Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن دارمی

Sunan Darmi

by أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي

3,539 Hadith50 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3103

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ قَالَ سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ امْرَأَةٍ أَوْ رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ خَالَةً وَعَمَّةً لَيْسَ لَهُ وَارِثٌ وَلَا رَحِمٌ غَيْرُهُمَا فَقَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُنَزِّلُ الْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِ وَيُنَزِّلُ الْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ أَخِيهَا

ابوہانی بیان کرتے ہیں عامر سے ایسی خاتون یا مرد کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہوجائے اور پسماندگان میں ایک خالہ اور پھوپھی کو چھوڑے تو عامر نے جواب دیا اگر اس کا کوئی وارث نہیں ہے اور ان دونوں کے علاوہ کوئی اور قریبی رشتہ دار نہیں ہے تو حضرت عبداللہ بن مسعود خالہ کو ماں کی جگہ اور پھوپھی کو اس کے بھائی (میت کے باپ کی جگہ) قرار دیتے تھے۔

سُئِلَ عَامِرٌ ← أَبُو هَانِئٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3103

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3104

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ اعْتَرَفَ عِنْدَ مَوْتِهِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ لِرَجُلٍ وَأَقَامَ آخَرُ بَيِّنَةً بِأَلْفِ دِرْهَمٍ وَتَرَكَ الْمَيِّتُ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَقَالَ الْمَالُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُفْلِسًا فَلَا يَجُوزُ إِقْرَارُهُ

حسن بصری فرماتے ہیں جو شخص موت کےوقت یہ اعتراف کرے کہ میں نے کسی شخص کے ایک ہزار درہم دینے ہیں اور پھر کوئی اور شخص گواہی کے ذریعے یہ ثابت کردے کہ اس نے مرنے والے سے ایک ہزار درہم لینے ہیں جبکہ میت نے وراثت میں ایک ہزار درہم چھوڑے ہوں تو حسن فرماتے ہیں یہ مال دونوں کے درمیان تقسیم ہو جائے گا البتہ اگر وہ مرحوم مفلس ہو تو اس کا اقرار درست نہیں ہوگا۔

عَمْرٍو، ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3104

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3105

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ قُلْتُ لِشَرِيكٍ كَيْفَ ذَكَرْتَ فِي الْأَخَوَيْنِ يَدَّعِي أَحَدُهُمَا أَخًا قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِي نَصِيبِهِ قُلْتُ مَنْ ذَكَرَهُ قَالَ جَابِرٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلِيٍّ

ابونعیم بیان کرتے ہیں میں نے شریک سے دریافت کیا جب دو بھائیوں میں سے ایک بھائی کسی اور بھائی کے بارے میں دعوی کرے تو اس بارے میں آپ نے کیا بات ذکر کی تھی تو انہوں نے جواب دیا وہ دعوی کرنے والے شخص کے حصے میں سے ہی اس بھائی کو شامل کیا جائے گا میں نے دریافت کیا یہ بات کس نے ذکر کی ہے انہوں نے جواب دیا یہ بات جابر نے عامر کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔

عَلِيٍّ، ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِي نَصِيبِهِ قُلْتُ مَنْ ذَكَرَهُ ← قُلْتُ لِشَرِيكٍ كَيْفَ ذَكَرْتَ فِي الْأَخَوَيْنِ يَدَّعِي أَحَدُهُمَا أَخًا ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3105

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3106

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْإِخْوَةِ يَدَّعِي بَعْضُهُمْ الْأَخَ وَيُنْكِرُ الْآخَرُونَ قَالَ يَدْخُلُ مَعَهُمْ بِمَنْزِلَةِ عَبْدٍ يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ فَيَعْتِقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ قَالَ وَكَانَ عَامِرٌ وَالْحَكَمُ وَأَصْحَابُهُمَا يَقُولُونَ لَا يَدْخُلُ إِلَّا فِي نَصِيبِ الَّذِي اعْتَرَفَ بِهِ

اعمش بیان کرتے ہیں جب کچھ بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایک بھائی کے بارے میں دعوی کریں اور دیگر بھائی اس کا انکار کریں تو اس کے بارے میں ابراہیم نخعی فرماتے ہیں اس بھائی کو ان کے ہمراہ ایک ایسے غلام کے طور پر رکھاجائے گا جو ان بھائیوں کے درمیان مشترک ہو اور پھر ان میں سے کوئی ایک اپنے حصے کو آزاد کردے۔ عامر حکم اور ان کے شاگرد یہ کہتے ہیں کہ اس بھائی کو صرف اس شخص کے حصے میں شامل کیا جائے گا جس نے اس کے بھائی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

يَدْخُلُ مَعَهُمْ بِمَنْزِلَةِ عَبْدٍ يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ فَيَعْتِقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ ← إِبْرَاهِيمَ فِي الْإِخْوَةِ يَدَّعِي بَعْضُهُمْ الْأَخَ وَيُنْكِرُ الْآخَرُونَ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3106

