Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
قرة العينين برفع اليدين في الصلاة

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah

by Imam Bukhari

124 Hadith4 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Door

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 25

25 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ , وَرَفَعَ يَدَيْهِ»

ہمیں اسحاق بن ابراہیم الحنظلی (ابن راہویہ) نے حدیث بیان کی ہمیں محمد بن فضیل (بن غزوان)نے عاصم بن کلیب سے انہوں نے محارب بن دثار سے حدیث بیان کی۔ (محارب )نے کہا: میں نے ابن عمر کورکوع سے پہلے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے اس کے بارے میں ان سے بات کی تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے تھے ۔

رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 25

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 26

26 - حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ , وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ , رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَنْ كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ , فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ لِمَنْ يَفْهَمْهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

ہمیں مسلم بن ابراہیم نے حدیث بیان کی: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی: ہمیں عاصم بن کلیب نے حدیث بیان کی اپنے باپ (کلیب) سے انہوں نے وائل بن حجر الحضرمی سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ پس جب آپ نے تکبیر کہی رفع یدین کیا۔ پھر جب رکوع کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا۔( امام) بخاری نے فرمایا:عمر بن الخطاب، جابر بن عبداللہ ، ابو ہریرہ عبداللہ بن عمیر ، این عباس اور ابوموسیٰ (رضی اللہ تعالی عنہ ) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا کہ بے شک آپ رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھا کر رفع یدین کرتے تھے۔ (امام )بخاری نے کہا: جو سوجھ بوجھ رکھتا ہے اس کے لئے یہی کافی ہے جو ہم نے ذکر کر دیا ہے۔ ان شاءالله تعالی۔

وائل بن حجر الحضرمي ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 26

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 27

27 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , قِرَاءَةً قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ , أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُسْأَلُ عَنْ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: «رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ , وَعَبْدَ اللَّهِ , وَعَبْدَ اللَّهِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ» لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ طَاوُسٌ: فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى الَّتِي لِلِاسْتِفْتَاحِ بِالْيَدَيْنِ أَرْفَعُ مِمَّا سِوَاهُمَا بِالتَّكْبِيرِ. قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَبَلَغَكُمْ أَنَّ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى أَرْفَعُ مِمَّا سِوَاهُمَا مِنَ التَّكْبِيرِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَلَوْ تَحَقَّقَ حَدِيثُ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ لَكَانَ حَدِيثُ طَاوُسٍ , وَسَالِمٍ , وَنَافِعٍ , وَمُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , وَابْنِ الزُّبَيْرِ حِينَ رَأَوْهُ أَوْلَى لِأَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَوَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُنْ يُخَالِفُ الرَّسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ مَا رَوَاهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ , وَالْمَدِينَةِ , وَالْيَمَنِ , وَالْعِرَاقِ أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى لَقَدْ

ہمیں محمد بن مقاتل نے خبردی:ہمیں عبدالله (بن المبارک)نے حدیث بیان کی، ابن جریح سے بذریہ قراء ت (یعنی یہ روایت ابن جریح کو پڑھ کر سنائی گئی ، ابن جریح نے ) کہا: مجھے حسن بن مسلم نے خبر دی انہوں نے طاؤس کو (فرماتے ہوئے )سنا (جب) ان سے نماز میں رفع یدین کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا۔ تو (طاؤس نے) کہا: میں نے عبداللہ اور عبداللہ اور عبداللہ کونماز میں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ یعنی عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن الزبیر۔ طاؤس نے شروع نماز کی پہلی تکبیر کے بارے میں ہاتھوں سے بتایا کہ دوسری تکبیروں سے اسے زیادہ بلند اٹھاؤ۔ (ابن جریح نے کہا )میں نے عطاء (بن ابی رباح) سے پوچھا: کیا آپ کو یہ بات (اسلاف سے )پہنچی ہے کہ پہلی تکبیر میں دوسری تکبیروں کی بہ نسبت (رفع یدین) زیادہ بلند اٹھایا جائے؟ تو انہوں نے فرمایا نہیں (امام) بخاری نے کہا: اگر مجاہد (سے منسوب ابوبکر بن عیاش) کی حدیث ثابت ہوجائے کہ انہوں نے ابن عمر کو رفع یدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو طاؤس، سالم ،محارب بن دثار اور ابو الزبیر کی (بیان کردہ) حدیثیں زیادہ راجح ہوں گی کیونکہ انہوں نے (ابن عمر کورفع یدین کرتے ہوئے )دیکھا ہے۔ (دوسری وجہ یہ ہے کہ ) ابن عمر نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔ مزید یہ کہ مکہ، مدینہ ، یمن اور عراق کے علماء نے روایت کیا ہے کہ آپ رفع یدین کرتے تھے۔

الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 27

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 28

28 - حَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا أَيْدِيهِمُ الْمَرَاوِحُ يَرْفُعُونَهَا إِذَا رَكَعُوا , وَإِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ»

حتی کہ یقینا مجھے حدیث بیان کی مسدد نے ، کہا : میں حدیث بیان کی یزید بن زریع نے شعبہ سے انہوں نے قتاده سے انہوں نے حسن ( بصری) سے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ جب رکوع کرتے اور جب (رکوع سے) اپنے سر اٹھاتے تو اس طرح رفع یدین کرتے تھے گویا ان کے ہاتھ پنکھے ہیں ۔

«كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ كَأَنَّمَا أَيْدِيهِمُ الْمَرَاوِحُ يَرْفُعُونَهَا إِذَا رَكَعُوا وَإِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ» ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 28

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 29

29 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلُّوا كَأَنَّ أَيْدِيَهُمْ حِيَالَ آذَانِهِمْ الْمَرَاوِحُ» قَالَ الْبُخَارِيُّ: «فَلَمْ يَسْتَثْنِ الْحَسَنُ , وَحُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ أَحَدٍ»

ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کیا: میں ابو ہلال نے حمید بن ہلال سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ جب نماز پڑھتے تو ان کے ہاتھ اس طرح کانوں تک (بلند )ہوتے تھے گویا کہ پنکھےہیں۔ امام بخاری نے کہا: حسن (بصری) اور حمید بن ہلال نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کو بھی مستثنٰی نہیں کیا۔ (یعنی ان دونوں تابعین کے نزدیک تمام صحابہ کرام بغیر کسی استثناء کے رفع یدین کرتے تھے۔)

«كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ إِذَا صَلُّوا كَأَنَّ أَيْدِيَهُمْ حِيَالَ آذَانِهِمْ الْمَرَاوِحُ» ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 29

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 30

30 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ , أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ «فَقَامَ فَكَبَّرَ , وَرَفَعَ يَدَيْهِ , ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا , ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تُحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ» قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَلَمْ يَسْتَثْنِ وَائِلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا إِذَا صَلُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ

ہمیں محمد بن مقاتل نے حدیث بیان کی : ہمیں عبدالله (بن المبارک) نے خبر دی :ہمیں زائدہ بن قدامہ نے خبر دی :ہمیں عاصم بن کلیب الجرمی نے حدیث بیان کی:ہمیں میرے ابا (کلیب) نے حدیث بیان کی، بے شک وائل بن حجر نے اسے خبر دی، (وائل نے )کہا: میں نے کہا: میں ضرور بالضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کیسے پڑھتے ہیں؟ (وائل نے) کہا: پھر میں نے : آپ کو دیکھا: آپ کھڑے ہوئے تو تکبیر کہی : اور رفع یدین کیا پھر جب رکوع کا ارادہ کیا تواسی طرح رفع یدین کیا۔ پھر (رکوع سے ) سر اٹھایا تو اسی طرح رفع یدین کیا۔ پھر اس کے بعد میں سردیوں کے زمانے میں آیا، صحابہ کرام پر (سردی کی وجہ سے) چادر یں تھیں۔ ان کے ہاتھ کپڑوں کے نیچے سے (رفع یدین کے لئے ) حرکت کر رہے تھے ۔(امام) بخاری نے کہا: وائل نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی ایک کا استثنا نہیں کیا کہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کسی (ایک صحابی)نے (بھی) رفع یدین نہیں کیا۔

أَبِي ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 30

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 31

31 - وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَصَلَّى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَ: نَظَرْتُ فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ. فَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّ الْكِتَابَ أَحْفَظُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لِأَنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا حَدَّثَ بِشَيْءٍ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْكِتَابِ فَيَكُونُ كَمَا فِي الْكِتَابِ.

