Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی - سنن

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan

by Tibrani

1,197 Hadith92 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 884

سیدنا سائب بن یزید رحمہ اللہ کے غلام عطا کہتے ہیں: میں نے سائب بن یزید کی داڑھی سفید دیکھی جب کہ ان کا سر سفید نہیں ہوا، تو میں نے انہیں کہا: اے میرے مولیٰ! کیا وجہ ہے کہ آپ کا سر سفید نہیں ہوا؟ انہوں نے کہا: کبھی بھی سفید نہیں ہو گا، اس لیے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو سلام کہا، تو بچوں میں سے میں نے سلام کا جواب دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”تیرا کیا نام ہے؟“ میں نے کہا: سائب بن یزید بن اخت النمر، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت کرے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی جگہ کبھی سفید نہیں ہوتی۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 884

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 885

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسن بن علی رضی اللہ عنہما بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میرا یہ بیٹا سیّد ہے، اور اللہ عز و جل اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں عنقریب صلح کرا دے گا۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 885

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 886

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن، سیدنا حسین رضی اللہ عنہم اجمعین کو فرمایا: ”جو شخص تم سے جنگ کرے میں بھی اس کے ساتھ جنگ میں ہوں، اور جو شخص تم سے صلح میں ہو میں بھی اس کے ساتھ صلح میں ہوں۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 886

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 887

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نبی کا ایک خاص معاون اور مددگار ہوتا ہے، اور میرا معاون زبیر ہے، جو میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 887

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 888

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کبھی کسی عورت کو نہیں مارا، اور نہ کسی اور چیز کو اپنے ہاتھ سے مارا ہے مگر یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں، اور جو تکلیف بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ساتھی سے پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کبھی انتقام نہیں لیا۔ مگر جب اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی ہتک اور توہین ہوتی تو اللہ کے لیے اس کا انتقام لیتے تھے۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 888

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 889

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تمہارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گالیاں دئیے جاتے ہیں؟ ابوعبداللہ جدلی نے کہا: میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ کیسے ہو سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے گالیاں دیئے جاتے ہیں؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں نہیں دی جاتیں، اور اس کو بھی جو ان سے محبت کرتا ہے؟ میں گواہی دیتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 889

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 890

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تو مجھ سے اس طرح ہے جس طرح ہارون علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام سے تھے، مگر اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 890

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 891

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرے اہلِ بیت کی مثال اس طرح ہے جس طرح نوح علیہ السلام کی کشتی ہے، جو اس میں سوار ہوگیا نجات پاگیا، جو پیچھے رہ گیا غرق ہوگیا۔ اور میرے اہلِ بیت کی مثال تم میں ایسے ہے جیسی بنی اسرائیل میں باب حطۃ تھا، جو اس میں داخل ہوگیا اس کے گناہ معاف ہو گئے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 891

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 892

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پچیس دفعہ بخشش کی دعا مانگی، ہر دفعہ میں اپنے ہاتھوں سے شمار کرتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنے باپ کا قرضہ ادا کر دیا ہے؟“ تو میں کہتا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اللہ تعالیٰ تجھے معاف کر دے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 892