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3107

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ وَكِيعٍ قَالَ إِذَا كَانَا أَخَوَيْنِ فَادَّعَى أَحَدُهُمَا أَخًا وَأَنْكَرَهُ الْآخَرُ قَالَ كَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ هِيَ مِنْ سِتَّةٍ لِلَّذِي لَمْ يَدَّعِ ثَلَاثَةٌ وَلِلْمُدَّعِي سَهْمَانِ وَلِلْمُدَّعَى سَهْمٌ

وکیع بیان کرتے ہیں جب دوبھائی موجود ہوں اور ان دونوں میں سے کوئی ایک شخص کسی ایک کے بھائی ہونے کا اقرار کرے اور دوسرا بھائی اس کا انکار کردے تو شیخ ابن ابی لیلی فرماتے ہیں وہ وراثت چھ حصوں میں تقسیم ہوجائے گی تین حصے اس شخص کو ملیں گے جس نے دعوی نہیں کیا تھا (یعنی اس شخص کے بھائی ہونے کا اقرار کیا تھا) جس شخص کے بارے میں دعوی کیا تھا اسے دو حصے ملیں گے اور جو دعوی کرنے والا تھا اسے ایک حصہ ملے گا۔

هِيَ مِنْ سِتَّةٍ لِلَّذِي لَمْ يَدَّعِ ثَلَاثَةٌ وَلِلْمُدَّعِي سَهْمَانِ وَلِلْمُدَّعَى سَهْمٌ ← كَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ← إِذَا كَانَا أَخَوَيْنِ فَادَّعَى أَحَدُهُمَا أَخًا وَأَنْكَرَهُ الْآخَرُ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَکْرٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3107

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3108

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ حَمَّادٍ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثَةُ بَنِينَ فَقَالَ ثُلُثِي لِأَصْغَرِ بَنِيَّ فَقَالَ الْأَوْسَطُ أَنَا أُجِيزُ وَقَالَ الْأَكْبَرُ لَا أُجِيزُ قَالَ هِيَ مِنْ تِسْعَةٍ يُخْرِجُ ثُلُثَهُ فَلَهُ سَهْمُهُ وَسَهْمُ الَّذِي أَجَازَ وَقَالَ حَمَّادٌ يَرُدُّ السَّهْمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا وَقَالَ عَامِرٌ الَّذِي رَدَّ إِنَّمَا رَدَّ عَلَى نَفْسِهِ

ایک ایسا شخص جس کے تین بیٹے ہوں وہ شخص کہے کہ میر ایک تہائی مال میرے سب سے چھوٹے بیٹے کے لئے ہے درمیانہ بیٹا یہ کہے کہ میں اسے درست قرار دیتا ہوں اور بڑا بیٹا یہ کہے کہ میں اسے درست قرار نہیں دیتا۔ ایسے شخص کے بارے میں حماد یہ کہتے ہیں کہ یہ وراثت نو حصوں میں تقسیم ہوگی جس میں سے تین حصے نکال لئے جائیں گے اس شخص کو اپنا ایک حصہ ملے گا اور ایک اس شخص کا حصہ ملے گا جس کے لئے اس نے درست قرار دیا ہے۔ حماد بیان کرتے ہیں ایک حصہ ان تینوں کی طرف سے واپس کیا جائے گا۔ عامر فرماتے ہیں جس شخص نے اسے واپس کیا ہے اس نے اپنے حصے میں سے اسے واپس کیا ہے۔

عَامِرٌ الَّذِي رَدَّ إِنَّمَا رَدَّ عَلَى نَفْسِهِ ← حَمَّادٌ يَرُدُّ السَّهْمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا ← هِيَ مِنْ تِسْعَةٍ يُخْرِجُ ثُلُثَهُ فَلَهُ سَهْمُهُ وَسَهْمُ الَّذِي أَجَازَ ← الْأَكْبَرُ لَا أُجِيزُ ← أُجِيزُ ← الْأَوْسَطُ ← ثُلُثِي لِأَصْغَرِ بَنِيَّ ← حَمَّادٍ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثَةُ بَنِينَ ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3108

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3109

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ فِي رَجُلٍ أَقَرَّ بِأَخٍ قَالَ بَيِّنَتُهُ أَنَّهُ أَخُوهُ

ابن سیرین بیان کرتے ہیں شریح نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے کسی بھائی کا اقرار کیا تھا یہ فرمایا تھا اسے ثبوت پیش کرنا ہوگا کہ یہ اس کا بھائی ہے۔

بَيِّنَتُهُ أَنَّهُ أَخُوهُ ← شُرَيْحٍ فِي رَجُلٍ أَقَرَّ بِأَخٍ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← خَالِدٌ، ← شَرِيکٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3109

