Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی - سنن

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan

by Tibrani

1,197 Hadith92 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 25

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امّت کی ہلاکت تین فرقوں پر مبنی ہے۔ (١) قدریہ، (٢) عصبیت اور (٣) بلا ثبوت روایت کرنے پر ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 25

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 26

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتى ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کو نکلتے تو غسل کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہوتے جبکہ آپ روزہ دار ہوتے۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 26

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 27

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جس سے اللہ نے منع کیا ہو اس سے باز رہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 27

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 28

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتى ہیں: ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے بستر سے گم پایا تو میں نے کہا وہ اپنى لونڈى ماریہ کے پاس چلے گئے ہوں گے، تو میں اُٹھ کر دیوار تلاش کرنے لگى، تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز ادا کر رہے ہیں، تو میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں ڈالا تاکہ دیکھ سکوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا ہے کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تجھے تیرے شیطان نے پکڑ لیا تھا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرا بھى کوئى شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تمام بنی آدم کا شیطان ہے۔“ میں نے کہا: آپ کا بھى ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! میرا بھى شیطان ہے، لیکن اللہ نے اس کے خلاف میرى مدد فرما دى تو اب میں اس سے محفوظ رہتا ہوں۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 28

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 29

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 29

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 30

سیدنا ابوذر غفارى رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نیکى کا ارادہ کیا اور وہ اسے کر نہ سکا تو اس کے لیے ایک نیکى لکھى جائے گى، اور اگر اسے کرے تو وہ دس سے سات سو سات تک لکھى جائیں گى۔ اور جس نے برائى کا ارادہ کیا اور پھر کر نہ سکا تو اس پر کچھ نہ لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اس کا ارتکاب کیا تو ایک برائى لکھى جائے گى، یا اسے اللہ تعالىٰ مٹا دے گا۔ (یعنى معاف کر دے گا۔)“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 30

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 31

سیدنا عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (وہ صحابہ سے تھے) کہ آدمى جہنّمیوں سے اعمال کرتا رہتا ہے، پھر اس کے لیے اہلِ جنّت کے راستوں میں سے ایک راستہ کھل جاتا ہے تو وہ ان جیسے عمل کرتا ہے حتٰی کہ انہیں اعمال پر فوت ہو جاتا ہے، اور یہ اس کے مقدر میں ہوتا ہے۔ اور ایک آدمی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنا کچھ وقت اہلِ جنّت جیسے عمل کرتا ہے، پھر اس کے لیے اہلِ جہنّم کا راستہ سامنے آجاتا ہے، تو وہ ایسے ہی اعمال کرنے لگتا ہے، یہاں تک وہ انہیں اعمال پر مر جاتا ہے اور یہى اعمال اس کے لیے لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 31

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 32

سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ جو ہم پر امیر تھے وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، پھر میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمانے لگے: ”جب تک تم ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر مجھ سے بیعت نہ کرو گے، میں تم سے بیعت نہیں کرتا۔“ تو میں نے آپ سے بیعت کر لی۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 32

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 33

سیدنا عبداللہ بن معاویہ غافرى رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین کام کیے۔ اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔ (1) جس نے ایک اللہ عز و جل کى عبادت کى کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (2) ہر سال دل کی خوشى سے اپنے مال کى زکوٰۃ ادا کى جس میں نہ بوڑھا، نہ خارش، اور نہ بیماری والا جانور دیا، بلکہ عمدہ مال سے دیا، کیونکہ اللہ تعالىٰ تم سے اچھى چیز مانگتا ہے، اور برى چیز کا تم کو حکم نہیں دیتا۔ (3) اور تیسرى چیز یہ ہے کہ اپنے نفس کى زکوٰۃ دے۔“ کسی نے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے نفس کى زکوٰۃ کیسے ہوگى؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفس کى زکوٰۃ یہ ہے کہ آدمى یہ جان لے کہ اللہ عز و جل جہاں بھى میں ہوں میرے ساتھ ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 33

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 34

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی مثال دو بکریوں کے درمیان چرنے والی بکری کی طرح ہے کہ جب وہ ایک کے پاس جاتی ہے تو وہ بھی اس کو سینگ مارتی ہے اور دوسری کے پاس جاتی ہے تو وہ بھی اسے سینگ مارتی ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 34

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 35

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام لوگوں سے کامل ایمان والے وہ ہیں جو اخلاق میں اچھے ہوں، اور نرم پہلوؤں والے ہوں، جو دوستى رکھتے ہیں اور دوست رکھے جاتے ہیں، اور جو شخص نہ کسی کو دوست رکھے اور نہ اس کو کوئی دوست رکھے اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 35

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْإِيمَان ‹ باب · حديث 36

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن مسعود! ایمان کا کون سا کڑا زیادہ مضبوط ہے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کا مضبوط کڑا اللہ کے لیے دوستى کرنا اور محبت کرنا اور اسى کے لیے دشمنی رکھنا ہے۔“ پھر فرمایا: ”ابن مسعود!“ میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو جانتا ہے کہ کون سا آدمى فضیلت والا ہے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں عمل کے لحاظ سے وہ بہتر ہیں جو دین میں سمجھ رکھیں۔“ پھر فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے کہا: میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم ہے لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا عالم وہ ہے جو لوگوں کے اختلاف کے وقت حق پر نظر رکھے، اور اگرچہ اپنے عمل میں کوتاہى کرنے والا ہو۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو گھسیٹ کر سرینوں کے بل ہى آئے، تم سے پہلے لوگوں میں اختلاف بہتر (72) فرقوں پر ہوا، جن میں سے تین نجات پا گئے باقى ہلاک ہوگئے، ایک وہ تھا جس نے بادشاہوں کا مقابلہ کیا اور اپنے دین اور عیسیٰ علیہ السلام کے دین کے متعلق ان سے جنگ کى تو انہوں نے ان کو پکڑ کر مار ڈالا اور آریوں سے چیر ڈالا۔ دوسرا وہ تھا جن میں بادشاہوں کا مقابلہ کرنے کى طاقت نہیں تھى، اور نہ ہى ان میں طاقت تھى کہ وہ لوگوں کو اللہ کے دین اور عیسیٰ علیہ السلام کے دین کى طرف دعوت دیں، تو وہ شہروں میں نکل گئے اور درویش اور راہب بن گئے، اور وہ وہی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ﴾ (الحديد: 27) یعنى ”رہبانیت انہوں نے خود پیدا کرلى تھى۔ ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا، اللہ کى رضا مندى کی تلاش کے لیے (انہوں نے اسے اپنایا)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھ پرایمان لایا، میرى پیروى اور تصدیق کى تو اس نے اس کے خیال رکھنے کا حق ادا کر دیا، اور جس نے میرى پیروى نہ کى تو یہی لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The Book of Faith › Chapter · Hadith 36

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Faith
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The Book of Purity
    0. Chapter
4. The Azan Book
    0. Chapter
5. Book of mosques
    0. Chapter
6. The Book of Prayer
    0. Chapter
7. The Asc'a Book
    0. Chapter
8. The funeral book and the remembrance of death
    0. Chapter
9. The fasting book
    0. Chapter
10. The Book of Zakat
    0. Chapter
11. Snapshot book
    0. Chapter
12. The Hajj and Umrah Book
    0. Chapter