Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 302

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ إِنَّمَا الْفَقِيهُ مَنْ يَخَافُ اللَّهَ

مجاہد ارشاد فرماتے ہیں فقیہ وہ شخص ہے جو اللہ کا خوف رکھتا ہو۔

إِنَّمَا الْفَقِيهُ مَنْ يَخَافُ اللَّهَ ← مُجَاهِدٍ ← ليث بن أبي سليم ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 302

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 303

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ إِنَّ الْفَقِيهَ حَقَّ الْفَقِيهِ مَنْ لَمْ يُقَنِّطْ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ وَلَمْ يُؤَمِّنْهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَدَعْ الْقُرْآنَ رَغْبَةً عَنْهُ إِلَى غَيْرِهِ إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيهَا وَلَا عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيهِ وَلَا قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں حقیقی معنوں میں فقیہ وہ شخص ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور انہیں اللہ کی نافرمانی کی رخصت نہ دے اور انہیں اللہ کے آداب سے بے نیاز نہ کردے اور قرآن کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ نہ ہوجائے۔ ایسی عبادت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں علم نہ ہو اور ایسے علم میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں فہم نہ ہو اور ایسی قرأت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں غور و فکر نہ ہو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← يَحْيَى هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ ← ليث بن أبي سليم ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 303

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 304

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ الْفَقِيهُ حَقُّ الْفَقِيهِ الَّذِي لَا يُقَنِّطُ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ وَلَا يُؤَمِّنُهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَلَا يُرَخِّصُ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيهَا وَلَا خَيْرَ فِي عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيهِ وَلَا خَيْرَ فِي قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں حقیقی معنوں میں فقیہ وہ شخص ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور انہیں اللہ کے آداب سے بے نیاز نہ کردے اور انہیں اللہ کی نافرمانی کی رخصت نہ دے بےشک ایسی عبادت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں علم نہ ہو اور ایسے علم میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں فہم نہ ہو اور ایسی قرأت میں کوئی بھلائی نہیں ہے جس میں غور و فکر نہ ہو۔

يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← لَيْثٌ، ← إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 304

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 305

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِي عَمِّي جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ تُبَيْعًا يُحَدِّثُ عَنْ كَعْبٍ قَالَ إِنِّي لَأَجِدُ نَعْتَ قَوْمٍ يَتَعَلَّمُونَ لِغَيْرِ الْعَمَلِ وَيَتَفَقَّهُونَ لِغَيْرِ الْعِبَادَةِ وَيَطْلُبُونَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ وَيَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنْ الصَّبْرِ فَبِي يَغْتَرُّونَ أَوْ إِيَّايَ يُخَادِعُونَ فَحَلَفْتُ بِي لَأُتِيحَنَّ لَهُمْ فِتْنَةً تَتْرُكُ الْحَلِيمَ فِيهَا حَيْرَانَ

کعب بیان کرتے ہیں میں نے اس قوم کی حالت ان الفاظ میں پائی ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) جو عمل کے بجائے ویسے ہی علم حاصل کرتے ہیں اور عبادت کرنے کی بجائے دوسرے مقاصد کے حصول کے لئے دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے ہیں وہ آخرت سے متعلق عمل کے ذریعے دنیا طلب کرنا چاہتے ہیں اور وہ اونٹ کی کھال کے لباس پہنیں گے ان کے دل کڑوی چیز سے زیادہ کڑوے ہوں گے تو کیا وہ مجھے دھوکادیں گے یا میرے ساتھ فریب کریں گے میں یہ قسم اٹھاتاہیوں کہ میں ان لوگوں کو ایسے فتنے میں مبتلا کروں گا جس میں بردبار شخص بھی حیران رہ جاتا ہے۔

کَعْبٍ ← تُبَيْعًا ← عَمِّي جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 305

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 306

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ هَرِمِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّهُ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْعَالِمَ الْفَاسِقَ فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ وَأَشْفَقَ مِنْهَا مَا الْعَالِمُ الْفَاسِقُ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ هَرِمٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهِ إِلَّا الْخَيْرَ يَكُونُ إِمَامٌ يَتَكَلَّمُ بِالْعِلْمِ وَيَعْمَلُ بِالْفِسْقِ فَيُشَبِّهُ عَلَى النَّاسِ فَيَضِلُّوا

ہرم بن حیان بیان کرتے ہیں فاسق عالم سے بچو اس بات کی اطلاع حضرت عمر بن خطاب کو ملی تو حضرت عمر نے انہیں خط میں لکھا فاسق عالم سے مراد کیا ہے ہرم اس بات سے خوفزدہ ہوگئے ہرم نے انہیں جواب میں لکھا اے امیرالمومنین اللہ کی قسم میری مراد صرف نیکی ہی تھی بعض اوقات کوئی ایساحکمران ہوتا ہے جو اپنے علم کے مطابق بات تو کرتا ہے لیکن اس کا عمل گناہ پر ہوتا ہے ایسا شخص لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کردیتا ہے جس کی وجہ سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں۔

إِلَيْهِ وَأَشْفَقَ مِنْهَا مَا الْعَالِمُ الْفَاسِقُ ← إِيَّاكُمْ وَالْعَالِمَ الْفَاسِقَ فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← هَرِمِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّهُ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 306

