Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 242

25 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، وَهُوَ شَاكٍّ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ» ، وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: «طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ، وَهُوَ شَاكٍّ عَلَى رَاحِلَتِهِ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مرض کی شکایت میں بیت اللہ کا طواف اپنی سواری پر کیا اور حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے رہے‘ ایک روایت میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی سواری پر کرنے کا ذکر آیا ہے۔

«طَافَ النَّبِيُّ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ، وَهُوَ شَاكٍّ عَلَى رَاحِلَتِهِ» ← «طَافَ النَّبِيُّ بِالْبَيْتِ، وَهُوَ شَاكٍّ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ» وَفِي رِوَايَةٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 242

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 243

26 - عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 243

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 244

27 - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ أَبِي جُنَابٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " أَفَضْنَا مَعَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا نَزَلْنَا جَمْعًا أَقَامَ، فَصَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَصُبَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، فَقَعَدْنَا نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ طَوِيلًا، ثُمَّ قُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: أَيُّ صَلَاةٍ؟ فَقُلْنَا: الْعِشَاءُ الْآخِرَةُ، فَقَالَ: أَمَّا كَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ صَلَّيْتُ "، وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»

ہانی بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ عرفات سے روانہ ہوئے‘ جب ہم نے مزدلفہ پہنچ کر پڑاؤ کیا تو انہوں نے نماز کھڑی کی‘ چنانچہ ہم نے ان کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی‘ پھر انہوں نے (عشاء کی) دو رکعتیں پڑھیں پھر پانی منگوا کر اپنے اوپر بہایا اور اپنے بستر پر تشریف لے گئے‘ ہم بیٹھ کر کافی دیر تک نماز کا انتظار کرتے رہے‘ بالآخر ہم نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! نماز‘ فرمایا: کون سی نماز؟ عرض کیا نماز عشاء! فرمایا: جس طرح نبی علیہ السلام نے نماز پڑھی تھی میں نے اس طرح پڑھ لی ہے‘ اور ایک روایت میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے مغرب اور عشاء کی نماز (کو مزدلفہ میں) جمع فرمایا۔

ابْنِ عُمَرَ ← هانئ بن زيد، ← يحيى بن أبي حية أبي جناب

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 244

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 245

28 - عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْمُزْدَلِفَةِ»

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں نبی علیہ السلام کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھے پڑھی ہے۔

«صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْمُزْدَلِفَةِ» ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَدِيٌّ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 245

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 246

29 - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ، بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ»

اس میں ایک اذان اور ایک اقامت کا اضافہ ہے فقط۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 246

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 247

30 - عَنْ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ عَجَّلَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، وَقَالَ لَهُمْ: «لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے کمزور افراد (خواتین اور بچوں) کو مزدلفہ سے منٰی کی طرف جلدی روانہ کر دیا اور ان سے فرمایا کہ طلوع آفتاب سے پہلے جمرۂ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔

لَهُمْ: «لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ» ← النَّبِيِّ أَنَّهُ عَجَّلَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← سَلَمَةَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 247

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 248

31 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، وَقَالَ لَهُمْ: «لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»

اس کا ترجمہ بھی بعینہ یہی ہے۔

لَهُمْ: «لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ» ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 248

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 249

32 - عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ» ، وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَكَانَ غُلَامًا حَسَنًا، فَجَعَلَ يُلَاحِظُ النِّسَاءَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ، فَلَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ الْفَضْلِ أَخِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پڑھتے رہے اور ایک روایت میں ہے کہ نبی علیہ السلام نے اپنی سواری پر اپنے پیچھے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سوار کر لیا‘ وہ ایک خوبصورت لڑکے تھے‘ انہوں نے عورتوں کو دیکھنا شروع کر دیا اور نبی علیہ السلام ان کا چہرہ عورتوں کی طرف سے پھیرتے رہے اور جمرہ عقبہ کی رمی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ پڑھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 249

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 250

33 - عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَنَسٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: ارْكَبْهَا "

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ایک آدمی کو دیکھا جو اونٹ کو ہانکتا چلا جا رہا تھا‘ اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ۔

أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 250

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 251

34 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الضَّبِّيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنَ الْجَزَيرَةِ حَاجًّا، فَمَرَرْتُ بِسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَهُمَا شَيْخَانِ بِالْعُذَيْبَةِ، فَسَمِعَانِي أَقُولُ: " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: هَذَا الشَّخْصُ أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِهِ، وَقَالَ الْآخَرُ: هَذَا أَضَلُّ مِنْ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَمَضَيْتُ حَتَّى إِذَا قَضَيْتُ نُسُكِي مَرَرْتُ بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ: كُنْتُ رَجُلًا بَعِيدَ الشُّقَّةِ، قَاصِيَ الدَّارِ أَذِنَ اللَّهُ تَعَالَى فِي هَذا الْوَجْهِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجْمَعَ عُمْرَةً إِلَى حَجَّةً، فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا جَمِيعًا، وَلَمْ أَنْسَ، فَمَرَرْتُ بِسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، فَسَمِعَانِي أَقُولُ: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: هَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِهِ، وَقَالَ الْآخَرُ: هَذَا أَضَلُّ كَذَا وَكَذَا، قَالَ عُمَرُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: مَضَيْتُ، فَطُفْتُ طَوَافًا لِعُمْرَتِي، وَسَعَيْتُ سَعْيًا لِعُمْرَتِي، فَصَنَعْتُ، ثُمَّ عُدْتُ، فَفَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ بَقِيتُ حَرَامًا أَصْنَعُ كَمَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ، حَتَّى إِذَا قَضَيْتُ آخِرَ نُسُكِي. قَالَ عُمَرُ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الضَّبِّيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِالْنَصْرَانِيَّةِ، فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ أُرِيدُ الْحَجَّ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَهَلَّ سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، وَأَهَلَّ الضَّبِّيُّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ تَمَتَّعْتَ، وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَقَالَا لَهُ: وَاللَّهِ لَأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِكَ، قَالَ: نَقْدُمُ عَلَى عُمَرَ وَتَقْدُمُونَ، فَلَمَّا قَدِمَ الضَّبِّيُّ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِعُمْرَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ حَرَامًا لَمْ يَحْلُلْ مِنْ شَيْءٍ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّهِ، ثُمَّ أَقَامَ حَرَامًا لَمْ يَحْلُلْ مِنْهُ حَتَّى أَتَى عَرَفَاتٍ، وَفَرَغَ مِنْ حَجَّتِهِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ حَلَّ فَأَهْرَقَ دَمًا لِمُتْعَتِهِ، فَلَمَّا صَدَرُوا مِنْ حَجِّهِمْ مَرُّوا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الْمُتْعَةِ، وَإِنَّ الضَّبِّيَّ بْنَ مَعْبَدٍ قَدْ تَمَتَّعَ، قَالَ: صَنَعْتَ مَاذَا يَا ضَبِّيُّ؟ قَالَ: أَهْلَلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ مَكَّةَ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَطُفْتُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِعُمْرَتِي، ثُمَّ رَجَعْتُ حَرَامًا لَمْ أَحْلُلْ مِنْ شَيْءٍ، ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجَّتِي، ثُمَّ أَقَمْتُ حَرَامًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ، فَأَهْرَقْتُ دَمًا لِمُتْعَتِي، ثُمَّ أَحْلَلْتُ، قَالَ: فَضَرَبَ عُمَرُ عَلَى ظَهْرِهِ، وَقَالَ: «هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الضَّبِّيِّ، قَالَ: خَرَجَ هُوَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ يُرِيدُونَ الْحَجَّ، قَالَ: فَأَمَّا الضَّبِّيُّ فَقَرَنَ الْحَجَّةَ وَالْعُمْرَةَ جَمِيعًا، وَأَمَّا سَلْمَانُ وَزَيْدٌ فَأَفْرَدُوا الْحَجَّ، ثُمَّ أَقْبَلَا عَلَى الضَّبِّيِّ يَلُومَانِهُ فِيمَا صَنَعَ، ثُمَّ قَالَا لَهُ: أَنْتَ أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِكَ، تَقْرِنُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَقَدْ نَهَى أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَنِ الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ، قَالَ: تَقْدُمُونَ عَلَى عُمَرَ وَأَقْدُمُ، فَمَضَوْا حَتَّى دَخَلُوا مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ لِعُمْرَتِهِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوةِ لِعُمْرَتِهِ، ثُمَّ عَادَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ لِحَجَّتِهِ، ثُمَّ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَقَامَ كَمَا هُوَ لَمْ يَحِلَّ لَهُ شَيْءٌ حَرَامٌ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ شَاةً، فَلَمَّا قَضَوْا نُسُكَهُمْ مَرُّوا بِالْمَدِينَةِ، فَدَخَلُوا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ وَزَيْدٌ: إِنَّ الضَّبِّيَّ قَرَنَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، قَالَ: ثُمَّ صَنَعْتَ مَاذَا؟ قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ مَكَّةَ طُفْتُ طَوَافًا لِعُمْرَتِي، ثُمَّ سَعَيْتُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِعُمْرَتِي، ثُمَّ عُدْتُ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ لِحَجَّتِي، ثُمَّ سَعَيْتُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجَّتِي، قَالَ: ثُمَّ صَنَعْتَ مَاذَا؟ قَالَ: أَقَمْتُ حَرَامًا لَمْ يَحِلَّ لِي شَيْءٌ حُرِّمَ عَلَيَّ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحْتُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ شَاةً، قَالَ: فَضَرَبَ عُمَرُ عَلَى كَتِفِهِ، ثُمَّ قَالَ: «هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ْصبی بن معبد کہتے ہیں کہ میں جزیرہ سے حج کرنے کے لیے روانہ ہوا‘ میرا گزر سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے ہوا‘ یہ دونوں عذیبہ کے شیوخ میں شمار ہوتے تھے‘ جب ان دونوں نے یہ سنا کہ میں حج وعمرہ (کی نیت کر کے) دونوں کا تلبیہ اکٹھے پڑھے ہوئے ہوں تو ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گراہ ہے اور دوسرے نے بھی طبع آزمائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں فلاں سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ میں وہاں سے چل پڑا یہاں تک کہ جب میں حج سے فارغ ہوا تو امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے میرا گزر ہوا‘ میں نے ان سے اپنے واقعہ کی تفصیل ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ میں دور دراز کے علاقے اور دور کی جگہ سے تعلق رکھتا ہوں‘ اللہ نے مجھے حج کی سعادت بخشی تو میں نے چاہا کہ حج اور عمرہ دونوں کو اکٹھا کر لوں چنانچہ میں نے دونوں کی طرف سے احرام باندھ لیا‘ اور میں نے یہ کام بھول کر نہیں کیا‘ راستے میں میرا گزر سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے ہوا‘ جب انہوں نے یہ سنا کہ میں حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ اکٹھا کیے ہوئے ہوں تو ان میں سے ایک نے یہ کہا کہ یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے اور دوسرے نے کہا کہ یہ فلاں فلاں سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ امیر المومنین نے پوچھا کہ پھر تم نے کیا کیا؟ عرض کیا کہ میں وہاں سے چل کر یہاں آیا‘ عمرہ کا طواف اور سعی کی‘ پھر دوبارہ ایسا ہی کیا اور احرام کی حالت ہی میں رہا اور وہی کچھ کرتا رہا جو ایک حاجی کرتا ہے یہاں تک کہ میں نے حج کا آخری رکن ادا کر لیا‘ فرمایا: تمہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی رہنمائی نصیب ہو گئی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ صبی بن معبد کہتے ہیں میں نے عیسائیت کو ابھی تازہ تازہ خیر باد کہا تھا‘ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں حج کے ارادے سے میں کوفہ آیا (راستہ میں کوفہ بھی پڑا) وہاں سے سلمان اور زید بن صوحان نے صرف حج کا احرام باندھا اور میں نے حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھا‘ وہ دونوں کہنے لگے افسوس ! تم حج تمتع کر رہے ہو جبکہ نبی علیہ السلام نے اس سے منع فرمایا ہے؟ بخدا! تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہو‘ میں نے کہا کہ ہم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پہنچیں گے اور آپ بھی (وہاں فیصلہ کروا لیں گے) جب صبی مکہ مکرمہ پہنچے تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا‘ صفا اور مروہ کے درمیان عمرہ کی سعی کی‘ پھر حالت احرام میں واپس لوٹ آئے اور کسی چیز کو اپنے اوپر حلال نہیں کیا‘ پھر حج کی نیت سے طواف اور سعی کی اور محرم ہونے کی حالت ہی میں اقامت گزین ہو گئے‘ حلال نہیں ہوئے‘ یہاں تک کہ عرفات آئے اور حج سے فارغ ہو گئے‘ چنانچہ جب دس ذی الحجہ کو انہوں نے حلال ہونے کا ارادہ کیا تو دم تمتع کی نیت سے قربانی کی (اور احرام کی حالت سے نکل آئے ) جب یہ لوگ حج سے فارغ ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے‘ زید بن صوحان نے کہا کہ اے امیر المومنین ! آپ نے تمتع سے منع فرما رکھا تھا اور صبی بن معبد نے حج تمتع کیا ہے؟ انہوں نے صبی سے پوچھا کہ تم نے کیا طریقہ اختیار کیا؟ صبی نے کہا کہ امیر المومنین! میں نے حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھا‘ جب میں مکہ مکرمہ پہنچا تو عمرہ کا طواف اور سعی کی‘ پھر حالت احرام میں واپس آیا اور کسی چیز کو اپنے اوپر حلال نہیں کیا اور دوبارہ حج کے لیے طواف اور سعی کی‘ پھر دس ذی الحجہ تک الزام کی حالت میں رہا اور دم تمتع دے کر حلال ہو گیا‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر ان کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ تمہیں نبی علیہ السلام کی سنت پر رہنمائی نصیب ہوگئی۔

زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَهُمَا شَيْخَانِ بِالْعُذَيْبَةِ، فَسَمِعَانِي أَقُولُ: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، ← أَقْبَلْتُ مِنَ الْجَزَيرَةِ حَاجًّا، فَمَرَرْتُ بِسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، ← الضَّبِّيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 251

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 252

35 - عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رمضان المبارک میں ایک عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔

عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 252

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحَجِّ ‹ باب · حديث 253

36 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى بَعِيرٍ أَوْرَقَ إِلَى سَوَادٍ، وَهُوَ نَاقَتُهُ الْقَصْوَاءُ، مُتَقَلِّدًا بِقَوْسِهِ، مُتَعَمِّمًا بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ مِنْ وَبَرٍ»

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن قصویٰ اونٹنی پر ’’جس کا رنگ سفیدی سے سیاہی کی طرف مائل تھا‘‘ کمان لٹکائے ہوئے اور اونٹ کی پشم کا بنا ہوا سیاہ عمامہ باندھے ہوئے سوار تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Hajj Book › Door · Hadith 253

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door