مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 149
73 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّهُ صَحِبَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَصَلَّى عَلَى رَاحِلَتِهِ قَبْلَ الْمَدِينَةِ يُومِي إِيمَاءً إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ وَالْوِتْرَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْزِلُ لَهُمَا عَنْ دَابَّتِهِ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاتِهِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَوَجْهُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ؟ فَقَالَ لِي: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ، يُومِي إِيمَاءً»
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہیں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کے سفر میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہوا‘ اس دوران فرض نمازوں اور وتر کے علاوہ تمام نوافل حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سواری پر ہی بیٹھے بیٹھے اشارہ سے پڑھ لیے‘ جبکہ آپ کا رخ مدینہ منورہ کی طرف تھا‘ البتہ فرائض اور وتر کے لیے آپ اپنی سواری سے اتر جاتے تھے‘ مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے سواری پر بیٹھے بیٹھے کس طرح نماز پڑھ لیتے ہیں؟ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ نبی علیہ السلام نفل نماز سواری پر ہی اشارہ سے پڑھ لیا کرتے تھے‘ خواہ سواری کا رخ کسی طرف بھی ہو۔
مُجَاهِدٍ ← حَمَّادٌ،
Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 149
