Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 161

86 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَمَّا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، فَقَالَتْ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحِمَارَ وَالْمَرْأَةَ وَالْكَلْبَ وَالسِّنَّوْرُ يَقْطَعُونَ الصَّلَاةَ، قَرَنْتُمُونَا بِهِمْ، ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ، «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ، عَلَيْهِ ثَوْبٌ جَانِبُهُ عَلَيَّ»

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک مرتبہ اسود بن یزید نے سوال پوچھا کہ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: اے اہل عراق ! تم یہ سمجھتے ہو کہ گدھا‘ کتا اور بلی (نمازی کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو توڑ دیتے ہیں اور تم ہم عورتوں کو بھی ان کے ساتھ ملاتے ہو‘ جہاں تک ممکن ہو‘ آگے سے گزرنے والے کو روکو‘ حقیقت یہ ہے کہ نبی علیہ السلام نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو کپڑا ہوتا تھا اس کا ایک حصہ مجھ پر ہوتا تھا۔

الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَمَّا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 161

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 162

87 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ فَقَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا، وَاحْمَدُوا اللَّهِ وَكَبِّرُوهُ، وَسَبِّحُوهُ حَتَّى يَنْجَلِيَ: أَيُّهُمَا انْكَسَفَ، ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نبی علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا‘ اسی دن سورج گرہن ہو گیا‘ نبی علیہ السلام نے اس موقع پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: شمس وقمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں‘ انہیں کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے‘ اس لیے جب تم یہ کیفیت دیکھا کرو تو نماز پڑھا کرو‘ اور اللہ کی تحمید اور تکبیر تسبیح بیان کیا کرو‘ یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے‘ یہ کہہ کر نبی علیہ السلام منبر سے اتر آئے اور دو رکعت نماز پڑھائی۔

انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ فَخَطَبَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 162

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 163

88 - عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامًا طَوِيلًا حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهُ لَا يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ، فَكَانَ رُكُوعُهُ قَدْرَ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَكَانَ قِيَامُهُ قَدْرَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ قَدْرَ قِيَامِهِ، فَكَانَ جُلُوسُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَدْرَ سُجُودِهِ، ثُمَّ سَجَدَ قَدْرَ جُلُوسِهِ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ مِنْهَا، بَكَى، فَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ، فَسَمِعْنَا، وَهُوَ يَقُولُ: " أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبْهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، ثُمَّ جَلَسَ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، يُخَوِّفُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِمَا عِبَادَهُ لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أُدْنِيتُ مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى لَوْ شِئْتُ أَنْ أَتَنَاوَلَ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِ شَجَرِهَا فَعَلْتُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أُدْنِيتُ مِنَ النَّارِ حَتَّى جَعَلْتُ أَتَّقِي، وَلَقَدْ رَأَيْتُ فِيهَا سَارِقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، وَفِي رِوَايَةٍ: «سَارِقَ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذَّبُ بِالنَّارِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ فِيهَا عَبْدَ بْنِ دَعْدَعٍ سَارِقَ الْحُجَّاجِ بِمِحْجَنِهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً أَدْمَاءَ حِمْيَرِيَّةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَحَشَرَاتِهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ نَحْوُهُ. وَفِيهِ: " لَقَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ بْنِ دَعْدَعٍ سَارِقَ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ، فَكَانَ إِذَا خَفَى ذَهَبَ، وَإِذَا رَآهُ أَحَدٌ، قَالَ: إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي ". وَفِي رِوَايَةٍ: " كَانَ إِذَا خَفِيَ لَهُ شَيْءٌ، وَإِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِ، قَالَ: إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي "

