Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 290

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى كَعْبٍ يَسْأَلُ عَنْهُ وَكَعْبٌ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ كَعْبٌ مَا تُرِيدُ مِنْهُ فَقَالَ أَمَا إِنِّي لَا أَعْرِفُ لِأَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ أَحْفَظَ لِحَدِيثِهِ مِنِّي فَقَالَ كَعْبٌ أَمَا إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَالِبَ شَيْءٍ إِلَّا سَيَشْبَعُ مِنْهُ يَوْمًا مِنْ الدَّهْرِ إِلَّا طَالِبَ عِلْمٍ أَوْ طَالِبَ دُنْيَا فَقَالَ أَنْتَ كَعْبٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ لِمِثْلِ هَذَا جِئْتُ

حضرت عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت کعب کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے آئے حضرت کعب کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے حضرت کعب نے دریافت کیا آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نبی کریم کے اصحاب میں کسی ایسے شخص سے واقف نہیں ہوں جو آپ کی احادیث کا مجھ سے زیادہ حافظ ہو۔ حضرت کعب نے جواب دیا آپ کسی بھی چیز کے طلبگار کو پائیں گے وہ ایک وقت میں اپنی طلب سے سیر ہو جاتا ہے ماسوائے علم کے طلب گار کے اور دنیا کے طلب گار کے وہ دونوں کبھی سیر نہیں ہوتے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا آپ کعب ہیں انہوں نے جواب دیا ہاں۔ حضرت کعب نے فرمایا اسی لئے میں آپ کے پاس آیا تھا ۔

كَعْبٌ: «مَا تُرِيدُ مِنْهُ؟» ← جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى كَعْبٍ يَسْأَلُ عَنْهُ وَكَعْبٌ فِي الْقَوْمِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← کهمس بن الحسن ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 290

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 291

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا شِبْلٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ قَالَ مَنْ جَمَعَ عِلْمَ النَّاسِ إِلَى عِلْمِهِ وَكُلُّ طَالِبِ عِلْمٍ غَرْثَانُ إِلَى عِلْمٍ

طاؤس بیان کرتے ہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ کون سا شخص زیادہ علم رکھتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جو لوگوں کے علم کو اپنے علم کے ساتھ ملادے اور وہ جو علم کا بھوکا ہوتا ہے ۔

قِيلَ ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شِبْلٌ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 291

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 292

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا الْمَشْيَخَةُ وَهُمْ يَتَرَاجَعُونَ فِيهِمْ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ شَابٌّ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ أَفِيضُوا فِي ذِكْرِ اللَّهِ بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ رَآنَا ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا فَمُرْ لَئِنْ عُدْتَ لَنَفْعَلَنَّ وَلَنَفْعَلَنَّ

معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں ایک حلقے میں جس میں کچھ بزرگ لوگ موجود تھے اور آپس میں بات چیت کررہے ان میں عائذ بن عمرو بھی موجود تھے حاضرین میں سے ایک کنارے میں موجود ایک شخص بولا اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاؤ اللہ تمہیں برکت عطا کرے گا۔ حاضرین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر بولے تم ہمیں کیا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہو پھر ایک شخص نے دریافت کیا تمہیں یہ بات کہنے کی ہدایت کس نے کہی ہے چلے جاؤ یہاں سے اگر واپس آئے تو ہم تمہیں اتنی سخت سزا دیں گے۔

كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا الْمَشْيَخَةُ وَهُمْ يَتَرَاجَعُونَ فِيهِمْ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← الخليل بن مرة ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 292

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 293

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ نِعْمَ الْمَجْلِسُ مَجْلِسٌ يُنْشَرُ فِيهِ الْحِكْمَةُ وَتُرْجَى فِيهِ الرَّحْمَةُ

عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں سب سے بہترین محفل وہ ہے جس میں حکمت کو پھیلایا جائے اور رحمت کی امید رکھی جائے۔

عَبْدُ اللَّهِ نِعْمَ الْمَجْلِسُ مَجْلِسٌ يُنْشَرُ فِيهِ الْحِكْمَةُ وَتُرْجَى فِيهِ الرَّحْمَةُ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 293