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3110

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ فِي رَجُلٍ أَقَرَّ عِنْدَ مَوْتِهِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ مُضَارَبَةً وَأَلْفٍ دَيْنًا وَلَمْ يَدَعْ إِلَّا أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ فَإِنْ فَضَلَ فَضْلٌ كَانَ لِصَاحِبِ الْمُضَارَبَةِ

حارث عکلی ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو مرتے وقت ایک ہزار درہم مضاربت کا اعتراف کرے اور ایک ہزار روپے قرض ہونے کا اعتراف کرے اور وراثت میں صرف ایک ہزار درہم چھوڑے حارث عکلی فرماتے ہیں سب سے پہلے وہ اس کا قرض دیا جائے گا جو بچ جائے گا وہ مضاربت سے متعلق فریق وصول کریں گے۔

مُغِيرَةَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3110

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3111

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَلَاثَةَ بَنِينَ فَجَاءَ رَجُلٌ يَدَّعِي مِائَةَ دِرْهَمٍ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَقَرَّ لَهُ أَحَدُهُمْ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ بِالْحِصَّةِ ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ مَا أُرَى أَنْ يَكُونَ مِيرَاثًا حَتَّى يُقْضَى الدَّيْنُ

شعبی فرماتے ہیں جو شخص فوت ہوجائے اس نے تین سو درہم چھوڑے ہوں اور تین بیٹے چھوڑے ہوں اور پھر ایک شخص آئے جو میت سے ایک سو درہم کی وصولی کا دعویدار ہو اور پھر ان تین بیٹوں میں سے کوئی اس کے حق میں اقرار کرے تو شعبی فرماتے ہیں اس بیٹے کے حصے میں اسے شامل کیا جائے گا پھر اس کے بعد شعبی نے فرمایا میرا یہ خیال ہے کہ وراثت اس وقت تک تقسیم نہیں ہوگی جب تک قرض ادانہ کر دیا جائے۔

مُطَرِّفٍ ← حَسَنٌ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3111

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3112

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْأَشْعَثِ عَنْ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَيْنِ وَتَرَكَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ فَاقْتَسَمَا الْأَلْفَيْ دِرْهَمٍ وَغَابَ أَحَدُ الِابْنَيْنِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَحَقَّ عَلَى الْمَيِّتِ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ يَأْخُذُ جَمِيعَ مَا فِي يَدِ هَذَا الشَّاهِدِ وَيُقَالُ لَهُ اتَّبِعْ أَخَاكَ الْغَائِبَ وَخُذْ نِصْفَ مَا فِي يَدِهِ

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جو شخص فوت ہوجائے اور دو بیٹے چھوڑ دے اور دو ہزار درہم چھوڑ کر جائے اور وہ دونوں بیٹے ان دوہزار کو تقسم کرلیں ان دونوں بیٹوں میں سے ایک اگر موجود نہ ہو اور ایک شخص آکرمیت سے ایک ہزار درہم کی وصولی کا حق ثابت کردے تو حسن فرماتے ہیں وہ شخص موجود بیٹے سے ایک ہزار درہم وصول کرے گا اور اس بیٹے سے کہا جائے گا کہ اب تم اپنے غیر موجود بھائی کے پاس جانا اور اس کے پاس جورقم موجود ہے اس میں سے اپنانصف حصہ وصول کرلینا۔

الْأَشْعَثِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَّانِيُّ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3112

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3113

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ إِذَا أَقَرَّ بَعْضُ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ فَهُوَ عَلَيْهِ بِحِصَّتِهِ

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جب ورثاء میں سے کوئی ایک قرض کا اقرار کرے تو وہ قرض اس کے حصے سے ادا کیا جائے گا۔

إِذَا أَقَرَّ بَعْضُ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ فَهُوَ عَلَيْهِ بِحِصَّتِهِ ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3113

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3114

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِذَا شَهِدَ اثْنَانِ مِنْ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ فَهُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ إِذَا كَانُوا عُدُولًا وَقَالَ الشَّعْبِيُّ عَلَيْهِمَا فِي نَصِيبِهِمَا

ابراہیم نخعی فرماتے ہیں جب ورثا میں سے دولوگ قرض کے بارے میں گواہی دیں تو یہ پورے مال میں سے دی جائے گی بشرطیکہ وہ گواہ عادل ہوں۔ شعبی فرماتے ہیں ان دونوں گواہوں کے مخصوص حصے میں سے ادائیگی کی جائے گی۔

إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3114

chevron_left Previous
1…258259260…295
Next chevron_right
All Chapters
1. an introduction
    0. Door
2. From the book of Purity
    0. Door
3. From the prayer book
    0. Door
4. From the book of the two feasts
    0. Door
5. From the book of zakat
    0. Door
6. From the book of fasting
    0. Door
7. From the book of rites
    0. Door
8. From the book sacrifice
    0. Door
9. From the hunting book
    0. Door
10. From the food book
    0. Door
11. From the book of drinks
    0. Door
12. From the Book of Roya
    0. Door