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نبی علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا‘ اسی دن سورج گرہن ہو گیا‘ لوگ آپس میں کہنے لگے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج کو گہن لگ گیا‘ اس موقع پر نبی علیہ السلام نے نماز کسوف پڑھاتے ہوئے اتنا طویل قیام کیا کہ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ نبی علیہ السلام رکوع نہیں کریں گے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا جو بقدر قیام تھا‘ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو قومہ بقدر رکوع تھا‘ پھر سجدہ کیا جو بقدر قومہ تھا‘ پھر دو سجدوں کے درمیان بیٹھے جو ابقدر سجدہ تھا‘ پھر دوسرا سجدہ کیا جو بندر جلسہ تھا۔ پھر دوسری رکعت پڑھائی اور اس میں بھی اسی طرح کیا‘ یہاں تک کہ جب دوسری رکعت کے سجدے میں پہنچے تو رو پڑے اور یہ آہ و بکاء بہت شدید ہو گئی‘ ہم نے کان لگا کر سنا تو نبی علیہ السلام یہ فرما رہے تھے کہ اے اللہ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ میری موجودگی میں تو انہیں عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے‘ تشہد پڑھا اور نماز سے فارغ ہو کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا کہ شمس وقمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے‘ انہیں کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے‘ اس لیے جب ایسی صورت حال پیش آیا کرے تو نماز کا اہتمام کیا کرو۔ اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ مجھے اسی نماز کے دوران جنت کے اتنا قریب کر دیا گیا کہ اگر میں اس کے درختوں کی ٹہنیوں میں سے کوئی ٹہنی توڑنا چاہتا تو توڑ سکتا تھا اور میں نے اپنے آپ کو جہنم کے بھی اتنا قریب دیکھا کہ میں ڈرنے لگا‘ اور میں نے پیغمبر خدا کے گھر میں چوری کرنے والے کو جہنم میں مبتلا ہو عذاب دیکھا اور میں نے جہنم میں عبد بن دعدع کو بھی دیکھا جو اپنی لاٹھی کے ذریعے حجاج کرام کا سامان چوری کرتا تھا‘ نیز میں نے اس میں قبیلہ حمیر سے تعلق رکھنے والی گندمی رنگ کی ایک عورت کو بھی دیکھا جسے اپنی ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا‘ نہ خود اسے کچھ کھلاتی تھی اور نہ ہی اسے چھوڑتی تھی کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ ایک دوسری روایت میں اسی طرح کا مضمون آیا ہے جس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جب عبد بن دعدع کو کوئی نہ دیکھ پا تا تو وہ اس کا ساز و سامان اٹھا کر لے جاتا اور اگر کوئی اسے دیکھ لیتا تو وہ یہ بہانہ بنا دیتا کہ یہ سامان میری لاٹھی سے چپک کر آ گیا ہے۔

النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ قِيَامًا طَوِيلًا حَتَّى ظَنُّوا ← انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنُ عَمْرٍو، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 163

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 164

89 - عَنْ نَاصِحٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَهْ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں استخارہ کی تعلیم اسی طرح دیا کرتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَهْ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← نَاصِحٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 164

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 165

90 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةِ فِي الْأَمْرِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ» ، وَفِي رِوَايَةٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا، فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَاسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ. اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ الْأَمْرُ خَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي، وَخَيْرًا لِي فِي عَاقِبَةِ أَمْرِي، فَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ ". وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: «وَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ قَدِّرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر معاملہ میں ہمیں استخارہ کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے‘ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وضو کرے اور فرائض کے علاوہ دو رکعتیں (نفلی طور پر) پڑھ کر یہ دعا کرے کہ اے اللہ! میں آپ سے آپ کے علم کے ذریعے خیر کا طلب گار ہوں‘ اور آپ کی قدرت سے اس کام پر قدرت کا خواستگار ہوں‘ اور آپ سے آپ کا فضل چاہتا ہوں کیونکہ آپ سب کچھ جانتے ہیں‘ میں کچھ بھی نہیں جانتا‘ آپ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں اور مجھے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں اور آپ تو علام الغیوب ہیں۔ اے اللہ! اگر یہ کام میرے لیے معاشی طور پر اور انجام کار کے اعتبار سے اچھا ہے تو اسے میرے لیے آسان فرما اور اسے مبارک فرما اور اگر نہیں تو پھر میرے لیے خیر مقدر فرما جہاں بھی ہو اور پھر اس پر مجھے راضی بھی فرما۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 165

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 166

91 - عَنِ الْحَرْثِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتَحَ مَكَّةَ وَضَعَ لَأْمَتَهُ، وَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ دَعَا بِثَوْبٍ وَاحِدٍ فَصَلَّى فِيهِ» ، زَادَ فِي رِوَايَةٍ: «مُتَوَشِّحًا» . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَضَعَ لَأْمَتَهُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، قَالَ: فَأَتَى بِهِ فِي جَفْنَةٍ فِيهَا خُبْزُ الْعَجِينِ، فَاسْتَتَرَ بِثَوْبٍ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَعَا بِثَوْبٍ فَتَوَشَّحَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ". قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَهِيَ الضُّحَى. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَضَعَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَأْمَتَهُ، وَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَتَى فِي جَفْنَةٍ فِيهَا أَثَرُ عَجِينٍ فَاغْتَسَلَ، وَصَلَّى أَرْبَعًا، أَوْ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، مُتَوَشِّحًا "

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن نبی علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو اپنی زرہ اتار دی اور پانی منگوا کر اپنے جسم پر بہایا پھر ایک کپڑا منگوا کر اس میں نماز پڑھی‘ ایک روایت میں اسے لپٹنے کی وضاحت بھی آئی ہے‘ اور ایک روایت میں ہے کہ نبی علیہ السلام کے پاس پانی کا ایک بڑا سا پیالہ لایا گیا جس پر آنے کے کچھ اثرات باقی تھے‘ نبی علیہ السلام نے کپڑے سے پردہ کر کے اس پانی سے غسل کیا‘ پھر ایک کپڑا منگوا کر جسم پر اچھی طرح لپیٹ کر دو رکعت نماز پڑھی‘ امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ چاشت کی نماز تھی۔

أُمِّ هَانِئٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْحَرْثِ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 166

