Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی - سنن

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan

by Tibrani

1,197 Hadith92 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 592

سیدنا زید بن خالد الحجبی (الجہنی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مجاہد کو تیار کیا، کسی روزے دار کا روزہ افطار کرایا یا کسی حاجی کو حج کے لیے تیار کیا تو اس کو بھی اس عمل کرنے والے کے برابر اجر ملے گا، اور اس کے اجر میں کوئی کمی بھی نہ کی جائے گی۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 592

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 593

سیدنا میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہتی ہیں: ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس رات گزاری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور نماز کے لیے وضو کرنے لگے، میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وضو والی جگہ میں لَبَّيْكَ، لَبَّيَْك تین دفعہ اور نُصِرْتَ نُصِرْتَ تین دفعہ فرمایا، یعنی ”میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیری مدد کی گئی، تیری مدد کی گئی“ تین دفعہ فرمایا۔ جب نکلے تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ سے سنا، آپ اپنی وضو کی جگہ میں کہہ رہے تھے: ”میں حاضر، میں حاضر“ تین دفعہ ”تو مدد کیا گیا، تو مدد کیا گیا“ تین دفعہ گویا کہ آپ کسی آدمی سے باتیں کر رہے ہیں؟ اس وقت آپ کے ساتھ کوئی آدمی موجود تھا؟ فرمایا: ”یہ بنوکعب کا رجزیہ شعر کہنے والا مجھے پکار رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ قریش نے ان کے خلاف بنو بکر کی مدد کی ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ ان کی تیاری کریں اور کسی کو نہ بتائیں۔ وہ کہتی ہیں: اسی وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: بیٹی یہ کیا تیاری ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ رومیوں سے جنگ کا زمانہ بھی نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہاں کا ارادہ کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: واللہ مجھے معلوم نہیں، کہتی ہیں کہ پھر ہم تین دن ٹھہرے، آپ نے صبح کی نماز لوگوں کو پڑھائی اور ہم نے ایک شعر کہنے والے کو سنا، وہ کہہ رہا تھا: اے میرے رب! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دے رہا ہوں جو ہمارے اور اپنے باپ کا پرانا حلیف تھا ہم نے تجھے جنا اور تو بچہ تھا پھر ہم مسلمان ہو گئے اور ہم نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکالا نہیں، قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ خلافی کی ہے اور اپنا پکا وعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے توڑ دیا ہے، وہ کہتے ہیں: تم کسی کو نہیں بلا سکتے۔ پس ہماری مدد مضبوط کیجئے، اللہ آپ کو ہدایت دے، اور اللہ کے بندوں کو بلائیں اور ہماری مدد کریں جن میں اللہ کے نبی اور رسول بھی ہوں جو تلوار ننگی کر چکے ہوں، اگر وہ ذلیل ہوں گے تو ان کا چہرہ بدل جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری مدد کی جائے گی، تیرے مدد کی جائے گی“، تین دفعہ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، جب روحاء میں پہنچے تو ایک اٹھتے ہوئے بادل کو دیکھا تو کہنے لگے: ”یہ بادل بنوکعب کی مدد کے لیے اٹھا ہے۔“ بنوعدی بن عمرو کا ایک آدمی کھڑا ہوا جو بنوکعب بن عمرو کا بھائی تھا، کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنوعدی کی بھی مدد کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا سینہ خاک آلود ہو، عدی کعب ہی تو ہیں اور کعب، عدی ہی تو ہیں۔“ تو یہ آدمی اس سفر میں حاضر ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ہماری خبر ان پر گمنام کر دے، یہاں تک کہ ہم ان پر اچانک حملہ آور ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے حتیٰ کہ ”مر“ میں اترے۔ ابوسفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء بھی ساتھ نکلے یہاں تک کہ وہ بھی ”مر“ میں پہنچ گئے۔ ابوسفیان نے جلتے ہوئے الاؤ دیکھے تو کہا: بدیل! یہ بنوکعب کے الاؤ ہیں جو تیرے گھر والے ہیں۔ تو اس نے کہا: جنگ نے اس کو تمہاری طرف ڈال دیا ہے اور جوش دلا رہا ہے، اس رات انہیں مزینہ نے پکڑ لیا اور ان کے ذمہ پہرہ داری تھی تو انہوں نے بنو مزینہ سے سوال کیا کہ ہمیں عباس بن عبدالمطلب تک پہنچا دو، تو وہ ان کے پاس لے گئے، انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے امن طلب کیا کہ ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امان دلائیں۔ تو وہ ان کے پاس لے کر چلے گئے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لیے امان طلب کی، آپ نے فرمایا: ”جس کو تو نے امان دی، اس کو ہم نے بھی امان دی، مگر صرف ابوسفیان اس سے مستثنیٰ ہے۔“ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ پر پابندی نہ لگائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو تو نے امن دیا وہ امن والا ہے۔“ پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ گئے اور ان کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابوسفیان کہنے لگا: ہم جانا چاہتے ہیں، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ذرا روشنی ہونے دو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وضو کرنے لگے، اور مسلمان ان کے وضو کا پانی حاصل کر کے اپنے چہروں پر چھینٹے لگانے لگے۔ ابوسفیان کہنے لگا: اے ابوالفضل (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی کنیت)! تیرے بھتیجے کی بادشاہی بہت بڑھ چکی ہے، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ بادشاہی نہیں نبوت ہے اور اسی میں لوگ رغبت کر رہے ہیں۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 593

