Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 125

48 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقِيلَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ حَصِيرٌ، وَهُوَ بِنَفْسِهِ يَكْرَهُ أَنْ يَقُومَ مَقَامَكَ، قَالَ: افْعَلُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ "

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی علیہ السلام پر بیہوشی طاری ہوئی تو فرمایا کہ ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں‘ کسی نے کہا کہ ابو بکر رقیق القلب ہیں اور وہ خود بھی آپ کی جگہ کھڑا ہونا اچھا نہیں سمجھتے‘ نبی علیہ السلام نے فرمایا جو میں نے کہا ہے وہ کرو۔

((مروا أبا بكر فليصل بالناس))، فقيل: ← لَمَّا أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 125

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 126

49 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: لَمَّا أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ حَصِيرٌ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَقُومَ مَقَامَكَ، قَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ يَا صُوَيْحِبَاتِ يُوسُفَ، وَكَرَّرَ "

اس روایت کے آخر میں یہ لفظ زائد ہے اے یوسف کی عورتوں کی طرح بہانے بنانے والیو! اور نبی علیہ السلام نے اپنی بات کا تکرار کیا۔

مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقِيلَ لَهُ: ← لَمَّا أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 126

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 127

50 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرِضَ الْمَرَضَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ خَفَّ مِنَ الْوَجَعِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " مُرِي أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا: يَا بِنْتَاهُ، إِنِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ رَفِيقٌ، وَإِنِّي مَتَى لَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَقَامِهِ أَرِقُّ لِذَلِكَ، فَاجْتَمِعِي أَنْتِ وَحَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُرْسِلَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلْيُصَلِّ بِهِمْ، فَفَعَلَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرِي أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، يَسْمَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنَ، وَهُوَ يَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْفَعُونِي، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ أَمَرْتُ أَبَا بَكْرٍ أنَ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، وَأَنْتَ عَذِرٌ، قَالَ: ارْفَعُونِي، فَإِنَّهُ جُعِلَتْ قُرَّةَ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَرُفِعَ بَيْنَ اثْنَيْنِ، وَقَدَمَاهُ تَخُدَّانِ الْأَرْضَ، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ بِحِسِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَهُ يُكَبِّرُ، وَيُكَبِّرُ أَبُو بَكْرٍ بِتَكْبِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِالنَّاسِ غَيْرَ تِلْكَ الصَّلَاةِ حَتَّى قُبِضَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ الْإِمَامُ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِعٌ حَتَّى قُبِضَ " حَمَّادٌ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَلَدُ الزِّنَا وَالْعَبْدُ وَالْأَعْرَابِيُّ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ»

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی علیہ السلام مرض الموت ہوئے تو ایک دن درد کی شدت میں کمی محسوس کی‘ جب نماز کا وقت آیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھیج دیا کہ نبی علیہ السلام آپ کو نماز پڑھانے کا حکم دے رہے ہیں‘ انہوں نے جواباً کہلا بھیجا کہ میں بہت بوڑھا اور دل کا کمزور ہوں‘ جب میں نبی علیہ السلام کو ان کی جگہ پر نہ دیکھوں گا تو مجھ پر اور رقت طاری ہو جائے گی اس لیے تم اور حفصہ اکٹھے نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کہ وہ عمر کے پاس لوگوں کو نماز پڑھانے کا پیغام بھیج دیں‘ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی علیہ السلام سے عرض کیا تو فرمایا تم تو یوسف کی عورتوں کی طرح ہو‘ ابو بکر کوحکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔جب اذان شروع ہوئی اور نبی علیہ السلام نے مؤذن کو’’حی علی الصلوٰۃ‘‘ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا مجھے اٹھاؤ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ میں ابو بکر کو نماز پڑھانے کا کہہ چکی ہوں اور آپ حالت عذر میں ہیں‘ فرمایا: مجھے اٹھاؤ‘ کیونکہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دو آدمیوں کے درمیان آپ کو اٹھایا‘ آپ کے قدم مبارک زمین پر گھستے جاتے تھے۔ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی علیہ السلام کے مبارک قدموں کی آہٹ کا احساس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے‘ نبی علیہ السلام نے انہیں اشارہ کیا اور ان کی بائیں جانب آ کر بیٹھ گئے‘ اب نبی علیہ السلام تکبیر کہتے تھے اور نبی علیہ السلام کی تکبیر پر حضرت ابو بکر تکبیر کہتے تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تکبیر پر لوگ تکبیر کہتے تھے یہاں تک کہ نماز مکمل ہوگئی‘ پھر اس نماز کے علاوہ اپنی وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو کوئی نماز نہ پڑھائی بلکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی امام رہے اور نبی علیہ السلام بیمار رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال فرما گئے۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 127

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 128

52 - عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِرَجُلٍ فَصَلَّى خَلْفَهُ، وَامْرَأَةٌ خَلْفَ ذَلِكَ، صَلَّى بِهِمْ جَمَاعَةً»

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھی‘ وہ آدمی نبی علیہ السلام کے پیچھے کھڑا ہوا اور ایک عورت اس کے پیچھے کھڑی ہوئی اور نبی علیہ السلام نے ان سب کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھائی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْهَيْثَمُ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 128

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 129

53 - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 129

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 130

54 - عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَهِدَ الْفَجْرَ وَالْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، كَانَتْ لَهُ بَرَاءَتَانِ: بَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ جو شخص فجر اور عشاء کی نماز میں جماعت کے ساتھ شریک ہوا‘ اس کے لیے دو قسم کی براءت لکھی جائے گی‘ ایک نفاق سے براء ت اور ایک شرک سے براءت۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 130

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 131

55 - عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ دَاوَمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، كُتِبَ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ»

اس روایت میں فجر اور عشاء پر چالیس دن مداومت کا ذکر ہے‘ باقی مضمون وہی ہے۔

لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ» ← «مَنْ دَاوَمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 131

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 132

56 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهيمَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْخُرُوجِ لِصَلَاةِ الْغُدْوَةِ وَالْعِشَاءِ لِلنِّسَاءِ» . فَقَالَ رَجُلٌ: إِذًا يَتَّخِذُونَهُ دَغَلًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا!

