Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 49

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَأْخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُهَا قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهَا وَصَفَ لَنَا سُفْيَانُ كَذَا وَجَمَعَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَصَابِعَهُ وَحَرَّكَهَا قَالَ وَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ مَسِسْتَ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَعْطِنِيهَا أُقَبِّلْهَا

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمام رسولوں کا قائد ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا اور تمام انبیاء کا (کی آمد کے سلسلے کو) ختم کرنے والا ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا اور جس کی شفاعت قبول کی جائے گی وہ شخص میں ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا۔

أَنَسٍ، ← ابْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 49

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 50

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ فِي الْجَنَّةِ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے میں جنت کے دروازے کی کنڈی کو پکڑوں گا اور اسے کھٹکھٹاؤں گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا تھا راوی کا بیان ہے میرے استاد نے بھی مجھے اسی طرح اشارہ کرکے یہ بات بتائی۔ ابوعبداللہ نامی راوی نے بھی اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور انہیں حرکت دی راوی کا بیان ہے ثابت نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو چھوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیاہاں۔ ثابت نے کہا آپ ہاتھ میری طرف بڑھائیں تاکہ میں اسے بوسہ دوں۔

أَنَسٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 50

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 51

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأُعْطَى لِوَاءَ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَآتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَتِهَا فَيَقُولُونَ مَنْ هَذَا فَأَقُولُ أَنَا مُحَمَّدٌ فَيَفْتَحُونَ لِي فَأَدْخُلُ فَأَجِدُ الْجَبَّارَ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرٍ مِنْ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ أَدْخَلْتُهُمْ الْجَنَّةَ فَأَجِدُ الْجَبَّارَ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ أَدْخَلْتُهُمْ الْجَنَّةَ وَفُرِغَ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ وَأُدْخِلَ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّتِي فِي النَّارِ مَعَ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ أَهْلُ النَّارِ مَا أَغْنَى عَنْكُمْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ فَبِعِزَّتِي لَأَعْتِقَنَّهُمْ مِنْ النَّارِ فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ فَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ وَقَدْ امْتُحِشُوا فَيُدْخَلُونَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ وَيُكْتَبُ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللَّهِ فَيُذْهَبُ بِهِمْ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ فَيَقُولُ الْجَبَّارُ بَلْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الْجَبَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کے بارے میں سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يزيد هو ابن عبد الله بن الهاد ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 51

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 52

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ ابْنِ غَنْمٍ قَالَ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَقَّ بَطْنَهُ ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ قَلْبٌ وَكِيعٌ فِيهِ أُذُنَانِ سَمِيعَتَانِ وَعَيْنَانِ بَصِيرَتَانِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ الْمُقَفِّي الْحَاشِرُ خُلُقُكَ قَيِّمٌ وَلِسَانُكَ صَادِقٌ وَنَفْسُكَ مُطْمَئِنَّةٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد وَكِيعٌ يَعْنِي شَدِيدًا

