Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ باب · حديث 489

1 - عَنْ جُنَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي، فَإِنَّ لِجَهَنَّمَ سَبْعَةَ أَبْوَابٍ: بَابُ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جوشخص میری امت پر تلوار کھینچتا ہے تو وہ یاد رکھے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں‘ ان میں سے ایک اس شخص کے لیے بھی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← جُنَيْدٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The sedition book › Door · Hadith 489

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ باب · حديث 490

2 - عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْجُلَاسِ، قَالَ: كُنْتُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ الشَّيْبَانِيِّ كَلَامًا عَظِيمًا، فَأَتَيْنَا بِهِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَنَحْنُ نَهُزُّ عُنُقَهُ فِي طَرِيقِهِ، فَوَجَدْنَاهُ فِي الرَّحْبَةِ، مُسْتَلْقِيًا عَلَى ظَهْرِهِ، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَسَأَلَهُ عَنِ الْكَلَامِ، فَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ: أَتَرْوِيهِ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى، أَوْ عَنْ كِتَابِهِ، أَوْ عَنْ رَسُولِهِ، فَقَالَ: لَا: فَعَنْ مَا تَرْوِي؟ قَالَ: عَنْ نَفْسِي، قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ رَوَيْتَ عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، أَوْ عَنْ كِتَابِهِ، أَوْ عَنْ رَسُولِهِ ضَرَبْتُ عُنُقَكَ، وَلَوْ رَوَيْتَهُ عَنِّي أَوْجَعْتُكَ عُقُوبَةً، فَكُنْتَ كَاذِبًا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا» ، وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ أَبِي الْجُلَاسِ، قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ سَمِعَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ الشَّيْبَانِيِّ كَلَامًا عَظِيمًا، فَأَتَيْنَا بِهِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَوَجَدْنَاهُ فِي الرَّحْبَةِ، مُسْتَلْقِيًا عَلَى ظَهْرِهِ، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَسَأَلَهُ عَنِ الْكَلَامِ، فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَرْوِيهِ عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، أَوْ عَنْ كِتَابِهِ، أَوْ عَنْ رَسُولِهِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَعَنْ مَنْ تَرْوِيهِ؟ قَالَ: عَنْ نَفْسِي، قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ رَوَيْتَ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى، أَوْ عَنْ كِتَابِهِ، أَوْ عَنْ رَسُولِهِ ضَرَبْتُ عُنُقَكَ، وَلَوْ رَوَيْتَ عَنِّي أَوْجَعْتُكَ عُقُوبَةً، فَكُنْتَ كَاذِبًا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا» . فَأَنْتَ مِنْهُمْ

ابو الجلاس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سبا یہودی سے’’بڑی بات‘‘ سننے والوں میں میں بھی شامل تھا‘ ہم اسے لے کر حضرت علی مرتضیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور راستے بھر اس کی گردن کھینچتے رہے‘ ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد کوفہ کے صحن میں چت لیٹے ہوئے اور ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھے ہوئے دیکھا‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے اس کے عقائد کے بارے پوچھا‘ اس نے کچھ بولا‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم یہ باتیں اللہ کے حوالے سے یا اس کی کتاب کے حوالے سے یا اس کے پیغمبر کے حوالے سے نقل کرتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں ! فرمایا: پھر کہاں سے بیان کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ اپنے دل سے! فرمایا: اگر اب تو نے کوئی جھوٹی بات اللہ تعالیٰ یا اس کی کتاب یا اس کے پیغمبر کے حوالے سے نقل کی تو میں تیری گردن اڑا دوں گا اور اگر میری طرف منسوب کر کے نقل کی تو میں تجھے درد ناک سزا دوں گا اور تو جھوٹا قرار دیا جائے گا‘ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے قریب تیس کذاب آئیں گے اور تو ان ہی میں سے ایک ہے۔

أَبِي الْجُلَاسِ، ← الْحَارِثِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The sedition book › Door · Hadith 490

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ باب · حديث 491

3 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْتَلِفُونَ إِلَى الْقُبُورِ، فَيَضَعُونَ بُطُونَهُمْ عَلَيْهِ، وَيَقُولُونَ: وَدِدْنَا لَوْ كُنَّا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَكُونُ؟ قَالَ: لِشِدَّةِ الزَّمَانِ وَكَثْرَةِ الْبَلَايَا وَالْفِتَنِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ وہ قبروں پر آ کر اپنے جسم ان پر رگڑیں گے‘ اور کہیں گے کہ کاش! ہم اس قبر والے کی جگہ ہوتے‘ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہو گا ؟ فرمایا: شدت زمانہ اور کثرت مصائب وفتن کی وجہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The sedition book › Door · Hadith 491

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door