بخاری نے کہا: سفیان (ثوری) سے عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن . الاسودعن علقمہ (کی سند) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ابن مسعود نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھی تو ایک دفعہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کیا۔ اور احمد بن حنبل نے یحیٰی بن آدم سے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ادریس کی عاصم بن کلیب سے کتاب میں دیکھا ہے ۔ اس میں پھر دوبار نہیں کیا، کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور ( عبداللہ بن ادریس کی) یہ روایت زیادہ صحیح ہے کیونکہ علماء کے نزدیک کتاب زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔ کیونکہ آدمی بعض اوقات کوئی بات کرتا ہے پھر جب (اپنی کتاب) کی طرف رجوع کرتا ہے تو (صحیح ) وہی ہوتا ہے جو کتاب میں ہے۔

نَظَرْتُ فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ فَصَلَّى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً ← عَلْقَمَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَيُرْوَى

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 31

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 32

32 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ , [ص:29] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ: فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ , ثُمَّ رَكَعَ , فَطَبَّقَ يَدَيْهِ جَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَهَذَا الْمَحْفُوظُ عِنْدَ أَهْلِ النَّظَرِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ

ہمیں الحسن بن الربیع نے حدیث بیان کیا: ہمیں ابن ادریس نے حدیث بیان کی عاصم بن کلیب سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن الاسود سے :ہمیں علقمہ نے حدیث بیان کیا۔ بے شک عبدالله (بن مسعود) نے فرمایا: میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نماز سکھلائی ہے۔ پس وہ کھڑے ہوئے تو تکبیر کہی اور رفع یدین کیا۔ پھر رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو تطبیق کرتے ہوئے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ دیا۔ پھر (سعد بن ابی وقاص) کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا: میرے بھائی نے سچ کہا ہے۔ ہم اسلام کے ابتدائی دور میں اسی طرح کرتے تھے پھر میں اس کا حکم دیا گیا (کہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پررکھیں) ۔بخاری نے کہا:محقق علماء کے نزدیک عبداللہ بن مسعود کی حدیث میں سے یہی روایت محفوظ ہے۔

عَلْقَمَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 32

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 33

33 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ هَهُنَا عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنِ الْبَرَاءِ ,: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ» قَالَ سُفْيَانُ: لَمَّا كَبُرَ الشَّيْخُ لَقَّنُوهُ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ. فَقَالَ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَكَذَلِكَ رَوَى الْحُفَّاظُ مَنْ سَمِعَ مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَدِيمًا مِنْهُمُ الثَّوْرِيُّ , وَشُعْبَةُ , وَزُهَيْرٌ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ

ہمیں حمیدی نے حدیث بیان کی : ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے یزید بن ابی زیاد سے حدیث بیان کی یہاں (عبدالرحمن )بن ابی لیلٰی سے انہوں نے براء (بن عازب) سے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ سفیان (بن عیینہ ) نے کہا: جب (یزید بن ابی زیاد ) بوڑھا شخ بن گیا تو ( نامعلوم ) لوگوں نے اسے ’’پھر دوبارہ نہیں کیا‘‘ کے الفاظ بذریعہ تلقین رٹادیئے۔ * (امام )بخاری نے کہا: اس طرح، یزید بن ابی زیاد سے قدیم زمانے میں سننے والے حفاظ حدیث ( مثلا) ثوری ، شعبہ اور زہیر نے روایت بیان کی ہے۔ انہوں نے ’’پھر دوبارہ نہیں کیا‘‘ کے الفاظ بیان نہیں کئے۔

الْبَرَاءِ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ هَهُنَا ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 33

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 34

34 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ حَذْوَ أُذُنَيْهِ»

ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی:ہمیں سفیان (بن عینیہ ) نے یزید بن ابی زیاد سے حدیث بیان کی، اس نے (عبدالرحمٰن) بن ابی لیلٰی سے انہوں نے براء (بن عازب) سے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تکبیر کہتے تو کانوں تک رفع یدین کرتے تھے۔

«كَانَ النَّبِيُّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ حَذْوَ أُذُنَيْهِ» ← الْبَرَاءِ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 34

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 34.1

34 - قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَى , وَكِيعٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَخِيهِ عِيسَى , وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنِ الْبَرَاءِ , قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَإِنَّمَا رَوَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا مِنْ حِفْظِهِ فَأَمَّا مَنْ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى مِنْ كِتَابِهِ فَإِنَّمَا حَدَّثَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى [ص:31] عَنْ يَزِيدَ فَرَجَعَ الْحَدِيثُ إِلَى تَلْقِينِ يَزِيدَ , وَالْمَحْفُوظُ مَا رَوَى عَنْهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ قَدِيمًا