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 893

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے تشریف لائے تو میں اس وقت آٹھ سال کا تھا، تو میری ماں مجھے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے علاوہ انصار کے مردوں اور عورتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے پیش کئے گئے، مگر میرے پاس تو کوئی ایسا تحفہ نہیں جو آپ کی خدمت میں پیش کروں، ہاں میرے پاس یہ ایک میرا بیٹا ہے، اس کو آپ قبول فرما لیجئے، آپ جو بھی فرمائیں گے یہ آپ کی خدمت بجا لائے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھے نہیں مارا، اور نہ ہی کبھی گالی دی، اور نہ کبھی ماتھے پر شکن ڈالی، سب سے بہتر جو وصیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمائی یہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا! میرا بھید چھپا کر رکھنا تو تو مؤمن ہو جائے گا۔“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھید کبھی کسی کو نہیں بتایا، یہاں تک کہ اپنی ماں کو بھی نہیں بتایا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھید کے متعلق پوچھتیں تو میں انہیں بھی نہیں بتاتا، اور میں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”بیٹا! وضو مکمل کرو تیری عمر میں اضافہ ہو گا، اور تیرے فرشتے محافظ و نگہبان تجھ سے محبت کریں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا! اگر طاقت رکھتے ہو کہ با وضو ہو کر سو جاؤ تو اس طرح ضرور کرو کیونکہ جس کو باوضو حالت میں موت آجائے تو اسے شہادت کا مرتبہ ملے گا۔“ پھر فرمایا: ”اگر ہمیشہ نماز ادا کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو ضرور پڑھو کیونکہ فرشتے ہمیشہ تم پر رحم کی دعا کرتے رہیں گے جب تک تم نماز پڑھتے رہو گے۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! نماز میں اِدھر اُدھر توجہ کرنے سے بچو کیونکہ نماز میں اِدھر اُدھر توجہ کر نا ہلاکت ہے، اگر ضروری ہو تو نفل میں کر لو، فرض نماز میں ایسے نہ کرنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلی کو اپنے گھٹنوں پر رکھو، اور اپنی انگلیاں کھول کر رکھو، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے علیحدہ رکھو، جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو ہر جوڑ اپنی اپنی جگہ پر آجانا چاہیے، کیونکہ جو شخص رکوع اور سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی طرف نظر نہیں فرمائیں گے۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! جب سجدہ کرو تو مرغ کی طرح ٹھونگے نہ مارو، اور اس طرح نہ بیٹھو جس طرح کتا بیٹھتا ہے، اور درندے کی طرح اپنی کلائیوں کو بچھاؤ بھی نہیں، اور اپنے پاؤں کی پشت کو زمین پر بچھا دو، اور اپنے سرین اپنی ایڑیوں پر رکھو، کیونکہ اس طرح نماز ادا کرنا تیرے حساب کو قیامت کے روز تجھ پر آسان کر دے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا! جنابت کا غسل اچھی طرح کرو، جب تم غسل خانے سے باہر آؤ گے تو تم پر کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ باقی نہ رہے گا۔“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، غسل میں مبالغہ کرنا اور اچھی طرح کرنا کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بالوں کی جڑوں کو تر کرو، اور جسم کو صاف کرو۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! اگر تم اپنی نفلی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے مخصوص کر سکو تو ضرور کرو کیونکہ اس طرح تمہارے گھر میں خیر و برکت بہت زیادہ ہو جائے گی۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! جب اپنے گھر میں آؤ تو ان کو سلام کہو، یہ تم پر اور تمہارے گھر والوں پر برکت ہوگی۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! جب تم اپنے گھر سے نکلو تو اہلِ قبلہ سے جس پر بھی آپ کی نظر پڑے تو اس کو سلام کہو، اس طرح تمہاری نیکیوں میں اضافہ ہو گا۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! اگر تم اپنی صبح وشام اس طرح بنا سکو کہ تمہارے دل میں کسی کے متعلق کینہ یا کھوٹ نہ ہو تو ضرور کرو۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! جب تم گھر سے نکلو تو تمہاری نظر اہلِ قبلہ سے جس پر بھی پڑے تم اسے اپنے سے افضل اور برتر سمجھو۔“ پھر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا! میری وصیت کی حفاظت کرنا، اور موت سے زیادہ پیاری چیز تیرے نزدیک اور کوئی نہیں ہونی چاہیے۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! یہ میری سنت ہے، اور جو شخص میری سنت کو زندہ کرے گا تو گویا اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ قیامت کے روز میرے ساتھ ہو گا۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 893

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 894

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے رب کے ساتھ تین باتوں میں موافقت کی، ایک تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کاش کہ ہم مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ‏‏‏‏﴿وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيْمَ مُصَلًّى﴾ ‏‏‏‏ (البقرۃ: 125) یعنی ”تم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بنالو۔“ دوسری بات یہ تھی، میں نے کہا: کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو پردا کرائیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر اچھا اور برا آدمی آتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیت نازل فرما دی: ‏‏‏‏﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوْهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾ ‏‏‏‏ (الأحزاب: 53) یعنی ”جب تم ان سے کچھ سامان مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔“ تیسری بات یہ تھی، میں نے کہا: بدر کے قیدیوں کی گردنیں اڑا دو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے مشورہ لیا تو انہوں نے فدیہ لینے کا مشورہ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُوْنَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ (الانفال: 67) ”کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے لیے قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں خون ریزی کرے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 894

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 895

سیدنا حبشی بن جنادہ سلولی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”تم مجھ سے اس طرح ہو جس طرح ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے تھے۔ صرف یہ فرق ہے کہ میرے بعد نبی نہیں ہو گا۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 895

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Faith
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The Book of Purity
    0. Chapter
4. The Azan Book
    0. Chapter
5. Book of mosques
    0. Chapter
6. The Book of Prayer
    0. Chapter
7. The Asc'a Book
    0. Chapter
8. The funeral book and the remembrance of death
    0. Chapter
9. The fasting book
    0. Chapter
10. The Book of Zakat
    0. Chapter
11. Snapshot book
    0. Chapter
12. The Hajj and Umrah Book
    0. Chapter