Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی - سنن

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan

by Tibrani

1,197 Hadith92 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1021

سیدنا سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں: ایک آدمی اپنے بھائی کو حیا کے متعلق نصیحت کر رہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو کیونکہ حیا ایمان میں سے ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1021

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1022

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک عطیہ عطیہ رہے اس کو تم لے سکتے ہو، مگر جب قرض پر رشوت بن جائے تو وہ ہرگز نہ لو، اور تم اسے چھوڑ نہیں سکوگے کیونکہ تمہاری ضرورت اور فقیری تمہیں نہ لینے سے روکے گی۔ خبردار! ناز و نخرہ کرنے والوں کی چکی گھوم گئی ہے۔ اور ان کی اولاد قتل ہو چکی ہے۔ خبردار! اسلام کی چکی گھوم رہی ہے، تم بھی کتاب اللہ کے ساتھ گھومو۔ خبردار! کتاب اور حکمران الگ الگ ہوجائیں گے لیکن تم کتاب سے الگ نہ ہونا۔ خبردار! عنقریب تمہارے حکمران ہوں گے جو تمہارے لیے ایسے فیصلے کریں گے کہ اگر تم ان کی اطاعت کرو تو گمراہ ہو جاؤ گے، اور اگر ان کی نافرمانی کرو تو وہ تمہیں قتل کریں گے۔“ صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تم ہم کیا کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے کیا، ان کو آروں سے چیرا گیا، انہیں سولی پر لٹکایا گیا، بھلائی میں مرنا اللہ کی نافرمانی میں مرنے سے بہتر ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1022

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1023

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہا: ”برے دوست سے ڈرو اور بچو۔“ یا یوں معنی ہے کہ ”گناہوں اور ان کی سزا سے بچو۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1023

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1024

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے دو جبڑوں کے درمیان (زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز (شرمگاہ) کا میرے لیے ضامن ہو جائے تو میں اس کے لیے جنّت کا ضامن ہو جاتا ہوں۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1024

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1025

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت گر کی ملامت کسی اچھے کام میں رکاوٹ نہ بنے، اور میں اپنے سے پست آدمی کی طرف دیکھوں اور جو مجھ سے اونچا ہے اسے نہ دیکھوں، اور مجھے مساکین کے ساتھ محبت کرنے اور ان کے قریب ہونے کی وصیت فرمائی۔ اور مجھے سچ کہنے کی وصیت کی اگرچہ کڑوا ہو، اور مجھے صلہ رحمی کا حکم دیا اگرچہ وہ پیٹھ پھیر لے، اور یہ وصیت کی کہ میں کسی سے کچھ بھی سوال نہ کروں، اور یہ کہ میں زیادہ تر لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ پڑھوں، کیونکہ یہ جنّت کے خزانوں میں سے ہے۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1025

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1026

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم صبح کو نکلو تو یا عالم ہو، یا متعلم و علم سکھانے والے ہو، یا سننے والے، یا دوستی رکھنے والے بنو، پانچویں قسم کے آدمی نہ بننا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1026

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1027

سیدنا محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: کسی شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تو نے ہمیں ہر چیز میں فتویٰ دے رکھا ہے، قریب ہے کہ پاخانہ کرنے میں بھی ہمیں فتویٰ دینے لگیں گے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”جو شخص پاخانہ اور پلیدی مسلمانوں کے کسی راستے میں کرے گا، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1027

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1028

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کونسا آدمی سب سے بہتر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو۔“ اس نے کہا: اور برا کون ہے؟ فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1028

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1029

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے معاملے میں مداہنت کرنے والے اور اللہ کے حقوق قائم کرنے والے کی مثال اس قوم کی طرح ہے جو ایک کشتی میں بیٹھے تو ایک آدمی کو ایک جگہ مل گئی اور وہ کہنے لگا: یہ تمہارا راستہ ہے اور مجھ پر سے تمہاری یہ گزرگاہ ہے، میں یہاں ایک سوراخ کر لوں گا پھر اس سوراخ سے وضو کر لوں گا اور وہاں سے پانی بھی لے لوں گا، اور اس طرح اپنی ضرورت پوری کرلوں گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر انہوں نے اسے چھوڑ دیا کہ وہ سوراخ کر لے تو وہ خود بھی ہلاک ہو جائے گا اور انہیں بھی ہلاک کر دے گا۔ اور اگر انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو وہ بھی نجات حاصل کرے گا اور وہ سارے بھی بچ جائیں گے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1029

