلائے گا ایک روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔

ابْنُ عُمَرَ فِيمَا يُسْأَلُ لَا عِلْمَ لِي أَكْثَرُ مِمَّا يُفْتِي بِهِ ← كُنْتُ أَجْلِسُ بِمَكَّةَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ يَوْمًا وَإِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَوْمًا فَمَا ← عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ← الْعُمَرِيُّ ← إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 154

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 155

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ تَعَلَّمُوا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يُخْتَلُّ إِلَيْهِ

عبید بن جریج بیان کرتے ہیں میں مکہ ایک دن حضرت ابن عمر کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک دن حاضر ہوتا تھا تو حضرت عمر سے جو سوال کیا جاتا تھا وہ اس کے جواب میں فتوی دینے میں زیادہ تر یہی کہتے تھے مجھے اس کا علم نہیں ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ تَعَلَّمُوا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يُخْتَلُّ إِلَيْهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 155

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 156

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَؤُكُمْ عَلَى الْفُتْيَا أَجْرَؤُكُمْ عَلَى النَّارِ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ علم حاصل کرو کیونکہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ کب کسی اختلافی مسئلے کے بارے میں اس کے پاس آیا جائے گا۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 156

chevron_left Previous
1…121314…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door