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے عورتوں کو بھی نماز فجر اور عشاء میں آنے کی اجازت دے رکھی تھی‘ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اس زمانے کی عورتیں تو اسے اپنے لیے دلیل بنا لیں گی ؟ تو فرمایا کہ میں تمہیں نبی علیہ السلام کے حوالے سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم اس کے مقابلے میں اپنی بات کہہ رہے ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 132

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 133

57 - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نُودِيَ بِالْعِشَاءِ، وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر عشاء کی اذان ہو چکی ہو اور مؤذن اقامت کہہ چکا ہو (بھوک شدید لگی ہوئی ہو اور کھانا آ جائے) تو پہلے کھانا کھا لو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 133

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 134

58 - عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ جَابِرٍ بْنِ الْأَسْوَدِ أَوِ الْأَسْوَدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلَيْنِ صَلَّيَا الظُّهْرَ فِي بُيُوتِهِمَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَرَيَانِ أَنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا، ثُمَّ أَتَيَا الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَعَدَا نَاحِيَةً مِنَ الْمَسْجِدِ، وَهُمَا يَرَيَانِ أَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَحِلُّ لَهُمَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَآهُمَا أَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، فَجِيءَ بِهِمَا، وَفَرَايِصُهُمَا تَرْتَعِدُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ فِي أَمْرِهِمَا شَيْءٌ، فَسَأَلَهُمَا، فَأَخْبَرَاهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: «إذَا فَعَلْتُمَا ذَلِكَ، فَصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ، وَاجْعَلَا الْأُولَى هِيَ الْفَرْضَ» ، قِيلَ: قَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَمَاعَةٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: عَنِ الْهَيْثَمِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

مروی ہے کہ دو آدمیوں نے دور نبوت میں ظہر کی نماز اپنے گھر میں پڑھ لی‘ ان کا گمان یہ تھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں‘ پھر وہ دونوں مسجد میں آئے تو نبی علیہ السلام نماز پڑھا رہے تھے‘ وہ دونوں مسجد کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے اور ان کا خیال یہ تھا کہ اب دوبارہ نماز پڑھنا ان کے لیے جائز نہیں‘ جب نبی علیہ السلام نماز سے فارغ ہوئے اور انہیں بیٹھے ہوئے دیکھا تو انہیں بلوایا‘ جب ان دونوں کو لایا گیا تو ان کے اعضاء جسم تھر تھر کانپ رہے تھے اس خوف سے کہ ان دونوں کے معاملے میں کوئی نیا حکم نہ آ گیا ہو‘ نبی علیہ السلام نے ان سے حقیقت حال پوچھی تو ان دونوں نے ساری بات بتا دی‘ نبی علیہ السلام نے فرمایا: جب ایسا ہو جائے تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرو اور پہلی نماز کو ہی فرض سمجھا کرو۔ یہ حدیث ایک جماعت نے امام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہیثم سے بھی مرفوعاً نقل کی ہے۔

أَبِيهِ ← جَابِرٍ بْنِ الْأَسْوَدِ أَوِ الْأَسْوَدِ بْنِ جَابِرٍ، ← الْهَيْثَمُ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 134

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 135

59 - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانُوا يَرُوحُونَ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَقَدْ عَرَقُوا وَتَلَطَّخُوا بِالطِّينِ، فَقِيلَ لَهُمْ: «مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَلْيَغْتَسِلْ» ، وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ النَّاسُ عُمَّارَ أَرْضِهِمْ، وَكَانُوا يَرُوحُونَ يُخَالِطُهُمُ الْعَرَقُ وَالتُّرَابُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إذَا حَضَرْتُمُ الْجُمُعَةَ، فَاغْتَسِلُوا»

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ دوسرے پہر جمعہ کے لیے روانہ ہوتے تھے‘ مٹی میں لتھڑنے کی وجہ سے وہ پسینہ پسینہ ہوتے تھے‘ اس لیے انہیں یہ حکم دیا گیا کو جو شخص جمعہ کے لیے روانہ ہو‘ اسے چاہیے کہ وہ غسل کر کے آئے‘ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ لوگ اپنی زمینوں کو (کھیتی باڑی کے ذریعے) خود ہی آباد رکھتے تھے اور جب جمعہ کے لیے روانہ ہوتے تو پسینہ اور مٹی میں ڈوبے ہوتے تھے‘ اس موقع پر نبی علیہ السلام نے فرمایا: کہ جب تم نماز جمعہ کے لیے آیا کرو تو غسل کر کے آیا کرو۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 135

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 136

60 - وَمَنْصُورٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا اس شخص پر واجب ہے جو جمعہ کے لیے آئے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← وَمَنْصُورٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ كُلُّهُمْ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 136

chevron_left Previous
1…456…10
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door