قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · Book ‹ Chapter · حديث 10.1
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَى أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرِ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ بَعْدُ، وَحَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَصَحُّ مَعَ أَنَّ حَدِيثَ كُلَيْبٍ هَذَا لَمْ يَحْفَظْ رَفْعَ الْأَيْدِي , وَحَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ شَاهِدٌ. فَإِذَا رَوَى رَجُلَانِ عَنْ مُحَدِّثٍ قَالَ أَحَدُهُمَا: رَأَيْتُهُ فَعَلَ , وَقَالَ الْآخَرُ: لَمْ أَرَهُ فَعَلَ. فَالَّذِي قَالَ: قَدْ رَأَيْتُهُ فَعَلَ فَهُوَ شَاهِدٌ , وَالَّذِي قَالَ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ هُوَ بِشَاهِدٍ لِأَنَّهُ لَمْ يَحْفَظِ الْفِعْلَ. وَهَكَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لِشَاهِدَيْنِ شَهِدَا أَنَّ لِفُلَانٍ عَلَى فُلَانٍ أَلْفَ دِرْهَمٍ بِإِقْرَارِهِ , وَشَهِدَ آخَرَانِ أَنَّهُ لَمْ يُقِرَّ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ يَقْضِي بِقَوْلِ الشَّاهِدَيْنِ اللَّذَيْنِ شَهِدَا بِإِقْرَارِهِ وَيَسْقُطُ مَا سِوَاهُ. وَكَذَلِكَ قَالَ بِلَالٌ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ , وَقَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يُصَلِّ , فَأَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ بِلَالٍ؛ لِأَنَّهُ شَاهِدٌ , وَلَمْ يَلْتَفِتُوا إِلَى قَوْلِ مَنْ قَالَ: لَمْ يُصَلِّ حِينَ لَمْ يَحْفَظْ. وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: ذَكَرْتُ لِلثَّوْرِيِّ حَدِيثَ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبِ، فَأَنْكَرَهُ
بخاری نے کہا: اور ابوبکر النہشلی نے عن عاصم بن کلیب عن ابیہ( کی سند) سے روایت کیا کہ بے شک علی رضی اللہ تعالی عنہ نے تکبیر کے شروع میں رفع یدین کیا پھر اس کے بعد اعاده نہیں کیا۔ اور عبیداللہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ ساتھ اس کے کہ کلیب کی اس حدیث میں رفع یدین کو یادنہیں رکھا گیا۔ اور عبیداللہ کی حدیث (اثبات کی )گواہ ہے۔ پس اگر دو آدمی کسی محدث سے روایت کریں۔ ایک کہے : میں نے دیکھا ہے کہ اس نے یہ کام کیا اور دوسرا کہے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ اس نے یہ کیا۔ تو جس نے کہا کہ میں نے اسے یہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ (اثبات کا گواہ )ہے اور جس نے کہا کہ اس نے یہ کام نہیں کیا وہ گواہ نہیں ہے کیونکہ اس نے وہ کام یاد نہیں رکھا۔ اور اسی طرح عبداللہ بن الزبیر نے ان دو گواہوں سے کہا تھا۔ جنہوں نے ان کے پاس گواہی دی تھی۔ (انہوں نے کہا): فلاں آدمی کے فلاں آدمی پر ایک ہزار درہم (بقایا) ہیں۔ اور دوسرے دو گواہوں نے کہا کہ اس نے کسی چیز کا اقرار نہیں کیا ہے (یعنی اس پر ہزار درہم بقایا نہیں ہیں )تو اسے یہ (درہم ادا کرنے پڑیں گے ان دو گواہوں کی گواہی کی وجہ سے جنہوں نے یہ درہم اس کے ذمہ قرار دیئے ہیں اور باقی باتیں ساقط ہو جائیں گی۔ اوراسی طرح بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور الفضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ: آپ نے (خانہ کعبہ ) میں نماز نہیں پڑھی تو لوگوں نے بلال کی بات کو لے لیا کیونکہ وہ (اثبات کے )گواہ ہیں اور اس شخص کی بات کی طرف توجہ نہیں کی جس نے کہا آپ نے نمازنہیں پڑھی ، اس وجہ سے کہ اس نے انہیں رکھا۔اور عبدالرحمن بن مہدی نے کہا: میں نے (سفیان )ثوری کے سامنے النھشلی عن عاصم بن کلیب والی روایت بیان کی تو انہوں نے اس کا انکار کیا۔
أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← الْبُخَارِيُّ: وَرَوَى أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ
Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Chapter · Hadith 10.1