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا کیونکہ میرے ہی سرہانے کی طرف سے زمین کو شق کیا جائے گا (یعنی سب سے پہلے میں قبر سے نکلوں گا) اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہتا اور مجھے " لواء حمد''عطا کیا جائے گا اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہتا قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جوجنت میں داخل ہوگا اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا میں جنت کے دروازے پر آؤں گا اس کی کنڈی کو پکڑوں گا لوگ دریافت کریں گے یہ کون شخص ہے میں جواب دوں گا میں محمد ہوں وہ لوگ میرے لئے دروازہ کھولیں گے میں اندر داخل ہوجاؤں گا میں اپنے سامنے اللہ کا خاص جلوہ پاؤں گا تو اس کی بارگاہ میں سجدے میں چلا جاؤں گا وہ ارشاد فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ اور بات کرو تمہاری بات سنی جائے گی بولو قبول کیا جائے گاشفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور میں عرض کروں گا اے میرے پروردگا میری امت کو بخش دے میری امت کو بخش دے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اپنی امت کے پاس جاؤ اور میں سے جس کے دل میں جو کے دانے کے وزن کے برابر ایمان ہو اسے جنت میں داخل کردو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں آؤں اور جس کے دل میں اتنے وزن جتنا ایمان پاؤں گا اسے میں جنت میں داخل کردوں گا پھر میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جاؤں گا اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا اور وہ ارشاد فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ اور بات کرو بات سنی جائےگی بولو قبول کیا جائے گا شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور میں عرض کروں گا اے میر پروردگار میری امت کو بخش دے میری امت کو بخش دے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اپنی امت کے پاس جاؤ اور ان میں سے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اسے جنت میں داخل کردو میں جاؤں گا جس کے دل میں اتنے وزن جتنا ایمان ہوگا اسے جنت میں داخل کردوں گا لوگوں کا حساب ختم ہوجائے گا اور میری امت سے تعلق رکھنے والے بقیہ افراد اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں چلے جائیں گے پہلے جہنمی کہیں گے تم لوگ جو اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے اور کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے آج تمہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اللہ ارشاد فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی قسم ہے میں ان لوگوں کو ضرور جہنم سے آزاد کردوں گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی طرف فرشتوں کو بھیجے گا ان لوگوں کو جہنم سے نکالا جائے گا وہ بالکل کوئلہ ہوچکے ہوں گے انہیں جنت کی نہر حیات میں ڈالا جائے گا تو وہ اس میں یوں پھوٹ پڑیں گے جیسے سیلاب کی گزرگاہ میں کوئی دانہ پھوٹ کر پودا بن جاتا ہے ان لوگوں کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہی لکھ دیا جائے گا یہ اللہ کی طرف سے آزاد کئے ہوئے لوگ ہیں پھر ان لوگوں کو لایا جائے گا اور جنت میں داخل کردیا جائے گا اہل جنت ان سے کہیں گے یہ جہنمی لوگ ہیں اللہ فرمائے گا نہیں بلکہ یہ جبار یعنی اللہ کی طرف سے آزاد کردہ ہیں۔

ابْنِ غَنْمٍ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 52

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 53

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ أَدْرَكَ بِيَ الْأَجَلَ الْمَرْحُومَ وَاخْتَصَرَ لِيَ اخْتِصَارًا فَنَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنِّي قَائِلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللَّهِ وَمُوسَى صَفِيُّ اللَّهِ وَأَنَا حَبِيبُ اللَّهِ وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي فِي أُمَّتِي وَأَجَارَهُمْ مِنْ ثَلَاثٍ لَا يَعُمُّهُمْ بِسَنَةٍ وَلَا يَسْتَأْصِلُهُمْ عَدُوٌّ وَلَا يَجْمَعُهُمْ عَلَى ضَلَالَةٍ

ابن غنم بیان کرتے ہیں حضرت جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپ کے پیٹ کو چیر دیا پھر جبرائیل نے کہا یہ بہت زبردست دل ہے۔ اس میں دو کان ہیں جو سن لیتے ہیں اور دو آنکھیں ہیں جو دیکھ لیتی ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں یہ سب سے آخر میں تشریف لائے ہیں یہی حشر کرنے والے ہیں اے محمد آپ کے اخلاق مضبوط ہیں آپ کی زبان سچی ہے اور آپ کا نفس مطمئن ہے۔ امام بومحمد دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ وکیع کا مطلب شدید اور زبردست ہے۔

عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 53

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 54

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ السَّكُونِيَّ وَقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ سَلَمَةَ السَّكُونِيَّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أُتِيتَ بِطَعَامٍ مِنْ السَّمَاءِ قَالَ نَعَمْ أُتِيتُ بِطَعَامٍ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ كَانَ فِيهِ مِنْ فَضْلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا فُعِلَ بِهِ قَالِ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ وَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنِّي غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ إِلَّا قَلِيلًا ثُمَّ تَلْبَثُونَ حَتَّى تَقُولُوا مَتَى مَتَى ثُمَّ تَأْتُونِي أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مُوتَانٌ شَدِيدٌ وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ

حضرت عمرو بن قیس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ میرے ذریعے رحمت کے انتہائی حصے کو ظاہر کرے گا اور میرے لئے ہی اختصار کرے گا ہم سب سے آخری لوگ ہیں لیکن قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہوں گے میں جو کہہ رہا ہوں یہ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا۔ حضرت ابراہیم اللہ کے خلیل ہیں۔ حضرت موسی اللہ کے صفی ہیں اور میں اللہ کا حبیب ہوں قیامت کے دن " لواء حمد " میرے پاس ہوگا بے شک اللہ نے میری امت کے بارے میں مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے اور انہیں تین چیزوں سے امان عطا کردی ہے ان پر قحط سالی نازل نہیں ہوگی دشمن انہیں سرے سے ختم نہیں کرے گا اور وہ لوگ گمراہی پر متفق نہیں ہوں گے۔

