Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 121

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَقُولُ إِذَا سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ أَكَانَ هَذَا فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ قَدْ كَانَ حَدَّثَ فِيهِ بِالَّذِي يَعْلَمُ وَالَّذِي يَرَى وَإِنْ قَالُوا لَمْ يَكُنْ قَالَ فَذَرُوهُ حَتَّى يَكُونَ

حماد بن یزید بیان کرتے ہیں میرے والد یہ بات بیان کرتے ہیں ایک دن ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جس کا مجھے پتہ نہ چل سکا کہ وہ کیا معاملہ تھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ ایسا سوال نہ کیا کرو جو پیش نہ آیا ہو کیونکہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو ایسے شخص پر لعنت کرتے سنا ہے جو ایسا سوال کرتا تھا جو پیش نہ آیا ہو۔

فَذَرُوهُ حَتَّى يَكُونَ ← لَمْ يَكُنْ ← نَعَمْ قَدْ كَانَ حَدَّثَ فِيهِ بِالَّذِي يَعْلَمُ وَالَّذِي يَرَى وَإِنْ ← الْأَمْرِ أَكَانَ هَذَا فَإِنْ ← إِذَا سُئِلَ ← بَلَغَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 121

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 122

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سُئِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَقَالَ هَلْ كَانَ هَذَا بَعْدُ قَالُوا لَا قَالَ دَعُونَا حَتَّى تَكُونَ فَإِذَا كَانَتْ تَجَشَّمْنَاهَا لَكُمْ

حضرت زید بن ثابت انصاری کے بارے میں منقول ہے جب ان سے کسی معاملے کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو وہ یہ دریافت کرتے کہ کیا یہ درپیش ہوچکا ہے اگر لوگ یہ جواب دیتے جی ہاں پیش آچکا ہے تو حضرت زید بن ثابت اپنے علم یا اپنی رائے کے مطابق اس بارے میں بیان کردیتے لیکن اگر لوگ یہ کہتے کہ یہ پیش نہیں آیا تو حضرت زید یہ فرماتے اسے اس وقت تک رہنے دو جب تک پیش نہ آجائے۔

دَعُونَا حَتَّى تَكُونَ فَإِذَا كَانَتْ تَجَشَّمْنَاهَا لَكُمْ ← لَا۔ ← مَسْأَلَةٍ فَقَالَ هَلْ كَانَ هَذَا بَعْدُ ← سُئِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ، ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 122

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 123

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ أُحَرِّجُ بِاللَّهِ عَلَى رَجُلٍ سَأَلَ عَمَّا لَمْ يَكُنْ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ بَيَّنَ مَا هُوَ كَائِنٌ

حضرت عمار بن یاسر سے ایک مسئلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے دریافت کیا کیا یہ پیش آچکا ہے لوگوں نے جواب دیا نہیں فرمایا اسے اس وقت تک رہنے دو جب تک پیش نہ آجائے گا تو ہم اس کی وجہ سے تمہارے لئے مشقت برداشت کرلیں گے۔

طَاوْسٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 123

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 124

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ قَوْمًا كَانُوا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَأَلُوهُ إِلَّا عَنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ كُلُّهُنَّ فِي الْقُرْآنِ مِنْهُنَّ يَسْأَلُونَكَ عَنْ الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قَالَ مَا كَانُوا يَسْأَلُونَ إِلَّا عَمَّا يَنْفَعُهُمْ

حضرت عمر نے برسر منبر یہ بات ارشاد فرمائی میں اس شخص کو اللہ کا نام لے کر منع کرتا ہوں جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو ظہور پذیر نہیں ہوئی بے شک اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان کردیا جو کچھ بھی ہوگا۔

مَا كَانُوا يَسْأَلُونَ إِلَّا عَمَّا يَنْفَعُهُمْ ← الْمَحِيضِ ← الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَيَسْأَلُونَكَ ← ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ كُلُّهُنَّ فِي الْقُرْآنِ مِنْهُنَّ يَسْأَلُونَكَ ← مَا رَأَيْتُ قَوْمًا كَانُوا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ مَا سَأَلُوهُ إِلَّا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدٌ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 124