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 167

92 - عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَامَ وَنَامَ، وَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ شَدَّ الْمِئْزَرَ وَأَحْيَا اللَّيْلَ»

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان شروع ہوتا تو نبی علیہ السلام قیام بھی کرتے اور نیند بھی کرتے‘ اور جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمر کس لیتے اور رات جاگا کرتے۔

عَائِشَةَ ← رَجُلٌ:

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 167

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 168

93 - عَنْ زِيَادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَامَّةَ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: أَلَيْسَ قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا "

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو اکثر حصہ قیام فرماتے تھے‘ حتٰی کہ آپ کے قدم مبارک ورم آلود ہو جاتے‘ ایک مرتبہ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہوں کو معاف نہیں فرما دیا؟ (لینی اتنی محنت کا فائدہ کیا ہے جبکہ آپ کے تو سارے گناہ معاف ہو چکے؟) فرمایا: کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

أَفَلَا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا ← لَهُ أَصْحَابُهُ: أَلَيْسَ قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقُومُ عَامَّةَ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، ← الْمُغِيرَةِ، ← زِيَادٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 168

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 169

94 - عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ «أَنَّ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ كَانَتْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهُنَّ ثَلَاثُ رَكَعَاتِ الْوِتْرِ، وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»

حضرت امام ابو جعفر باقر رحمتہ اللہ علیہ سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی علیہ السلام کی رات کی نماز تیرہ رکعت پر مشتمل ہوتی تھی‘ جن میں وتر کی تین رکعتیں اور فجر کی دو سنتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 169

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 170

95 - عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ حُمْرَانَ، قَالَ: مَا أَلْقَى ابْنَ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا وَأَقْرَبُ النَّاسِ مَجْلِسًا حُمْرَانُ، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: يَا حُمْرَانُ، أَلَا أَرَاكَ تُوَاظِبُنَا إِلَّا وَأَنْتَ تُرِيدُ لِنَفْسِكَ خَيْرًا؟ فَقَالَ: أَجَلْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَمَّا اثْنَتَانِ، فَإِنِّي أَنْهَاكَ عَنْهُمَا، أَمَّا وَاحِدَةٌ، فَإِنِّي آمُرُكَ بِهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِهَا، قَالَ: مَا هِيَ تِلْكَ الْخِصَالُ الثَّلَاثَةُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: «لَا تَمُوتَنَّ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ إِلَّا دَيْنًا تَدَعُ لَهُ وَفَاءً، وَلَا تَسَّمَّعَنَّ مِنْ تِلَاوَةِ آيَةٍ، فَإِنَّهُ يَسَّمَّعُ بِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا سَمَّعْتَ بِهِ قِصَاصًا، وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا. وَأَمَّا الَّذِي آمُرَكَ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ لَا تَدَعْهُمَا، فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ»

ابن اقمر سے حمران کے متعلق منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب بھی ملاقات ہوتی تو مجلس میں ان کے سب سے زیادہ قریب حمران ہی ہوتے‘ ایک دن حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حمران! میں سمجھتا ہوں کہ تمہارے اس دوام اور مداومت کا مقصد ہی اپنے لیے بھلائی کا حصول ہے؟ عرض کیا: جی حضرت! فرمایا: یاد رکھو! میں تمہیں دو عادتوں سے روکتا ہوں اور ایک کام کے کرنے کا حکم دیتا ہوں‘ کیونکہ میں نے نبی علیہ السلام کو اس کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے‘ حمران نے عرض کیا کہ اے ابو عبدالرحمٰن ! وہ تین عادتیں کون سی ہیں؟ فرمایا: تمہیں اس حال میں موت نہ آئے کہ تم پر کسی قسم کا کوئی قرض ہو الایہ کہ اس کی ادائیگی کا انتظام موجود ہو‘ کسی آیت کی تلاوت سے اپنی شہرت کے متلاشی نہ رہنا ورنہ قیامت کے دن قصاص کے طور پر تمہاری بھی اسی طرح تشہیر کی جائے گی اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا‘ اور جس چیز کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں‘ نبی علیہ السلام نے مجھے بھی اس کا حکم دیا تھا اور وہ ہے فجر کی دو رکعتیں‘ کہ انہیں کبھی نہ چھوڑیں کیونکہ اس میں رغبت کے بہت سے اسباب موجود ہیں۔

حُمْرَانَ ← ابْنِ الْأَقْمَرِ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 170

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 171

96 - عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُميَرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: «مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوافل میں فجر کی دو سنتوں سے زیادہ کسی کی رعایت اور خیال نہیں کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 171

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 172

97 - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ شَهْرًا، فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ "

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں چالیس دن یا ایک مہینے تک مسلسل اس بات پر غور کرتا رہا ہوں کہ میں نے نبی علیہ السلام کو فجر کی سنتوں میں قل ھو اللہ احد اور قل یا ایھا الکافرون کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔

رَمَقْتُ النَّبِيَّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ شَهْرًا، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 172

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door