Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 109

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ قَالَ لَأَنْ يَعِيشَ الرَّجُلُ جَاهِلًا بَعْدَ أَنْ يَعْلَمَ حَقَّ اللَّهِ عَلَيْهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ

عکرمہ بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اس نے گذشہ دن اپنی بیوی کو آٹھ طلاقیں دی ہیں حضرت عبداللہ نے دریافت کیا کہ ایک ہی جملے کے ذریعے؟ اس نے جواب دیا کہ ایک ہی جملے کے ذریعے ۔ حضرت عبداللہ بولے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری بیوی سے الگ کر دیں اس نے جواب دیا ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور بولا اس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں۔ حضرت عبداللہ نے جواب دیا اسی جملے کے ذریعے اس نے جواب دیا ہاں حضرت عبداللہ بولے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری بیوی سے الگ کردیں اس نے جواب دیا ہاں۔ اسی جملے کے ذریعے۔ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا جو شخص اس طرح طلاق دے جیسے اللہ نے حکم دیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کا حکم واضح کر دیا ہے اور جو شخص اپنے حوالے سے غلط فہمی کا شکار ہو ہم اسے اس غلطی کے سپرد کرتے ہیں اللہ کی قسم یہ نہیں ہوسکتا تم اپنی ذات کے حوالے سے ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کرو اور ہم اپنے اوپر بوجھ ڈال کر وہی کہیں جو تم چاہتے ہو۔

الْقَاسِمِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 109

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 110

101. أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُسْأَلُ قَالَ إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ كُلَّ مَا تَسْأَلُونَ عَنْهُ وَلَوْ عَلِمْنَا مَا كَتَمْنَاكُمْ وَلَا حَلَّ لَنَا أَنْ نَكْتُمَكُمْ

قاسم بیان کرتے ہیں ایک شخص جسے اپنی ذات کے بارے میں اللہ کے حق کا پتہ چل جائے اس کے بعد اس کا جاہل کے طور پر زندہ رہنا اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ ایسی چیز بیان کرے جس کا اسے علم نہیں ہے۔

الْقَاسِمَ يُسْأَلُ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 110

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 111

101. أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ سُئِلَ الْقَاسِمُ عَنْ شَيْءٍ قَدْ سَمَّاهُ فَقَالَ مَا أَضْطَرُّ إِلَى مَشُورَةٍ وَمَا أَنَا مِنْ ذَا فِي شَيْءٍ

ایوب بیان کرتے ہیں کہ قاسم سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا بے شک اللہ کی قسم ہمیں ہر اس چیز کا علم نہیں ہوتا جس کے بارے میں تم دریافت کرتے ہو اور اگر ہمیں علم ہو تو ہم تم سے نہ چھپائیں اور نہ ہی ہمارے لئے اس بات کو چھپانا جائز ہے۔

مِنْ ذَا فِي شَيْءٍ ← شَيْءٍ قَدْ سَمَّاهُ فَقَالَ مَا أَضْطَرُّ إِلَى مَشُورَةٍ وَمَا ← سُئِلَ الْقَاسِمُ ← ابْنِ عَوْنٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 111

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 112

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى قَالَ قُلْتُ لِلْقَاسِمِ مَا أَشَدَّ عَلَيَّ أَنْ تُسْأَلَ عَنْ الشَّيْءِ لَا يَكُونُ عِنْدَكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ إِمَامًا قَالَ إِنَّ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ عَنْ اللَّهِ أَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ أَرْوِيَ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ

قاسم سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جسے وہ بتا چکے انہوں نے ارشاد فرمایا مجھے کسی مشورے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی میں اس معاملے میں مجبور ہوں۔

غَيْرِ ثِقَةٍ ← اللَّهِ أَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ أَرْوِيَ ← إِنَّ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ مَنْ عَقَلَ ← الشَّيْءِ لَا يَكُونُ عِنْدَكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ إِمَامًا ← قُلْتُ لِلْقَاسِمِ مَا أَشَدَّ عَلَيَّ أَنْ تُسْأَلَ ← يَحْيَى ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 112

