مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 161
86 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَمَّا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، فَقَالَتْ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحِمَارَ وَالْمَرْأَةَ وَالْكَلْبَ وَالسِّنَّوْرُ يَقْطَعُونَ الصَّلَاةَ، قَرَنْتُمُونَا بِهِمْ، ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ، «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ، عَلَيْهِ ثَوْبٌ جَانِبُهُ عَلَيَّ»
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک مرتبہ اسود بن یزید نے سوال پوچھا کہ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: اے اہل عراق ! تم یہ سمجھتے ہو کہ گدھا‘ کتا اور بلی (نمازی کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو توڑ دیتے ہیں اور تم ہم عورتوں کو بھی ان کے ساتھ ملاتے ہو‘ جہاں تک ممکن ہو‘ آگے سے گزرنے والے کو روکو‘ حقیقت یہ ہے کہ نبی علیہ السلام نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو کپڑا ہوتا تھا اس کا ایک حصہ مجھ پر ہوتا تھا۔
الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَمَّا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،
Hadith 161
