Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ باب · حديث 309

1 - عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمُ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْمَارَ وَالْكُوبَةَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تمہارے لیے شراب‘ جوا‘ آلات لہو ولعب اور شطرنج کو ناپسند کرتا ہے۔

«إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمُ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْمَارَ وَالْكُوبَةَ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُّسْلِمٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Boundaries Book › Door · Hadith 309

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ باب · حديث 310

2 - عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ بِابْنِ أَخٍ لَهُ نَشْوَانَ، قَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ، فَأَمَرَ بِهِ، فَحُبِسَ حَتَّى إِذَا صَحَا وَأَفَاقَ عَنِ السُّكْرِ، دَعَا بِالسَّوْطِ فَقَطَعَ ثَمَرَتَهُ وَرَقَّهُ، وَدَعَا جَلَّادًا؛ فَقَالَ: اجْلِدْهُ عَلَى جِلْدِهِ، وَارْفَعْ يَدَكَ فِي حَدِّكَ وَلَا تَبْدُ ضَبْعَيْكَ، قَالَ: وَأَنْشَأَ عَبْدُ اللَّهِ يَعُدُّ حَتَّى أَكْمَلَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً خَلَّى سَبِيلَهُ، فَقَالَ الشَّيْخُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَابْنُ أَخِي، وَمَالِي وَلَدٌ غَيْرَهُ، فَقَالَ: شَرُّ الْعَمِّ وَالِي الْيَتِيمِ، أَنْتَ كُنْتَ، وَاللَّهِ مَا أَحْسَنْتَ أَدَبَهُ صَغِيرًا، وَلَا سَتَرْتَهُ كَبِيرًا، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ حَدٍّ أُقِيمَ فِي الْإِسْلَامِ لِسَارِقٍ أُتِيَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ، قَالَ: انْطَلِقُوا بِهِ، فَاقْطَعُوهُ فَلَمَّا انْطَلَقَ بِهِ نَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا سُفَّ عَلَيْهِ وَاللَّهِ الرَّمَادُ، فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَكَأَنَّ هَذَا قَدِ اشْتَدَّ عَلَيْكَ؟ قَالَ: " وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ لَا يَشْتَدَّ عَلَيَّ، أَنْ تَكُونُوا أَعْوَانَ الشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ، قَالُوا: فَلَوْلَا خَلَّيْتَ سَبِيلَهُ، قَالَ: أَفَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتُونِي بِهِ، فَإِنَّ الْإِمَامَ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يُغَلِّطَهُ، قَالَ: ثُمَّ تَلَا: {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا} [النور: 22] "، وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِابْنِ أَخٍ لَهُ سَكْرَانَ، فَقَالَ: تَرْتِرُوهُ وَمَزْمِزُوهُ وَاسْتَنْكِهُوهُ، فَوَجَدُوا مِنْهُ رِيحَ شَرَابٍ، فَلَمَّا صَحَا دَعَا بِهِ وَدَعَا بِسَوْطٍ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ ثَمَرَتُهُ. . . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ حَدٍّ أُقِيمَ فِي الْإِسْلَامِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ يَدُهُ، فَلَمَّا انْطَلَقَ بِهِ نَظَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا يُسَفُّ فِي وَجْهِهِ الرَّمَادُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهُ شَقَّ عَلَيْكَ، فَقَالَ: " أَلَا يَشُقُّ عَلَيَّ أَنْ تَكُونُوا أَعْوَانًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ؟ قَالُوا: أَفَلَا تَدَعُهُ؟ أَفَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ يُؤْتَى بِهِ، إِنَّ الْإِمَامَ إِذَا رُفِعَ إِلَيْهِ الْحَدُّ، فَلَيْسَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَدَعَهُ حَتَّى يُمْضِيَهُ، ثُمَّ تَلَا {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا} [النور: 22] . . . . . . الْآيَةَ "

یحییٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک آدمی اپنے ایک بھتیجے کو لے کر آیا جو نشے کی حالت میں تھا اور اس کی عقل ماؤف ہو چکی تھی‘ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم پر اسے قید کر دیا گیا‘ جب اسے نشے کی حالت سے افاقہ ہوا تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوڑا منگوایا‘ اس کا پھل کاٹ کر اسے نرم کیا اور جلاد کو بلا کر فرمایا اس کے جسم پر کوڑے لگاو‘ کوڑا مارنے کے لیے ہاتھ تو بلند کرنا لیکن اپنے پہلوؤں کو ظاہر نہ کرنا‘ یہ کہہ کر وہ کوڑے گننا شروع ہو گئے‘ جب اس نے اسی کوڑے پورے کر لیے تو انہوں نے اس شخص کو رہا کر دیا۔ اس نوجوان کا چچا کہنے لگا: اے ابو عبدالرحمٰن! بخدا یہ میرا بھتیجا ہے اور اس کے علاوہ میرا کوئی بچہ نہیں ہے‘ فرمایا: پھر تو تو بہت برا چچا اور اس یتیم کا بہت برا سر پرست ہے‘ بخدا تو نے بچپن میں سے اچھے آداب نہیں سکھائے اور بڑا ہونے کے بعد اس کے عیوب پر پردہ نہیں ڈالا‘ پھر وہ ہمیں حدیث سنانے لگے کہ اسلام میں سب سے پہلی حد جو جاری کی گئی‘ وہ ایک چور کی تھی جسے نبی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں لایا گیا‘ جب اس کے خلاف گواہی قائم ہو گئی تو نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اسے لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دو‘ جب اسے لے جایا جانے لگا تو کسی کی نظر نبی علیہ السلام کے روئے انور پر پڑی‘ بخدا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا نبی علیہ السلام کے روئے انور پر راکھ بکھیر دی گئی ہو‘ یہ دیکھ کر ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ !محسوس ایسا ہوتا ہے کہ یہ چیز آپ پر گراں گزر رہی ہے؟ فرمایا: گراں کیوں نہیں گزرے گی؟ کہ تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار ثابت ہوئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ پھر آپ نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟ فرمایا: کیا میرے پاس لانے سے پہلے اسے نہیں چھوڑا جا سکتا تھا‘ کیونکہ امام کے پاس جب حد کا کوئی معاملہ پہنچ جائے تو اس کے لیے اسے معطل کرنا مناسب نہیں ہوتا‘ پھر نبی علیہ السلام نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ ’’انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے‘‘۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← يَحْيَى

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Boundaries Book › Door · Hadith 310

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ باب · حديث 311

3 - عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ يُقْطَعُ الْيَدُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَشْرَةِ دَرَاهِمَ» ، وَفِي رِوَايَةٍ: «إِنَّمَا كَانَ الْقَطْعُ فِي عَشْرَةِ دَرَاهِمَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوت میں دس دراہم کی چوری پر ہاتھ کاٹ دیا جاتا تھا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Boundaries Book › Door · Hadith 311

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ باب · حديث 312

4 - عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شبہہ کی وجہ سے حد ساقط کر دیا کرو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Boundaries Book › Door · Hadith 312