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 294

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبْيَرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنْ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا وَقَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ فَوَاللَّهِ لَنَقْرَأَنَّهُ وَلَنُقْرِئَنَّهُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ عِنْدَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَاذَا يُغْنِي عَنْهُمْ قَالَ جُبَيْرٌ فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ قُلْتُ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ قَالَ صَدَقَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِنْ شِئْتَ لَأُحَدِّثَنَّكَ بِأَوَّلِ عِلْمٍ يُرْفَعُ مِنْ النَّاسِ الْخُشُوعُ يُوشِكُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَ الْجَمَاعَةِ فَلَا تَرَى فِيهِ رَجُلًا خَاشِعًا

حضرت ابودرداء بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف جمائی اور یہ ارشاد فرمایا یہی وہ گھڑی ہوگی جس میں لوگوں کے درمیان سے علم اٹھا لیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ذرا سے علم پر بھی قادر نہیں ہوں گے حضرت زیاد بن لبید انصاری نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے درمیان سے علم کیسے اٹھایا جائے گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اللہ کی قسم ہم اسے پڑھتے رہیں گے اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی یہ پڑھاتے رہیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے زیاد تمہاری ماں تمہیں روئے میں تو یہ سمجھتا تھا کہ تم مدینے کے سمجھدار لوگوں میں سے ایک ہو یہ تورات اور انجیل بھی تو یہود ونصاری کے پاس تھیں اس کا انہیں کیا فائدہ ہوا۔ جبیر نامی روای بیان کرتے ہیں میری ملاقات حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو میں نے انس رضی اللہ عنہ نے کہا آپ نے سنا کہ آپ کے بھائی حضرت ابودرداء کیا حدیث بیان کرتے ہیں پھر میں نے انہیں وہ حدیث سنائی جو حضرت ابودرداء نے بیان کی تھی تو حضرت عبادہ نے ارشاد فرمایا حضرت ابودرداء نے سچ کہا ہے اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ سب سے پہلے لوگوں میں سے کون ساعلم اٹھایا جائے گا وہ علم خشوع ہوگا یہاں تک کہ عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم جامع مسجد میں داخل ہوں گے تو تمہیں ایک بھی ایسا شخص نظر نہیں آئے گا جس میں خشوع پایا جاتا ہو۔

زياد بن لبيد الأنصاري ← «هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ» ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أبيه جبير بن نفير ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 294

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 295

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ الْكِنَانِيُّ حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ وَالنُّونَ فِي الْبَحْرِ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ الْخَيْرَ

مکحول بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے عالم شخص کی عبادت گزار شخص پر وہی فضیلت ہے جو میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ بے شک اللہ سے اس کے بندوں میں سے اہل علم ہی ڈرتے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ اس کے فرشتے آسمان اور زمین میں موجود مخلوقات یہاں تک کہ سمندر میں موجود مچھلیاں بھی اس شخص کے لئے دعائے رحمت کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔

مَكْحُولٌ ← الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ الْكِنَانِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 295

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 296

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَا يَكُونُ الرَّجُلُ عَالِمًا حَتَّى لَا يَحْسُدَ مَنْ فَوْقَهُ وَلَا يَحْقِرَ مَنْ دُونَهُ وَلَا يَبْتَغِيَ بِعِلْمِهِ ثَمَنًا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کوئی شخص اس وقت تک عالم نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے سے اوپر والے سے حسد کرنے سے باز نہ آجائے اور اپنے سے کم تر شخص کو حقیر سمجھنے سے باز نہ آجائے اور اپنے علم کے عوض میں معاوضے کا طلب گار نہ ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← رَجُلٌ: ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 296

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 297

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ مِسْعَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْأَعْلَى التَّيْمِيَّ يَقُولُ مَنْ أُوتِيَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَا يُبْكِيهِ لَخَلِيقٌ أَنْ لَا يَكُونَ أُوتِيَ عِلْمًا يَنْفَعُهُ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَعَتَ الْعُلَمَاءَ ثُمَّ قَرَأَ الْقُرْآنَ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ إِلَى قَوْلِهِ يَبْكُونَ

عبدالاعلی تیمی بیان کرتے ہیں جس شخص کو علم عطا کیا جائے اور وہ علم اس شخص کو رلائے نہیں وہ اس لائق ہے کہ ان لوگوں میں سے نہ ہوجنہیں وہ علم عطا کیا گیا ہے جو انہیں نفع دیتا ہے کیونکہ اللہ نے علماء کی یہ تعریف کی ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ بے شک وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا اس آیت کو وہ روتے ہیں۔ تک پڑھا۔

عَبْدِ الأَعْلَى التَّيْمِيِّ ← مِسْعَرٍ، ← أَبِي أُسَامَةَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 297

