قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 36
36 - وَقَدْ بَيَّنَهُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدَيْهِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يُومِئُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ , وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ» قَالَ الْبُخَارِيُّ: " فَلْيَحْذَرِ امْرُؤٌ أَنْ يَتَأَوَّلَ أَوْ يَتَقَوَّلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [النور: 63]
ہمیں ابونعیم نے یہ حدیث بیان کی : ہمیں مسعر نے حدیث بیان کی عبیداللہ بن القبطیہ سے، انہوں نے کہا میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم کہتے السلام علیکم السلام علیکم اور مسعر(راوی) نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے یہ اپنے ہاتھوں سے ایسے اشارے کر رہے ہیں جیسے شریرگھوڑوں کی دمیں ہیں ۔ تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ ہر آدمی اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے پھر اپنے بھائی پر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیر دے۔ ( امام )بخاری نے کہا: اس آدمی کو ڈرنا ، چاہے جو رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسی بات کہتا ہے یا اسی (باطل) تاویل کرتا ہے۔ جو کہ آپ نے نہیں کہی۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ان لوگوں کو ڈرنا چاہئے جو آپ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ کہیں ان پر فتنہ(شرک وكفر) اور دردناک عذاب نآ جائے۔
جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← وَقَدْ بَيَّنَهُ حَدِيثٌ
Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 36