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 125

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ لَمَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَبَقَنِي مِنْهُمْ فَمَا رَأَيْتُ قَوْمًا أَيْسَرَ سِيرَةً وَلَا أَقَلَّ تَشْدِيدًا مِنْهُمْ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے زیادہ کوئی قوم نہیں دیکھی ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال فرمانے تک صرف تیرہ چیزوں کے بارے میں سوال کیا تھا اور ان سب کا ذکر قرآن میں موجود ہے جس میں ایک آیت یہ (يَسْأَلُونَكَ عَنْ الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ ) ہے۔ لوگ تم سے حرمت والے مہینوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ " لوگ تم سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں " ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ وہی سوال کرتے ہیں جس سے ان کو نفع حاصل ہو۔

عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَقَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 125

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 126

أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ الْكِنْدِيَّ وَسُئِلَ عَنْ امْرَأَةٍ مَاتَتْ مَعَ قَوْمٍ لَيْسَ لَهَا وَلِيٌّ فَقَالَ أَدْرَكْتُ أَقْوَامًا مَا كَانُوا يُشَدِّدُونَ تَشْدِيدَكُمْ وَلَا يَسْأَلُونَ مَسَائِلَكُمْ

عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جتنے اصحاب کو پایا ہے ان کی تعداد اس سے زیادہ ہے جو اصحاب مجھ سے پہلے گزر چکے تھے میں نے کسی بھی قوم کو سیرت کے اعتبار سے ان سے زیادہ نرم نہیں پایا اور شدت پسندی میں کم ہونے کے اعتبار سے ان سے زیادہ بہتر نہیں پایا۔

امْرَأَةٍ مَاتَتْ مَعَ قَوْمٍ لَيْسَ لَهَا وَلِيٌّ ← عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ الْكِنْدِيَّ وَسُئِلَ ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 126

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 127

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ بِمَرْجِ الدِّيبَاجِ فَرَأَيْتُ مِنْهُ خَلْوَةً فَسَأَلْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَقَالَ لِي مَا تَصْنَعُ بِالْمَسَائِلِ قُلْتُ لَوْلَا الْمَسَائِلُ لَذَهَبَ الْعِلْمُ قَالَ لَا تَقُلْ ذَهَبَ الْعِلْمُ إِنَّهُ لَا يَذْهَبُ الْعِلْمُ مَا قُرِئَ الْقُرْآنُ وَلَكِنْ لَوْ قُلْتَ يَذْهَبُ الْفِقْهُ

عبادہ بن نسی کندی کے بارے میں منقول ہے ان سے ایک ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کچھ لوگوں کے ہمراہ مرجاتی ہے اس عورت کا کوئی ولی نہیں ہے تو انہوں جواب دیا میں نے ان حضرات کو پایا ہے جو تمہاری طرح تشدد سے کام نہیں لیتے تھے اور تمہاری طرح کے سوالات نہیں پوچھا کرتے تھے۔

لِي مَا تَصْنَعُ بِالْمَسَائِلِ قُلْتُ لَوْلَا الْمَسَائِلُ لَذَهَبَ الْعِلْمُ ← مَسْأَلَةٍ ← كُنْتُ مَعَ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ بِمَرْجِ الدِّيبَاجِ فَرَأَيْتُ مِنْهُ خَلْوَةً فَسَأَلْتُهُ ← هِشَامِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ ← خَالِدُ بْنُ حَازِمٍ ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 127

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 128

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا لَا نَدْرِي لَعَلَّنَا نَأْمُرُكُمْ بِأَشْيَاءَ لَا تَحِلُّ لَكُمْ وَلَعَلَّنَا نُحَرِّمُ عَلَيْكُمْ أَشْيَاءَ هِيَ لَكُمْ حَلَالٌ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَ مِنْ الْقُرْآنِ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُبَيِّنْهَا لَنَا حَتَّى مَاتَ فَدَعُوا مَا يَرِيبُكُمْ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكُمْ

ہشام بن مسلم قرشی بیان کرتے ہیں میں ابن محیریز کے ہمراہ مرج دیباج میں تھا جب میں نے انہیں تنہا دیکھا تو میں نے ان سے ایک مسئلہ دریافت کیا انہوں نے مجھ سے فرمایا تم مسائل کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا اگر مسائل نہ ہوں تو علم رخصت ہو جائے گا انہوں نے فرمایا تم یہ نہ کہو کہ علم رخصت ہوجائے گا جب تک قرآن پڑھاجاتا رہے گا علم رخصت نہیں ہوگا البتہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ فقہ رخصت ہوجائے گی۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ ← دَاوُدُ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 128

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 129

أَخْبَرَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ عَمِّهِ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ إِبْرَاهِيمَ فَاسْتَقْبَلَنِي حَمَّادٌ فَحَمَّلَنِي ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ مَسَائِلَ فَسَأَلْتُهُ فَأَجَابَنِي عَنْ أَرْبَعٍ وَتَرَكَ أَرْبَعًا

شعبی بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے ارشاد فرمایا ہے اے لوگو بے شک ہم نہیں جانتے ہوسکتا ہے ہم تم میں ایسی اشیاء کو حرام قرار دیں جو تمہارے لئے حلال ہوں قرآن میں سب سے آخر میں سود سے متعلق آیت نازل ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی وضاحت نہیں کی۔ یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا اس لئے جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑا کر اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں مبتلا نہ کرے۔

أَرْبَعٍ وَتَرَكَ أَرْبَعًا ← خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ إِبْرَاهِيمَ فَاسْتَقْبَلَنِي حَمَّادٌ فَحَمَّلَنِي ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ مَسَائِلَ فَسَأَلْتُهُ فَأَجَابَنِي ← عَمِّہٖ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 129

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 130

أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ زُبَيْدٍ قَالَ مَا سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ

ابن ادریس اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں ابراہیم کے پاس اٹھ کر آیا تو میرا سامنا حماد سے ہوا میں نے آٹھ مسائل یاد کئے تھے میں نے ان سے پوچھے تو انہوں نے چار کے جواب دیئے اور چار کے جواب نہیں دیئے۔

شَيْءٍ إِلَّا عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ ← مَا سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ ← زُبَيْدٍ، ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 130

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 131

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ لَا عِلْمَ لِي بِهِ مِنْ الشَّعْبِيِّ

زبید بیان کرتے ہیں میں نے ابراہیم سے جب بھی کوئی سوال کیا تو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔

شَيْءٍ لَا عِلْمَ لِي بِهِ مِنْ الشَّعْبِيِّ ← إِذَا سُئِلَ ← مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ أَنْ ← عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ← إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 131

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 132

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَالَ كَانَ الشَّعْبِيُّ إِذَا جَاءَهُ شَيْءٌ اتَّقَى وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ يَقُولُ وَيَقُولُ وَيَقُولُ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ كَانَ الشَّعْبِيُّ فِي هَذَا أَحْسَنَ حَالًا عِنْدَ ابْنِ عَوْنٍ مِنْ إِبْرَاهِيمَ

عمر بن ابوزائدہ بیان کرتے ہیں میں نے شعبی سے زیادہ کسی شخص کو جب اس سے کسی چیز کے بارے میں یہ سوال کیا گیا ہو یہ جواب دیتے ہوئے نہیں دیکھا مجھے اس کا علم نہیں ہے۔

كَانَ الشَّعْبِيُّ إِذَا جَاءَهُ شَيْءٌ اتَّقَى وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ ← يَذْكُرُ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 132

chevron_left Previous
1…101112…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door