Sahih

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 298

أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ لَا تَكُونُ عَالِمًا حَتَّى يَكُونَ فِيكَ ثَلَاثُ خِصَالٍ لَا تَبْغِي عَلَى مَنْ فَوْقَكَ وَلَا تَحْقِرُ مَنْ دُونَكَ وَلَا تَأْخُذُ عَلَى عِلْمِكَ دُنْيَا

ابوحاذم بیان کرتے ہیں تم اس وقت تک عالم نہیں ہوسکتے جب تک تمہارے اندر تین خوبیاں نہ پائی جاتی ہوں تم اپنے سے اوپر والے شخص کے خلاف سرکشی نہ کرو اور اپنے سے کم تر شخص کو حقیر نہ سمجھو اور اپنے علم کے عوض میں دنیا کے طلب گار نہ ہو۔

أَبِي حَازِمٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 298

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 299

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ لَا تَكُونُ عَالِمًا حَتَّى تَكُونَ مُتَعَلِّمًا وَلَا تَكُونُ بِالْعِلْمِ عَالِمًا حَتَّى تَكُونَ بِهِ عَامِلًا وَكَفَى بِكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُخَاصِمًا وَكَفَى بِكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُمَارِيًا وَكَفَى بِكَ كَاذِبًا أَنْ لَا تَزَالَ مُحَدِّثًا فِي غَيْرِ ذَاتِ اللَّهِ

حضرت ابودرداء بیان کرتے ہیں تم اس وقت تک عالم نہیں ہوسکتے جب تم طالب علم نہ بن جاؤ اور تم اس وقت تک علم کے عالم نہیں ہوسکتے جب تک تم اس پر عمل نہیں کرتے اور تمہارے گناہ گار ہونے کے لئے اتناہی کافی ہے کہ تم ہمیشہ بحث و مباحثہ کرتے رہو اور تمہارے گناہ گار ہونے کے لئے اتناہی کافی ہے تم ہمیشہ جھگڑا کرتے رہو اور تمہارے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے تم جب بھی کوئی بات کرو وہ اللہ کی رضا کی بجائے کسی اور مقصد کے لئے ہو۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← سليمان بن موسى الدمشقي ← بُرْدِ بْنِ سِنَانَ، ← عَبْثَرٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 299

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 300

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَخِيهِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عِمْرَانَ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَوْمًا فِي شَيْءٍ قَالَهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ لَيْسَ هَكَذَا يَقُولُ الْفُقَهَاءُ فَقَالَ وَيْحَكَ وَرَأَيْتَ أَنْتَ فَقِيهًا قَطُّ إِنَّمَا الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ فِي الدُّنْيَا الرَّاغِبُ فِي الْآخِرَةِ الْبَصِيرُ بِأَمْرِ دِينِهِ الْمُدَاوِمُ عَلَى عِبَادَةِ رَبِّهِ

عمران منقری بیان کرتے ہیں میں نے حضرت حسن بصری سے ایک دن کسی بات کے بارے میں جو انہوں نے بیان کی تھی یہ کہا اے ابوسعید فقہاء ایسے نہیں کہتے جو آپ نے بیان کیا ہے تو حضرت حسن بصری نے فرمایا تمہارا ستیا ناس ہو کیا تم نے کبھی کوئی فقیہ دیکھا ہے فقیہ وہ شخص ہوتا ہے جو دنیا سے بے رغبت ہو۔ آخرت کی طرف متوجہ ہو اپنے دین کے معاملات کا نگران ہو اور ہمیشہ اپنے پروردگار کی عبادت میں مصروف رہے۔

الْفُقَهَاءُ ← قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَوْمًا فِي شَيْءٍ قَالَهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ لَيْسَ هَكَذَا ← عِمْرَانَ الْمُنْقِرِيِّ ← أَخِيهِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ← الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 300

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 301

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْبَجَلِيُّ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قِيلَ لَهُ مَنْ أَفْقَهُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ أَتْقَاهُمْ لِرَبِّهِ

سعد بن ابراہیم سے سوال کیا گیا مدینہ کا سب سے زیادہ سمجھدار شخص کون ہے انہوں نے جواب دیا جو اپنے پروردگار سے سب سے زیادہ ڈرتا ہو۔

أَتْقَاهُمْ لِرَبِّهِ ← قِيلَ لَهُ مَنْ أَفْقَهُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرٍ، ← النَّضْرُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْبَجَلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 301

chevron_left Previous
1…242526…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door