عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مدائن میں ایک کسان کے یہاں مہمان بن کر ٹھہرے‘ وہ کھانا لے کر آیا جو ہم نے کھا لیا‘ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی منگوایا‘ وہ چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا‘ انہوں نے وہ برتن اس کے منہ پر دے مارا‘ ہمیں ان کا یہ عمل برا لگا‘ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ ہم نے عرض کیا: نہیں! فرمایا: میں پچھلے سال بھی اس کے یہاں ٹھہرا تھا اور میں نے اس سے پانی منگوایا تھا تو میں میرے پاس چاندی کے برتن میں ہی پانی لے کر آیا تھا اور میں نے اسے بتایا تھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے اور ریشم و دیباج پہننے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں مشرکین کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُّسْلِمٍ
Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Food, Beverages, Drink, Victims, Hunting, and Slaughtered Books › Door · Hadith 410
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ وَالْأَشْرِبَةِ وَالشُّرْبِ وَالضَّحَايَا وَالصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ ‹ باب · حديث 411
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا‘ اب چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی والدہ کی قبر پر جانے کی اجازت مل گئی ہے اس لیے تم بھی قبرستان چلے جایا کرو لیکن کوئی بیہودہ بات مت کہنا‘ اسی طرح تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی‘ اس کی وجہ بیٹھی کہ تم میں سے جو مالدار ہیں‘ وہ تنگدستوں پر کشادگی کر سکیں‘ اب چونکہ اللہ نے وسعت کر دی ہے اس لیے اب تم کھاؤ اور ذخیرہ کرو‘ اسی طرح حنتم‘ نقیر اور دباء میں کچھ پینے سے منع کیا تھا اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو کیونکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے البتہ نشہ آور چیز مت ہیں۔
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر برتن میں پی لیا کرو کیونکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے۔
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھانا کھا رہے تھے‘ پھر انہوں نے نبیز منگوا کر پی‘ میں نے عرض کیا: اللہ رحم فرمائے‘ آپ بھی نبیذ پی رہے ہیں؟ حالانکہ امت آپ کی اقتداء کرتی ہے‘ فرمایا: میں نے نبی علیہ السلام کو بھی نبیذ پیتے ہوئے دیکھا ہے‘ اگر میں نے نبی علیہ السلام کو یہ پیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں اسے کبھی نہ پیتا۔
عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،
Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Food, Beverages, Drink, Victims, Hunting, and Slaughtered Books › Door · Hadith 416
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ وَالْأَشْرِبَةِ وَالشُّرْبِ وَالضَّحَايَا وَالصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ ‹ باب · حديث 417
محمد بن قیس ہمدانی کہتے ہیں کہ ابو عامر ثقفی ہر سال نبی علیہ السلام کے پاس شراب کی ایک مشک بطور ہدیہ بھیجا کرتے تھے‘ ایک روایت میں یوں ہے کہ بنو ثقیف کا ایک آدمی جس کی کنیت ابو عامر تھی ہر سال نبی علیہ السلام کے پاس ایک مشک شراب بھیجا کرتا تھا‘ جس سال شراب حرام ہوئی‘ اس نے اس سال بھی نبی علیہ السلام کو حسب عادت ہدیہ میں ’’مشک‘‘ بھیجی‘ نبی علیہ السلام نے فرمایا: اے ابو عامر ! بیشک اللہ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے اس لیے ہمیں تمہاری شراب کی کوئی ضرورت نہیں‘ اس نے کہا کہ اسے لے کر بیچ دیجیے اور اس کی قیمت اپنی ضروریات میں استعمال کر لیجیے تو نبی علیہ السلام نے فرمایا: اللہ نے اس کا پینا ‘ بیچنا اور اس کی قیمت کھانا سب حرام کر دیا ہے۔