Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 492

1 - عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: " (الم) ، قَالَ: أَنَا اللَّهُ أَعْلَمُ وَأَرَى " عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: " {إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ} [يوسف: 78] ، قَالَ: كَانَ إِذَا رَأَى رَجُلًا مُضَيَّقًا عَلَيْهِ وَسَّعَ عَلَيْهِ، وَإِذَا رَأَى مَرِيضًا قَامَ عَلَيْهِ، وَإِذَا رَأَى مُحْتَاجًا سَأَلَهُ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد باری تعالیٰ ’’المر‘‘ کی تفسیر میں منقول ہے کہ میں اللہ ہوں‘ جانتا اور دیکھتا ہوں۔

نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ} [يوسف: ← هَذِهِ الْآيَةِ: ← كُنْتُ عِنْدَ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ ← سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ ← الله أعلم وأرى. ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: (الم) ← أَبِي الضُّحَى، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبِي فَرْوَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 492

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 493

3 - عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ، فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ تَعَالَى، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ} [الحجر: 75] : الْمُتَفَرِّسِينَ "

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مؤمن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی ”ان فی ذلک لایت للمتوسمین‘‘ بمعنی فراست والے۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 493

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 494

4 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: " {فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ {92} عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [الحجر: 92-93] ، قَالَ: عَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’فوربک لنسالنھم اجمعین عما کانوا یعملون “ کی وضاحت میں فرمایا ہے اس سے مراد ’’ لا الہ الا اللہ“ ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 494

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 495

5 - عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: " مَالَكَ لَا تَزُورُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُ؟ فَأُنْزِلَتْ بَعْدَ لَيَالٍ: {وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا} [مريم: 64] الْآيَةُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبریل سے ایک مرتبہ فرمایا: تم اس مقدار سے زیادہ کثرت کے ساتھ ہمارے پاس کیوں نہیں آتے؟ چند ہی دنوں کے بعد یہ آیت نازل ہوگئی ’’ وما نتنزل الا بامر ربک لہ ما بین ایدینا وما خلفنا‘‘ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ذَرٍّ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 495

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 496

6 - عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَ فِي نَادِيهِمْ؟ قَالَ: «كَانَ يَخْذِفُونَ بِالنَّوَاةِ أَوِ الْحَصَاةِ، وَيَسْخَرُونَ مِنْ أَهْلِ الطَّرِيقِ»

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ نبی علیہ السلام سے پوچھا کہ وہ کون سا ناپسندیدہ کام تھا‘ جو قوم لوط کے لوگ اپنی مجلسوں میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا: وہ لوگوں کو گٹھلیاں اور کنکریاں مارتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

قُلْتُ ← أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سِمَاكٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 496

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 497

7 - عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً} [الروم: 54] ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، وَقَالَ: قُلْ: مِنْ ضَعْفٍ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی علیہ السلام کے سامنے ’’ اللہ الذی خلقکم من ضعف الخ‘‘ والی آیت ض کے فتحہ کے ساتھ پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رد کرتے ہوئے فرمایا: ’’من ضعف “ (ضمہ کے ساتھ) کہو۔

قُلْ: مِنْ ضَعْفٍ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى النَّبِيِّ فَرَدَّ عَلَيْهِ، ← عَطِيَّةَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 497

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 498

8 - عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «قَدْ مَضَى الدُّخَانُ وَالْبَطْشَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ” دخان اور بطثہ‘‘ تو نبی علیہ السلام کے دور باسعادت میں ہی گزر چکے۔

«قَدْ مَضَى الدُّخَانُ وَالْبَطْشَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← الْهَيْثَمُ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 498

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 499

9 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ، وَهِبَةُ اللَّهِ لَكُمْ، يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا، وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ»

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری اولاد تمہاری کمائی میں سے ہے اور تمہارے لیے اللہ کا تحفہ ہے‘ وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں دے دیتا ہے‘ اور جسے چاہتا ہے بیٹے دے دیتا ہے۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 499

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 500

10 - عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قُبَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُزَنِيِّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ: {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا} [الزمر: 53] . فَقَالَ رَجُلٌ: وَمِنَ الشِّرْكِ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: وَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا وَمَنْ أَشْرَكَ "

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘ جو نبی علیہ السلام کے آزاد کردہ غلام میں فرماتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے دنیا و مافیہا کے مقابلے میں مجھے یہ آیت زیادہ پسند ہے ’’قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم الخ“ ایک شخص نے عرض کیا کہ مشرک کا کیا حکم ہے؟ اس پر نبی علیہ السلام خاموش رہے تین مرتبہ اس طرح سوال اور خاموشی کے بعد نبی علیہ السلام نے فرمایا : ہاں! مشرک کا بھی یہی حکم ہے۔