بخاری نے کہا: اور وکیع نے (محمد بن عبدالرحمن )بن ابی لیلٰی سے روایت بیان کی ،اس نے اپنے بھائی عیسٰی اورحکم بن عتیہ سے انہوں نے ( عبدالرحمن )بن ابی لیلی سے انہوں نے براء (بن عازب) سے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے آپ جب تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے۔ پھر رفع یدین نہیں کرتے تھے۔(امام ) بخاری نے کہا:(محمد ) بن ابی لیلی نے یہ روایت صرف اپنے حافظے سے (زبانی) بیان کی ہے ۔ جس شخص نے (محمد) بن ابی لیلی کی کتاب سے حدیث بیان کی ہے تو اس نے (محمد) بن ابی لیلی سے صرف یزید (بن ابی زیاد) سے یہ روایت بیان کی ہے پس یہ حدیث یزید (بن ابی زیاد) کی تلقین تک واپس لوٹ گئی ہے۔ اور محفوظ وہی ہے جو ثوری، شعبہ، اور ابن عیینہ نے (یزید سے اس کے )قدیم زمانے میں بیان کیا ہے۔

ابْنِ أَبِي لَيْلَى [ص:454]، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَى مِنْ كِتَابِهِ فَإِنَّمَا حَدَّثَ ← الْبُخَارِيُّ: وَإِنَّمَا رَوَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا مِنْ حِفْظِهِ فَأَمَّا مَنْ حَدَّثَ ← رَأَيْتُ النَّبِيَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ ← الْبَرَاءِ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← أَخِيهِ عِيسَى وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← الْبُخَارِيُّ: وَرَوَى وَكِيعٌ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 34.1

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 35

35 - قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَأَمَّا احْتِجَاجُ بَعْضِ مَنْ لَا يَعْلَمُ بِحَدِيثِ وَكِيعٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ رَافِعِي أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي التَّشَهُّدِ لَا فِي الْقِيَامِ» كَانَ يُسَلِّمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي فِي التَّشَهُّدِ , وَلَا يَحْتَجُّ بِمِثْلِ هَذَا مَنْ لَهُ حَظٌّ مِنَ الْعِلْمِ، هَذَا مَعْرُوفٌ مَشْهُورٌ لَا اخْتِلَافَ فِيهِ , وَلَوْ كَانَ كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ لَكَانَ رَفْعُ الْأَيْدِي فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرَةِ , وَأَيْضًا تَكْبِيرَاتُ صَلَاةِ الْعِيدِ مَنْهِيًّا عَنْهَا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَسْتَثْنِ رَفْعًا دُونَ رَفْعٍ

بخاری نے کہا: بعض بے علم لوگوں کا وکیع کی اس حدیث سے حجت پکڑتا جو اعمش عن المسيب بن رافع عن تمیم بن طرفہ عن جابر بن سمرہ (کی سند) سے مروی ہےکہ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم نے نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا رکھے تھے تو آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں تم نے اپنے ہاتھ اٹھا رکھے ہیں گویا کہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون اختیار کرو۔ یہ روایت تو صرف تشہد کے بارے میں ہے قیام کے بارے میں نہیں ہے۔ بعض لوگ(نماز میں )دوسرے لوگوں کو ہاتھوں کے اشارے سے سلام کہتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشہد میں ہاتھ اٹھانے سے منع فرمادیا۔ جس کے پاس علم کا تھوڑا سا حصہ ہی ہے وہ اس روایت سے (ترک رفع یدین پر) حجت میں نہیں پڑتا۔ یہ بات (تمام علماء میں )مشہور ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور اگر وہی بات ہوتی جس کی طرف یہ (جاہل و منکر رفع یدین) گیا ہے تو نماز کی پہلی تکبیر اور تکبیرات عیدین میں بھی رفع یدین منع ہو جاتا کیونکہ اس روایت میں کسی رفع یدین کا استثنا نہیں کیا گیا ہے اور اس بات کو (آنے والی )حدیث نے بیان کردیا ہے۔

دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ وَنَحْنُ رَافِعِي أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← الْبُخَارِيُّ: وَأَمَّا احْتِجَاجُ بَعْضِ مَنْ لَا يَعْلَمُ بِحَدِيثِ وَكِيعٍ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 35

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right