Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 133

130. أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا لَكَ لَا تَقُولُ فِي الطَّلَاقِ شَيْئًا قَالَ مَا مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُ عَنْهُ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُحِلَّ حَرَامًا أَوْ أُحَرِّمَ حَلَالًا

ابن عون بیان کرتے ہیں شعبی کے سامنے جب کوئی سوال آتا تھا تو وہ بچنے کی کوشش کرتے تھے جبکہ ابراہیم ایک جواب دیتے تھے پھر ایک جواب دیتے تھے پھر ایک جواب دیتے تھے۔ ابوعاصم کہتے ہیں اس بارے میں شعبی کی حالت ابراہیم سے بہتر تھی یہ ابن عون کا خیال ہے۔

قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا لَكَ لَا تَقُولُ فِي الطَّلَاقِ شَيْئًا ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 133

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 134

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ لَقَدْ أَدْرَكْتُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ عِشْرِينَ وَمِائَةً مِنْ الْأَنْصَارِ وَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ إِلَّا وَدَّ أَنَّ أَخَاهُ كَفَاهُ الْحَدِيثَ وَلَا يُسْأَلُ عَنْ فُتْيَا إِلَّا وَدَّ أَنَّ أَخَاهُ كَفَاهُ الْفُتْيَا

جعفر بن ایاس فرماتے ہیں میں نے سعید بن جبیر سے کہا آپ طلاق کے بارے میں کوئی فتوٰی کیوں نہیں دیتے ہیں انہوں نے جواب دیا اس معاملے کے ہر پہلو کے بارے میں مجھ سے سوال کیا جاتا ہے لیکن میں یہ بات ناپسند کرتا ہوں کہ میں کسی حرام چیز کو حلال قرار دے دوں یا حلال چیز کو حرام قرار دیدوں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 134

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 135

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ دَاوُدَ قَالَ سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ إِذَا سُئِلْتُمْ قَالَ عَلَى الْخَبِيرِ وَقَعْتَ كَانَ إِذَا سُئِلَ الرَّجُلُ قَالَ لِصَاحِبِهِ أَفْتِهِمْ فَلَا يَزَالُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْأَوَّلِ

عبدالرحمن بن ابولیلی فرماتے ہیں میں نے اس مسجد میں ایک سو بیس(120) انصاری صحابہ کرام کو پایا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی حدیث بیان نہیں کرتا تھا اس کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ اس کا کوئی بھائی حدیث بیان کردے اور ان سے جب کوئی فتوی طلب کیا جاتا تو بھی ان کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ ان کا کوئی بھائی فتوی دیدے۔

لِصَاحِبِهِ أَفْتِهِمْ فَلَا يَزَالُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْأَوَّلِ ← عَلَى الْخَبِيرِ وَقَعْتَ كَانَ إِذَا سُئِلَ الرَّجُلُ ← سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ إِذَا سُئِلْتُمْ ← دَاوُدُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 135

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 136

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ إِنَّ الْعَالِمَ يَدْخُلُ فِيمَا بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَ عِبَادِهِ فَلْيَطْلُبْ لِنَفْسِهِ الْمَخْرَجَ

داؤد بیان کرتے ہیں میں نے شعبی سے سوال کیا جب آپ حضرات سے سوال کیا جاتا ہے تو آپ کیا کرتے ہیں انہوں نے جواب دیا تم نے واقف حال شخص سے بات پوچھی ہے جب کسی شخص سے سوال کیا جاتا ہے وہ اپنے ساتھی سے یہ کہے تم انہیں فتوی دو اور اسی طرح ہوتا رہے یہاں تک کہ وہی سوال پہلے شخص کے پاس آجائے۔

إِنَّ الْعَالِمَ يَدْخُلُ فِيمَا بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَ عِبَادِهِ فَلْيَطْلُبْ لِنَفْسِهِ الْمَخْرَجَ ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 136

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 137

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مِسْعَرٍ قَالَ أَخْرَجَ إِلَيَّ مَعْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كِتَابًا فَحَلَفَ لِي بِاللَّهِ إِنَّهُ خَطُّ أَبِيهِ فَإِذَا فِيهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ عَلَى الْمُتَنَطِّعِينَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ عَلَيْهِمْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَإِنِّي لَأَرَى عُمَرَ كَانَ أَشَدَّ خَوْفًا عَلَيْهِمْ أَوْ لَهُمْ

ابن منکدر بیان کرتے ہیں کہ عالم شخص اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان داخل ہوجاتا ہے اس لئے اسے اپنے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

مِسْعَرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 137

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 138

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَاضِرٍ الْأَزْدِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَوْصِنِي فَقَالَ نَعَمْ عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالِاسْتِقَامَةِ اتَّبِعْ وَلَا تَبْتَدِعْ

مسعر بیان کرتے ہیں معن بن عبدالرحمن نے ایک تحریر میرے سامنے نکالی اور میرے سامنے اللہ کے نام پر قسم اٹھا کر یہ کہا کہ یہ ان کے والد کا خط ہے اس میں یہ تحریر تھا عبداللہ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں دیکھا جو مبالغہ آمیزی کرنے والے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت ہو اور میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں دیکھا جواس طرح کے لوگوں کے بارے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ سخت ہو اور میں حضرت عمر کو دیکھا ہے کہ وہ اس طرح کے لوگوں کے بارے میں شدید خوف کا شکار تھے۔