أَلَا وَمَنْ أَشْرَكَ ← وَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ← رَجُلٌ: وَمِنَ الشِّرْكِ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ← ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُزَنِيِّ، ← أَبِي قَبِيلٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 500

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 501

11 - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " أَنَّ وَحْشِيًّا لَمَّا قَتَلَ حَمْزَةَ مَكَثَ زَمَانًا، ثُمَّ وَقَعَ فِي قَلْبِهِ الْإِسْلَامُ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي قَلْبِهِ الْإِسْلَامُ، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَقُولُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا {68} يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا} [الفرقان: 68-69] ، فَإِنِّي قَدْ فَعَلْتُهُنَّ جَمِيعًا، فَهَلْ لِي رُخْصَةٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْ لَهُ: {إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [الفرقان: 70] ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْآيَةِ، فَلَمَّا قُرِئَتْ عَلَيْهِ، قَالَ وَحْشِيٌّ: إِنَّ فِي هَذِهِ الْآيَةِ شُرُوطًا، وَأَخْشَى أَنْ لَا آتِيَ بِهَا، وَلَا أُحَقِّقُ أَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا أَمْ لَا، فَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ أَوْسَعُ مِنْ ذَلِكَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: 53] ، قَالَ: فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى وَحْشِيٍّ، فَلَمَّا قُرِئَتْ عَلَيْهِ، قَالَ: أَمَّا هَذِهِ الْآيَةُ فَنَعَمْ. ثُمَّ أَسْلَمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، فَأْذَنْ لِي فِي لِقَائِكَ، فَأْرَسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ وَارِ عَنْ وَجْهِكَ، فَإِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْ قَاتِلِ حَمْزَةَ عَمِّي، قَالَ: فَسَكَتَ وَحْشِيٌّ، حَتَّى كَتَبَ مُسَيْلِمَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ مُسَيْلِمَةَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ أُشْرِكْتُ فِي الْأَرْضِ، فَلِي نِصْفُ الْأَرْضِ وَلِقُرَيْشٍ نِصْفُهَا، غَيْرَ أَنَّ قُرَيْشًا قَوْمٌ يَعْتَدُونَ، قَالَ: فَقَدِمَ بِكِتَابِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَلَمَّا قُرِئَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابُ قَالَ لِلرَّسُولَيْنِ: " لَوْلَا أَنَّكُمَا رَسُولَانِ لَقَتَلْتُكُمَا، ثُمَّ دَعَا بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اكْتُبْ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ، السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، {إِنَّ الأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ} [الأعراف: 128] ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَلَمَّا بَلَغَ مَا كَتَبَ مُسَيْلِمَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرَجَ الذِّرَاعَ فَصَقَلَهُ، وَهَمَّ بِقَتْلِ مُسَيْلِمَةَ، فَلَمْ يَزَلْ عَلَى عَزْمِ ذَلِكَ حَتَّى قَتَلَهُ يَوْمَ الْيَمَامَةِ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب وحشی بن حرب نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا تو ایک زمانہ تک کفر پر ہی رہے‘ جب دل میں اسلام گھر کر گیا تو نبی علیہ السلام کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ اسلام میرے دل میں گھر کر چکا ہے اور میں نے سنا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتے اور ناحق کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے قتل کرنا حرام قرار دیا ہو اور زنانہیں کرتے‘ جو شخص ایسا کرے گا وہ سزا سے دو چار ہو گا‘ جو قیامت کے دن دوگنی کر دی جائے گی اور وہ اس میں ذلیل ہو کر ہمیشہ رہے گا‘ میں نے یہ سب کام کر رکھے ہیں‘ کیا میرے لیے رخصت کا کوئی پہلو ہے؟راوی کہتے ہیں کہ اس پر حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اسے کہہ دیجیے کہ جو شخص توبہ کر لے‘ ایمان لے آئے اور اچھے اعمال کرے تو اللہ ایسے لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے‘ نبی علیہ السلام نے اسے یہ جواب بھجوا دیا‘ جب وہ آیات اسے پڑھ کر سنائی گئیں تو اس نے کہا کہ اس آیت میں تو کچھ شرائط ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں ان شرائط کو پورا نہیں کر سکوں گا اور مجھے یقین نہیں ہے کہ میں اچھے اعمال کر سکوں گا یانہیں؟ تو کیا اس سے زیادہ بھی نرم حکم ہو سکتا ہے؟ اس پر جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے کہ اللہ اس بات کو معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ ہر گناہ جسے چاہے گا معاف فرما دے گا‘ نبی علیہ السلام نے یہ آیت وحشی کے پاس لکھ بھیجی‘ جب اس کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو اس نے اپنے عریضے میں کہا کہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: ’’ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ الخ“ مجھے کیا پتہ کہ اس کی مشیت میری مغفرت سے متعلق ہے یا نہیں؟ اگر یہ آیت یوں ہوتی ’’ویغفر ما دون ذلک‘‘ اور ’’ لمن یشآء‘‘ نہ ہوتا تو بات بن جاتی ‘ کیا آپ کے پاس اس سے بھی زیادہ گنجائش ہے؟ اس پر جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے کہ اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ فرما دیجیے اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا‘ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘ بیشک اللہ سب گناہوں کو معاف فرما دے گا‘ بیشک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے‘ نبی علیہ السلام نے یہ آیت لکھ کر وحشی کو بھیج دی‘ جب اس کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو اس نے کہا کہ ہاں! یہ آیت ہے‘ پھر اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد اس نے پیغام بھیجا کہ یارسول اللہ! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اب مجھے ملاقات کی اجازت بھی مرحمت فرمائیے‘ نبی علیہ السلام نے یہ جواب بھیجا کہ مجھ سے اپنے چہرے کو چھپا کر ہی رکھو کیونکہ میں اپنے چچا حمزہ کے قاتل کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا‘ اس پر وحشی خاموش ہو گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد مسیلمہ نے نبی علیہ السلام کے پاس یہ پیغام بھیجا ’’پیغمبر خدا مسیلمہ کی طرف سے پیغمبر خدا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف‘ اما بعد! میں زمین میں آپ کا شریک ہوں‘ اس لیے نصف زمین میری ہے اور نصف قریش کی‘ یہ الگ بات ہے کہ قریش ایک با اعتماد قوم ہے‘‘ اس کا یہ پیغام نبی علیہ السلام کے پاس دو آدمی لے کر آئے نبی علیہ السلام کو جب یہ خط پڑھ کر سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان قاصدوں سے فرمایا: اگر تم دونوں قاصد نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کروا دیتا‘ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر فرمایا: لکھو ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ محمد رسول اللہ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کی طرف‘ پیروکار ہدایت پر اللہ کی سلامتی ہو‘ اما بعد! زمین اللہ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور اچھا انجام متقیوں کا ہوتا ہے‘ وصلی اللہ علی سیدنا محمد۔ جب وحشی کو مسیلمہ کے اس خط کی خبر معلوم ہوئی تو اس نے اپنا حربہ نکالا‘ اس کی دھار تیز کی اور مسیلمہ کے قتل کی فکر میں رہا یہاں تک کہ جنگ یمامہ کے دن اسے جہنم رسید کر دیا۔

اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيِّ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 501

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 502

12 - عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ مِنْ أَصْحَابِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَخْرُجَنَّ بِشَفَاعَتِي مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ مِنَ النَّارِ، حَتَّى لَا يَبْقَى فِيهَا أَحَدٌ إِلَّا أَهْلُ هَذِهِ الْآيَةِ: {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ {42} قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ {43} وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ {44} وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ {45} وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ {46} حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ {47} فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ} [المدثر: 42-48] "، وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " يُعَذِّبُ اللَّهُ تَعَالَى أَقْوَامًا مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ، ثُمَّ يُخْرِجُهُمْ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا مَنْ ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى: {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ {42} قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ {43} وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ {44} وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ {45} وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ {46} حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ {47} فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ} [المدثر: 42-48] "

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری شفاعت کی برکت سے اہل ایمان کو جہنم سے نکالا جائے گا حتٰی کہ اس میں کوئی مؤمن باقی نہیں رہے گا مگر اس آیت کی وجہ سے کہ تمہیں کون سی چیز جہنم میں لے آئی ؟ وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے‘ مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے‘ بیکار کاموں میں گھسے رہتے تھے اور قیامت کے دن کی تکذیب کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی‘ سو اب انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔

أَبِي الزَّعْرَاءِ مِنْ أَصْحَابِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 502

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ باب · حديث 503

13 - عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ ذَكَرَ اللَّهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ {42} قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ {43} وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ {44} وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ {45} وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ {46} حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ {47} فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ} [المدثر: 42-48] " عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: «الْحُقْبُ ثَمَانُونَ سَنَةً، مِنْهَا سِتَّةُ أَيَّامٍ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا»

اس کا ترجمہ بھی وہی ہے جو گزشتہ حدیث میں ذکر ہوا۔

اللَّهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ ← لَا يَبْقَى فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Tafsir Book › Door · Hadith 503

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door