Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
قرة العينين برفع اليدين في الصلاة

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah

by Imam Bukhari

124 Hadith4 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Door

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 36

36 - وَقَدْ بَيَّنَهُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدَيْهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يُومِئُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ , وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ» قَالَ الْبُخَارِيُّ: " فَلْيَحْذَرِ امْرُؤٌ أَنْ يَتَأَوَّلَ أَوْ يَتَقَوَّلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [النور: 63]

ہمیں ابونعیم نے یہ حدیث بیان کی : ہمیں مسعر نے حدیث بیان کی عبیداللہ بن القبطیہ سے، انہوں نے کہا میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم کہتے السلام علیکم السلام علیکم اور مسعر(راوی) نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے یہ اپنے ہاتھوں سے ایسے اشارے کر رہے ہیں جیسے شریرگھوڑوں کی دمیں ہیں ۔ تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ ہر آدمی اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے بھائی پر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیر دے۔ ( امام )بخاری نے کہا: اس آدمی کو ڈرنا ، چاہے جو رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسی بات کہتا ہے یا اسی (باطل) تاویل کرتا ہے۔ جو کہ آپ نے نہیں کہی۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ان لوگوں کو ڈرنا چاہئے جو آپ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ کہیں ان پر فتنہ(شرک وكفر) اور دردناک عذاب نآ جائے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← وَقَدْ بَيَّنَهُ حَدِيثٌ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 36

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 37

37 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: «هُوَ شَيْءٌ تُزَيِّنُ بِهِ صَلَاتَكَ»

ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی:ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی عبدالملک (بن ابی سلیمان) سے انہوں نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے نماز میں رفع یدین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : یہ ایسی چیز ہے جس کے ساتھ تو اپنی نماز کو (خوبصورت و) مزین کرتا ہے۔

رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: «هُوَ شَيْءٌ تُزَيِّنُ بِهِ صَلَاتَكَ» ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 37

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 38

38 - أَخْبَرَنَا مَحْمُودٌ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يُكَبِّرُ بِيَدَيْهِ حِينَ يَسْتَفْتِحُ وَحِينَ يَرْكَعُ , وَحِينَ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ , وَحِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , وَحِينَ يَسْتَوِي قَائِمًا قُلْتُ لِنَافِعٍ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجْعَلُ الْأَوْلَى أَرْفَعَهُنَّ قَالَ: لَا. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: " وَلَمْ يَثْبُتْ عِنْدَ أَهْلِ [ص:34] النَّظَرِ مِمَّنْ أَدْرَكْنَا مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ , وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ , وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ , هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ زَمَانِهِمْ فَلَمْ يَثْبُتْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْهُمْ عَلِمْنَا فِي تَرْكِ رَفْعِ الْأَيْدِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ.

ہمیں محمود (بنغيلان) نے خبر دی جریح ہمیں عبدالرزاق نے خبر دین ہمیں ابن نے خبردی: مجھے نافع نے خبر دی، بے شک ابن عمر جب (نماز ) شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں سے تکبیر کہتے اور جب رکوع کرتے اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور رکوع سے سراٹھاتے اور جب (دوسری رکعت سے) سیدھے کھڑے ہو جاتے (تو رفع یدین کرتے) میں نے نافع سے کہا: کیا ابن عمر پہلے رفع یدین کو دوسروں سے زیادہ بلند کرتے؟ تو انہوں نے کہا نہیں ۔(امام )ابوعبداللہ (بخاری) نے فرمایا: ہم نے حجاز و عراق کے جتنے محقق علماء کو پایا ہے (مثلا) ان میں عبداللہ بن الزبير ( الحمیدی) علي بن عبدالله بن جعفر (المدینی) یحیٰی بن معین ، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ یہ اپنے زمانے کے (بڑے) علماء تھے۔ ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی ترک رفع یدین کا علم نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (ثابت) ہے اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے کہ اس نے رفع یدین نہیں کیا۔

نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مَحْمُودٌ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 38

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 39

39 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنِ الْحَسَنِ , وَابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: إِذَا كَبَّرَ أَحَدُكُمْ لِلصَّلَاةِ فَلْيَرْفَعْ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ , وَحِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَقُولُ: «هُوَ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ»

ہمیں محمد بن مقاتل نے حدیث بیان کی : ہمیں عبدالله (بن المبارک)نے حدیث بیان کی : ہمیں ہشام (بن حسان) نے حسن (بصری) اور (محمد ) بن سیرین سے حدیث بیان کی، وہ دونوں فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی، نماز کے لئے تکبیر کہے تو اسے تکبیر کے وقت اور رکوع سے سراٹھاتے وقت رفع یدین کرنا چاہئے ۔ اور ابن سیرین فرماتے تھے کہ یہ (رفع یدین) نماز کی تکمیل میں سے ہے۔

هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 39

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 40

40 - حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ , وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ , وَلَا حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَكَانَ ابْنُ الْمُبَارَكِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ , وَهُوَ أَكْثَرُ أَهْلِ زَمَانِهِ عِلْمًا فِيمَا نَعْرَفُ فَلَوْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَ مَنْ لَا يَعْلَمُ مِنَ السَّلَفِ عِلْمٌ فَاقْتَدَى بِابْنِ الْمُبَارَكِ فِيمَا اتَّبَعَ الرَّسُولَ , وَأَصْحَابَهُ , وَالتَّابِعِينَ لَكَانَ أَوْلَى بِهِ مِنْ أَنْ يُثْبِتَهُ بِقَوْلِ مَنْ لَا يَعْلَمُ , وَالْعَجَبُ أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ بِأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ صَغِيرًا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَقَدْ شَهِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ عُمَرَ بِالصَّلَاحِ

ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی:ہمیں شعیب (بن ابی حمزہ) نے زہری سے خبر دی، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، بے شک ابن عمر نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا۔ آپ جب نماز میں تکبیر افتتاح کہتے تو تکبیر کے وقت اپنے دونوں کندھوں کے برابر رفع یدین کرتے اور جب رکوع کے لئے تکبیر کہتے تو اس طرح کرتے اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو اسی طرح کرتے اور فرماتے: ربنا لک الحمد، اور جب سجده کرتے تو ایسا نہ کرتے تھے اور جب سجدے سے سراٹھاتے تو بھی نہیں کرتے تھے۔ (امام ) بخاری نے کہا: اور ابن المبارک رفع یدین کرتے تھے اور ہمارے علم کے مطابق وہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے۔ پس جس بے علم کے پاس سلف (صالحین) کا علم نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ ابن المبارک کی اقتداء (بالدلیل) کرے۔ اس میں جس میں (ابن المبارک نے )رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، آپ کے صحابہ اور تابعین کی اتباع کی ہے۔ یہ اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ وہ بے علم لوگوں کے اقوال کو (شعبده بازی سے )ثابت کرتا پھرے۔ اور اس بات پر تعجب ہے کہ ان (بے علموں) میں سے کوئی یہ کہتا ہے کہ ابن عمر، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں چھوٹے تھے اور تحقیق یہ ہے کہ نبی ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عمر کے (رجل) صالح ہونے کی گواہی دی ہے۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 40

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 41

41 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ يُونُسَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ حَفْصَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَجُلٌ صَالِحٌ»

ہمیں یحیٰی بن سلیمان نے حدیث بیان کی: ہمیں ابن وہب نے یونس (بن يزيد الا یلی)سے حدیث بیان کی ،انہوں نے ابن شہاب (الزہری) سے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے انہوں نے اپنے ابا (عبداللہ بن عمر) سے انہوں نے (ام المومنین )حفصہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک عبداللہ بن عمر نیک مرد ہے۔