نَعَمْ عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالِاسْتِقَامَةِ اتَّبِعْ وَلَا تَبْتَدِعْ ← دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَوْصِنِي ← عُثْمَانَ بْنِ حَاضِرٍ الْأَزْدِيِّ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 138

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 139

أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ عَلَى الطَّرِيقِ مَا كَانَ عَلَى الْأَثَرِ

عثمان بن حاضر ازدی بیان کرتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے کوئی نصیحت کریں جواب دیا، ہاں تم اللہ کے خوف کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ استقامت کو لازم کرو۔ حدیث کی پیروی کرو بدعت کی پیروی نہ کرو۔

كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ عَلَى الطَّرِيقِ مَا كَانَ عَلَى الْأَثَرِ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 139

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 140

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَزْهَرُ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ مَا دَامَ عَلَى الْأَثَرِ فَهُوَ عَلَى الطَّرِيقِ

ابن سیرین بیان کرتے ہیں پہلے زمانے کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جب تک وہ سنت کی پیروی کرتے رہیں گے وہ صحیح راستے پر گامزن رہیں گے۔

مَا دَامَ عَلَى الْأَثَرِ فَهُوَ عَلَى الطَّرِيقِ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَزْهَرُ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 140

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 141

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ وَقَبْضُهُ أَنْ يَذْهَبَ أَهْلُهُ أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالتَّعَمُّقَ وَالْبِدَعَ وَعَلَيْكُمْ بِالْعَتِيقِ

ابن سیرین بیان کرتے ہیں آدمی جب سنت کی پیروی کرتا رہے گا وہ سیدھے راستے پر گامزن رہتا ہے ۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 141

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 142

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ وَقَبْضُهُ أَنْ يُذْهَبَ بِأَصْحَابِهِ عَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يُفْتَقَرُ إِلَيْهِ أَوْ يُفْتَقَرُ إِلَى مَا عِنْدَهُ إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَقْوَامًا يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَدْعُونَكُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَقَدْ نَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ فَعَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّبَدُّعَ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّعَمُّقَ وَعَلَيْكُمْ بِالْعَتِيقِ

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں علم کے قبض ہوجانے سے پہلے علم حاصل کرلو اس کا قبض ہوجانا یہ ہے کہ اہل علم رخصت ہوجائیں اور خبردار۔ مبالغہ آمیز باتیں کرنے سے بچو اور بال کی کھال نکالنے والوں سے اور بدعت لانے والوں سے بچو اور اپنے اوپر سنت کو لازم کرلو۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو النُّعْمَانِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 142

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 143

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ صَبِيغٌ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ وَقَدْ أَعَدَّ لَهُ عَرَاجِينَ النَّخْلِ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ صَبِيغٌ فَأَخَذَ عُمَرُ عُرْجُونًا مِنْ تِلْكَ الْعَرَاجِينِ فَضَرَبَهُ وَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ فَجَعَلَ لَهُ ضَرْبًا حَتَّى دَمِيَ رَأْسُهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَسْبُكَ قَدْ ذَهَبَ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ فِي رَأْسِي

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ علم کے رخصت ہوجانے سے پہلے علم کو اپنے اوپر لازم کرلو اس کا قبض ہوجانا یہ ہے کہ اس کے ماہرین رخصت ہوجائیں تو علم کو لازم کرلو کیونکہ تم میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جانتا کہ اسے کب اس کی ضرورت پیش آجائے یا کسی اور کو اس کے پاس موجود علم کی ضرورت پیش آجائے تم عنقریب ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو یہ گمان رکھتے ہوں گے کہ وہ تمہیں اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دے رہے ہیں حالانکہ وہ اس کتاب کو اپنی پشت کے پیچھے پھینک چکے ہوں گے اس لئے تم علم کو لازمی طور پر اختیار کرو اور بدعت کرنے سے بچو اور مبالغہ آمیزی اختیار کرنے سے بچو اور بال کی کھال نکالنے سے بچو اور سنت کو اپنے اوپر لازم کرلو۔

عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ فَجَعَلَ لَهُ ضَرْبًا حَتَّى دَمِيَ رَأْسُهُ ← عَبْدُ اللَّهِ صَبِيغٌ فَأَخَذَ عُمَرُ عُرْجُونًا مِنْ تِلْكَ الْعَرَاجِينِ فَضَرَبَهُ ← مَنْ أَنْتَ ← مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ وَقَدْ أَعَدَّ لَهُ عَرَاجِينَ النَّخْلِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ صَبِيغٌ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَسْأَلُ ← يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 143

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 144

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَاحْذَرُوهُمْ

حضرت سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں ایک شخص جس کا نام صبیغ تھا وہ مدینہ آیا اور قرآن کے متشابہات کے بارے میں سوال کرنے لگا حضرت عمر نے اس کی طرف ایک شخص کو بھیجا اور اس شخص کے لئے کچھ کھجور کی شاخوں کی سوٹیاں تیار کرلیں حضرت عمر نے دریافت کیا تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا میں اللہ کا بندہ صبیغ ہوں۔ حضرت عمر نے ان سوٹیوں میں سے ایک سوٹی پکڑی اور اسے مار کر کہا میں اللہ بندہ عمر ہوں حضرت عمر لگا تار اسے مارتے رہے یہاں تک کہ اس کے سر میں سے خون نکلنے لگا وہ بولا اے امیرالمومنین اتنا ہی کافی ہے کیونکہ میرے دماغ میں جوفتور موجود تھا وہ چلا گیا ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← حماد بن سلمة ويزيد بن ابراهيم ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 144

chevron_left Previous
1…111213…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door