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1030

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے، اس نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین کھجوریں دیں، گویا ان تینوں کے لیے ایک ایک کھجور تھی، اس نے اپنے بیٹوں کو ایک ایک کھجور دی۔ انہوں نے وہ کھا لیں، پھر وہ دونوں اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگے تو اس نے تیسری کھجور پھاڑ کر دونوں میں نصف نصف بانٹ دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بیٹوں پر رحم کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس عورت پر بھی رحم کر دیا۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1030

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1031

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ پر یہ گواہی دیتا ہوں کہ عقل مند شخص جب لغزش کھائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اور اونچا کرتا ہے، پھر جب وہ پھسلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اونچا کرتا ہے، پھر اگر وہ پھسل جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند فرماتے ہیں یہاں تک کہ جنّت میں داخل ہوجاتا ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1031

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ باب · حديث 1032

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یعقوب علیہ السلام کا ایک منہ بولا بھائی تھا، اس نے ایک دن یعقوب علیہ السلام سے کہا: یعقوب! تمہاری نظر کیوں چلی گئی اور پیٹھ ٹیڑھی کیوں ہوگئی؟ انہوں نے کہا: یوسف علیہ السلام پر رونے سے میری نظر جاتی رہی اور اپنے بیٹے بنیامین کے غم نے میری پیٹھ ٹیڑھی کر دی۔ اسی وقت جبریل علیہ السلام آگئے اور کہنے لگے: اے یعقوب علیہ السلام! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتے ہیں۔ اور کہتے ہیں: کیا تم حیا محسوس نہیں کرتے کہ میری شکایت میرے علاوہ اور لوگوں سے کر رہے ہو، تو یعقوب علیہ السلام کہنے لگے: ﴿إِنَّمَا أَشْكُوْ بَثِّيْ وَحُزْنِيْ إِلَى اللّٰهِ﴾ ”یقیناًً میں اپنے دکھ اور غم کی شکایت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف کرتا ہوں۔“ جبریل علیہ السلام نے کہا: اے یعقوب! آپ جس کی طرف شکایت کرتے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتے ہیں۔ پھر یعقوب علیہ السلام کہنے لگے: اے میرے رب! کیا تم بڑے بوڑھے پر رحم نہیں کرتے، اے اللہ تعالیٰ! تو نے میری نظر لے لی، میری پیٹھ ٹیڑھی کر دی، تو میرا پھول یوسف مجھے واپس دے دے تاکہ میں اس کو اپنی موت سے پہلے سونگھ لوں، اے اللہ! پھر جو سلوک مجھ سے کرنا چاہو کرلینا۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے اور کہنے لگے: یعقوب! اللہ تعالیٰ تمہیں سلام کہتے ہیں اور یہ ارشاد فرماتے ہیں: ”خوش ہوجاؤ اور تمہارا دل خوش ہو جائے، مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے اگر وہ دونوں مر بھی گئے ہوتے تو میں ضرور انہیں تمہارے لیے زندہ کر دیتا۔ اب تم مساکین کے کھانے کا انتظام کرو کیونکہ مجھے سب سے پیارے بندے مساکین ہیں اور تم جانتے ہو تیری نظر کیوں لے لی تھی، اور تیری پیٹھ کیوں ٹیڑھی کر دی تھی، اور یوسف کے بھائیوں نے جو کچھ بھی کہا وہ کیوں کر دیا، کیونکہ تم نے ایک بکری ذبح کی تو تمہارے پاس مسکین آیا حالانکہ وہ روزہ دار تھا تو تم نے اسے کھانا نہیں دیا۔“ اور یعقوب علیہ السلام اس کے بعد جب صبح کا کھانا کھانے کا ارادہ کرتے تو ایک منادی کرنے والا بھیجتے جو یہ منادی کرتا کہ اگر مساکین سے کوئی شخص روزہ دار ہے تو وہ آئے اور یعقوب علیہ السلام کے ساتھ روزہ افطار کرے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Slave Book › Chapter · Hadith 1032

Daif

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Faith
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The Book of Purity
    0. Chapter
4. The Azan Book
    0. Chapter
5. Book of mosques
    0. Chapter
6. The Book of Prayer
    0. Chapter
7. The Asc'a Book
    0. Chapter
8. The funeral book and the remembrance of death
    0. Chapter
9. The fasting book
    0. Chapter
10. The Book of Zakat
    0. Chapter
11. Snapshot book
    0. Chapter
12. The Hajj and Umrah Book
    0. Chapter