حَفْصَةَ، ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 41

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 42

42 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: قَالَ عَمْرُو: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " إِنِّي لَأَذْكُرُ عُمَرَ حِينَ أَسْلَمَ فَقَالُوا: صَبَأَ عُمَرُ , صَبَأَ عُمَرُ فَجَاءَ الْعَاصِي بْنُ وَائِلٍ فَقَالَ صَبَأَ عُمَرُ , صَبَأَ عُمَرُ فَمَهْ فَأَنَا لَهُ جَارٌ [ص:37] فَتَرَكُوهُ قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: لَوْ شَهِدْتُ لِأَحَدٍ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَشَهِدْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , وَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَلْزَمَ لِطَرِيقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَتْبَعَ مِنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَطَعَنَ مَنْ لَا يَعْلَمُ فِي وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ مِنْ أَبْنَاءِ مُلُوكِ الْيَمَنِ وَقَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكْرَمَهُ , وَأَقْطَعَ لَهُ أَرْضًا , وَبَعَثَ مَعَهُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ہمیں علی بن عبداللہ (المد ینی)نے حدیث بیان کی: ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا: عمرو (بن دینار) نے کہا: (عبداللہ )بن عمر نے فرمایا: مجھے یاد ہے جب (میرے ابا ) عمررضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے تھے۔ تو (کافر و مشرک) لوگوں نے کہا: عمر صابی ہو گئے، عمر صابی (بے دین ) ہو گئے ۔ پھر عاصی بن وائل آیا تو اس نے کہا: عمر صابی ہو گئے ، عمر صابی ہو گئے، تو کیا ہوا؟ میں ان کا پڑوسی (اور مددگار ) ہوں۔ تو لوگوں نے آپ (عمر) کو چھوڑ دیا۔ (امام )بخاری نے کہا: سعيد بن المسیب نے فرمایا: اگر میں کسی کے جنتی ہونے کی گواہی دیتا۔ تو ابن عمررضی اللہ تعالی عنہ نے جنتی ہونے کی گواہی دیتا اور جابر بن عبدالله ( الانصاری رضی اللہ تعالی عنہ )نے فرمایا : ابن عمر سے بڑھ کر نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت کو لازم پکڑنے والا اور سب سے زیادہ آپ کی اتباع کرنے والا اور کوئی نہ تھا۔ اور (امام) بخاری نے فرمایا: اور بعض بے علم لوگوں کا وائل بن جبر کے بارے میں طعن کرنا ( مردود ہے) بے شک وائل بن حجر یمن کے بادشاہوں کی اولادمیں سے تھے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ نے ان کی عزت و تکریم کی تھی اور نہیں زمین کا ایک ٹکڑا عطا کیا تھا اور ان کے ساتھ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا تھا۔

سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: لَوْ شَهِدْتُ لِأَحَدٍ ← الْبُخَارِيِّ ← لَهُ جَارٌ فَتَرَكُوهُ ← صَبَأَ عُمَرُ صَبَأَ عُمَرُ فَمَهْ ← صَبَأَ عُمَرُ صَبَأَ عُمَرُ فَجَاءَ الْعَاصِي بْنُ وَائِلٍ ← عُمَرَ حِينَ أَسْلَمَ ← ابْنُ عُمَرَ: إِنِّي لَأَ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 42

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 43

43 - أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ , عَنْ أَبِيهِ ,: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لَهُ أَرْضًا وبعث معہ معاویۃ ابن أبی سفیان رضی اللہ عنہ۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 43

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 44

43 - أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ , عَنْ أَبِيهِ ,: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لَهُ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ [ص:38] قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَقِصَّةُ , وَائِلٍ مَشْهُورَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَمَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرِهِ , وَمَا أَعْطَاهُ مَعْرُوفٌ بِذِهَابِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ , وَلَوْ ثَبَتَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودِ , وَالْبَرَاءِ , وَجَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ لَكَانَ فِي عِلَلِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِذَا ثَبَتَ الشَّيْءُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رُؤُسَاءَنَا لَمْ يَأْخُذُوا بِهَذَا , وَلَيْسَ هَذَا بِمَأْخُوذٍ فَمَا يَزِيدُونَ الْحَدِيثَ إِلَّا تَعَلُّلًا بِرَأْيِهِمْ , وَلَقَدْ قَالَ وَكِيعٌ: مَنْ طَلَبَ الْحَدِيثَ كَمَا جَاءَ فَهُوَ صَاحِبُ سُنَّةٍ , وَمَنْ طَلَبَ الْحَدِيثَ لِيُقَوِّيَ هَوَاهُ فَهُوَ صَاحِبُ بِدْعَةٍ يَعْنِي أَنَّ الْإِنْسَانَ يَنْبَغِي أَنْ يُلْقِيَ رَأْيَهُ لِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ہمیں حفص بن عمر نے خبر دی، ہمیں جامع بن مطر نے حدیث سنائی علقمہ بن وائل سے وہ اپنے ابا (وائل بن حجر) سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حضرموت (کے علاقے ) میں زمین کا ایک ٹکڑا عطا کیا تھا۔ (امام) بخاری نے فرمایا: وائل بن حجر کا قصہ، (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے آنے کے بارے میں بطور پیش گوئی بیان کرنا اور عطا کرنا ) علماء کے ہاں مشہور و معروف ہے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یکے بعد دیگرے جاتے رہے اور اگر ابن مسعود، براء (بن عازب) اور جابر (بن سمرہ) کی سند سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز ثابت ہوتی۔ توان بے علم لوگوں کی تعلیل میں (مردود ) ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی (ایسی )چیز ثابت ہو جائے جسے ہمارے (منکرین حدیث) بڑوں نے نہیں کیا تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ وہ لوگ حدیث کو صرف اپنی رائے کی علت (وتا ئید) کے لئے ہی لیتے ہیں۔ اور وکیع نے فر مایا:جوآ دمی حدیث کو اسی طرح طلب کرے جس طرح کہ وہ (اس تک) پہنچی ہے تو یہ شخص سنی ہے اور جوشخص اپنی خواہشات کی تقویت کے لئے حدیث طلب کرتا (اور پڑھتا ہے ) توایسا شخص بدعتی ہے۔ یعنی انسان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے کو پھینک دینا چاہئے جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے ۔ اور حدیث کو غلط علتوں (اور ہتھکنڈوں )سے رد نہیں کرناچاہئے۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 44