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 594

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر تم تکبر نہ کرنے لگو تو میں تمہیں اللہ کا وہ وعدہ بتا دوں جو اس نے اپنے ان بندوں کے لیے کیا جو ان لوگوں کو قتل کریں گے (یعنی خارجیوں کو)۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 594

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 595

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مشرکین کی ہجو کہو، اللہ تعالیٰ جبریل امین کے ذریعے تیری امداد فرمائے گا۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 595

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 596

سیدنا عبیدہ سلمانی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب نہر کے دن خارجیوں کو قتل کیا تو فرمایا: ناقص الخلقہ شخص کو ان میں دیکھو جو ناک کٹا اور گھٹیا پیدائش والا ہے، تو انہوں نے اس کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملا، پھر تلاش کیا تو مل گیا، پھر انہوں نے فرمایا: اگر تم تکبر میں نہ آجاؤ تو میں تمہیں وہ حدیث بیان کروں کہ جس نے انہیں قتل کیا، اللہ نے اپنے نبی کی زبان پر اس کے لیے کیسے انعامات کا فیصلہ فرمایا ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 596

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 597

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے سے آسمان سے زمین پر گر جانا مجھے زیادہ پیارا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”آخر زمان میں ایسے لوگ سامنے آئیں گے جو نو عمر کم عقل ہوں گے، تمام مخلوق سے بہتر ذات کی باتیں کہیں گے۔ ان کا ایمان ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، تو جہاں بھی تم انہیں پاؤ مار ڈالو کیونکہ اس کے قاتل کو اجر ملے گا۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 597

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 598

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبا (ہوا) کے ساتھ میری مدد کی گئی، اور قومِ عاد دبور کے ساتھ ہلاک کئے گئے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 598

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 599

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اسی سند کے ساتھ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 599

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 600

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے جبکہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے۔ ابلیس نے ان کے پاؤں قلعی سے مضبوط کر دیئے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لے کر ہر بت کے پاس جاتے تو وہ منہ کے بل گر جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: جَاءَ الْحَقُّ وَ ذَهََقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُُوْقًا ”حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل بالکل مٹنے والا ہے۔“ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب پر سے گزر گئے۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 600

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 601

اسی سند سے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مشرکوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں پر ڈاکہ ڈالا تو میں سوار ہو کر ان کی تلاش میں چل نکلا، اور میں نے مسعدہ کو مار ڈالا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا: ”یہ چہرہ کامیاب ہو گیا، اے اﷲ! اس کو بخش دے۔“ تین دفعہ کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسعدہ کی نفل اور غنیمت مجھے عنایت فرمائی۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 601

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ باب · حديث 602

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی سند سے ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر جنگ، جمعہ، جنازے کے ساتھ جانا لازم نہیں۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 602

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Faith
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The Book of Purity
    0. Chapter
4. The Azan Book
    0. Chapter
5. Book of mosques
    0. Chapter
6. The Book of Prayer
    0. Chapter
7. The Asc'a Book
    0. Chapter
8. The funeral book and the remembrance of death
    0. Chapter
9. The fasting book
    0. Chapter
10. The Book of Zakat
    0. Chapter
11. Snapshot book
    0. Chapter
12. The Hajj and Umrah Book
    0. Chapter