Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 61

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا أَوْ هَلَّا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا وَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا مَسِسْتُ بِيَدِي دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا وَجَدْتُ رِيحًا قَطُّ أَوْ عَرْفًا كَانَ أَطْيَبَ مِنْ عَرْفِ أَوْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم گورے رنگ کے مالک تھے آپ کا پسینہ موتیوں جیسا تھا جب آپ چلتے تو آگے کی طرف جھک کر چلتے تھے میں نے آج تک آپ کی ہتھیلی سے زیادہ ملائم کسی ریشم اور دیباج کو نہیں چھوا اور میں نے آپ کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ کوئی خوشبو ، خواہ وہ مشک ہو یا کوئی اور ہو نہیں سونگھی۔

لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا أَوْ هَلَّا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا ← لِي: أُفٍّ قَطُّ وَلَا ← خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَمَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 61

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 62

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ خُدْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي حُرَيْشٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي حِينَ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَلَمَّا أَخَذَتْهُ الْحِجَارَةُ أُرْعِبْتُ فَضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَالَ عَلَيَّ مِنْ عَرَقِ إِبْطِهِ مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے آپ نے کبھی بھی مجھے اف نہیں کہا اور نہ ہی میں نے جو کام کیا اس کے بارے میں یہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یا یہ کہا تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کی قسم میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ ملائم اور دیباج اور ریشم کو نہیں چھوا اور نہ ہی میں نے کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ کسی خوشبو کو سونگھا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں حدیث کے الفاظ میں کچھ اختلاف ہے۔

رَجُلٌ مِنْ بَنِي حُرَيْشٍ ← حَبِيبِ بْنِ خُدْرَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 62

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 63

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ أَرَأَيْتَ كَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ قَالَ لَا مِثْلَ الْقَمَرِ

حبیب بیان کرتے ہیں بنوحریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک کو سنگسار کروایا اس وقت میں بھی اپنے والد کے ہمراہ موجود تھا جب انہیں پتھر لگنے لگے تو میں ڈر گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ چمٹا لیا آپ کی بغل کا کچھ پسینہ بہہ کر مجھے آکر لگا اس کی خوشبو مشک جیسی تھی۔

لَا مِثْلَ الْقَمَرِ ← أَرَأَيْتَ كَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ مِثْلَ السَّيْفِ ← سَأَلَهُ رَجُلٌ ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 63

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 64

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ بِاللَّيْلِ بِرِيحِ الطِّيبِ

حضرت براء کے بارے میں منقول ہے ایک شخص نے ان سے دریافت کیا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح چمکتا تھا انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ چاند کی طرح چمکتا تھا ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعْرَفُ بِاللَّيْلِ بِرِيحِ الطِّيبِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 64

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 65

أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْلُكْ طَرِيقًا أَوْ لَا يَسْلُكُ طَرِيقًا فَيَتْبَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا عَرَفَ أَنَّهُ قَدْ سَلَكَهُ مِنْ طِيبِ عَرْفِهِ أَوْ قَالَ مِنْ رِيحِ عَرَقِهِ

ابراہیم بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو کی پاکیزگی کی وجہ سے رات کے وقت بھی آپ کو پہچان لیا جاتا تھا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَطِيَّةَ ← إِسْحَقُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَاشِمِيُّ ← مَالِکُ بْنُ إِسْمَعِيلَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 65

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 66

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ فَأَهْدَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ يَهُودِ خَيْبَرَ شَاةً مَصْلِيَّةً فَتَنَاوَلَ مِنْهَا وَتَنَاوَلَ مِنْهَا بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذِهِ تُخْبِرُنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ فَقَالَتْ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ شَيْءٌ وَإِنْ كُنْتَ مَلِكًا أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ فَقَالَ فِي مَرَضِهِ مَا زِلْتُ مِنْ الْأَكْلَةِ الَّتِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ فَهَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس بھی راستے سے گزرتے تھے تو آپ کے پیچھے جانے والا کوئی بھی شخص آپ کی خوشبو کی وجہ سے جان لیتا تھا کہ آپ وہاں سے گزرے تھے۔ (روایت کے الفاظ میں کچھ اختلاف ہے۔)