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 307

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ إِسْمَعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُكْرَمَ دِينُهُ فَلَا يَدْخُلْ عَلَى السُّلْطَانِ وَلَا يَخْلُوَنَّ بِالنِّسْوَانِ وَلَا يُخَاصِمَنَّ أَصْحَابَ الْأَهْوَاءِ

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں جو شخص اپنے دین کی عزت افزائی کرنا چاہتا ہو وہ کسی حکمران کے پاس نہ جائے اور تنہائی میں عورتوں کے پاس موجود نہ ہو اور بد عقیدہ لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ إِسْمَعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 307

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 308

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ إِيَّاكَ وَالْخُصُومَةَ وَالْجِدَالَ فِي الدِّينِ لَا تُجَادِلَنَّ عَالِمًا وَلَا جَاهِلًا أَمَّا الْعَالِمُ فَإِنَّهُ يَخْزُنُ عَنْكَ عِلْمَهُ وَلَا يُبَالِي مَا صَنَعْتَ وَأَمَّا الْجَاهِلُ فَإِنَّهُ يُخَشِّنُ بِصَدْرِكَ وَلَا يُطِيعُكَ

یونس بیان کرتے ہیں میمون بن مہران نے مجھے خط لکھا دینی معاملات میں بحث و مباحثہ کرنے سے بچو کسی عالم یا جاہل کے ساتھ ہرگز بحث نہ کرو عالم کے ساتھ اس لئے کہ کیونکہ وہ اپنے علم کے زور پر تمہیں رسوائی کا شکار کردے گا اور اس چیز کی پرواہ نہیں کرے گا تم نے کیا کیا ہے اور جاہل کے ساتھ اس لئے وہ شخص تمہارے سینے کو غصے سے بھردے گا اور تمہاری فرمانبرداری نہیں کرے گا۔

يُونُسَ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 308

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 309

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام لِابْنِهِ دَعْ الْمِرَاءَ فَإِنَّ نَفْعَهُ قَلِيلٌ وَهُوَ يُهَيِّجُ الْعَدَاوَةَ بَيْنَ الْإِخْوَانِ

یحیی بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں حضرت سلیمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا بحث کو چھوڑ دو کیونکہ اس کا فائدہ کم ہوتا ہے اور یہ بھائیوں کے درمیان دشمنی کو رواج دیتی ہے۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 309

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 310

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ مَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَاتِ أَكْثَرَ التَّنَقُّلَ

حضرت عمر بن عبدالعزیز ارشاد فرماتے ہیں جو شخص اپنے دین کو بحث و مباحثہ کا نشانہ بنائے گا اس کی رائے تیزی سے تبدیل ہوتی چلی جائے گی۔

مَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَاتِ أَكْثَرَ التَّنَقُّلَ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي حَکِيمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 310

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 311

أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِنَّهُ مَنْ تَعَبَّدَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ مَا يُفْسِدُ أَكْثَرَ مِمَّا يُصْلِحُ وَمَنْ عَدَّ كَلَامَهُ مِنْ عَمَلِهِ قَلَّ كَلَامُهُ إِلَّا فِيمَا يَعْنِيهِ وَمَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَةِ كَثُرَ تَنَقُّلُهُ

سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اہل مدینہ کو خط میں یہ لکھا جو شخص علم کے بغیر عبادت اختیار کرے وہ اصلاح کے مقابلے میں فساد زیادہ کرے گا اور جو شخص اپنے کلام کو اپنے عمل کا حصہ شمار کرے گا اس کا کلام کم ہوگا اور وہ صرف ضروری باتیں کرے اور جو شخص اپنے دین کو بحث و مباحثہ کا حصہ بنا لے اس کی رائے تیزی کے ساتھ تبدیل ہوگی۔

سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 311

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 312

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مِنْ الْأَهْوَاءِ فَقَالَ عَلَيْكَ بِدِينِ الْأَعْرَابِيِّ وَالْغُلَامِ فِي الْكُتَّابِ وَالْهَ عَمَّا سِوَى ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَثُرَ تَنَقُّلُهُ أَيْ يَنْتَقِلُ مِنْ رَأْيٍ إِلَى رَأْيٍ

حضرت عمر بن عبدالعزیز سے ایک شخص نے نفسانی خواہشات کی پیروی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیاتم دیہاتی اور مدرسوں میں پڑھنے والے لڑکوں کی مانند اپنے دینی عقائد پر پختہ رہو اس کے علاوہ ہر چیز سے لاتعلق ہوجاؤ۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں روایت کے الفاظ میں بکثرت نقل ہونے سے مراد یہ ہے کہ کبھی اس کی رائے یہ ہوگی کبھی اس کی رائے دوسری ہوگی۔

عَلَيْكَ بِدِينِ الْأَعْرَابِيِّ وَالْغُلَامِ فِي الْكُتَّابِ وَالْهَ عَمَّا سِوَى ذَلِكَ ← شَيْءٍ مِنْ الْأَهْوَاءِ ← سَأَلَهُ رَجُلٌ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 312

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 313

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يُنْتِجُونَ بِأَمْرٍ دُونَ عَامَّتِهِمْ فَهُمْ عَلَى تَأْسِيسِ الضَّلَالَةِ

حضرت عمر بن عبدالعزیز ارشاد فرماتے ہیں جب تم کسی قوم کو دیکھو کہ وہ عام مسلمانوں سے ہٹ کر کوئی نئی راہ اختیار کررہے ہیں تو وہ لوگ گمراہی کی بنیاد رکھ رہے ہوںگے۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 313

chevron_left Previous
1…252627…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door