Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 185

110 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَن غَيْرِ وَاحِدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَمَعَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُمْ عَنِ التَّكْبِيرِ، فَقَالَ لَهُمْ: انْظُرُوا آخِرَ جَنَازَةٍ كَبَّرَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدُوهُ قَدْ كَبَّرَ أَرْبَعًا حَتَّى قُبِضَ، قَالَ عُمَرُ: «فَكَبَّرُوا أَرْبَعًا»

ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جمع کر کے ان سے تکبیرات جنازہ کے عدد کے بارے سوال کیا اور فرمایا: یہ دیکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو آخری نماز جنازہ پڑھائی تھی اس پر کتنی تکبیریں کہی تھیں ؟ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار تکبیریں کہی تھیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا‘ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بس پھر اب چار تکبیریں ہی کہا کرو۔

غَيْرُ وَاحِدٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Hadith 185

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 186

111 - عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی میت کی نماز جنازہ پڑھاتے تو یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ‘ موجود اور غیر موجود‘ چھوٹے اور بڑے‘ مرد وعورت کی مغفرت فرما دے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← شَيْبَانَ

Hadith 186

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 187

112 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «أُلْحِدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ، وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصْبًا»

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد بنائی گئی تھی اور قبلہ رخ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لٹایا گیا اور اس کے بعد قبر مبارک پر کچی اینٹیں نصب کر دی گئیں۔

«أُلْحِدَ لِلنَّبِيِّ وَأُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ، وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصْبًا» ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Hadith 187

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 188

113 - عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أَتَاهُ الْمَلَكُ، فَأَجْلَسَهُ، فَقَالَ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَقَالَ: اللَّهُ، قَالَ: وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا دِينُكَ؟ قَالَ: الْإِسْلَامُ، قَالَ: فَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، فَإِذَا كَانَ كَافِرًا أَجْلَسَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: مَنْ رَبُّكَ؟ قَالَ: هَاهْ لَا أَدْرِي، كَالْمُضِلِّ هُوَ شَيْئًا، فَيَقُولُ: مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ لَا أَدْرِي، كَالْمُضِلِّ شَيْئًا، فَيَقُولُ: مَا دِينُكَ؟ فَيُقَالُ: هَاهْ، لَا أَدْرِي، قَالَ: فَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً يَسْمَعُهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ} [إبراهيم: 27] "

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی مؤمن کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو اسے اٹھا کر بٹھاتا ہے اور اس سے سوال کرتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے اللہ! وہ اگلا سوال کرتا ہے کہ تیرے نبی کون ہیں؟ وہ جواب دیتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ اگلا سوال کرتا ہے کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے اسلام! اس پر اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے۔ اور اگر مرنے والا کافر ہو تب بھی فرشتہ آ کر اسے اٹھاتا ہے اور اس سے یہی سوال پوچھتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے ہائے افسوس! مجھے کچھ پتہ نہیں اس کے جواب سے ایسا محسوس ہو گا گویا اس سے کوئی چیز گم ہوگئی ہے‘ پھر اگلے دونوں سوال جواب بھی اسی طرح ہوتے ہیں‘ اس کے بعد اس کی قبر کو تنگ کر دیا جاتا ہے اور اسے جہنم میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے اور اسے فرشتہ ایک ضرب اتنی زور سے لگاتا ہے کہ اس کی آواز جن و انس کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے‘ یہ فرما کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت شدہ قول (کلمہ توحید) پر ثابت قدم رکھتا ہے اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، ← رَجُلٌ:

Hadith 188

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 189

114 - عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فِي الْقَبْرِ ثَلَاثٌ: سُؤَالٌ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى، وَدَرَجَاتٌ فِي الْجِنَانِ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ عِنْدَ رَأْسِكَ "

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر میں پیش آنے والی تین چیزوں کی وضاحت یوں فرمائی کہ ایک تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سے متعلق سوال ہو گا‘ دوسری چیز درجات جنت کے حوالے سے ہو گی اور تیسری چیز تمہارے سر کے پاس تلاوت قرآن ہو گی۔

اللَّهِ تَعَالَى، وَدَرَجَاتٌ فِي الْجِنَانِ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ عِنْدَ رَأْسِكَ ← النَّبِيِّ فِي الْقَبْرِ ثَلَاثٌ: سُؤَالٌ ← أُمِّ هَانِئٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 189

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 190

115 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَأَتَى قَبْرَ أُمِّهِ، وَهُوَ يَبْكِي أَشَدَّ الْبُكَاءِ، حَتَّى كَادَتْ نَفْسُهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: «اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ، فَأَذِنَ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي الشَّفَاعَةِ فَأَبَى عَلَيَّ» ، وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: " اسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ، فَأُذِنَ لَهُ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى قَرِيبٍ مِنَ الْقَبْرِ، فَمَكَثَ الْمُسْلِمُونَ، وَمَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ اشْتَدَّ بُكَاؤُهُ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا يَسْكُنُ، فَأَقْبَلَ، وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا أَبْكَاكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؟ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّي، فَأَذِنَ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي الشَّفَاعَةِ، فَأَبَى، فَبَكَيْتُ رَحْمَةً لَهَا، وَبَكَى الْمُسْلِمُونَ رَحْمَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک جنازے کے لیے نکلے‘ وہاں سے فارغ ہو کر نبی علیہ السلام اپنی والدہ کی قبر کے پاس تشریف لائے‘ وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شدید گریہ طاری ہو گیا‘ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کا دل دونوں پہلوؤں کی طرف سے باہر نکل آئے گا‘ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ کیوں اتنا رو رہے ہیں؟ فرمایا: میں نے اپنے پروردگار سے اپنی والدہ کی قبر پر جانے کی اجازت مانگی‘ اس نے اجازت دی‘ پھر میں نے اپنی والدہ کی سفارش کی اجازت مانگی لیکن اس نے انکار کر دیا۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Hadith 190

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 191

116 - عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، وَحَمَّادٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْقُبُورِ أَنْ تَزُورُوهَا، فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا: هَجْرًا "

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں پہلے قبرستان جانے سے منع کیا تھا‘ لیکن اب اجازت دیتا ہوں اس لیے قبرستان میں جایا کرو‘ البتہ کوئی بیہودہ بات نہ کہنا۔

الْقُبُورِ أَنْ تَزُورُوهَا، فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا: هَجْرًا ← النَّبِيِّ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، وَحَمَّادٍ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ

Hadith 191

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 192

117 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذَا خَرَجَ إِلَى الْمَقَابِرِ، قَالَ: «السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ»

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قبرستان جاتے تو وہاں جا کر یہ کہتے: اے شہر خموشاں کے مسلمانو! تم پر سلام ہو‘ انشاء اللہ ہم بھی تم سے آ کر ملنے والے ہیں‘ ہم اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

«السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ← كَانَ النَّبِيُّ إذَا خَرَجَ إِلَى الْمَقَابِرِ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Hadith 192

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door