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 66

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 67

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ الرَّهْطُ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا فَقَالَ لَهَا أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ فَقَالَتْ نَعَمْ وَمَنْ أَخْبَرَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِيَ الذِّرَاعُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَمَاذَا أَرَدْتِ إِلَى ذَلِكَ قَالَتْ قُلْتُ إِنْ كَانَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعَاقِبْهَا وَتُوُفِّيَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنْ الشَّاةِ وَاحْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنْ الشَّاةِ حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ مَوْلَى بَنِي بَيَاضَةَ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ وَهُوَ مِنْ بَنِي ثُمَامَةَ وَهُمْ حَيٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تحفے کے طور پر پیش کی جانے والی چیز کھالیتے تھے البتہ صدقہ قبول نہیں کرتے خیبر میں رہنے والے یہودیوں میں سے ایک عورت نے تحفے کے طور پر آپ کو ایک بکری بھیجی جو بھنی ہوئی آپ نے اسے کھانا شروع کیا آپ کے ہمراہ بشر بن براء نے بھی کھانا شروع کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک کھینچ لیا اور ارشاد فرمایا اس گوشت نے مجھے بتلایا ہے اس میں زہر ملا ہوا ہے ۔ (راوی بیان کرتے ہیں) بشر تو فوت ہوگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی طرف پیغام بھیجا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اس عورت نے جواب دیا کہ اگر آپ نبی ہوں گے تو آپ کو کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی اور اگر آپ بادشاہ ہوں گے تو میں لوگوں کو آپ سے نجات دلوا دوں گی۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرگ وفات کے درمیان فرمایا تھا کہ میں نے خیبر میں جو گوشت کھایا تھا اس کا اثر ابھی تک باقی ہے اور اس کی وجہ سے مجھے اپنی رگیں کٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 67

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 68

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَبُوكُمْ قَالُوا أَبُونَا فُلَانٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبْتُمْ بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ قَالُوا صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ فَقَالَ لَهُمْ هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ فَقَالُوا نَعَمْ وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَ فِي آبَائِنَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَهْلُ النَّارِ فَقَالُوا نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَا فِيهَا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَئُوا فِيهَا وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا قَالُوا نَعَمْ قَالَ مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ قَالُوا أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ نَسْتَرِيحَ مِنْكَ وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ

ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ہے کہ خیبر سے تعلق رکھنے والی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری میں زہر ملا کر اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پائے پکڑ کر اسے کھانا شروع کیا آپ کے ہمراہ آپ کے کچھ صحابہ نے بھی کھانا شروع کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات سے کہا اپنا ہاتھ کھینچ لو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی عورت کو بلوایا اور اس سے ارشاد فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے اس نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ کو کس نے بتایا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے میرے ہاتھ میں موجود اس نے بتایا ہے (راوی کہتے ہیں آپ نے پائے کے بارے میں یہ بات بتائی) اس عورت نے جواب دیا جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اس حرکت کے ذریعے تمہارا مقصد کیا تھا اس عورت نے جواب دیا میں نے یہ سوچا اگر وہ نبی ہوں تو انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا اور اگر وہ نبی نہیں ہوں گے تو ہمیں ان سے نجات مل جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو معاف کر دیا اور اسے کوئی سزا نہیں دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی جنہوں نے اس بکری کا گوشت کھایا تھا ان کا انتقال ہوگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا جو گوشت کھایا تھا اس کی وجہ سے آپ نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے۔ بنوبیاضہ کے آزاد کردہ غلام ابوہند نے آپ کے پچھنے لگائے اس نے سینگ اور چھری کے ذریعے پچھنے لگائے تھے۔ اس کا تعلق بنوثمامہ سے تھاجوانصار کا ایک قبیلہ ہے۔

مَا حَمَلَکُمْ عَلَی ذَلِکَ ← نَعَمْ ← هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا ← نَعَمْ ← شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ← لَهُمْ هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ ← لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ اخْسَئُوا فِيهَا وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُکُمْ فِيهَا أَبَدًا ثُمَّ ← نَکُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَا فِيهَا ← لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ فَمَنْ أَهْلُ النَّارِ ← نَعَمْ وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَ فِي آبَائِنَا ← شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ← لَهُمْ هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ ← صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ ← رَسُولُ اللَّهِ کَذَبْتُمْ بَلْ أَبُوکُمْ فُلَانٌ ← أَبُونَا فُلَانٌ ← لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ مَنْ أَبُوکُمْ ← نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ← شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ ← لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ إِنِّي سَائِلُکُمْ ← رَسُولُ اللَّهِ اجْمَعُوا لِي مَنْ کَانَ هَا هُنَا مِنْ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ ← لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 68