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ باب · حديث 313

5 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ الْآخَرَ قَدْ زَنَى، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَاهُ ثَانِيَةً، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ؛ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَدْ زَنَى، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَسَأَلَ عَنْهُ أَصْحَابَهُ: هَلْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: انْطَلِقُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ، فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ، فَلَمَّا أَبْطَأَ عَلَيْهِ الْقَتْلُ، انْصَرَفَ إِلَى مَكَانٍ كَثِيرِ الْحِجَارَةِ، فَقَامَ فِيهِ فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ، فَرَجَمُوهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَّا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ، وَقَالَ قَائِلٌ: إِنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ تَوْبَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ قَوْمَهُ طَمِعُوا فِيهِ، فَسَأَلُوهُ مَا يُصْنَعُ بِجَسَدِهِ؟ قَالَ: اصْنَعُوا بِهِ مَا تَصْنَعُونَ بِمَوْتَاكُمْ مِنَ الْكَفَنِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالْمَدْفَنِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَصَلُّوا عَلَيْهِ "، وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: " أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَرَّ بِالزِّنَا فَرَدَّهُ، ثُمَّ عَادَ فَأَقَرَّ بِالزِّنَا فَرَدَّهُ، ثُمَّ عَادَ فَأَقَرَّ بِالزِّنَا الرَّابِعَةَ؛ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فِي مَوْضِعٍ قَلِيلِ الْحِجَارَةِ، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ الْمَوْتُ، فَانْطَلَقَ يَسْعَى إِلَى مَوْضِعٍ كَثِيرِ الْحِجَارَةِ، وَاتَّبَعَهُ النَّاسُ فَرَجَمُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ، ثُمَّ ذَكَرُوا شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْلَا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَفْنِهِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لَهُمْ فِي ذَلِكَ، قَالَ: وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ قُبِلَ مِنْهُمْ ". وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: " لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ أَنْ يُرْجَمَ قَامَ فِي مَوْضِعٍ قَلِيلِ الْحِجَارَةِ، فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ الْقَتْلُ، فَذُهِبَ بِهِ مَكَانًا كَثِيرَ الْحِجَارَةِ، وَاتَّبَعَهُ النَّاسُ حَتَّى رَجَمُوهُ. فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ! ؟ " وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: لَمَّا هَلَكَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ بِالرَّجْمِ، اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيهِ، فَقَالَ قَائِلٌ: مَاعِزٌ أَهْلَكَ نَفْسَهُ. وَقَالَ قَائِلٌ: تَابَ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَقُبِلَ مِنْهُ، أَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمِ الْحَدَّ عَلَيَّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَرُدُّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُعْرِضُ عَنْهُ، فَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ: أَنْكَرْتُمْ مِنْ عَقْلِ هَذَا شَيْئًا؟ قَالُوا: مَا نَعْلَمُ إِلَّا عَاقِلًا، وَمَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَاذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ، قَالَ: فَذَهَبُوا بِهِ فِي مَكَانٍ قَلِيلِ الْحِجَارَةِ، فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ جَزِعَ، قَالَ: فَخَرَجَ يَشْتَدُّ حَتَّى أَتَى الْحَرَّةَ، فَثَبَتَ لَهُمْ، قَالَ: فَرَجَمُوهُ بِجَلَامِيدِهَا حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاعِزٌ حِينَ أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ جَزِعَ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا خَلَّيْتُمْ سَبِيلَهُ؟ ! قَالَ: فَاخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَمْرِهِ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ: هَلَكَ مَاعِزٌ، وَأَهْلَكَ نَفْسَهُ. وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: بَلْ تَابَ إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ لَقُبلَ مِنْهُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا نَصْنَعُ؟ قَالَ: «اصْنَعُوا مَا تَصْنَعُونَ بِمَوْتَاكُمْ مِنَ الْغُسْلِ وَالْكَفَنِ وَالْحَنُوطِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالدَّفْنِ» . وَقَدْ رُوِيَ الْحَدِيثُ بِرِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ بھائی سے پیچھے رہ جانے والے سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا ہے اس لیے اس پر حد جاری کر دیجیے‘ نبی علیہ السلام نے انہیں لوٹا دیا‘ چار مرتبہ اسی طرح ہوا‘ چوتھی مرتبہ نبی علیہ السلام نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا کہ تم اس کی عقل میں کچھ کمی محسوس کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں! فرمایا: پھر اسے لے جا کر رجم کر دو۔ چنانچہ انہیں لے جایا گیا اور لوگوں نے انہیں پتھر مارنا شروع کیے‘ لیکن جب اس طرح ان کی روح نکلنے میں تاخیر ہونے لگی تو وہ ایسی جگہ بھاگ گئے‘ جہاں پتھر بہت زیادہ تھے اور وہاں جا کر کھڑے ہو گئے اور مسلمانوں نے آ کر انہیں اتنے پتھر مارے کہ وہ شہید ہو گئے‘ نبی علیہ السلام تک یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ تم نے اس کا راستہ کیوں نہ چھوڑ دیا؟ اس پر لوگ آپس میں اختلاف کرنے لگے‘ کسی نے کہا کہ ماعز نے اپنے آپ کو خود ہلاک کر لیا‘ اور کسی نے کہا کہ مجھے امید ہے یہ اس کی توبہ ہی ہو گی جب نبی علیہ السلام تک یہ باتیں پہنچیں تو فرمایا کہ اس اکیلے نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر لوگوں کی بہت بڑی جماعتیں ایسی توبہ کر لیں تو وہ ان کی طرف سے بھی قبول ہو جائے‘ لوگوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو نہیں ماعز پر رشک آیا۔ چنانچہ لوگوں نے آ کر پوچھا کہ ان کی نعش کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ فرمایا: جو عام مردوں کے ساتھ کرتے ہو‘ وہی اس کے ساتھ بھی کرو۔ یعنی کفن بھی دو‘ نماز جنازہ بھی پڑھو اور دن بھی کرو‘ چنا نچہ لوگوں نے انہیں لے جا کر ان کی نماز جنازہ پڑھی۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Boundaries Book › Door · Hadith 313

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ باب · حديث 314

6 - عَنْ رَبِيعَةَ، عَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، قَالَ: قَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا بِمُعَاهَدٍ، فَقَالَ: «أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَّى بِذِمَّتِهِ»

ابن بیلمانی کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک معاہد کے بدلے میں مسلمان کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا سب سے زیادہ حق دار میں ہوں۔

أَحَقُّ مَنْ وَفَّى بِذِمَّتِهِ» ← قَتَلَ النَّبِيُّ مُسْلِمًا بِمُعَاهَدٍ، فَقَالَ: ← الْبَيْلَمَانِيِّ، ← رَبِیعَۃَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The Boundaries Book › Door · Hadith 314

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door