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 45

45 - وَلَقَدْ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: كُنْتُ أُصَلِّي إِلَى جَنْبِ النُّعْمَانِ بْنِ ثَابِتٍ فَرَفَعْتُ يَدَيَّ فَقَالَ: مَا خَشِيتَ أَنْ تَطِيرَ؟ فَقُلْتُ إِنْ لَمْ أَطِرْ فِي الْأُولَى لَمْ أَطِرْ فِي الثَّانِيَةِ قَالَ وَكِيعٌ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى ابْنِ الْمُبَارَكِ كَانَ حَاضِرَ الْجَوَابِ فَتَحَيَّرَ الْآخَرُ , وَهَذَا أَشْبَهُ مِنَ الَّذِينَ يَتَمَادُونَ فِي غَيِّهِمْ إِذَا لَمْ يُبْصِرُوا

اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا گیا ہے کہ (آپ نے فرمایا ) تم میں سے ہر شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہشات میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہوجائیں۔ معمر (بن راشد )نے کہا: اہل علم کے نزدیک جولوگ (اسلام میں )جتنے پہلے گزرے ہیں وہ (اپنے پچھلوں سے )زیادہ علم والے تھے اور ان (منکرین حدیث) کے نزدیک جتنے بعد والے ہیں وہ (پہلوں سے )زیادہ عالم ہیں ۔ اور (عبدالله )بن المبارک نے کہا: میں نعمان (بن ثابت یعنی ابوحنیفہ) کے پہلو میں (ساتھ ساتھ )نماز پڑھ رہا تھا تو میں نے رفع یدین کیا۔ انہوں نے (نعمان )نے مجھے کہا: مجھے ڈر نہیں ہوا (مگر یہ کہ) آپ اڑ جائیں گے۔ تو میں نے کہا: جب میں پہلے (رفع یدین ) میں نہیں اڑاتو دوسری میں بھی نہیں اڑسکتا تھا۔ (اس واقع کے راوی) وکیع نے کہا: اللہ تعالی ابن المبارک پررحم کرے وہ (بڑے) حاضر جواب تھے ، پس دوسرا شخص حیران رہ گیا (اور کوئی جواب نہ دے سکا) یہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے جو اپنی گمراہی میں سر گرداں پھرتے رہتے ہیں جبکہ ( کہیں سے بھی ) ان کی تائید نہیں ہوتی۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ: كُنْتُ أُصَلِّي إِلَى جَنْبِ النُّعْمَانِ بْنِ ثَابِتٍ فَرَفَعْتُ يَدَيَّ ← وَلَقَدْ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 45

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 46

46 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي يُونُسُ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ , وَيَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , وَيَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» , وَلَا يَرْفَعُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ

ہمیں عبداللہ بن صالح نے حدیث بیان کی : مجھے لیث (بن سعد) نے حدیث بیان کی : مجھے یو نس (بن یزید الایی) نے حدیث بیان کی ، ابن شہاب (زہری)سے: مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی بے شک عبد اللہ یعنی ابن عمر نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو رفع یدین کرتے حتی کہ آپ کے ہاتھ دونوں کندھوں کے برابر ہو جانے پر تکبیر کہتے۔ اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تواسی طرح کرتے اور فرماتے : سمع الله لمن حمده اور آپ جب سجدے سے سر اٹھاتے تو رفع یدین نہیں کرتے تھے۔

سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 46

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 47

47 - حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ الشَّيْبَانِي , حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ وَقَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ: إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ , وَرَفَعَ يَدَيْهِ , وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ "

ہمیں ابو النعمان (محمد بن فضل: عارم) نے حدیث بیان کی: ہمیں عبد الواحد بن زياد الشبانی نے حدیث بیان کی: ہمیں محارب بن دثار نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبدالله بن عمر کو دیکھا آپ جب نماز شروع کرتے ،تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو (تو رفع یدین کرتے) ۔

مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ الشَّيْبَانِي ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 47

chevron_left Previous
12345…11
Next chevron_right