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 69

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ وَعَدَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری کا گوشت پیش کیا گیا جس میں زہر ملا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہاں جتنے بھی یہودی ہیں انہیں میرے پاس لاؤ ان سب کو اکٹھا کرکے لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا تم سے میں ایک سوال کرنے لگا ہوں کیا تم اس کا سچا جواب دوگے انہوں نے جواب دیا جی ہاں اے ابوقاسم۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تمہارا باپ کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا ہماراباپ فلاں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے غلط کہا بلکہ تمہارا باپ فلاں شخص ہے ان لوگوں نے کہا آپ نے سچ کہا اور درست کہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے جو سوال کروں تم اس کاصحیح جواب دوں گے انہوں نے کہا جی ہاں۔ اگر ہم آپ کے ساتھ جھوٹ بولیں گے تو آپ ہمارے جھوٹ کو جان لیں گے جیسے ہمارے باپ کے بارے میں آپ نے جان لیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا اہل جہنم کون ہیں ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اس میں تھوڑ دیر تک رہیں گے ہمارے بعد آپ لوگ اس میں رہیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تم یہاں سے دور ہوجاؤ اللہ کی قسم ہم کبھی بھی تمہارے بعد اس میں نہیں جائیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم سے کوئی سوال کروں تو تم اس کاصحیح جواب دوگے انہوں نے جواب دیا جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا ہمارا یہ ارادہ تھا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اگر آپ نبی ہوں گے تو آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

ابْنُ عُيَيْنَةَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ وَعَدَ ← أَبُو مُحَمَّد ← مَا سُئِلَ النَّبِيُّ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا ← جَابِرٍ ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 69

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 70

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ زَمْعَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيِيًّا لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ

حضرت جابر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی آپ نے کبھی نہ نہیں کی۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں ابن عیینہ نے فرمایا : اگر آپ کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تھی تو آپ وعدہ کرلیتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ حَيِيًّا لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← زَمْعَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 70

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 71

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ قَالَ زَحَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَفِي رِجْلِي نَعْلٌ كَثِيفَةٌ فَوَطِئْتُ بِهَا عَلَى رِجْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَحَنِي نَفْحَةً بِسَوْطٍ فِي يَدِهِ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَوْجَعْتَنِي قَالَ فَبِتُّ لِنَفْسِي لَائِمًا أَقُولُ أَوْجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ كَمَا يَعْلَمُ اللَّهُ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا رَجُلٌ يَقُولُ أَيْنَ فُلَانٌ قَالَ قُلْتُ هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي كَانَ مِنِّي بِالْأَمْسِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مُتَخَوِّفٌ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ وَطِئْتَ بِنَعْلِكَ عَلَى رِجْلِي بِالْأَمْسِ فَأَوْجَعْتَنِي فَنَفَحْتُكَ نَفْحَةً بِالسَّوْطِ فَهَذِهِ ثَمَانُونَ نَعْجَةً فَخُذْهَا بِهَا

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حیاء والے تھے آپ سے جو چیز مانگی جاتی تھی آپ عطا کردیتے تھے۔

رَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 71

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 72

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ مَا فِي الْأَرْضِ أَهْلُ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ إِلَّا قَلَّبْتُهُمْ فَمَا وَجَدْتُ أَحَدًا أَشَدَّ إِنْفَاقًا لِهَذَا الْمَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن ابوبکر بیان کرتے ہیں ایک عربی شخص نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹکرا گیا میرے پاؤں میں بھارے تلے والے جوتی تھی میں نے اس جوتی کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو کچل دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں موجود سوٹی مجھے ماری اور فرمایا اللہ کا نام لو تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے وہ صاحب بیان کرتے ہیں اس رات میں اپنے آپ کو ملامت کرتا رہا اور یہی سوچتا رہا کہ میں نے اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ وہ صاحب بیان کرتے ہیں وہ رات جیسے میں نے گزاری ہے اللہ بہتر جانتا ہے اگلے دن صبح ہوئی تو ایک شخص یہ کہہ رہا تھا کہ فلاں صاحب کہاں ہے میں نے سوچا میرے کل والے معاملے کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ میں چل دیا میں خوفزدہ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کل تم نے اپنے جوتے کے ذریعے میرے پاؤں کودبا دیا تھا ۔ جس سے مجھے تکلیف ہوئی تھی میں نے تمہیں ایک سوٹی ماری تھی یہ اسیّ اونٹ ہیں تم انہیں اس مار کے عوض وصول کرو۔

إِنَّ جبريلَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 72

chevron_left Previous
1…567…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door