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 113

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ عَنْ الْعَوَّامِ بِهَذَا

یحیی بیان کرتے ہیں کہ میں نے قاسم سے کہا کہ مجھے یہ بات بہت بری لگتی ہے کہ آپ سے کسی چیز کا سوال کیا جائے اور آپ کے پاس اس کا جواب نہ ہو آپ کے والد جلیل القدر امام ہیں توقاسم نے جواب دیا اللہ کے نزدیک اور عقل والے کے نزدیک یہ بات شدید بری ہوگی کہ میں نے علم نہ ہونے کے باوجود فتوی دیا یا کسی غیر مستند راوی کے حوالے سے روایت نقل کروں۔

الْعَوَّامِ بِهَذَا ← يَزِيدُ: ← عَبْدُ اللَّهِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 113

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 114

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ الْعَوَّامِ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ كَانُوا إِذَا نَزَلَتْ بِهِمْ قَضِيَّةٌ لَيْسَ فِيهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثَرٌ اجْتَمَعُوا لَهَا وَأَجْمَعُوا فَالْحَقُّ فِيمَا رَأَوْا فَالْحَقُّ فِيمَا رَأَوْا

الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← العوام ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 114

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 115

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ أَنَّ وَهْبَ بْنَ عَمْرٍو الْجُمَحِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَعْجَلُوا بِالْبَلِيَّةِ قَبْلَ نُزُولِهَا فَإِنَّكُمْ إِنْ لَا تَعْجَلُوهَا قَبْلَ نُزُولِهَا لَا يَنْفَكُّ الْمُسْلِمُونَ وَفِيهِمْ إِذَا هِيَ نَزَلَتْ مَنْ إِذَا قَالَ وُفِّقَ وَسُدِّدَ وَإِنَّكُمْ إِنْ تَعْجَلُوهَا تَخْتَلِفْ بِكُمْ الْأَهْوَاءُ فَتَأْخُذُوا هَكَذَا وَهَكَذَا وَأَشَارَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ

مسیب بن رافع بیان کرتے ہیں لوگوں کے درمیان جب بھی کوئی نیا معاملہ پیش ہوتا اور اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث منقول نہ ہوتی تو وہ لوگ اکٹھے ہو کر کسی ایک چیز پر اتفاق کرلیتے۔ ان کی جور ائے ہوتی تھی وہی حق ہوتا تھا۔یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ أَنَّ وَهْبَ بْنَ عَمْرٍو الْجُمَحِيَّ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 115

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 116

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ يَحْدُثُ لَيْسَ فِي كِتَابٍ وَلَا سُنَّةٍ فَقَالَ يَنْظُرُ فِيهِ الْعَابِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ

حضرت وہب بن عمرو بن جمحی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کسی آزمائش کے لازم ہونے سے پہلے سے اپنی طرف سے گھڑنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ اگر تم اس کے بارے جلدی نہیں کرو گے تو اس کے نازل ہونے سے پہلے مسلمان اس بارے میں الگ نہیں ہوں گے اور جب یہ صورت حال پیش آئے گی تو کوئی ایک ایسا شخص ضرور گا جسے صحیح جواب کی توفیق دی گئی ہوگی اور اس کی مدد کی گئی ہوگی لیکن اگر تم اس کی جلدی کرو گے تو تمہاری آرا ایک دوسرے سے مختلف ہوجائیں گی کوئی شخص ادھر جارہا ہوگا کوئی شخص ادھر جارہا ہوگا ۔ راوی کا بیان ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے دائیں اور بائیں طرف اشارہ کیا۔

أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 116

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 117

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ قَالَ الْقَاسِمُ إِنَّكُمْ لَتَسْأَلُونَا عَنْ أَشْيَاءَ مَا كُنَّا نَسْأَلُ عَنْهَا وَتُنَقِّرُونَ عَنْ أَشْيَاءَ مَا كُنَّا نُنَقِّرُ عَنْهَا وَتَسْأَلُونَ عَنْ أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا هِيَ وَلَوْ عَلِمْنَاهَا مَا حَلَّ لَنَا أَنْ نَكْتُمَكُمُوهَا

حضرت ابوسلمہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معاملے کے بارے میں سوال کیا گیا جو نیا لاحق ہوا تھا اور اس بارے میں کسی کتاب یا سنت کا حکم موجود نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس طرح کے معاملے کے بارے میں اہل ایمان میں سے عبادت گزار لوگ جائزہ لیں گے۔

أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا هِيَ وَلَوْ عَلِمْنَاهَا مَا حَلَّ لَنَا أَنْ نَكْتُمَكُمُوهَا ← أَشْيَاءَ مَا كُنَّا نُنَقِّرُ عَنْهَا وَتَسْأَلُونَ ← أَشْيَاءَ مَا كُنَّا نَسْأَلُ عَنْهَا وَتُنَقِّرُونَ ← الْقَاسِمُ إِنَّكُمْ لَتَسْأَلُونَا ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 117

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 118

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ هُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ إِنَّهُ سَيَأْتِي نَاسٌ يُجَادِلُونَكُمْ بِشُبُهَاتِ الْقُرْآنِ فَخُذُوهُمْ بِالسُّنَنِ فَإِنَّ أَصْحَابَ السُّنَنِ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ

قاسم بیان کرتے ہیں تم لوگ ایسے ہی اشیاء کے بارے میں سوال کرتے ہوجن کے بارے میں ہم سوال نہیں کرتے تھے اور تم لوگ ایسی اشیاء کے بارے میں بحث کرتے ہو جن کے بارے میں ہم بحث نہیں کرتے تھے تم لوگ ایسی اشیاء کے بارے میں سوال کرتے ہو کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کا حکم کیا ہے اور اگر مجھے اس کا علم ہوتا تو یہ بات ہمارے لئے جائز نہیں تھی کہ ہم ان باتوں کو تم سے چھپاتے۔

عُمَرَ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 118

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 119

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ مَا زَالَ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ حَتَّى نَشَأَ فِيهِمْ الْمُوَلَّدُونَ أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ أَبْنَاءُ النِّسَاءِ الَّتِي سَبَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ مِنْ غَيْرِهِمْ فَقَالُوا فِيهِمْ بِالرَّأْيِ فَأَضَلُّوهُمْ

عمر بن اشج بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کے متاشابہات کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کریں گے تم سنت کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنا کیونکہ سنت کے ماہرین ہی اللہ کی کتاب کا علم رکھتے ہیں۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ ← عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 119

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 120

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يَوْمًا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ لَا تَسْأَلْ عَمَّا لَمْ يَكُنْ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَلْعَنُ مَنْ سَأَلَ عَمَّا لَمْ يَكُنْ

حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں بنی اسرائیل کا معاملہ اس وقت تک ٹھیک رہا اور ان میں کوئی خرابی نہیں آئی یہاں تک کہ ان میں باہر سے پیدا ہونے والے بچوں نے نشوونما نہیں پائی یہ مختلف اقوام کے بچے تھے یہ ان عورتوں کے اولاد تھے جنہیں بنی اسرائیل نے دوسری اقوام میں سے قیدی بنایا تھا ان لوگوں نے رائے کے مطابق بات کہنا شروع کی اور انہیں گمراہ کر دیا۔

لَهُ ابْنُ عُمَرَ لَا تَسْأَلْ عَمَّا لَمْ يَكُنْ فَإِنِّي ← شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ ← جَاءَ رَجُلٌ يَوْمًا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ ← أَبِي ← حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 120

Sahih

chevron_left Previous
1…91011…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door