قَائِلٌ ← بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ ← مَسْلَمَةَ السَّكُونِيَّ وَقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ سَلَمَةَ السَّكُونِيَّ ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 54

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 55

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ الْقَوْمِ فَتَعَاقَبُوهَا إِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ يَقُومُ قَوْمٌ وَيَجْلِسُ آخَرُونَ فَقَالَ رَجُلٌ لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَمَا كَانَتْ تُمَدُّ فَقَالَ سَمُرَةُ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ

مسلمہ سکونی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے پاس آسمان سے بھی کوئی کھانا آتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں کچھ کھانا آتا ہے اس شخص نے جواب دیا اے للہ کے نبی کیا اس میں کوئی فضیلت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں اس شخص نے عرض کی پھر اس کے ساتھ کیا کیا گیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے آسمان کی طرف اٹھالیا گیا اور میری طرف یہ وحی کی گئی میں تمہارے درمیان تھوڑا عرصہ رہوں گا پھر تم لوگ رہو گے یہاں تک کہ تم لوگ یہ کہو گے قیامت کب آئے گی پھر تم لوگ متفرق گروہوں کی شکل میں آؤ گے تم میں سے ایک دوسرے کوفنا کردے گا قیامت کے قریب دو شدید قتل عام ہوں اس کے بعد کچھ سال تک زلزلے آتے رہیں گے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 55

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 56

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَإِلَى الْقَمَرِ قَالَ فَلَهُوَ كَانَ أَحْسَنَ فِي عَيْنِي مِنْ الْقَمَرِ

حضرت سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا اس پیالے کو لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا لوگ صبح سے لے کر ظہر تک یکے بعد دیگرے اسے کھاتے رہے ایک گروہ اٹھ کر جاتا تو دوسرا آکر بیٹھ جاتا۔ ایک شخص نے سمرہ بن جندب سے کہا کیا وہ کھانا بڑھتا رہا تو حضرت سمرہ نے جواب دیا کہ تمہیں کس بات کی حیرانی ہو رہی ہے اس میں اضافہ وہاں سے ہوتا تھا (راوی بیان کرتے ہیں) حضرت سمرہ نے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← أَبِي إِسْحَقَ ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 56

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 57

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ أَخِي مُوسَى عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَجَ الثَّنِيَّتَيْنِ إِذَا تَكَلَّمَ رُئِيَ كَالنُّورِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ ثَنَايَاهُ

حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاندنی رات میں دیکھا آپ نے اس وقت سرخ حلہ پہن رکھا تھا میں کبھی آپ کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی چاند کی طرف دیکھتا تھا حضرت جابر بن سمرہ بیان فرماتے ہیں میری نظر میں آپ چاند سے زیادہ خوبصورت تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← عَمِّهِ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ أَخِي مُوسَى ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ الزُّهْرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 57

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 58

57. أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَنْجَدَ وَلَا أَجْوَدَ وَلَا أَشْجَعَ وَلَا أَضْوَأَ وَأَوْضَأَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دو دانتوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کشادہ تھی اور جب آپ گفتگو کرتے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کے دونوں دانتوں کے درمیان میں سے نور نکل رہا ہو۔

عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مِسْعَرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 58

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 59

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ قُلْتُ لِلرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ صِفِي لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَهُ رَأَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةً

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخی دلیر، خوبصورت کوئی اور نہیں دیکھا۔

يا بني لو رأيته رأيت الشمس طالعة ← قلت للربيع بنت معوذ بن عفراء: صفي لنا رسول الله ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 59

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 60

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ كَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ وَمَا مَسِسْتُ حَرِيرَةً وَلَا دِيبَاجَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّهِ وَلَا شَمِمْتُ رَائِحَةً قَطُّ أَطْيَبُ مِنْ رَائِحَتِهِ مِسْكَةً وَلَا غَيْرَهَا

ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں میں نے ربیع بنت معوذ سے کہا کہ آپ ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن وجمال کا تذکرہ کریں انہوں نے جواب دیا اے میرے بیٹے اگر تم ان کو دیکھ لیتے تو تم یہ محسوس کرتے گویا تم سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 60

chevron_left Previous
1…456…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door